Baaghi TV

Tag: ٹائیٹن

  • شہزادہ داؤد اور سلمان داؤد کی ٹائٹن آبدوز پر سوار ہونے سے پہلے کی آخری تصویر

    شہزادہ داؤد اور سلمان داؤد کی ٹائٹن آبدوز پر سوار ہونے سے پہلے کی آخری تصویر

    قدیم بحری جہاز ٹائی ٹینک کا ملبہ سمندر کی تہہ میں دیکھنے جانے والوں میں پاکستانی نثراد برطانوی پاکستانی ارب پتی اور ان کے بیٹے کی تباہ ہونے والے ’’ٹائٹن آبدوز‘‘ پر سوار ہونے سے پہلے کی آخری تصویر سامنے آگئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ’’ٹائٹن آبدوز‘‘ میں سوار ہونے سے پہلے 58 سالہ شہزادہ داؤد اور ان کے 19 سالہ بیٹے سلیمان کو تصویر میں مسکراتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق مذکورہ تصویر اس وقت سامنے آئی جب ان کی اہلیہ کرسٹین نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنے آخری لمحات ٹائٹن کے مکمل اندھیرے میں اپنی پسندیدہ موسیقی سنتے ہوئے گزارے تاکہ وہ گہرائی میں سمندری مخلوقات کو دیکھ سکیں۔ شہزادہ داؤد کی اہلیہ نے بتایا کہ تین ماہ قبل اوشین گیٹ کے چیف ایگزیکٹو اسٹاکٹن رش اور ان کی اہلیہ وینڈی امریکا سے لندن میں داؤد سے ملنے آئے تھے تاکہ ان کو یہ باور کرایا جا سکے کہ ٹائی ٹینک جہاز کے ملبے تک ان کے ’منی آبدوز‘ میں سفر کرنا محفوظ رہے گا۔ اسٹاکٹن رش کا خیال تھا کہ ٹائٹن میں بحراوقیانوس کی گہرائیوں میں جانا سڑک عبور کرنے سے زیادہ محفوظ ہے۔ انہوں نے فروری میں ذاتی طور پر ان سے آبدوز کے ڈیزائن اور حفاظت کے بارے میں بات کرنے کے لیے ملاقات کی تھی۔ اہلیہ کرسٹین نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ان کو انجینئرنگ سے متعلق کسی قسم کا کوئی آئیڈیا نہیں تھا۔ صرف صرف 12 ہفتے بعد برطانیہ میں مقیم خاندان ٹائی ٹینک کے مبلے کو دیکھنے کے لئے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ 15 جون کی درمیانی شب نیو فاؤنڈ لینڈ کے سینٹ جانز کی بندرگاہ پر پہنچے، جہاں سے سمندر میں جانے کی تیاری کی جارہی تھی، صبح 7 بجے اور شام 7 بجے بریفنگ ہوتی تھی، جس میں ملبے اور مہم کے بارے میں سائنسی گفتگو اور بحث ہوتی تھی۔ وہاں موجود عملے کی جانب سے کہا گیا کہ موٹے موزے اور ٹوپی پہنیں کیونکہ گہرائی میں ٹھنڈ ہوسکتی ہے اور سمندر میں جانے سے ایک دن قبل ہی کم غذا لیں ساتھ صبح سے پہلے کوئی کافی وغیرہ نہ لیں کیونکہ ’ٹائی ٹن سب‘ میں کوئی بیت الخلا نہیں تھا اور پردے کے پیچھے صرف ایک بوتل یا کیمپ طرز کا بیت الخلا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی اسمگلرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    معروف پروفیسر بلقیس ملک سپردخاک

