Baaghi TV

Tag: وی پی این

  • پی ٹی اے نے وی پی این سروس  کی لائسنسنگ کا آغاز کر دیا

    پی ٹی اے نے وی پی این سروس کی لائسنسنگ کا آغاز کر دیا

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ویجیلنٹ ڈیٹا ورک (وی پی این) سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے وی پی این لائسنسنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

    یہ لائسنسنگ نیا متعارف کردہ کلاس ویلیو ایڈڈ سروس (CVAS-Data) کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوام اور کاروباری اداروں کو محفوظ، معیاری اور قانونی وی پی این سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔پی ٹی اے نے پہلی فہرست جاری کرتے ہوئے جن کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا ہے، ان میں Aplha 3 Cubic (Pvt.) Ltd. (Steer Lucid)،Zettabyte (Pvt.) Ltd. (Crest VPN)،Nexilium Tech (SMC-Pvt.) Ltd. (Kestrel VPN)،UKI Conic Solutions (SMC-Pvt.) Ltd. (QuiXure VPN)Vision Tech 360 (Pvt.) Ltd. (Kryptonyme VPN)، شامل ہیں.ان کمپنیوں کو قانونی اور مجاز مقاصد کے لیے وی پی این سروسز فراہم کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال کو روکنا، قومی ڈیجیٹل سکیورٹی میں بہتری لانا، اور صارفین کو محفوظ اور قابلِ اعتماد وی پی این سروسز فراہم کرنا ہے

    ڈیجیٹل سیکیورٹی، پاکستان میں غیر رجسٹرڈ وی پی اینز پر پابندی کا مطالبہ

    انگلش آل راؤنڈر کا بھارتی لیگ چھوڑ کر پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ

    یوکرینی صدر کی میکرون سے ملاقات، جنگ کے خاتمے پر گفتگو

    اسلام آباد میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

  • وی پی این پر مکمل پابندی تکنیکی لحاظ سے مشکل ہے، پی ٹی اے

    وی پی این پر مکمل پابندی تکنیکی لحاظ سے مشکل ہے، پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) نےکہاہے کہ ملک میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک ( وی پی این ) کے استعمال پر پابندی لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں،وی پی این پر مکمل پابندی تکنیکی لحاظ سے مشکل ہے-

    یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں آن لائن رسائی اور ڈیجیٹل پرائیویسی سے متعلق خدشات پر تبادلہ خیال کیا گیا،پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ وی پی اینز کو وسیع پیمانے پر جائز مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جن میں محفوظ مواصلات، ڈیٹا کا تحفظ، اور محدود وسائل تک رسائی شامل ہےوی پی این پر مکمل پابندی تکنیکی لحاظ سے مشکل ہے اور یہ ان کاروباری اداروں کے لیے نقصان دہ ہو گی جو عالمی روابط پر انحصار کرتے ہیں، پی ٹی اے نے وی پی اینز پر پابندی لگانے کے بجائے پاکستان کے آئی ٹی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے پر توجہ دینے پر زور دیا۔

    پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ نےکمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ اگرچہ عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ 0.04 فیصد سے کم ہے تاہم گزشتہ سال برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے پی ای ایس بی نے ای روزگار پروگرام کا اعلان کیا۔

  • وی پی این کو قانونی بنانے کے لیے لائسنس سروس  شروع

    وی پی این کو قانونی بنانے کے لیے لائسنس سروس شروع

    حکومت نے کاروباری افراد کے لیے وی پی این کے استعمال کو قانونی بنانے کے لیے لائسنس سروس کا اجرا شروع کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے 2 کمپنیوں کو درخواستوں پر لائسنس جاری کر دیا گیا، اقدام کاروباری اداروں کو وی پی این کے قانونی استعمال کی سہولت فراہم کرے گا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ڈیٹا کی سیکیورٹی، پرائیویسی اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ پی ٹی اے اداروں کو ذمہ داری کیساتھ کنیک ٹیویٹی کی معاونت کیلئے پُرعزم ہے، پاکستان اپنے انٹرنیٹ کو بڑھانے کے لیے 26.5 Tb فی سیکنڈ کیبل کنیکٹیویٹی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    یاد رہے نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ نے وی پی این اور اے آئی استعمال کرنے والے صارفین کے سائبر حملوں سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ ملک میں سائبر حملوں کی نئی مہم کا کھوج لگایا گیا ہے، ذاتی معلومات، کوائف چوری کرنے کے لیے براؤزر ایکسٹیشنز کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    فرانس میں روسی قونصل خانے پر حملہ

