Baaghi TV

Tag: ٌاتازہ ترین

  • چیف جسٹس کے اختیارات کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی درخواستوں پر اعتراضات عائد

    چیف جسٹس کے اختیارات کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی درخواستوں پر اعتراضات عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی جانب سے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے اختیارات کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواستوں پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کر دیے ہیں۔

    رجسٹرار آفس نے درخواستوں کو اعتراضات لگا کر واپس کردیا،اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان درخواستوں میں مفادِ عامہ کا کون سا اہم سوال موجود ہے، درخواست گزار ججوں نے نہ ہی یہ بتایا ہے کہ ایسے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، جن کے تحت آئین کے آرٹیکل 184/3 کا دائرہ کار استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    رجسٹرار آفس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزاروں نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر غیر معمولی دائرہ کار کے تحت درخواستیں دائر کیں،جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے ذوالفقار مہدی بنام پی آئی اے کیس میں یہ اصول طے کیا جاچکا ہے کہ ذاتی رنجش پر آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست دائر نہیں کی جاسکتی،رخواست گزاروں نے نہ تو آئینی درخواست دائر کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان کی اور نہ ہی نوٹسز جاری کرنے کے لیے متعلقہ فریقین کی وضاحت کی۔

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

  • کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی کے میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، گزشتہ روز 3 خواجہ سراؤں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا جن کی لاشیں میمن گوٹھ میں سپرہائی وے سے ملی تھیں۔

    میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت ان کے گرو ظفر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے،مدعی مقدمہ نے موقف اپنایا ہے کہ ہم سب خواجہ سرا ایک ہی علاقے میں مختلف کمروں میں رہائش پذیر تھے، ہمیں بذریعہ واٹس ایپ معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھیوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہےمقتولین میں ایلکس، جیئل اور اسما شامل ہیں، تینوں خواجہ سراؤں کو نامعلوم افراد نے نامعلوم وجوہات پر قتل کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تینوں خواجہ سراؤں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے، شواہد کی مدد سے قاتلوں کی گرفتاری کی کوششیں کی جارہی ہیں،واجہ سراؤں کے قتل کو ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں، قاتلوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہیں۔

    واضح رہے کہ 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں گزشتہ روز میمن گوٹھ کے علاقے میں ناگوری سوسائٹی کے قریب سپر ہائی وے سے ملی تھیں،دو خواجہ سراؤں کو سینے جبکہ ایک کو سر پر ایک ایک گولی ماری گئی تھی، جائے وقوع سے نائن ایم ایم کے دو خول ملے ہیں، کرائم سین پر کوئی کیمرا نہیں لگا ہوا، خواجہ سراؤں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی،واقعے کے بعد لاشیں جناح ہسپتال منتقل کی گئی تھیں جہاں خواجہ سراؤں نے قاتلوں کی گرفتار کے لیے احتجاج بھی کیا تھا اور ملزمان کی عدم گرفتاری کی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کی دھمکی دی تھی۔

  • ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا۔

    ناسا کے سیٹلائٹ نے حال ہی میں امریکی ریاست الاسکا کے ساحل کی ایک تصویر جاری کی ہے اس تصویر میں ساحل پر ایک جزیرہ دیکھا جاسکتا ہے جو وہاں طویل عرصے سے جمی برف پگھلنے سے تشکیل پایا ہےیہ جزیرہ السیک جھیل کے اندر واقع ہے جہاں السیک گلیشیئر بتدریج پگھل رہا ہے اور علاقے کو پانی سے بھر رہا ہے،ناسا نے السیک گلیشیئر دو تصاویر شیئر کی ہیں جن میں سے ایک 5 جولائی 1984ء کو لی گئی پرانی تصویر ہے اور دوسری 6 اگست 2025ء کو لی گئی نئی تصویر ہے۔

    امریکی خلائی ادارے نے دونوں تصاویر کا آپس میں موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ السیک گلیشیئر نے ماضی میں ایک پہاڑ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جسے پرو نوب (Prow Knob) کہا جاتا تھا اور اب پچھلی 4 دہائیوں کے دوران یہ گلیشیئر 5 کلو میٹر سے زیادہ پگھل گیا جس کے بعد وہاں اب ایک جھیل بن گئی ہے نئی تصویر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پہاڑ اب گلیشیئر سے مکمل طور پر الگ ہو گیا ہے جو کہ پانی سے گھرا ہوا ہے اور اسے سرکاری طور پر ایک جزیرے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

    jazeera

  • ٹیکس چھپانے والے جیولرز کیخلاف کریک ڈاؤن کی تیاری

    ٹیکس چھپانے والے جیولرز کیخلاف کریک ڈاؤن کی تیاری

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نیٹ سے باہر اور صلاحیت سے کم ٹیکس ادا کرنے والوں کے خلاف ملک گیر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے،جس کے لیے ایف بی آر نے 60 ہزار سے زائد جیولرز کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا۔