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے نو ماہ میں 3 ارب ڈالر ملیں گے. وزیر اعظم
    امریکا کے شہر ہیوسٹن میں پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد
    کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پشاور پولیس کا موک ایکسر سائز جاری
    مسافروں سے کہا گیا کہ وہ اپنے فون پر اپنی پسندیدہ موسیقی لوڈ کریں، بلوٹوتھ اسپیکر کے ذریعے چلائیں حالانکہ رش نے موسیقی پر پابندی لگا دی تھی۔ انہوں نے انہیں یہ بھی متنبہ کیا کہ سمندر میں جاتے ہوئے سیاہ رنگ میں ہوگا کیونکہ جب سمندر میں جائیں گے، تو بیٹری کی توانائی بچانے کے لئے ہیڈلائٹس بند کردی گئی تھیں۔ شہزادہ داؤد کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر اتنے پرجوش تھے کہ وہ سفر کے دوران بالکل ایک چھوٹے بچے کی طرح لگ رہے تھے۔ اوشن گیٹ سبمرسیبل 18 جون کو ٹائی ٹینک کے ملبے تک 3800 میٹر کے طے شدہ سفر کے دوران لاپتہ ہو گئی تھی۔ جبکہ حادثے میں جان سے جانے والے تمام 5 مسافروں میں آبدوز کمپنی کے سی ای او اسٹاکٹن رش، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی میرینر پال ہینری نارجیولیٹ اور پاکستانی کی معروف کاروباری داؤد فیملی سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ شہزادہ داؤد اور ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان شامل ہیں۔

  • ٹائٹن آبدوز کے ملبے سے انسانی باقیات برآمد

    ٹائٹن آبدوز کے ملبے سے انسانی باقیات برآمد

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئے لوگوں کو زیر سمندر لے جانے کے دوران تباہ ہونے والی اوشین گیٹ کمپنی کی آبدوز ’ٹائٹن‘ کا ملبہ نکال لیا گیا۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹائٹن کی باقیات حادثے کے دسویں روز نکال کر کینیڈا لائی گئیں ہیں، سمندر کی تہہ سے نکالی گئی چیزوں میں آبدوزکا اگلا حصہ بھی شامل ہے جس سے بدقسمت سیاحوں کو ٹائی ٹینک کی باقیات کا نظارہ کرنا تھا۔

    کینیڈا کے بحری جہاز ہورائزن آرکٹک نے آبدوز کے پرزوں کی تلاش کے لیے ٹائٹینک کے ملبے کے قریب سمندر کے تہ کو تلاش کرنے کے لیے دور دراز سے چلنے والی آبدوز گاڑی بھیجی تھی۔ 22 فٹ طویل آبدوز کے بٹے ہوئے ٹکڑوں کو بدھ کے روز کینیڈا کے کوسٹ گارڈ کی ڈاک میں ساحل پر دھویا گیا باقیات پر تحقیقات کر کے حادثے کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کی جائے گی-

    بیلجیئم ریسرچ سروسز، میساچوسٹس اور نیو یارک میں دفاتر والی کمپنی جو آبدوز گاڑی کی مالک ہے، نے بدھ کو کہا کہ اس نے ساحل پر کام مکمل کر لیا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کی ٹیم ابھی مزید کام کر رہی ہے اور ٹائٹن کی جاری تحقیقات پر تبصرہ نہیں کر سکتی۔ اس ٹیم میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا کی متعدد سرکاری ایجنسیاں شامل ہیں۔

    امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ بدھ کو نکالے گئے ٹائٹن آبدوز کے ملبے سے ممکنہ انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں ٹائی ٹینک جہاز کے ملبے کو دیکھنے کی کوشش کے دوران ٹائٹن آبدوز لاپتا ہوگئی تھی، حکام کا خیال تھا کہ اس دوران آبدوز سمندری پریشر نہیں جھیل پائی اور دھماکے سے پھٹ گئی، جس میں دو پاکستانی باپ بیٹے سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔

    یو ایس کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا کے طبی پیشہ ور افراد ممکنہ انسانی باقیات کا باضابطہ تجزیہ کریں گے
    کیپٹن جیسن نیوباؤر، جو اس سانحے کی تحقیقات کی قیادت کر رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ میں غیر ملکی سمندر کی گہرائی سے ملنے والے اس اہم ثبوت کو محفوظ کرنے کے لیے مربوط بین الاقوامی اور انٹرایجنسی تعاون کے لیے شکر گزار ہوں یہ ثبوت متعدد بین الاقوامی دائرہ اختیار کے تفتیش کاروں کو اس سانحے کی وجہ کے بارے میں اہم بصیرت فراہم کرے گا ابھی بھی ان عوامل کو سمجھنے کے لیے کافی مقدار میں کام کرنا باقی ہے جو ٹائٹن کی تباہی کا باعث بنے۔

    اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں حکام نے کہا کہ اگر ملبہ نکالنے کے دوران سمندر کی تہہ میں انسانی باقیات ملتی ہیں تو اس حوالے سے تفتیش کاروں نے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کر رکھی ہیں۔

    ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی حیاتیاتی سمندری ماہر پروفیسر سوزان نیور نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ سمندر میں گہرے دباؤ کی وجہ سے ممکنہ طور پر تیزی سے اور مہلک دھماکے کا امکان ہوتا ہے میں حیران ہوں باقیات موجود ہیں …. (لیکن) ظاہر ہے کہ جسم اچانک غائب نہیں ہوجاتا-

    ٹائٹن کو حادثہ بحیرہ اوقیانوس میں 12 ہزار 5 سو فٹ نیچے پیش آیا، جس کے نتیجے میں ٹائٹن کے اندر دھماکا ہوا تھا ٹائٹن کے ساتھ پیش آنے والے حادثے میں پاکستانی کاروباری شخصیت شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سمیت 5 سیاح جان کی بازی ہار گئے تھے کوسٹ گارڈ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ٹائٹن کا ملبہ تقریباً 3810 میٹر پانی کے اندر اور ٹائٹینک سے تقریباً 488 میٹر دور سمندر کے فرش پر موجود تھا کوسٹ گارڈ تحقیقات کر رہا ہے کہ آبدوز کے 18 جون کو لینڈنگ کے دوران پھٹنے کی وجہ کیا تھی۔

    واضح رہے کہ 1912 میں تباہ ہونے والے مسافر بردار بحری جہاز ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے کیلئے جانے والی آبدوز ٹائٹن 18 جون کو بحر اوقیانوس میں لاپتہ ہوئی گئی تھی۔

  • ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات  شروع

    ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات شروع

    کینیڈین حکام نے بحراوقیانوس میں سیاحوں کی آبدوز ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات شروع کر دیں-

    باغی ٹی وی : کینیڈا کے ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (ٹی ایس بی) نے کہا کہ وہ آبدوز ٹائٹن سے متعلق تمام امورکی ’’سیفٹی انویسٹی گیشن‘‘ شروع کررہا ہے کیونکہ اس کا سطحی معاون جہاز، پولر پرنس، کینیڈا کا جہاز تھا ٹی ایس بی کی ایک ٹیم جائے حادثہ سے تقریباً 400 میل شمال میں معلومات اکٹھی کرنے اور انٹرویو لینے کے لیے روانہ کی گئی۔

    واضح رہےکہ جمعرات کو کینیڈین جہاز کےتعینات کردہ روبوٹک ڈائیونگ گاڑی نےآبدوز ٹائٹن کےملبےکا پتا لگایا تھاجس میں دو پاکستانیوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے سیاحتی آبدوز کے امور دیکھنے والی کمپنی اوشن گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش بھی اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی کمپنی کے شریک بانی گلیرینو سہولن نے 2009 میں کہا تھا کہ اسٹاکٹن رش سمندر کی گہرائیوں کو تلاش کرنے کے خطرات سے “بڑی حد تک آگاہ” تھا۔