    ”شالا وسدا روے پنجاب ” رونقوں کا میلہ ہارس اینڈ کیٹل شو2025 ، اختتام پذیر

    چیمپئنز ٹرافی،پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدوں پر پانی پھر گیا

    ضلع خیبر کے علاقے باغ میں 10 خوارج جہنم واصل

  • پاکستانی نیٹ ورکس کو وی پی این کے استعمال میں رسائی والی کمپنیوں سےخطرات

    پاکستانی نیٹ ورکس کو وی پی این کے استعمال میں رسائی والی کمپنیوں سےخطرات

    اسلام آباد: پاکستانی نیٹ ورکس کو سائبر سکیورٹی فراہم کرنے اور وی پی این کے استعمال میں رسائی والی کمپنیوں سےخطرات لاحق ہوگئے ر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایڈوائزری جاری کر دی-

    باغی ٹی وی : سائبر سکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنی پالوآلٹوکےنیٹ ورکس اور وی پی این کے استعمال میں رسائی فراہم کرنے والی کمپنی سونک وال میں نقائص کی نشاندہی کرلی گئی ہے اٹیکرز کی کمپنیوں کے زیراستعمال نیٹ ورکس تک رسائی کے خدشے کے پیش نظر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں وزارتوں، ڈویژنز اور انٹرپرائززکو خطرات سےآگاہ کردیا گیا ہے۔

    ایڈوائزری کے مطابق پالوآلٹو نیٹ ورکس کے ویب مینجمنٹ انٹرفیس میں کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے، پالوآلٹو اور سونک وال استعمال کرنے والے اداروں کے لیے شدید خطرات ہو سکتےہیں اور نیٹ ورکس میں کمزوریاں غیرمجاز رسائی کا باعث بن سکتی ہیں، اٹیکرزبغیرکسی لاگ ان یااجازت کے سسٹم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

    مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ سروسز متعارف کرانے کا فیصلہ

    ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا کہ حفاظتی اقدامات نہ کرنے والےاداروں کاڈیٹاچوری کیاجاسکتا ہے، حفاظتی اقدامات نہ ہونے پر ادارے نیٹ ورک سکیورٹی ڈیوائسزپرکنٹرول کھو سکتےہیں ایڈوائزری میں سکیورٹی کمزوریوں کےخلاف فوری طور پر کارروائی جبکہ اداروں کوپالوآلٹو نیٹ ورکس اور سونک وال کے سکیورٹی پیچز فوری طورپرنافذکرنےکی سفارش کی گئی کہ فائر وال اور وی پی این سلوشنز تازہ ترین فرم ویئر ورژنز پراپ ڈیٹ کیاجائے جبکہ مینجمنٹ انٹرفیسزتک رسائی کوصرف قابل اعتماد آئی پی ایڈریسز تک محدود اورغیرمجاز رسائی روکنے کے لیے ملٹی فیکٹر تصدیق کا نظام اپنایا جائے۔

    صدر مملکت اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات متوقع

  • اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

    اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کے استعمال کی اجازت دے دی ہے ۔

    اس اقدام کا مقصد کرنسی کے تبادلے، ترسیلات زر، اور یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی جیسے اہم آپریشنز کو محفوظ بنانا ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مذکورہ آپریشنز کے لیے محفوظ نیٹ ورک کنکشن کی ضرورت ہوتی ہے، جسے یقینی بنانے کے لیے وی پی این کا استعمال ضروری ہے۔اسٹیٹ بینک نے مزید کہا ہے کہ تمام کمپنیز کو وی پی این کے استعمال میں دیے گئے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کرنا ہوگی تاکہ نیٹ ورک سیکیورٹی اور ڈیٹا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    ہنجروال کے علاقہ میں غیر ت کے نام پر قتل، باپ سمیت ملزمان گرفتار

