Baaghi TV

Tag: وی لاگ میں انکشاف

  • سیلاب ،خودنمائی اور جاہ جلال کی نمائش،مبشر لقمان نے حقیقت آشکار کر دی

    سیلاب ،خودنمائی اور جاہ جلال کی نمائش،مبشر لقمان نے حقیقت آشکار کر دی

    قصور اور اس کے گردونواح میں حالیہ دنوں شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے باعث سیلابی صورتحال نے عوام کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق نہ صرف گھروں اور کھیتوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ متاثرین کے پاس پینے کا صاف پانی، کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات تک میسر نہیں ہیں۔

    معروف صحافی مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں بتایا کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر گئے جہاں عوام کی حالت نہایت ابتر نظر آئی۔ ان کے مطابق، متاثرین گاؤں سے باہر آنے اور جانے میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کر رہے تھے کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورے کے باعث مین روڈز اور گاؤں کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے تھے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس، ایل ڈبلیو ایم سی اہلکار، اور دیگر محکموں کے لوگ تعینات تھے جبکہ مقامی افراد شدید پریشانی میں مبتلا تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرین کے لیے کشتیوں اور ریسکیو کے دیگر انتظامات صرف دکھاوے کے لیے رکھے گئے تھے تاکہ فوٹیج میں دکھایا جا سکے کہ بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

    ان کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز تقریباً 70 سے 80 گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ سیلاب زدہ علاقے میں پہنچیں، لیکن عوامی شکایات یہ تھیں کہ ان کی آمد سے قبل کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائیاں روک دی گئیں۔ حتیٰ کہ جانوروں کو بھی ٹرکوں پر باندھ کر صرف وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کرنے کے لیے لایا گیا، جبکہ انہیں چارہ تک فراہم نہیں کیا گیا۔مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ سیلاب متاثرین کو نہ تو خاطر خواہ راشن ملا، نہ ادویات اور نہ ہی بچوں کے لیے دودھ فراہم کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ چند دنوں میں ان علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں۔

    صحافی کے مطابق، حکومت کو فوری طور پر ریسکیو اور ری ہیبلیٹیشن (بحالی) کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ پانی چند دنوں یا ہفتوں میں ختم ہونے والا نہیں، بلکہ کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ اس بار بین الاقوامی برادری بھی شاید زیادہ مدد نہ کرے کیونکہ پاکستان کی اپنی منصوبہ بندی اور حکومتی اقدامات غیر تسلی بخش ہیں۔

    مبشر لقمان نے آخر میں پاکستانی بزنس ٹائیکونز اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک کی تعمیر نو کے لیے مالی مدد فراہم کریں۔

    5 سے زائد سمز استعمال کرنے پر موبائل بلاک ہونے کی خبر غلط قرار

    آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کا الرٹ، احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت

    مرکزی مسلم لیگ کا دریائے سندھ میں فری بوٹ ریسکیو آپریشن شروع

    عوامی احتجاج کامیاب،اراکین پارلیمنٹ کی مراعات کم کرنے کا اعلان

  • ٹرمپ کی زبانی مودی کی بزدلی،ہندوستان کا پاکستان پر حملہ، نیوی بھی تیار

    ٹرمپ کی زبانی مودی کی بزدلی،ہندوستان کا پاکستان پر حملہ، نیوی بھی تیار

    پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار مبشر لقمان نے اپنے تازہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں آنے والا حالیہ تباہ کن سیلاب کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ بھارت کا ’’آبی حملہ‘‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے دریائے راوی، ستلج اور بیاس میں اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان کے کئی اضلاع کو برباد کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور قصور سمیت متعدد علاقے زیرِ آب آگئے ہیں، ہزاروں ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے اور سینکڑوں بستیاں متاثر ہوئی ہیں۔

    مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ بھارت موسمیاتی تبدیلی کو جواز بنا کر اپنی نااہلی اور جارحانہ حکمتِ عملی کو چھپا رہا ہے، حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر دریاؤں سے پانی چھوڑ کر پاکستان کو تباہی کا شکار کیوں کرتا ہے؟ ان کے مطابق یہ سراسر ناانصافی ہے کہ خوشحالی کے وقت تو پاکستان کو پانی سے محروم رکھا جاتا ہے لیکن جب سیلاب آتا ہے تو اضافی پانی زبردستی پاکستان کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ یہ مسئلہ صرف دو طرفہ مذاکرات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عالمی عدالتوں، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے تاکہ بھارت کی ’’آبی جارحیت‘‘ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو۔ مبشر لقمان نے زور دیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ اجلاس میں اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ بھارت کے اس رویے پر عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

    مزید برآں، انہوں نے بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کو بھی خطرناک قرار دیا، جن میں کہا گیا ہے کہ ’’امن کے لیے جنگ ضروری ہے‘‘۔ ان کے مطابق یہ سوچ بھارت کی مسلسل جنگی تیاریوں کو ظاہر کرتی ہے، جس میں میزائل تجربات اور بحری بیڑوں کی شمولیت شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی فوجی تنصیبات اور اسلحہ محفوظ رکھنے میں بھی ناکام ہے اور اس کی کمزوریاں دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔

    مبشر لقمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ماضی میں بھارت کو جنگ سے روکنے کے لیے سخت وارننگ دی تھی اور اگر مستقبل میں بھارت نے دوبارہ جنگ چھیڑنے کی کوشش کی تو انہیں ایک بار پھر مداخلت کرنا پڑے گی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی پالیسیز نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

    پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کی بحالی میرا مشن ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    شہباز شریف سے بیلاروس کے وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کی ملاقات

  • مودی کی کہانی ختم،فوج میں بغاوت، ائیر چیف کے جھوٹ

    مودی کی کہانی ختم،فوج میں بغاوت، ائیر چیف کے جھوٹ

    معروف صحافی مبشر لقمان نے اپنے تازہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی معاشی اور سیاسی صورتحال شدید بحران کا شکار ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق بھارتی پولیس نے گزشتہ رات صنعتکار انیل امبانی کے گھر چھاپہ مارا اور مبینہ طور پر ان کے خلاف 3000 کروڑ روپے کی ہیر پھیر کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ امبانی پر یہ بھی الزام ہے کہ انہیں رافیل طیاروں کے سودے میں خصوصی نوازشات دی گئیں، جس سے اربوں ڈالر کے معاہدے ہوئے۔وی لاگ میں بتایا گیا کہ بھارت پر امریکہ کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف عائد ہونے جا رہا ہے اور مزید پابندیوں کا بھی امکان ہے۔ اس صورتِ حال کے باعث غیر ملکی کمپنیاں بھارت میں اپنے آرڈرز منسوخ کر رہی ہیں جبکہ بڑے صنعتی ادارے ملازمین کو فارغ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹاٹا گروپ نے ہزاروں آئی ٹی ماہرین کو ملازمتوں سے نکال دیا ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق بھارت میں سیاسی بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ نائب صدر سمیت اعلیٰ فوجی افسران کے استعفے اور غائب ہونا نریندر مودی حکومت کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔ وی لاگ میں کہا گیا کہ بھارتی فضائیہ کے اندر بھی اینٹی مودی جذبات پائے جاتے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے مودی پر انتخابی دھاندلی کے سنگین الزامات لگائے اور ثبوت پارلیمان میں پیش کیے۔ اسی طرح مودی کی ڈگری کے تنازع پر دہلی ہائی کورٹ نے اسے عوامی کرنے سے روک دیا۔

    مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ بھارت نہ صرف معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی غیر یقینی کیفیت میں ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور حالات اس نہج پر پہنچ سکتے ہیں کہ بھارت کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑے۔

    بھارت کے پاس وقت کم،پی سی بی جوئے کو سپورٹ کرتی ہے

    بازی پلٹ گئی،ڈھاکہ دلی کے تسلط سے آزاد،مودی پاکستان سے خوفزدہ

  • بازی پلٹ گئی،ڈھاکہ دلی کے تسلط سے آزاد،مودی پاکستان سے خوفزدہ

    بازی پلٹ گئی،ڈھاکہ دلی کے تسلط سے آزاد،مودی پاکستان سے خوفزدہ

    سینئر صحافی مبشر لقمان نے اپنے تازہ وی لاگ میں انکشاف کیا کہ پاکستان نے بھارت کو ہر محاذ پر سخت دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق کراچی اور آزاد کشمیر سے راء کے کارندے گرفتار ہوئے جنہوں نے پاکستان کے حساس مقامات کی معلومات بھارت کو دینے کا اعتراف کیا۔

    انہوں نے کہا کہ 50 سال بعد تاریخ نے پلٹا کھایا ہے۔گیلپ سروے کے مطابق 47% بنگلہ دیشی عوام بھارت کو دشمن سمجھتے ہیں۔اسحاق ڈار کے ڈھاکہ دورے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش قریب آگئے ہیں۔ویزا فری انٹری، سول سرونٹس اور فوجی افسران کی تربیت، اور مونگا بندرگاہ تک رسائی جیسے معاہدے ہو چکے ہیں۔مبشر لقمان کے مطابق مئی میں پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل طیارے مار گرائے، نیوی بغیر لڑے واپس چلی گئی۔بھارت اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید رہا ہے مگر خوف کم نہیں ہوا۔بھارتی میڈیا اور تجزیہ کار اب اپنی ہی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے سیلاب کے خدشے پر پاکستان کو پیشگی اطلاع دی، جسے ماہرین نے "مجبوری” اور سندھ طاس معاہدے کی تائید قرار دیا۔ مبشر لقمان نے کہا کہ بھارت چاہ کر بھی پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا۔کراچی میں پکڑے گئے راء نیٹ ورک نے متلی میں ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا، جسے دبئی سے فنڈنگ مل رہی تھی۔ جواب میں بھارت نے کھلے سمندر سے 15 پاکستانی ماہی گیر گرفتار کر لیے۔

    مبشر لقمان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ عسکری محاذ پر بھی بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ خطے میں طاقت کا توازن اب تیزی سے اسلام آباد کے حق میں جھک رہا ہے۔

    سیلاب کا خدشہ، ستلج کےقریبی علاقوں میں انخلا کی کارروائیاں شروع