Baaghi TV

Tag: ویگنر گروپ

  • برطانیہ نےروسی ملیشیا ویگنر گروپ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا

    برطانیہ نےروسی ملیشیا ویگنر گروپ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا

    لندن: برطانیہ نے روسی نجی ملیشیا ویگنر گروپ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر پابندی کا فیصلہ کرلیا-

    باغی ٹی وی: برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ویگنر گروپ پر پابندی سے متعلق ایک ڈرافٹ پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کے بعد روسی نجی ملیشیا کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر اس کے اثاثوں کو منجمند کر دیا جائے گا، پابندی کے بعد ویگنر گروپ میں شمولیت یا کسی بھی طرح اس کی سپورٹ ایک جرم قرار پائے گا۔

    برطانوی وزیر داخلہ سویلا برویرمین کا کہنا تھا کہ ویگنر گروپ نہ صرف شدتپسند اور تباہی پھیلانے والا گروہ ہے بلکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کیلئے ایک عسکری ہتھیار ہے، جس کے یوکرین اور افریقا میں کیے گئے کام عالمی سکیورٹی کیلئے خطرہ ہیں، ویگنر گروپ مسلسل عدم استحکام پھیلا رہا ہے اور یہ کام صرف روسی سیاسی مفادات کے حصول کیلئے کیا جاتا ہے، یہ دہشت گرد ہیں اور برطانیہ کا قانون اس معاملے میں بہت واضح ہے۔

    سعودی سفیر تہران پہنچ گئے

    واضح رہے کہ برطانیہ کے ٹیررازم ایکٹ 2000 کے تحت وزیر داخلہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ کسی تنظیم یا گروہ کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے سکتے ہیں۔

    ویگنر نے یوکرین پر روس کے حملے کے ساتھ ساتھ شام اور لیبیا اور مالی سمیت افریقہ کے ممالک میں کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اس کے جنگجوؤں پر یوکرین کے شہریوں کو قتل اور تشدد سمیت متعدد جرائم کا الزام ہے۔

    سعودی عرب اور ایران عالم اسلام اور اس خطے کے دو بااثر ممالک ہیں ،ایرانی …

    2020 میں، امریکہ نے کہا کہ ویگنر کے فوجیوں نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے ارد گرد بارودی سرنگیں بچھائی تھیں اور جولائی میں، برطانیہ نے کہا کہ اس گروپ نے "مالی اور وسطی افریقی جمہوریہ میں پھانسی اور تشدد” کیا ہے اس گروپ کا مستقبل اس سال کے شروع میں غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا گیا تھا جب اس کے رہنما یوگینی پریگوزن نے روس کے فوجی رہنماؤں کے خلاف ناکام بغاوت کی قیادت کی۔

  • ہمارا مقصد ماسکوحکومت کا تختہ اُلٹنا نہیں تھا،مسلح باغی ویگنر گروپ کے سربراہ کا پہلا بیان جاری

    ہمارا مقصد ماسکوحکومت کا تختہ اُلٹنا نہیں تھا،مسلح باغی ویگنر گروپ کے سربراہ کا پہلا بیان جاری

    روس میں بغاوت کی کوشش کرنے والی نجی فوجی ملیشیا ویگنر گروپ کے سربراہ یووگینی پری گوژن کا کہنا ہے کہ ماسکو کی طرف پیش قدمی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے نہیں کی گئی تھی۔

    باغی ٹی وی : بغاوت کی کوشش ناکام ہونے کے بعد اپنے پہلے بیان میں یووگینی پری گوژن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنا مارچ ناانصافی کے خلاف شروع کیا تھا، ہمارا مقصد یوکرین میں جنگ کے غیر مؤثر طرز عمل پر احتجاج کرنا تھا، ہمارا مقصد ماسکوحکومت کا تختہ اُلٹنا نہیں تھا ہمارے مارچ سے روس میں سنگین سکیورٹی مسائل سامنے آئے، واپسی کا فیصلہ روسی فوجیوں کا خون بہانے سے بچانے کے لیے کیا۔

    روس کی صورت حال سے قطع نظر ہم یوکرین کی حمایت جاری رکھیں گے،امریکی‌صدر

    اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہ کیا گیا، تو بھارت کے تقسیم ہونے کا آغاز …

    دوسری جانب روس میں بغاوت کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ہم روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف بغاوت میں ملوث نہیں تھے نہ ہی ہم نے اس معاملے میں کچھ کیا ہے، بغاوت کی کوشش روسی نظام کے اندر کی جدوجہد کا حصہ ہے، امریکا یا اس کے اتحادی اس میں ملوث نہیں تھے، میں نے اتحادیوں سے بھی رابطہ کیا تھا سب نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پیوٹن کو کوئی بہانہ نہیں دیا جائے گا کہ وہ اس معاملے کا مغرب یا نیٹو پر الزام لگائے روس کی صورت حال کہاں جا رہی ہے یہ کہنا قبل ازوقت ہے، روس کی صورت حال سے قطع نظر ہم یوکرین کی حمایت جاری رکھیں گے۔