    ایف بی آر حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان میں جیولرز کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اعداد و شمار کے مطابق زیورات کے کاروبار سے وابستہ 60 ہزار جیولرز میں سے صرف 21 ہزار رجسٹرڈ ہیں جب کہ ان میں سے بھی محض 10 ہزار نے ٹیکس ریٹرنز فائل کیے ہیں۔

    حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی صرف ایک مارکیٹ میں ہی ایسے 50 جیولرز موجود ہیں جن کے ٹیکس ریٹرنز ان کی دکانوں، خرید و فروخت اور رہن سہن کے معیار سے میل نہیں کھاتے،ہزاروں جیولرز اب تک ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہوئے، لہٰذا نوٹسز کے ذریعے ان سے جواب طلبی کی جا رہی ہےساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلاوجہ کسی تاجر یا صنعت کار کو نوٹس نہیں بھیجا جائے گا، تاہم ٹیکس چوری کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

    سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    ایف بی آر حکام نے کہا کہ ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ بیشتر جیولرز اپنی آمدنی کم ظاہر کرکے ٹیکس چھپا رہے ہیں، ٹیکس چھپانے والے جیولرز کے خلاف کارروائی شروع کی جا رہی ہے جس کے لیے پہلے مرحلے میں پنجاب کے 900 جیولرز کی فہرست تیار کر لی گئی ہےاگر ہر شہری اپنے حصے کا ٹیکس ایمانداری سے ادا کرے تو ملک کی معیشت بہتر طور پر چل سکتی ہے ادارے کا مقصد تمام سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے تاکہ ٹیکس چوری کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

    غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

  • سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں ونڈسر کیسل میں دی گئی سرکاری ضیافت میں لندن کے میئر صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت کی خاموشی نے سیاسی و سماجی حلقوں میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔

    ذرائع کے مطابق صادق خان کو شرکا کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ براہِ راست صدر ٹرمپ کی خواہش پر کیا گیا تھا، جس کی تصدیق انہوں نے واشنگٹن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں بھی کی اس معاملے پر حکومتِ برطانیہ کے مؤقف نہ دینے کو سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ ناصرف برطانیہ کی داخلی سیاست بلکہ اس کی خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر خودمختاری کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    سابق لارڈ مئیر بریڈفورڈ محمد عجیب نے کہا کہ برطانیہ، جو کبھی دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت اور آج بھی ایک خود مختار ریاست تصور کیا جاتا ہے، نے امریکی صدر کے دباؤ کے آگے سر جھکا کر اپنی عالمی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

    غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

    کونسلر اشتیاق احمد نے اپنے ردعمل میں کہا کہ برطانیہ کا ٹرمپ کے فیصلے کے سامنے جھکنا کوئی نئی روایت نہیں بلکہ پرانی روش کی یاد دہانی ہے برطانیہ ہمیشہ اپنی آزادی کے حق میں بلند آواز رہا ہے لیکن دوسروں کی آزادی اور خود مختاری کے معاملے پر خاموشی اختیار کرتا آیا ہے،وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی ٹرمپ کی نسل پرستانہ حرکتوں کے خلاف خاموشی نے لندن کے میئر کے دفتر کے وقار کو مجروح کیا ہے،ٹرمپ کو لندن کے شہریوں کی توہین کی اجازت دینا باعثِ شرم ہے-

    عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

  • غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

    غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

    چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے،عالمی برادری کو چاہیے کہ دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت دلانے کی حمایت کرے-

    انہوں نے کہا کہ دو برسوں سے جاری غزہ جنگ نے سنگین انسانی المیہ پیدا کیا ہے اور اسرائیلی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو ریاستی حل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں،وانگ یی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے تین اقدامات فوری اختیار کیے جائیں، جن میں غزہ میں فوری اور جامع جنگ بندی، فلسطینی عوام کی اپنے علاقوں پر حکمرانی اور دو ریاستی حل کو مضبوطی سے قائم رکھنا شامل ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت دلانے کی حمایت کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔

    کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    پولیوکے خاتمے کیلئے نئی حکمت عملی، مضبوط قیادت اور واضح ذمہ داری ضروری ہے،اقوام متحدہ

    دعا ملک کا انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف

  • عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

    عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والی سردیاں گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ سرد ثابت ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین کی جانب سے یہ انتباہ ”لا نینا“ نامی موسمی پیٹرن کی اس سال دوبارہ واپسی کے تحت دیا گیا ہے،لا نینا دراصل بحرالکاہل کے خطِ استوا پر سمندری درجہ حرارت کے کم ہونے کے عمل کو کہتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہواؤں کی گردش اور جیٹ اسٹریم کا رویہ بدل جاتا ہے، یہ تبدیلیاں سردیوں کو طویل بناتی ہیں، اور شدید برفباری اور یخ بستہ ہوائیں ساتھ لاتی ہیں۔

    امریکہ کے کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر سمیت کئی عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا ہےماہرین کے مطابق اگر یہ پیٹرن متوقع طور پر وجود میں آ گیا تو دنیا کے کئی خطے سخت سرد لہروں، قبل از وقت برفباری اور بار بار پڑنے والی شدید ٹھنڈ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

    کمزور ترین لا نینا بھی درجہ حرارت میں نمایاں کمی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےماہرین موسمیات نے یاد دہانی کرائی ہے کہ ماضی میں بھی لا نینا کے باعث شمالی امریکا، شمالی یورپ اور وسطی ایشیا میں معمول سے کہیں زیادہ سردیاں پڑ چکی ہیں،تازہ سمندری مشاہدات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بحرالکاہل میں درجہ حرارت کم ہو رہا ہے، جو لا نینا کے آغاز کی علامت ہے اگر یہ رجحان جاری رہا تو آئندہ چند ماہ میں اس کے پختہ ہونے کے امکانات 60 سے 70 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں۔

    لا نینا کے اثرات صرف سردیوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں لا سکتا ہے آسٹریلیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں زیادہ بارشیں، مشرقی افریقہ اور امریکا کے جنوب مغربی حصوں میں خشک سالی، جبکہ اٹلانٹک کے سمندری طوفانوں کے موسم میں شدت اسی پیٹرن کے نتیجے میں دیکھی جاتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لا نینا مکمل طور پر تشکیل پا گیا تو یہ نہ صرف توانائی کی کھپت اور زرعی پیداوار کو متاثر کرے گا بلکہ نظامِ زندگی میں بھی رکاوٹیں ڈال سکتا ہے۔ اس لیے لوگوں کو ابھی سے تیاری کرنی چاہئے تاکہ آنے والی سخت ترین سردیوں کا سامنا کیا جا سکےدوسری جانب محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیر ضیغم کا کہنا ہے کہ لا نینا کا براہ راست اثر پاکستان پر نہیں ہوگا۔

  • کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    سندھ رینجرز اور پولیس نے کشمور کے کچے کے علاقے میں بدنام زمانہ بھیو گینگ کے خلاف کارروائی کرکے مغوی پولیس کانسٹیبل کو بازیاب کرالیا،جبکہ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان رینجرز نے بتایا کہ کشمور میں کچے کے علاقے میں مغوی پولیس اہلکار کو بازیاب کروانے کے لیے رینجرز اور پولیس نے آپریشن کیا، دوران کارروائی ڈکیت گروہ کے ٹھکانے کو بھی مسمار کر دیا گیاآپریشن کے دوران ڈاکوؤں نے نفری پر فائرنگ کر دی، بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق اغوا برائے تاوان میں ملوث خادم بھیو ڈکیت گینگ نے دوران ڈیوٹی پولیس کانسٹیبل کو اغوا کیا تھا، ڈکیت گروہ نے پولیس کانسٹیبل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی،بدنام زمانہ خادم بھیو جس کے سر پر 10 لاکھ روپے انعام مقرر ہے، وہ بھی زخمی ہونے والے ڈاکوؤں میں شامل ہے، اس کے علاوہ واجد بھیو، مالک جاگیرانی سمیت 9 ملزمان زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ میں کچے کے علاقوں میں آئے روز شہریوں کو ہنی ٹریپ کرکے اغوا کرنے کی وارداتیں عام ہیں، ڈاکوؤں کے گینگ سادہ لوح شہریوں کو خواتین اور سستی گاڑیوں سمیت کاروباری لالچ دے کر بلاتے ہیں اور انہیں اغوا کرکے تاوان طلب کیا جاتا ہےڈاکوؤں کی جانب سے تاوان ادا کرنے کے لیے مغویوں کی ویڈیو بھی جاری کی جاتی ہے، اور تاوان نہ دینے پر قتل کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

  • پولیوکے خاتمے کیلئے نئی حکمت عملی، مضبوط قیادت اور واضح ذمہ داری ضروری ہے،اقوام متحدہ

    پولیوکے خاتمے کیلئے نئی حکمت عملی، مضبوط قیادت اور واضح ذمہ داری ضروری ہے،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے تحت پولیو کے خاتمے کے لیے قائم آزاد نگرانی بورڈ (آئی ایم بی) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 37 سال کی کوششوں اور 22 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود دنیا ابھی تک اس مرض سے مکمل نجات حاصل نہیں کر سکی۔

    رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان میں 26 نئے پولیو کیسز سامنے آئے ہیں، جس پر آئی ایم بی نے وارننگ جاری کی ہے کہ پرانے طریقہ کار اب مؤثر ثابت نہیں ہو رہے اور پولیو پر قابو پانے کی حکمتِ عملی ناکام ہوتی نظر آ رہی ہےاس مرض کے خاتمے کے لیے نئی حکمت عملی، مضبوط قیادت اور واضح ذمہ داری ضروری ہے، کیونکہ موجودہ نظام کئی کمزوریوں کا شکار ہے، ان میں فنڈنگ کا غیر مؤثر استعمال، ویکسینیشن پروگرام کے ساتھ ناکافی انضمام، حکومتوں کی کم دلچسپی اور کمزور احتساب شامل ہیں، جو صرف رپورٹز جاری کرتا ہے لیکن عملی نتائج نہیں دیتا۔

    آئی ایم بی کے چیئرمین سر لیام ڈونلڈسن نے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس آدانوم کو خط میں لکھا کہ دنیا اس وقت ایک نہایت مشکل مرحلے پر کھڑی ہے، وائرس کی مسلسل منتقلی، جغرافیائی سیاسی مسائل اور مالی دباؤ اس پروگرام کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ ہیں، پاکستان اور افغانستان جیسے ممالک ایک بار پھر وائرس کی زد میں آ گئے ہیں، اسی لئے اب ان دونوں ممالک میں پولیو پر قابو پانے کی ذمہ داری ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے ریجنل وزارتی پولیو سب کمیٹی کو منتقل کر دی گئی ہے تاکہ اسے علاقائی ترجیح بنایا جا سکے۔

    دعا ملک کا انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف

    رپورٹ میں پاکستان کے ان دعووں پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ 2021 سے 2023 تک پولیو کی منتقلی روک دی گئی تھی،آئی ایم بی کے مطابق یہ کامیابی زیادہ تر کووِڈ-19 کی پابندیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی، نہ کہ پولیو پروگرام کی بہتر کارکردگی کے باعث،پولیو کے عالمی مسئلے پر قابو پانے کے لیے حکومتوں کو ذمہ داری لینا ہوگی، ویکسینیشن پروگرام کو مؤثر طور پر چلانا ہوگا اور کمزور کارکردگی دکھانے والوں کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا۔

    پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں،شرجیل میمن

  • دعا ملک کا انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف

    دعا ملک کا انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف

    اداکارہ دعا ملک نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے کیریئر کے دوران کاسٹنگ کاؤچ کا سامناکرنا پڑا، اور اس واقعے میں ملوث شخصیت پاکستان کی ایک نہایت معروف ہستی ہیں۔

    دعا ملک نے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران شوبز انڈسٹری کے مختلف پہلوؤں اور اپنی ذاتی زندگی پر کھل کر روشنی ڈالی ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے بچے بھی اس انڈسٹری کا حصہ بنیں، اسی لیے وہ انہیں امریکا لے آئیں تاکہ وہ اس ماحول سے دور رہیں۔

    کاسٹنگ کاؤچ پر بات کرتے ہوئے ابتدا میں دعا ملک نے کہا کہ انہیں کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا ان کے مطابق ہر فنکار کی اپنی شخصیت ہوتی ہے، اور اگر کوئی مضبوطی کے ساتھ ’نہ‘ کہہ سکے تو وہ اس قسم کی صورتحال سے بچ جاتا ہے، انڈسٹری میں بہت سی لڑکیاں اپنی کمزوری کے باعث دباؤ میں آ جاتی ہیں، لیکن وہ اور ان کی بہن حمائمہ ملک ہمیشہ ڈٹ کر جواب دیتی تھیں۔

    وزیراعظم کی زیر صدارت سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اجلاس

    دعا ملک نے مزید بتایا کہ وہ بچپن سے کچھ ڈرپوک سی تھیں، لیکن ان کی بہن حمائمہ بہت بہادر ہیں، اسی لیے دونوں کو کبھی ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم، بعد میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ صرف ایک بار انہیں کاسٹنگ کاؤچ جیسے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ان کے کیریئر کو سخت نقصان پہنچا۔

    انہوں نے اس واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے والی شخصیت پاکستان کی ایک بہت بڑی ہستی ہیں، اس لیے وہ اس معاملے کو کبھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کریں گی۔ دعا ملک نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اس وقت امریکا میں مقیم ہیں لیکن ان کا خاندان پاکستان میں رہتا ہے، اور وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے بیان کی وجہ سے ان کے اہلخانہ کو نقصان پہنچے۔

    پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں،شرجیل میمن