    روس:ویگنر گروپ نے اپنے جنگجوؤں کوواپس بُلالیا

    کمپنی اوشین گیٹ کی جانب سے ٹائٹن کے تباہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا گیا کہ اب ہمیں یقین ہے کہ ہم ہمارے سی ای او اسٹاکٹن رش، شہزادہ داؤد اوران کے بیٹے سلیمان داؤد، ہیمش ہارڈنگ او ر پال ہنری نار جیولیٹ کو کھو چکے ہیں، یہ تمام لوگ سچے ایکسپلورر تھے جنہوں نے مہم جوئی کا ایک الگ جذبہ دکھایا۔ اس المناک وقت میں ہمارے دل ان پانچوں روحوں اور ان کے خاندان کے ہر فرد کے ساتھ ہیں۔ ہمیں جانی نقصان کا غم ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق سرچ آپریشن میں شامل ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ملنے والا ملبہ آبدوز کے لینڈنگ فریم اور پچھلے کور پر مشتمل ہے، ملبہ ملنا نشاندہی کرتا ہے کہ آبدوز دھماکے سے تباہ ہوئی-

    آبدوز ٹائٹن کے سفر کی رعایتی پیشکش ٹھکرا کر بچ جانے والا جے بلوم

  • ٹائیٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے،ماہرین

    ٹائیٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے،ماہرین

    بحر اوقیانوس میں ٹائٹینک کی سیاحت کے لیے جانے والی آبدوز ٹائٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کے آثار تقریباً ختم ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائٹینک کا نظارہ کرنے سمندر کی تہہ میں جانے والوں کے بچنے کا امکان صرف ایک فیصد سے بھی کم ہےامریکا اور برطانیہ کی آبدوزوں کو آپریٹ کرنے والےبحریہ کے اہلکار بھی اتنا نیچے نہیں جاتے ہیں، اگر بحریہ کی آبدوز اتنا نیچے چلی جائے تو اس کا مطلب ہے تمام عملہ جان سے جان چکا۔

    ماہرین کے مطابق سطح سمندر کے مقابلے میں تہہ میں دباؤ چار سو گنا بڑھ جاتا ہے، یہ اتنا دباؤ ہے کہ کسی کمرے پر پریشر ہو تو ساری ہوا نکل جائے اور چھت کرچی کرچی ہوجائے اس دباؤ پر ٹائٹن میں سوراخ ہو تو اندر موجود افراد کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ وہ کب مرچکے تہہ میں ٹائٹن مل بھی جائے تو اسے باہر نکالنے کے لیے ڈھائی میل لمبے تار کا ہُک اس میں ڈالنا ہوگا جو تقریباً ناممکن ہے آبدوز میں موجود افراد کے لیے صرف چند گھنٹوں کی آکسیجن رہ گئی ہے۔

    لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف

    امریکی بحریہ کے کنٹریکٹر نے کہا ہے کہ ہر شخص منتظر ہے کہ امریکی بحریہ انہیں بچا لے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکی آبدوز صرف دو ہزار فٹ نیچے جاسکتی ہیں، کوئی ایسا نہیں جو ٹائٹن تک جاکر لوگوں کو بچا سکے واحد امید یہ ہے کہ ٹائٹن خود سطح سمندر پر آجائے تاکہ لوگوں کو بچایا جاسکے۔

    ٹائٹن میں موجود ہامیش ہارڈنگ کے دوست کا کہنا ہے کہ انہیں تحفظ کے خطرات محسوس ہوئے تھے اس لیے انہوں نے ہامیش کے ساتھ ٹائٹن میں جانے سے انکار کردیا تھا۔

    20 سال سے جل پری کا روپ دھا رکر پانیوں میں سفر کرنےوالی خاتون

  • لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف

    لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف

    تین دن قبل بحر اوقیانوس کے وسط میں ٹائٹینک کی سیاحت کیلئے جانے والی گہرے سمندر میں لاپتہ ہوئی آبدوز کو ڈھونڈنے کے لئے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے-

    باغی ٹی وی :برطانوی اخبارمرر نے انکشاف کیا ہے کہ ٹائی ٹینک کے قریب لاپتا ہونے والی آبدوز کی کمزور سیفٹی پر ماضی میں خدشات کا اظہار کیا گیا تھا میرین ٹیکنالوجسٹ سوسائٹی نے ٹائٹن کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے اور کمپنی کے سی ای او کو متنبہ کیا گیا تھاکہ’ٹائٹن’ سانحے سے دو چار ہو سکتا ہے آبدوز کو آزاد انسپکٹرز سے چیک نہیں کرایا گیا تھا،کمپنی کے سابق افسر نے بھی سنگین سیفٹی خامیوں پرتوجہ دلائی تھی، افسر نے انتہائی گہرائی میں ٹائٹن کو مسافروں کے لیے شدید خطرے کا امکان ظاہر کیا تھا واضح نہیں ہوسکا اوشین گیٹ کے سی ای او نے ٹائٹن پر خدشات والے خط کا جواب دیا تھا یا نہیں۔