  • وی پی این سروس پرووائیڈرز کی رجسٹریشن دوبارہ شروع

    وی پی این سروس پرووائیڈرز کی رجسٹریشن دوبارہ شروع

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کام نے وی پی این سروس پرووائیڈرز کی رجسٹریشن دوبارہ شروع کردی-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سروسز دینے والی کمپنیوں کو کلاس لائسنس برائے ڈیٹا سروسز دیا جارہا ہےپی ٹی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کلاس لائسنس کے ذریعے وی پی این سروس پرووائیڈرز رجسٹرڈ ہوں گے، وی پی این سروس پرووائیڈرز کو مقامی طور پر رجسٹرڈ کیا جائے گا، اس کے ذریعے سروس پرووائیڈرز کی مانیٹرنگ اور ریگولیشن کی جاسکے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وی پی این سروس پرووائیڈرز پاکستان میں ڈیٹا سینٹرز بنانے کے پابند ہوں گے، پی ٹی اے کو صارفین کے ڈیٹا، براؤز نگ ہسٹری تک رسائی کا اختیار ہوگا، حکومت لائسنس کی مد میں ایک سے 3 لاکھ روپے وصول کرسکے گی وی پی این سروس پروو ائیڈرز مقامی ڈیٹا پروٹیکشن قوانین پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے، پی ٹی اے سائبر حملوں کو نشاندہی سے ٹریک کرسکے گاسروس پرووائیڈرز کی رجسٹر یشن کا فیصلہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیا گیا، پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسو سی ایشن نے رجسٹریشن کی درخواست کی تھی-

  • یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں  تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ وی پی این (ویئرچل پرائیویٹ نیٹ ورک) کو بلاک کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے نے ماضی میں بھی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ وی پی این کو بلاک نہیں کریں گے اور آج تک ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

    یہ بات انہوں نے پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 کی لانچنگ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ "ہم پہلے بھی واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم وی پی این کو بلاک کرسکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ آج تک کسی وی پی این کو بلاک نہیں کیا گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ دور نہیں ہے جب ہم کچھ چھپائیں تو وہ چھپ جائے گا، بلکہ اب تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے قومی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب قومی سیکورٹی کے حوالے سے سوالات کیے جاتے ہیں کہ انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا، تو ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔” انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی اے کو نیشنل سیکیورٹی سے متعلق سوالات کا جواب دینے کا اختیار نہیں ہے اور یہ سوالات پالیسی سازوں سے کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیشنل سیکیورٹی کے مسائل پر کوئی بھی فیصلہ پالیسی ساز اداروں کی طرف سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ پی ٹی اے کا کام صرف ٹیلی کمیونیکیشن کی نگرانی اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی تک محدود ہے۔

    پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 میں پی ٹی اے کی کارکردگی، انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی سروسز، اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئیں۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ پی ٹی اے مستقبل میں انٹرنیٹ کی سیکیورٹی اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دے گا۔

    یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان میں وی پی این کا استعمال بڑھ رہا ہے، اور کچھ حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کو انٹرنیٹ کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے اس پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ تاہم، پی ٹی اے کا موقف واضح ہے کہ وہ صارفین کی آزادی اور انٹرنیٹ کی سہولت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

    موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت

    انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    پی ٹی اے کا وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    وی پی این پر پابندی،پی ٹی اے کو نوٹس جاری،جواب طلب

  • موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت

    موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت

    حکومت نے فری لانسرز کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) رجسٹریشن کی نئی سہولت فراہم کر دی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس اقدام کے تحت موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت دے دی ہے، جس سے فری لانسرز کو آسانی سے اپنے موبائل ڈیٹا کنکشن پر وی پی این استعمال کرنے کی سہولت ملے گی۔

    اس نئی سہولت کے تحت وہ فری لانسرز جو اسٹیٹک آئی پی ایڈریس نہیں رکھتے، اب موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این کی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے فراہم کردہ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے فری لانسرز اپنے موبائل نمبر کو رجسٹر کر کے وی پی این کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔فری لانسرز کو وی پی این رجسٹریشن کے لیے https://ipregistration.pta.gov.pk پر جا کر اپنا موبائل نمبر رجسٹر کرنا ہوگا۔

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق، یہ سہولت آئی ٹی کے شعبے کی ترویج اور وی پی این رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔یہ قدم ملک میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے اور فری لانسرز کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا عکاس ہے۔ اس اقدام سے پاکستان میں کام کرنے والے فری لانسرز کو اپنے کام کے لیے مزید سہولت اور تحفظ حاصل ہوگا، خاص طور پر ان کے آن لائن کام اور ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے۔

