Baaghi TV

Tag: ٹائپ 2

  • کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچنے اور ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیولین یونیورسٹی کی سربراہی میں ہونے والی نئی تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذائیں ٹائپ 2 ذیا بیطس کے مریضوں میں ہیموگلوبین اے 1 سی (جو بلڈ شوگر کی سطح کی نشان دہی کرتا ہے) کو کم کرتا ہے۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    جاما نیٹورک اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق میں 40 سے 70 برس کے درمیان 150 افراد شریک ہوئے جن کے بلڈ شوگر کی سطح ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے قبل کیفیت سےذیابیطس میں مبتلا ہونے تک تھی اور ان میں ایسے افراد بھی تھےجو ذیابیطس کی ادویات نہیں لیتے تھے۔

    اس نئی تحقیق میں کم کاربوہائیڈریٹ کی غذا کھانے والے گروپ نے ابتدائی تین ماہ میں 40 گرام سے کم کاربوہائیڈریٹس کی کھپت کا ہدف رکھا اور تین سے چھ ماہ کے دوران یہ ہدف بڑھا کر 60 گرام تک کم کیا گیا۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    عمومی طور پر کم کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں میں پروٹینز اور بغیر نشاستہ والی سبزیوں پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ اناج، پھل، روٹی، میٹھا اور نشاستہ کی حامل سبزیاں اور پھل کا استعمال محدود کر دیا جاتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق امریکیوں کو دی جانے والی غذائی ہدایات کے مطابق کسی بھی شخص کی جانب سے روزانہ لی جانے والی کیلوری کا 45 سے 65 فی صد حصہ کاربوہائیڈریٹس فراہم کرتے ہیں یعی روزانہ 2000 کیلوریز میں 900 سے 1300 تک کا حصہ کاربو ہائیڈریٹس کا ہوتا ہےاس کے برعکس کاربوہائیڈریٹس کو 20 گرام سے 57 گرام تک محدود کرنے سے 80 سے 240 کیلوریز حاصل ہوتی ہیں۔

    معالجین عموماً ذیابیطس کےمریضوں کو کم کاربوہائیڈریٹس والی خوراک کی تجویزدیتے ہیں لیکن آیاکم کاربوہائیڈریٹس کا کھایا جانا ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے افراد جو اس مرض میں مبتلا ہونے والے ہوں میں بلڈ شوگر کو متاثر کرسکتا ہے کہ نہیں، اس متعلق بہت محدود شواہد موجود ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

  • رات  دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ رات کو دیر تک جاگنا جسم میں چکنائی بننے کا سبب سکتا ہے جس کے نتیجے میں ٹائپ 2 ذیا بیطس لاحق ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیو برنس وِک میں قائم رُٹگرز یونیورسٹی کے محققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ رات کو دیر تک جاگنے والوں کو غیر معمولی نیند کی معمول کے سبب متاثر میٹابولزم کی وجہ سے ذیا بیطس کے خطرات ہوتے ہیں۔

    وہ لوگ جو صبح جلدی اٹھتے ہیں وہ چکنائی کو آرام یا ورزش کے دوران توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان میں چکنائی کم جمع ہوتی ہے اور ان میں بیماری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

    اس سے قبل بھی رواں سال کے ابتداء میں شائع ہونے والی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سوتے وقت روشنی کا موجود ہونا کسی بھی فرد میں ذیابیطس ہونے امکانات بڑھا دیتا ہے جس سے تقریباً 10 فی صد امریکی متاثر ہوتے ہیں۔

    یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر اسٹیون میلِن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جلدی اٹھنے والوں اور رات دیر سے سونے والوں کے درمیان چکنائی کے میٹابولزم میں فرق یہ بتاتا ہیں کہ جسم کی اندرونی گھڑی (سونےجاگنے کا سائیکل) ہمارے جسم کے انسولین کے استعمال کو متاثر کرسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسولین ہارمون کے جواب میں حساس یا کمزور صلاحیت ہماری صحت پر بڑے اثرات ڈال سکتی ہے۔ تحقیق کے نتائج نے ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی کے ہماری صحت پر اثرات کے متعلق سمجھ میں اضافہ کیا ہے۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہی-ں

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا