Baaghi TV

Tag: َفچ

  • پاکستانی بینک کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،فچ

    پاکستانی بینک کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،فچ

    فچ ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی حقیقی شرح نمو 2027 تک 3.5 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    فچ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پاکستان کے بینک کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ معاشی دباو کم، کاروباری حالات بہتر اور پاکستان کا قرض منظرنامہ مضبوط ہوا ہےپاکستان کی معاشی بحالی مشکل دور اور بلند افراط زر کے بعد آئی ہے جس سے حقیقی شرح نمو 2027 تک 3.5 فیصد ہو جائے گی نجی شعبے کی قرضوں کی طلب بڑھے گی۔

    فچ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق بینکوں کی بڑی سرمایہ کاری حکومتی سیکیورٹیز میں ہے، بینکوں نے ریاستی اداروں کو بڑے قرض فراہم کر رکھے ہیں،مشکل حالات میں بینکوں کی کارکردگی بہتر رہی ہے، بینکوں کے غیرفعال قرضوں کا تناسب 7.6فیصد سے کم ہوکر 7.1فیصد ہوا ہے۔

    پاکستان میں بچت کی شرح جی ڈی پی کا صرف 7.4 فیصد ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    صوابی میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی

    سیلاب متاثرین کی مدد ہمارا قومی فریضہ ہے، عطاء اللہ تارڑ

  • پاکستان میں معاشی ترقی کی وجہ سےبیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوسکتاہے،فچ

    پاکستان میں معاشی ترقی کی وجہ سےبیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوسکتاہے،فچ

    اسلام آباد: معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح 12 فیصد تک رہنےکا امکان ہے –

    باغی ٹی وی : پاکستان سے متعلق معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے رپورٹ جاری کردی،فچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح 12 فیصد تک رہنےکا امکان ہے، پاکستان میں مالی سال 2025 میں شرح سود کم ہوکر16 فیصد ہوسکتا ہے، پاکستان کا آئندہ مالی سال کابجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو مستحکم کرے گا، بجٹ میں معاشی نظم وضبط سے مالی خسارہ کم ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں معاشی ترقی کی وجہ سےبیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوسکتاہےآئندہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح حکومتی اہداف سےکم ہوکر3 فیصد ہو سکتی ہےفروری کےانتخابات کےبعدسےپاکستان میں معاشی سرگرمیوں کوفروغ ملا ہےپاکستان میں کر نٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوکر0.3 فیصد تک پہنچا ہے، آئندہ مالی سال پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کیلئے 20 ارب ڈالر درکارہونگے، رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ توقع ہےکہ آئندہ بجٹ میں پاکستان کے کچھ قرضے رول اوور ہوجائیں گے۔

  • پاکستان میں غیر یقینی سیاسی صورتحال آئی ایم ایف پروگرام میں پیچیدگی کرسکتی ہے،فچ

    پاکستان میں غیر یقینی سیاسی صورتحال آئی ایم ایف پروگرام میں پیچیدگی کرسکتی ہے،فچ

    اسلام آباد: عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی غیر یقینی صورتحال پاکستان کی بین الا قو امی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ فنانسنگ معاہدے کے حصول کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : فچ نے اپنی رپورٹ میں ایک جانب گزشتہ چند سال میں پاکستان کی معیشت میں بہتری کو تسلیم کیا اور یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف کےساتھ پروگرام پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کرسکتاہےتاہم دوسری جانب سیاسی غیر یقینی صورتحال پر آنےوالے وقت میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات پر متوقع پیچیدگی کے خدشات کا اظہار بھی کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ چند سال میں پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہوئی ہے، آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے زردمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو سکتے ہیں رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان 18 میں صرف 9 ارب ڈالر حاصل کرے گا، پاکستان میں غیر یقینی سیاسی صورتحال آئی ایم ایف پروگرام میں پیچیدگی کرسکتی ہے، پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا پروگرام مارچ میں ختم ہو رہا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ نیا پروگرام پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کرسکتا ہے۔

    سکھر ائرپورٹ کی توسیع ، سندھ حکومت سے زمین ملنے پر فوری کام شروع ہوجائے …

    نوٹ کیا کہ پاکستان میں انتخابات عام طور پر مستحکم اور ہموار طریقے سے ہوئے،چین

    پی سی بی اب کسی بھی وزارت کو جواب دہ نہیں ہوگا،لیکن کیوں؟

  • عالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کا بھی ذکر

    عالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کا بھی ذکر

    عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کی رپورٹ کے مطابق 24-2023ء میں پاکستان کی مالی ضروریات 25 ارب ڈالر ہیں، آئی ایم ایف کے بعد دیگر ذرائع سے بھی پاکستان کو فنڈنگ ملنے کا امکان ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان سے متعلق اپنی رپورٹ جاری کردی، جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد پاکستان کے مالی وسائل میں بہتری کا امکان ہے، عالمی مالیاتی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری متوقع ہے، پاکستان کو آئی ایم ایف کے بعد دیگر ذرائع سے بھی فنڈنگ ملنے کا امکان ہے۔

    فچ کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات اکتوبر میں متوقع ہیں، غیر مستحکم سیاسی ماحول اور بھاری بیرونی مالی ضروریات کے باعث خطرات برقرار ہیں، پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے وعدوں سے ہٹ جانے کا وسیع تجربہ ہے۔ فچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کو سال 24-2023ء میں 25 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات درپیش ہیں، آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے فوری بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر جاری ہوں گے، پاکستان کو باقی 1.8 ارب ڈالر نومبر 2023ء اور فروری 2024ء میں جاری ہوں گے۔

    عالمی ریٹنگ ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے بھی 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کا وعدہ کیا ہے، آئی ایم ایف کے بعد پاکستان کو عالمی اداروں سے مزید 3 سے 5 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے، پاکستان کو جنیوا ڈونرز کانفرس کے وعدوں کے مطابق 10 ارب ڈالر میں سے بھی رقم ملنے کی امید ہے۔ فچ کے مطابق پاکستان کو پراجیکٹ لونز کی مد میں 2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے، پاکستانی حکومت اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت مطلوبہ پالیسی اقدامات پہلے ہی کرچکی ہے، پاکستان کو اب بھی ان اقدامات پر عملدرآمد اور نفاذ میں چیلنجز درپیش ہیں۔


    عالمی ریٹنگ ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ انتخابات سے پہلے اور بعد میں پالیسی کی غلطیوں اور غیر یقینی صورتحال کا امکان ہے۔ فچ کی پاکستان سے متعلق رپورٹ میں پی ٹی آئی ورکرز کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کی کرپشن الزامات میں مختصر گرفتاری کے بعد فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کے حامیوں کے مظاہروں میں مئی میں تیزی آئی، اس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد کو گرفتار کیا گیا۔ عالمی ایجنسی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کئی سینئر ترین رہنماؤں نے سیاست چھوڑ دی، چیئرمین پی ٹی آئی کی مسلسل مقبولیت نے انتخابات سے متعلق پالیسی میں غیریقینی پیدا کردی ہے۔

  • ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی کردیا

    ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی کردیا

    نیویارک:عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی ریٹنگ بی مائنس سے کم کر کے ٹرپل سی پلس کردی۔ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی کردیا

    بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق فِچ ریٹنگز نے پاکستان کی طویل مدتی غیر ملکی کرنسی جاری کرنے والی ڈیفالٹ ریٹنگ (آئی ڈی آر) ‘B’ مائنس سے کم کرکے CCC پلس کر دی ۔فچ ریٹنگز کا کہنا ہے کہ وہ عام طور پر ‘CCC’ پلس یا اس سے نیچے کی ریٹنگ پر آؤٹ لک جاری نہیں کرتے۔