    وی پی این کے استعمال سے انٹرنیٹ پر محفوظ اور پوشیدہ طریقے سے کام کرنا ممکن ہوتا ہے، جو خاص طور پر فری لانسرز کے لیے اہم ہے جو بین الاقوامی سطح پر کام کرتے ہیں اور جنہیں اپنے کام کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وی پی این کے ذریعے، فری لانسرز اپنے ڈیٹا کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور انٹرنیٹ پر بلاک شدہ مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔یہ نئی سہولت پاکستان کے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی میں مزید مددگار ثابت ہوگی اور فری لانسرز کے لیے ایک نئی راہ کھولے گی۔

    وی پی این ،سوشل میڈیا پر پابندی، پی ٹی اے سے جواب طلب

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

  • انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ سلو کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی پلوشہ خان نے کہا کہ وزارت آئی ٹی جو بھی اقدام اٹھاتی ہے ذمے داری وزارت داخلہ پر ڈال دیتی ہے، سمجھ نہیں آتی ہمارے پاس وزارت آئی ٹی کیوں ہے؟وزارت آئی ٹی کے حکام نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی تقاضے پورے کرتے ہوئے کوشش کر رہے ہیں آئی ٹی انڈسٹری پر کم سے کم اثرات ہوں۔ پی ٹی اے چیئرمین نے کہا کہ یکم جنوری سے وی پی این کی لائسنسنگ شروع کر دیں گے، وی پی این کی لائسنسنگ سے مسئلہ حل ہو جائے گا، انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔

    کمیٹی ارکان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ مجموعی طور پر سلو ہے۔،سینیٹر افنان اللّٰہ خان نے کہا کہ انٹرنیٹ فائر وال کی وجہ سے سست ہو سکتا ہے،سیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کی جانب سے انٹرنیٹ کی سست روی کی شکایات آ رہی ہیں، نیشنل سیکیورٹی کی صورت میں انٹرنیٹ سروس بند کرتے ہیں،سینیٹر کامران نے سوال کیا کہ کیا نیشنل سیکیورٹی صرف پاکستان کا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ بھارت کو نہیں ہوتا کیا،سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ 2018ء میں ہم نے وی ہی این رجسٹر کیے لیکن انٹرنیٹ پر کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ہم نے بھی وائٹ لسٹنگ کی اور گرے ٹریفک روکنے کے لیے اقدامات کیے لیکن انٹرنیٹ متاثر نہیں ہوا۔

    چیئرمین پاکستان سافٹ وئیر ہاؤس ایسوسی ایشن (پاشا) سجاد سید کا کہنا کمیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا آئی ٹی انڈسٹری 30 فیصد کے حساب سے ترقی کر رہی ہے، نیشنل سیکورٹی کو خطرے کی صورت میں انٹرنیٹ سروس بند ہو سکتی ہے، تمام ممالک وی پی این کو مانیٹر کرتے ہیں،پاشا نے وی پی این سروس پروائیڈرز کی تجویز دی ہے، حکومت کو تجویز دی ہے کہ وی پی اینز کو مقامی سطح پر رجسٹر کرے کیونکہ فری وی پی اینز سے ڈیٹا سیکورٹی کے خطرات ہیں ، انٹرنیٹ آئی ٹی انڈسٹری کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، موجودہ صورتحال میں 99 فیصد آئی ٹی کمپنیوں نے خلل کی نشاندہی کی ہے، وزارت آئی ٹی کے ساتھ انٹرنیٹ میں خلل کا معاملہ اٹھایا ہے، پی ٹی اے نے آئی ٹی انڈسٹری کے خدشات دور کرنے کیلئے سیل بنایا۔

    سینیٹر افنان اللہ نے وزارت داخلہ کے حکام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کے تحت پی ٹی اے کو نہیں لکھ سکتے، جس پر وقار خان نے بتایا کہ ہم نے ایسا کوئی لیٹر نہیں لکھا جس میں سخت ہدایت دی ہو اس میں واضح طور پر If it all لکھا ہے۔سینیٹر انوشہ رحمان کا کہنا تھا آپ کیسے وی پی این بند کرنے کیلئے ہدایات کر سکتے ہیں، پہلے آپ وی پی این کو غلط ثابت کریں پھر بند کریں۔ سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا کروڑوں صارفین متاثر ہو رہے ہیں اس کا حل نکالنا ہو گا،ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ وقار خان نے بتایا کہ پیکا کے تحت وی پی این کو بند کر سکتے ہیں، جس پر سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا آپ پیکا ایکٹ کے تحت ٹیکنالوجی بند نہیں کرسکتے، کسی سوشل ٹول کو بند نہیں کر سکتے، اٹارنی جنرل کو کمیٹی میں آنا چاہیے تھا،