    بی بی سی کے مطابق سونار بوائے کے علاقے میں سگنل ملنے کے بعد امید کی ایک کرن جاگی تھی کہ ٹائٹن پر سوار پانچ افراد زندہ ہیں امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ تفتیش کے لیے زیر آب آپریشنز کو منتقل کر دیا گیا ہے، لیکن ابھی تک انہیں کچھ نہیں ملا ہے لیکن جمعرات کومقامی وقت کے مطابق تقریباً 11:00 بجے آکسیجن کی سپلائی ختم ہونے کی توقع ہے اگلے چند گھنٹے نازک ہیں۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کئی دکانوں کی رپورٹوں کے مطابق منگل کو تقریباً چار گھنٹے تک آدھے گھنٹے کے وقفے سے آوازیں سنی گئیں۔

    بی بی سی نے گہرے سمندر کے ماہرین سے بات کی ہے کہ اعداد و شمار کو دیکھے بغیر یہ طے کرنا مشکل ہے کہ یہ شور کیا ہو سکتا ہے لیکن یہ ممکن ہے کہ وہ مختصر، تیز، نسبتاً زیادہ تعدد والی آوازیں ہو سکتی ہیں جو برتن کے اندر سے کسی سخت چیز کو نیچے کے سرے سے ٹکرانے سے بنتی ہیں۔

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئےگئی لاپتہ آبدوز کی تلاش تاحال جاری

    برطانوی میڈیا کے مطابق اس ریسکیو مشن میں امریکی بحری جہاز ہورائزن آرکٹک آج رات تک شریک ہو جائےگا، ریسکیو مشینری امریکی کارگو طیاروں کے ذریعے کینیڈا کے ائیرپورٹ پہنچادی گئی ہےامریکا سے آنے والے آلات میں کیبلز، زیر سمندر 19ہزار فٹ تک جانے والے آلات شامل ہیں جب کہ امریکا سے آنے والے امدادی آلات، ہورائزن آرکٹک جہازپر نصب کرکے سمندرمیں بھیجے جائیں گے، ہورائزن آرکٹک جہاز ٹائی ٹینک پوائنٹ تک 15 گھنٹے میں پہنچے گا، آکسیجن کم ہونے کے سبب اس کوشش کو ریسکیو کی آخری کوشش سمجھا جا رہا ہے، جہاز کے ٹائی ٹینک پوائنٹ پہنچنے تک آکسیجن کی سطح مزید کم ہونے کا امکان ہے۔

    خبرایجنسی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکی کوسٹ گارڈز نے لاپتا آبدوز کی تلاش کے دوران زیر سمندر آوازیں سنے جانےکی تصدیق کی ہے جب کہ سرچ آپریشن میں شریک کینیڈا کے طیارے کو ٹائی ٹینک ڈوبنے کے مقام پر آبدوز موجود ہونےکے اشارے ملے ہیں۔

    آسٹریلیا کے سب میرین انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے فرینک اوون کا کہنا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں دستیاب معلومات کی بنیاد پر – آوازیں جہاز کے اندر سے آ رہی ہیں انہوں نے بی بی سی کو بتایا، "اگر 30 منٹ کا وقفہ ہوتا تو اس کا انسانوں سے تعلق کے علاوہ کچھ ہونے کا امکان نہیں تھا۔”

    جہاز میں سوار افراد میں 58 سالہ برطانوی تاجر ہمیش ہارڈنگ، 48 سالہ برطانوی پاکستانی تاجر شہزادہ داؤد، ان کا بیٹا 18 سالہ سلیمان اور 61 سالہ اسٹاکٹن رش شامل ہیں، جو اوشین گیٹ کے چیف ایگزیکٹو ہیں، جو کہ 250,000 ڈالر کی لاگت سے سفر کرتے ہیں۔