    چین کا روس کی حمایت کا اعلان

    ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات شروع

    اس کے برعکس چین نے روس میں کرائے کے فوجیوں پر مشتمل نجی فوج ویگنر گروپ کی مسلح بغاوت کے تناظر میں ماسکو کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے چین کی وزارت خارجہ نے ایک مختصر بیان میں اس واقعے کو “روس کا اندرونی معاملہ” قرار دیا کہا کہ روس کے دوست ہمسایہ اور نئے دور کے لیے ہم آہنگی کے جامع اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر، چین قومی استحکام کو برقرار رکھنے اور ترقی اور خوشحالی کے حصول میں روس کی حمایت کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ روس میں نجی فوجی ملیشیا ویگنر گروپ نے ہفتے کو بغاوت کی کوشش کی تھی،ویگنر گروپ کے سربراہ یوگینی پریگوزن نے اپنے فوجیوں کو ماسکو کے 200 کلومیٹر (124 میل) کے اندر لے جانے سے پہلےبیلاروس کی مصالحتی کوششوں سے پیش قدمی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

    ساف چیمپئین شپ میں میزبان بھارت کی بد انتطامی

  • روس:ویگنر گروپ نے اپنے جنگجوؤں کوواپس بُلالیا

    روس:ویگنر گروپ نے اپنے جنگجوؤں کوواپس بُلالیا

    روس میں نجی فوجی کمپنی ویگنر گروپ کے سربراہ یووگنی پریگوژن مسلح بغاوت کے بعد پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: روس میں بغاوت پر آمادہ نیم فوجی ملیشیا ویگنر کے سربراہ یووگینی پریگوژن نے ہفتے کے روز ماسکو کی جانب قافلے کی شکل میں پیش قدمی کرنے والے اپنے جنگجوؤں کو لوٹنے کاحکم دیا ہے اور ان سے کہا کہ وہ ملک میں خون ریزی سے بچنے کے لیے اپنے اڈوں پر واپس چلے جائیں۔

    سربراہ ویگنر گروپ نے کہا کہ خون ریزی سے بچنے کیلئے اپنے دستوں کو فوجی بیرکوں میں واپس بھیج رہے ہیں فوجی دستوں کو واپسی کا حکم جانی نقصان بچانے کیلئے کیا۔

    اس سےقبل بیلاروس نے ویگنر گروپ اور روسی قیادت کے درمیان مصالحت کی کوششیں کی جو کارآمد ثابت ہوگئیں بیلاروس کے صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سربراہ ویگنر گروپ روس میں پیش قدمی روکنے پر آمادہ ہوگئے ہیں انھوں نے صدرپیوٹن کی منظوری سے پریگوژن سے بات کی ہے اور ویگنر ملیشیا کے سربراہ نے کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے سربراہ ویگنر گروپ نے کشیدہ صورتحال کو کم کرنے پر اتفاق کیا ہے، ویگنر فوجیوں کے تحفظ کی ضمانت کے معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔

    یووگینی پریگوژن نے اپنی پریس سروس کی طرف سے جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ وہ ویگنر ملٹری کمپنی کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے 23 جون کو انصاف کے لیے مارچ کا آغاز کیا۔ 24 گھنٹے میں ہم ماسکو سے 200 کلومیٹر دور رہ گئے۔ اس دوران میں ہم نے اپنے جنگجوؤں کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایا اب وہ وقت آ گیا ہے جب خون بہایا جا سکتا ہے۔ اس بات کی ذمے داری کو سمجھتے ہوئے کہ ایک طرف روسی خون بہایا جائے گا، ہم اپنے دستوں کو لوٹا رہے ہیں اور منصوبہ بندی کے مطابق فیلڈ کیمپوں میں واپس جا رہے ہیں-

    قبل ازیں روس میں نجی باغی فوجی کمپنی ویگنر گروپ کے سربراہ سربراہ یووگنی پری گوژن نے روستوف کے فوجی ہیڈکوارٹر پر قبضےکا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ فوجی ہیڈکوراٹر پر قبضے کے لیے ہمیں ایک بھی گولی نہیں چلانی پڑی ویگنر گروپ کو روسی عوام کی حمایت حاصل ہے۔

    نجی فوجی کمپنی ویگنر گروپ کی مسلح بغاوت کے معاملے پر روس کی فارن انٹیلی جنس ایجنسی ایس وی آر کے سربراہ سرگئی ناریشکن کا کہنا ہے کہ روسی معاشرے کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے روس میں خانہ جنگی کرانےکی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔

    روسی نیم فوجی دستے ویگنر گروپ کا ماسکو کے خلاف بغاوت کا اعلان

    روسی جمہوریہ چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے ویگنر گروپ کی بغاوت کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا اور اپنے دستے روستوف بھیجنے کا اعلان کیا قادریوف کے اعلان کے بعد چیچن دستے متاثرہ علاقے روستوف پہنچ گئے ہیں اور مقامی میڈیا نے چیچن دستوں کی ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔

    روس میں مسلح بغاوت پر امریکا، قطر اور ایران کا ردعمل سامنے آیا ہے-

    روس میں نجی فوجی کمپنی ویگنر گروپ کی بغاوت کے معاملے پر قطر اور ایران نے تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اتحادیوں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔

    قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس میں درپیش صورت حال پر گہری تشویش ہے، روس میں فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، روس کی صورت حال کے اثرات توانائی اور خوراک کی فراہمی پر اثر انداز ہوں گے۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے روس کی صورت حال پر جاری بیان میں کہا کہ روس میں قانون کی عملداری کی حمایت کرتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے روس میں مسلح بغاوت کے معاملے پر ردعمل میں کہا کہ روس کی صورت حال پر جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین حکام سےتبادلہ خیال کیا، روس میں ہونے والی پیشرفت پر اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    آبدوز ٹائٹن کے سفر کی رعایتی پیشکش ٹھکرا کر بچ جانے والا جے بلوم

    روس کے اتحادی بیلاروس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ بیلاروس روس کا قریبی اتحادی ہے، روس میں مسلح بغاوت مغرب کا تحفہ ہے، روس میں بغاوت کی کوشش تباہی کا سبب بنےگی۔

    ادھر روس نے مسلح بغاوت پر اکسانے کے الزام میں ویگنر گروپ کے سربراہ یوو گنی پری گوژن کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں جبکہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم عوام کی بقا اور تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں، تمام تفرقات کو ختم کر دینا چاہیے۔

    پیوٹن نے کہا کہ ویگنر نے غداری کی اور ہماری پیٹھ میں چھراگھونپا ہے، ویگنرگروپ ہیرو ہے جس نے ڈونباس کوآزادکرایا، اب ہمارا ردعمل سخت ہوگا اور روستوف میں اقدامات کریں گے، ویگنرز مجرمانہ کارروائی میں حصہ لینا بند کریں۔

    قومی کر کٹر محمد رضوان مسجد الحرام کی صفائی کرتے ہوئے

    روس کے صدر نے سنیچر کو ایک ہنگامی ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ وہ روس کی حفاظت کے لیے سب کچھ کریں گے اور جنوبی شہر روستوف میں صورت حال کو مستحکم کرنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی‘ کی جائے گی ویگنر کے کمانڈر ایوگنی پریگوزن کی طرف سے اعلان کردہ فوجی نافرمانی پراپنے پہلے تبصرے میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نےاس بات پرزوردیا کہ کسی بھی بغاوت کا جواب سخت، فیصلہ کن اور شدید ہوگا۔

    اپنی نشری تقریر میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ فاغر کے عناصر کو مسلح بغاوت میں گھسیٹا گیا تھافیصلہ کن لہجے میں روسی صدر نے زور دیا کہ جس نے بھی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ غدار ہے۔ انہوں نے کہا: "ان دھمکیوں پر ہمارا ردعمل ان لوگوں کے خلاف سخت اور شدید ہوگا جنہوں نے غداری کی۔


    دوسری جانب روسی فوج کے ہیلی کاپٹروں نےویگنرملیشیا کےفوجی قافلے پر ہفتے کے روز فرونیژ شہر کے باہر ایم 4 ہائی وے پر فائرنگ کی ہے،روس فوج کی ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ سے ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی ہے۔روسی فوجیوں نے ہفتے کے روز ماسکو کے جنوب مغربی کنارے پر مشین گنیں نصب کردی ہیں۔اخبار ویدوموستی میں ان کی مشین گن پوزیشن کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔

    مصنوعی میٹھا ڈی این اے کیلئے انتہائی خطرناک قرار

    ان تصاویر میں مسلح پولیس اہلکاروں کو اس مقام پر اکٹھے ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں آکر ایم 4 ہائی وے اختتام پذیر ہوتی ہے۔اس پرآمادۂ بغاوت ویگنرملیشیا کے کرائے کے فوجی چل رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ روسی دارالحکومت کی جانب رواں دواں ہیں۔

    اس سے قبل ہفتے کے روز فرونیژ کے گورنر نے کہا تھا کہ روسی فوج ویگنر ملیشیا کی جانب سے ملک کی اعلیٰ فوجی قیادت کا تختہ الٹنے کی کوشش کو کچلنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

    روسی عہدہ دار الیگزینڈر گوسیف نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ فرونیژ کے علاقے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے حصے کے طور پر ، روسی فیڈریشن کی مسلح افواج ضروری آپریشنل اور جنگی اقدامات کر رہی ہیں۔

    ذکا اشرف کا ہائرڈ ماڈٌل پر تبصرہ،اے سی سی کا ردعمل سامنے آگیا