    ہم اسٹار لنک سے بات کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں۔شزا فاطمہ
    وزیر مملکت برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام شزا فاطمہ نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیکا قوانین میں ترمیم زیر غور ہیں، فیک نیوز کو ہمیں ہی ریگولیٹ کرنا ہے، انٹرنیٹ سست ہونے کی ٹیکنیکل وجوہات بھی ہیں، انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے، ہم نے 3 برس میں آئی ٹی میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی، اپریل میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی ہو جائے گی،سینٹر افنان اللہ نے پوچھا کہ کس دہشت گرد نے وی پی این استعمال کیا ہے؟ جس پر وزیر مملکت شزا فاطمہ کا کہنا تھا میں سکیورٹی معاملات پر یہاں بات نہیں کر سکتی، کسی سکیورٹی وجوہات پر انٹرنیٹ بند کرنا پڑا تو بھاری دل سےکریں گے، آج انٹرنیٹ بالکل ٹھیک چل رہا ہے،چیئرمین پی ٹی اے سے دو دن پہلے بات کی کہ انٹرنیٹ میں کہاں کہاں چیلنج ہے لوکیشن کی نشاندہی کر دیں، ہم اسٹار لنک سے بات کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں۔

    وی پی این ،سوشل میڈیا پر پابندی، پی ٹی اے سے جواب طلب

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

  • پی ٹی اے کا  وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    پی ٹی اے کا وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان کے ٹیلی کام ریگولیٹر نے ملک بھر میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق تمام ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) 30 نومبر کے بعد کام جاری رکھیں گے کیونکہ ٹیلی کام ریگولیٹر نے قانونی بنیادوں کی کمی کی وجہ سے ان پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے.وزارت قانون کے مطابق حکومت کے پاس الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت اس طرح کی پابندی نافذ کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین سے کہا تھا کہ وہ 30 نومبر تک اپنے وی پی این رجسٹر کر لیں، جس کے بعد غیر رجسٹرڈ کنکشن بلاک کر دیے جائیں گے۔

    وزیر داخلہ نے ٹیلی کام ریگولیٹر سے غیر رجسٹرڈ VPNs پر پابندی لگانے کی درخواست کی تھی، یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں دہشت گرد "پرتشدد سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے” اور "فحش اور گستاخانہ مواد تک رسائی” کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔، تاہم، وزارت قانون نے واضح کیا کہ PECA مخصوص آن لائن مواد کو بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ اس ماہ کے شروع میں کی گئی درخواست کو واپس لے لیا جائے گا،یہ فیصلہ وزارت قانون کی ایک رائے کے بعد لیا گیا جس میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس VPNs کو بلاک کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

    وزارت داخلہ پابندی کی درخواست واپس لے۔ لاء ڈویژن نے حکومت کو بتایا کہ وہ PECA کے تحت VPNs کو نہیں روک سکتی

    "برقی جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (PECA) 2016 کی شقوں کے ساتھ تشریح کا مسئلہ تھا، اور بالآخر، یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی ریڈنگ کمزور تھی، اور عدالتیں اس کے کام کرنے کی اجازت دیں گی.

    PECA کے سیکشن 34 جس کا عنوان ‘غیر قانونی آن لائن مواد’ ہے حکام کو اختیار دیا ہے کہ وہ "اسلام کی شان یا پاکستان کی سالمیت، سلامتی یا دفاع یا کسی بھی حصے کے مفاد میں” کسی بھی مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے یا ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے ہدایات جاری کریں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے ٹیلی کام ریگولیٹر نے کاروباری افراد اور فری لانسرز سے 30 نومبر تک اپنے وی پی این کو رجسٹر کرنے کا مطالبہ کیا تھا ممکنہ پابندی کے اعلان کے بعد 7 ہزار اضافی رجسٹریشن کے ساتھ تقریباً 27 ہزار وی پی این رجسٹرڈ ہوئے سافٹ ویئر ہاؤسز کی جانب سے ان کے کاروبار پر پابندی کے ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، رواں برس فروری میں پاکستان میں ایکس (سابقہ ​​ٹویٹر) پر پابندی کے بعد وی پی این کے استعمال میں اضافہ ہوا۔