    لیکن مسٹر اوون کا کہنا ہے کہ یہ شور جہاز میں سوار پانچویں آدمی – 77 سالہ پال ہنری نارجیولیٹ، جو فرانسیسی بحریہ کے ایک سابق غوطہ خور اور معروف ایکسپلورر تھا، کی طرف سے "مشورے کی ایک چھوٹی سی آواز” کا ہے۔

    20 سال سے جل پری کا روپ دھا رکر پانیوں میں سفر کرنےوالی خاتون

    مسٹر اوون نے کہا، "وہ تلاش کرنے والی فورسز کو الرٹ کرنے کی کوشش کرنے کا پروٹوکول جانتا ہو گا تلاش کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکام بھی اسی طرح سوچ رہے ہیں۔

    لیکن پچھلی سمندری تلاشوں میں – جیسے کہ 2014 میں ملائیشین ایئر لائنز کی پرواز MH370، اور 2000 میں روسی آبدوز کرسک کے لاپتہ ہونے کے لیے – پانی کے اندر شور بھی سنا گیا، اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

    مسٹر اوون کا کہنا ہے کہ امید کی دوسری کرن یہ ہے کہ ان آوازوں کو سونار بوائے نے بالکل بھی اٹھایا تھا ٹائٹینک سمندر کی سطح کے نیچے 12,500 فٹ (3,800 میٹر) بیٹھا ہے، جہاں سونار بوائے بیٹھتے ہیں۔

    مسٹر اوون کا کہنا ہے کہ اگرچہ سمندر کی گہری تہوں سے آوازیں ان تک پہنچ سکتی ہیں، لیکن اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ آوازیں اسی سمندر کی تہہ سے آرہی ہوں[اوپر کی] تہہ کے نیچے شور سننا بہت مشکل ہے کیونکہ آواز درجہ حرارت میں اس کمی سے ریفریکٹ ہو جاتی ہےلیکن جب یہ اس آئسوتھرمل تہہ میں. سطح اور 180 میٹر کے درمیان آواز واقعی بالکل سیدھی ہوتی ہے۔

    بحر اوقیانوس میں لاپتا آبدوز کی تلاش میں پیشرفت

    مسٹر اوون کا کہنا ہے کہ اگر آوازیں واقعتاً ذیلی سے آرہی ہیں تو ریسکیورز کو اسے بہت جلد تلاش کرنے کے قابل ہونا چاہیئےاس علاقے کے ارد گرد بوئز کا ایک نمونہ رکھ سکتے ہیں تاکہ وہ کراس بیرنگ حاصل کر سکیں سونار بوائے ریسیور اس قسم کی معلومات کو واقعی بہت جلد تیار کرنے کے قابل ہے اسے تلاش کرنے میں بہت کم وقت لگے گا۔”

    تاہم، امریکی کوسٹ گارڈ کی تازہ ترین تازہ کاری کے مطابق، زیرِ آب گاڑیاں جنہیں شور کے ماخذ کو تلاش کرنے کے لیے منتقل کیا گیا ہے، ابھی تک کچھ نہیں ملا۔

    ٹائٹن آبدوز کیا ہے؟

    بنیادی طور پر یہ آبدوز نہیں بلکہ اس جیسی submersible کشتی ہے جو زیرآب سفر کر سکتی ہےاس میں ایک پائلٹ اور 4 دیگر افراد سفر کر سکتے ہیں جو عموماً ماہرین ہوتے ہیں یا ایسے سیاح، جو اس مہنگے سفر کا خرچہ اٹھا سکتے ہیں اسے ٹائٹینیم اور کاربن فائبر سے تیار کیا گیا ہے جس کی لمبائی 6.7 میٹر ہے جبکہ وزن 10 ہزار 432 کلوگرام ہے۔

    امریکی صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کا ممکنہ اعتراف جرم

    اسے تیار کرنے والی کمپنی اوشین گیٹ کے مطابق یہ سمندر کی 4 ہزار میٹر گہرائی میں جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، خیال رہے کہ ٹائی ٹینک کا ملبہ 3800 میٹر گہرائی میں موجود ہے سمندر کی گہرائی میں جانے کے لیے یہ 4 الیکٹرک thrusters استعمال کرتی ہے جبکہ سمندری ماحول کی کھوج کے لیے کیمروں، روشنیوں اور اسکینرز سے لیس ہے ٹائٹن کے اندرکسی منی (mini) وین جتنا بڑا کیبن ہے، جس میں لوگ موجود ہوتے ہیں۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹائٹن سے سمندر کا ویو پورٹ (جس سے سمندر کو دیکھا جا سکتا ہے) اس طرح کی کسی بھی submersible میں سب سے بڑا ہےاسے پلے اسٹیشن جیسے ایک کنٹرولر سے آپریٹ کیا جاتا ہے زیرآب جانے کے بعد باہری دنیا سے رابطے کے لیے یہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کی سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتی ہے۔

    چند دن قبل کمپنی نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ سمندر کی گہرائی میں موبائل ٹاورز موجود نہیں تو ہم رابطوں کے لیے اسٹار لنک پر انحصار کرتے ہیں ٹائٹن میں 96 گھنٹوں کی آکسیجن سپلائی موجود ہوتی ہے۔

    اوشین گیٹ کے عہدیدار ڈیوڈ Concannon کے مطابق ٹائٹن میں آکسیجن سپلائی جمعرات کی صبح تک موجود رہے گی، تاہم سانس لینے کی رفتار سے یہ وقت کم ہو سکتا ہے۔

    سویڈن؛ چھوٹا اسپورٹس طیارہ کریش ہو گیا

    اسی طرح ایک ٹوائلٹ جیسا خلا موجود ہے پانی میں غوطہ لگانے پر ٹائٹن کو بحری جہاز پولر پرنس سے نیوی گیشن کی ہدایات ٹیکسٹ میسجز میں ملتی ہیں اس جہاز کا عملہ ٹائٹن کی لوکیشن کو مانیٹر بھی کر رہا ہوتا ہے اسی جہاز سے ٹائٹن کا رابطہ غوطہ لگانے کے بعد منقطع ہوا تھا جس کے بعد سے اس کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

    اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ ٹائٹن کے ساتھ کیا ہوا مگر ماہرین کا خیال ہے کہ آبدوز ٹائی ٹینک کے ملبےمیں الجھ نہ گئی ہو، جبکہ پاور فیلیئر یا کمیونیکیشن سسٹم میں خرابی جیسے خیال بھی پیش کیے گئے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ٹائی ٹینک کا ملبہ سمندر کی تہہ میں پھیلا ہوا ہے اور یہ خطرناک ہے،ٹائٹن کا رابطہ ایک گھنٹے 45 منٹ بعد منقطع ہوا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ عملہ سمندر کی تہہ یا اس کے قریب پہنچ گیا ہوگا۔

    ایک خیال یہ بھی ہے کہ ٹائٹن کے پریشر hull میں لیک کا مسئلہ ہوا ہو ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں اگر ٹائٹن سمندر کی تہہ تک پہنچ گئی ہو اور اپنی پاور سے اوپر نہیں آ رہی تو آپشنز محدود ہیں وہ تہہ میں رہ سکتی ہے مگرایسی امدادی کشتیاں بہت کم ہیں جو اتنی گہرائی میں جا سکتی ہیں اور غوطہ خور وہاں تک نہیں جا سکتے۔

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئےگئی لاپتہ آبدوز کی تلاش تاحال جاری

  • بحر اوقیانوس میں لاپتا آبدوز کی تلاش میں پیشرفت

    بحر اوقیانوس میں لاپتا آبدوز کی تلاش میں پیشرفت

    اوٹاوا: بحر اوقیانوس میں لاپتا آبدوز کے سرچ آپریشن میں شریک کینیڈا کے طیارے کو ٹائی ٹینک ڈوبنے کے مقام پر آبدوز موجود ہونےکے اشارے ملے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار بی بی سی کے مطابق زیر آب تلاش کے آلات نے آوازوں کا پتہ لگایا ہے، ہر 30 منٹ بعد آوازیں سنائی دی ہیں، یہ بات امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ ای میل تبادلے میں سامنے آئی ہے۔

    امریکی کوسٹ گارڈ نے لاپتہ آبدوز کی تلاش کے دوران زیر سمندر آوازیں سنی جانے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ آبدوز کی تلاش کے دوران کینیڈین طیارے نے زیرسمندر آوازوں کا پتہ لگایا ہے آبدوز کی تلاش کے لیے اضافی سونر ڈیوائسز کے استعمال کے بعد اضافی صوتی اثرات سنے گئے ہیں-

    لاپتا آبدوزکی تلاش میں امریکا اور کینیڈا کے بحری جہاز اور طیارے حصہ لے رہے ہیں جبکہ برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکا نے برطانوی آبدوز کو ریسکیو مشن میں شریک ہونے سے روک دیا ہے، دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ تلاش کسی معجزے سے کم نہیں، دیگر نے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ آبدوز دباؤکا شکار ہوکر اب تک پھٹ چکی ہوگی۔

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئےگئی لاپتہ آبدوز کی تلاش تاحال جاری

    روسی ماہرین کا دعویٰ ہےکہ آبدوز کے ریسکیو آپریشن پر 100 ملین ڈالر اخراجات آسکتے ہیں آبدوز میں موجود افراد کے لیے آئندہ چندگھنٹے اہم ہیں کیونکہ آکسیجن کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے اور اگر کل دوپہر تک تلاش میں کامیابی نہ ملی تو پانچوں افراد آکسیجن سے محروم ہوجائیں گے۔

    برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا ہےکہ بدقسمت آبدوز ‘ٹائٹن’ تین برسوں کےدوران تین بار خراب ہوئی تھی۔

    برطانیہ کے ریئر ایڈمرل کرس پیری کا کہنا ہےکہ سمندر کی تہہ میں اس قدر اندھیرا ہوتا ہےکہ سرچ لائٹ سے بھی صرف 20 فٹ تک دیکھا جاسکتا ہے، ٹائٹن اگر بجلی سے محروم ہوچکی ہے تو اس میں موجود افرادکو 3 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت برداشت کرنا پڑ رہا ہوگا، ابھی یہی پتہ نہیں چل سکا کہ ٹائٹن تہہ میں ہے، سطح پر ہے یا کہیں درمیان میں ہے، ٹائٹن سمندر کی سطح پر آ بھی گئی ہو تو بھی دروازے صرف باہر سےکھلنےکے سبب اندر موجود لوگوں کا نکلنا ناممکن ہے۔

    ملائشیا نے بھی بھارتی تیجا طیارے خریدنے سے انکار کر دیا

    واضح رہے کہ بحراوقیانوس میں 111 سال قبل غرق ہونے والے جہاز ٹائی ٹینک کے ملبے کا نظارہ کرنے کے لیے جانے والی لاپتہ آبدوز اتوار کے روز کینیڈا کے جزیرے نیو فاؤنڈلینڈ سے روانہ ہوئی تھی امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق اتوار کے روز سفر کے آغاز کے ایک گھنٹہ 45 منٹ بعد ہی آبدوز کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جہاز کا ملبہ نیو فاؤنڈلینڈ کے ساحل سے تقریباً 600 کلومیٹر دور ہے۔

    آبدوز میں ٹائی ٹینک جہاز کی باقیات کی سیر کے لیے جانے والے 5 ارکان میں سے 2 پاکستانی نژاد مسافر شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان بھی شامل ہیں، ان کے علاوہ ایک برطانوی ارب پتی اور آبدوز کے پائلٹ اور ایک تکنیکی ماہر آبدوز میں موجود ہیں۔

    بورس جانسن پر پارلیمنٹ میں داخلے پرپابندی