Baaghi TV

Tag: ٹائم

  • امریکا میں گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی گئیں

    امریکا میں گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی گئیں

    نیویارک: امریکا میں ایک مرتبہ پھر گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی گئی ہیں،ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے سرکاری طور پر گھڑیاں آگے کی گئیں-

    باغی ٹی وی : ہر سال مارچ کے آغاز میں امریکہ کی کئی ریاستوں میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے اور نومبر میں ایک گھنٹہ پیچھے کی جاتی ہیں مارچ میں یہ تبدیلی موسم گرما کی آمد کی علامت سمجھی جاتی ہے، تاکہ سورج کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے، جبکہ نومبر میں گھڑیاں پیچھے کرنا موسم سرما کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    امریکی ریاست ہوائی اور ایریزونا کے بیشتر علاقوں میں یہ طریقہ کار نہیں اپنایا جاتا، جبکہ امریکہ کے زیر انتظام علاقوں پورٹو ریکو اور ورجن آئی لینڈ میں بھی گھڑیاں پورے سال ایک ہی وقت کے مطابق چلتی ہیں۔

    آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل

    امریکہ کے علاوہ یورپ، کینیڈا کے بیشتر علاقوں اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں بھی ڈے لائٹ سیونگ کا عمل رائج ہے، تاہم روس اور ایشیا کے بیشتر ممالک میں ایسا نہیں کیا جاتا۔

    1970 کی دہائی میں امریکہ کو توانائی بحران کا سامنا تھا، جس کے دوران پورے سال ڈے لائٹ سیونگ نافذ رہا، تاہم شہریوں کی بڑی تعداد نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا خاص طور پر سردیوں میں، جب صبح نو بجے تک سورج طلوع نہیں ہوتا، شہریوں کو اندھیرے میں کام پر اور بچوں کو اسکول بھیجنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

    کائنات کے راز ریاضی میں چھپے ہوئے ہیں، امریکی ماہر فلکیات

    ایک حالیہ سروے کے مطابق 43 فیصد امریکی چاہتے ہیں کہ پورے سال ایک ہی وقت برقرار رکھا جائےجبکہ 32 فیصد شہری پورے سال موسم گرما کا وقت (ڈے لائٹ سیونگ ٹائم) رکھنا چاہتے ہیں، صرف 25 فیصد لوگ موجودہ نظام کو پسند کرتے ہیں، جس میں وقت کو سال میں دو بار تبدیل کیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ ڈے لائٹ سیونگ کا تصور سب سے پہلے نیوزی لینڈ کے ماہر فلکیات جارج ورنن ہڈسن نے 1890 کی دہائی میں پیش کیا تھا، تاکہ سورج کی روشنی سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے بعد میں 1900 کے اوائل میں برطانوی ماہر تعمیرات ولیم ویلیٹ نے بھی اسی طرح کی تجویز دی، مگر ابتدا میں اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا،پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے سب سے پہلے اس تصور کو اپنایا، جس کے بعد امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی اسے نافذ کیا دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے دوبارہ اس پر عمل کیا اور اسے ”جنگ کا وقت“ قرار دیا گیا۔

    ٹرمپ، جے ڈی وینس اور مسک کی گرفتاری کی پیشگوئی

  • امریکا میں گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ پیچھے

    امریکا میں گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ پیچھے

    واشنگٹن:امریکا میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر لیں گئیں-

    باغی ٹی وی : امریکا میں روشنی بچانے کی مہم ختم ہو گئی ہے اور اب امریکیوں نے اپنی اپنی گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر لیں ،اب سردیوں کے یہ اوقات 9 مارچ 2025 کو تبدیل ہوں گے،بہت سے امریکیوں کو وقت کی اس تبدیلی کے سبب سونے اور دیگر کام کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوںکہ ان کے لیے دن کا وقت کم اور رات زیادہ ہو جاتی ہے۔

    تاہم اکثریت نے گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کرنے کے اقدام پر ناپسندیدگی کا اظہار کہا ہےامریکیوں نے کہا ہے کہ انہیں گھڑیوں کو سال میں دو بار آگے پیچھے کرنا پسند نہیں ہے۔

    ایک سروے کے مطابق 25 فیصد امریکی دن اور رات کا وقت گھٹانے کو پسند کرتے ہیں جبکہ 43 فیصد امریکی کہتے ہیں کہ وہ سارا سال ایک ہی وقت میں اپنے شب و روز گزارنا پسند کرتے ہیں تاہم 32 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ پورے سال وہی وقت رہے جو موسمِ گرما میں ہوتا ہے یعنی ڈے لائٹ سیونگ ٹائم۔

    روزانہ 100 سگریٹ پینے والے شاہ رخ خان کاسگریٹ نوشی چھوڑنے کا انکشاف

    امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن سمیت صحت سے متعلق بعض اداروں کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ گھڑیوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کے بجائے اسے ویسا ہی رکھیں کیوں کہ اسٹینڈرڈ ٹائم ہی انسان کی قدرتی سائیکل اورسورج کے ساتھ بہتر رہتا ہے۔

    امریکہ کی دو ریاستوں ایریزونا اور ہوائی نے وقت تبدیل نہیں کیا،اوقات کی یہ تبدیلی سونے کے شیڈول کو متاثر کر سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے شہری اس تبدیلی سے قبل ہی خود کو تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    وقت تبدیل کرنے کا سب سے پہلے یہ خیال ایک موجد بینجمن فرینکلن کو 1784 میں آیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ گرمیوں میں ایک گھنٹہ پہلے اٹھنے سے آپ روشنی کا زیادہ دیر تک استعمال کر سکتے ہیں،بعد ازاں اس خیال کو پذیرائی ملی اور دنیا کے بہت سے ممالک نے اس تجویز کو مناسب سمجھ کر اپنے اپنے ملکوں میں رائج کیا۔

    عوام کے پیسوں سے بنایا جانے والا ایئر لائن شریف خاندان کے لیے استعمال ہوگا،بیرسٹر …