    فچ کے مطابق ریٹنگ میں کمی پاکستان کی بیرونی لیکویڈیٹی اور فنڈنگ ​​ کی حالت میں مزید بگاڑ اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ جزوی طور پر بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب کا نتیجہ ہے جس سے مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کم کرنے کی پاکستان کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

    فِچ کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 14 اکتوبر 2022 تک تقریباً 7.6 ارب امریکی ڈالر رہے جو کہ ایک ماہ کی بیرونی ادائیگیوں کے قابل ہیں۔رواں سال جولائی میں امریکی ریٹنگز ایجنسی فچ نے پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی کردیا تھا۔

    فچ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پاکستان کو بیرونی مالی دباؤ اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی کا سامنا ہے، بگڑتے مالی حالات پالیسی کے خطرات کو ظاہر کرتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ موجودہ صورتحال جزوی طور پر بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب کا نتیجہ ہے۔

    خیال رہے کہ 6 اکتوبر کو عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھی اکستان کی طویل المدتی قرضوں کی ریٹنگ بھی ڈاؤن گریڈ کردی تھی۔

    موڈیز رپورٹ کے مطابق پاکستان کیلئے طویل مدتی قرض کی صورت حال کمزور رہے گی، قرضوں کی ادائیگی کیلئےقرض دہندگان سے فنانسنگ پربہت زیادہ انحصارکرنا پڑے گا، درجہ بندی میں کمی بیرونی اورقرضوں کی پائیداری کے خطرات کے باعث کی گئی۔

    واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی درجہ بندی کا مقصد کسی معیشت کو لاحق خطرات کا جائزہ اور اس کی بنیاد پر اس کی ریٹنگ متعین کرنا ہوتا ہے۔

  • سیاسی عدم استحکام کے باعث ملکی معیشت متاثر ہوسکتی ہے،بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی  َفچ

    سیاسی عدم استحکام کے باعث ملکی معیشت متاثر ہوسکتی ہے،بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی َفچ

    بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی َفچ نے پاکستان کی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

    باغی ٹی وی : فِچ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ سیاسی عدم استحکام کے باعث ملکی معیشت متاثر ہوسکتی ہے، رواں سال جاری کھاتوں کا خسارہ 4 سےبڑھ کر 5 فیصد ہوسکتا ہے۔

    عوامی نیشنل پارٹی کے متعدد ٹوئٹر اکاؤنٹس ہیک ہو گئے

    فِچ کے مطابق جاری کھاتوں کا خسارہ 18.5 ارب ڈالرز ہوسکتا ہے، آئندہ سال پاکستان کو 20 ارب ڈالرز کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہیں، سعودی عرب اور چین کے7 ارب ڈالر قرض کی واپسی مؤخرہوسکتی ہے۔

    فِچ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے، ٹیکس اصلاحات پلان پر عمل درآمد میں مشکلات ہوسکتی ہیں، پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی سے مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ برس نومبر میں فچ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان حالیہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ اور بیرونی فنانسنگ کے باعث معاشی چیلنجز سے نمٹ سکےگا، پاکستان مارکیٹ بیس ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے معیشت کو درپیش چیلنجز سے بھی نمٹ لےگا توانائی کی قیمتیں بڑھنے اور مضبوط داخلی ریکوری سے پاکستان کی بیرونی پوزیشن پر دباؤ ہے، پاکستان بڑھتے ہوئےکرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے بھی نمٹ سکےگا۔

    ڈپٹی اسپیکر پر اعتماد نہیں ہے وہ صاف الیکشن نہیں کروا سکتے،وکیل ق لیگ

    فچ نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ جون 2022 میں پاکستان کا مالی خسارہ 2.2 فیصد سے زیادہ رہےگا اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ میں1.5 فیصد اضافہ ادائیگیوں کے توازن اور مہنگائی کی نشاندہی ہے،پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو مستقبل قریب میں قابل انتظام ہوناچاہیے، پاکستان رواں سال سکوک بانڈ جاری کرنے کا پروگرام بھی رکھتا ہے،اگرمہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو سیاسی دباؤکے پیش نظراصلاحات حکومت کا امتحان ہوگا۔

    کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کیا ہے؟

    کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ( Credit rating agency) سے مراد وہ کمپنی یا ادارہ جو کریڈٹ ریٹنگ طے کرے، جو کسی قرض خواہ کی قرض واپسی کی صلاحیت کا جائزہ ہوتا ہے۔ اس میں اصل اور سود اور امکانی ادائیگی میں کمی کا بھی جائزہ شامل ہوتا ہے۔ یہ جائزے علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر لیے جاتے ہیں۔

    شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں دوڑیں لگوا دیں،ملازمین کی موجیں ختم

    کریڈٹ ریٹنگ کیسے کی جاتی ہے؟

    بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں کسی ملک کی درجہ بندی کا تعین اس کی حیثیت کو لاحق خطرات کی بنیاد پر کرتی ہیں دنیا میں تین بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں ہیں۔ مودیز، فچ اور سٹینڈرڈ اینڈ پوور جو دنیا کے تمام ممالک کی کریڈٹ ریٹنگ کے بارے میں جائزے جاری کرتی ہیں یہ مختلف ممالک کی جانب سے جاری کردہ بانڈز اور دوسرے معاشی اور اقتصادی اشاریوں کے بارے میں بھی جائزے اور رپورٹس جاری کرتی ہیں۔

    درجہ بندی کتنی قسم کی ہوتی ہے؟

    1) اے اے اے: یہ سب سے مضبوط ریٹنگ ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک اپنے مالیاتی وعدے پورا کرنے کی سب سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ یہ سب سے بہتر ریٹنگ ہے جو کوئی ملک حاصل کر سکتا ہے۔

    2) اے اے: اس ریٹنگ کا ملک اپنے مالیاتی وعدے پورا کرنے کی بہت بہتر پوزیشن میں ہے۔

    3) اے: اس ریٹنگ کا حامل ملک اپنے مالیاتی وعدے پورے کرنے کی بہتر قابلیت رکھتا ہے مگر کسی طرح منفی معاشی حالات کے سلسلے میں حساس ہے۔

    4) بی بی بی: اس ریٹنگ کے حامل ملک میں اپنے مالیاتی وعدوں کو پورا کرنے کی کافی صلاحیت ہے مگر یہ سب منفی معاشی حالات کے ساتھ ہے۔

    5) بی مائنس: یہ غیرسرمایہ گریڈ سے اوپر کی سب سے کم تر ریٹنگ ہے۔

    6) بی بی: مستقبل قریب میں خطرات کم ہیں مگر اسے ایک مسلسل غیر یقینی کاروباری، مالیاتی اور معاشی صورتحال کا سامنا ہے۔

    7) بی: کاروباری اور معاشی وعدوں کو پورا کرنے کے معاملے میں کافی خطرات کا سامنا ہے۔

    خاتون اول کون؟ وزیر اعظم بننے کے بعد شہباز شریف کی بیوی تہمینہ درانی کا پہلا…

    8) سی سی سی: موجود وقت میں یہ ملک خطرات کا شکار ہے اور اپنے مالیاتی وعدے پورے کرنے کے لیے محتاج ہے۔

    9) سی سی: موجودہ حالات بہت ہی خطرناک ہیں-

    10) سی: دیوالیہ پن کے قریب یا دیوالیہ قرار دیے جانے تک

    11) ڈی: مالیاتی وعدے پورے کرنے میں ناکام یا قسط ادا کرنے میں ناکام

    اے اے اے، اے اے، اے اور بی بی بی کی درجہ بندیاں مارکیٹ میں سرمایہ کاری گریڈ سمجھی جاتی ہیں۔ ریٹنگ اے اے سے سی سی سی تک منفی یا مثبت کے اضافے کے ساتھ خصوصی حالات کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہیں-

    عامر لیاقت کا سوشل میڈیا پر مریم نواز کے لیے خصوصی پیغام