Baaghi TV

Tag: ٹرانسپریسی انٹرنیشنل

  • عدلیہ کو کرپٹ ادارہ  کیوں لکھا،دوبارہ رپورٹ جمع کروائیں،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو حکم

    عدلیہ کو کرپٹ ادارہ کیوں لکھا،دوبارہ رپورٹ جمع کروائیں،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو حکم

    ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی رپورٹ میں عدلیہ کو کرپٹ ادارہ شائع کرنے کا معاملہ،چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس محمد ابراہیم خان نے 31 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ابراہیم خان کی جانب سے جاری آخری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنشنل پاکستان 2023 کی سالانہ رپورٹ دوبارہ شائع کرے،عدالت نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو رپورٹ میں غیرموجود ڈیٹا شامل کر کے حقائق پر مبنی رپورٹ شائع کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشل کو رپورٹ 24 اپریل تک رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی اور کہا کہ سروے کے دوران مسترد ہونے والے فارم کی مجموعی تعداد کو رپورٹ میں شائع کیا جائے، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ میں تمام عوامی رائے تناسب کو واضع طورپرشائع کیا جائے، پڑھنے والے کے لیے کوئی ابہام نہ چھوڑا جائے،

    تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2023 کی رپورٹ درست کرنے کا اقدام خود اٹھانا چاہئیے تھا، فیصلے سے ایسا تاثر نہ لیا جائے کہ کوئی آزادی رائے کے اظہار پر پابندی لگائی گئی ہے،

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

  • ‘کرپشن کےخاتمےکاوعدہ پہلے90دن میں پورا کردیاتھا’   اگرکوئی کرتاہےتوثبوت دیں نہیں چھوڑوں گا:عمران خان

    ‘کرپشن کےخاتمےکاوعدہ پہلے90دن میں پورا کردیاتھا’ اگرکوئی کرتاہےتوثبوت دیں نہیں چھوڑوں گا:عمران خان

    اسلام آباد :‘کرپشن کےخاتمےکا وعدہ پہلے90 دن میں پورا کر دیا تھا’اگرکوئی کرتا ہےتوثبوت دیں نہیں چھوڑوں گا:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کےخاتمےکا وعدہ پہلے90 دن میں پورا کر دیا تھا موجودہ دور حکومت میں کوئی مالی اسکینڈل سامنےنہیں آیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ ،صحت کارڈ اور شہبازشریف کے خلاف کیسز پر گفتگو کی گئی۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ پر وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں مالی کرپشن کا ذکر نہیں، قانون کی حکمرانی سے متعلق معاملات کوسامنےلایاگیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن کےخاتمےکاوعدہ پہلے90دن میں پوراکردیاتھا موجودہ دورحکومت میں کوئی مالی اسکینڈل سامنےنہیں آیا سابقہ ادوارمیں پاناماجیسےبڑےاسکینڈل سامنےآتےرہے۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شہبازشریف کےکرپشن کیسز کو مزید اجاگر کیا جائے عوام کوبتایاجائےشریف خاندان نےکیسےمنی لانڈرنگ کی۔

    ترجمانوں کو صحت کارڈ جیسی سہولت پر عوام کو آگاہ کرنےکی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو بہترین معاشی اشاریوں سے متعلق بھی آگاہ کیاجائے عوام کوعالمی اداروں کی معیشت پر رپورٹس کابھی بتایا جائے کوئی بڑا واقعہ رونمانہ ہواتومعیشت مزید بہتر ہوگی۔

    یاد رہے کہ ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کی خودساختہ رپورٹ پرسرکاری ملازمین اور دیگرحکام نے مطالبہ پیش کیا ہےکہ اگرٹرانسپریسی انٹرنیشنل کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کرے ورنہ اتنی بڑی الزام تراشی پرعدالت جائیں گے اور یہ غلط بیانیاں ختم کرکے رہیں گے

  • ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کرپٹ افرادکےخلاف ثبوت دے:       کارروائی ہوگی:زبانی الزامات ہوئےتوپھرحساب دیناپڑےگا

    ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کرپٹ افرادکےخلاف ثبوت دے: کارروائی ہوگی:زبانی الزامات ہوئےتوپھرحساب دیناپڑےگا

    لاہور:ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کرپٹ افراد کے خلاف ثبوت دے:کارروائی ہوگی:زبانی کلامی الزامات ہوئے توپھرحساب دینا پڑے گا ،پچھلے کئی دنوں‌ سے ایک بحث چل رہی ہےکہ پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے اور اس کا گراف مزید نیچے چلا گیا ہے، اس حوالے سے پاکستان میں کچھ ایسی این جی اوز گاہے بگاہے ایسی رپورٹ اس وقت پیش کرتی رہتی ہیں جبک حکومت کو سیاسی طور پرنقصان پہنچانا مقصود ہو

    اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ واقعی پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اور تو اس کے لیے ایسے الزامات لگانے والوں کو ثبوت دینے چاہیں تاکہ حکومت ان کرپٹ افراد اور اداروں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرسکیں اور اس برائی کا خاتمہ کرسکیں ،

    ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کو چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ ان افراد کے نام شیئر کرے اور جو کرپشن کی گئی ہے اس کا ثبوت دے ، ایسے زبانی کلامی اہل وطن پرالزام تراشی کا یہ مناسب انداز نہیں ہے ، ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے تو کون ہے کرپٹ؟

    اس این جی او نے تو پوری قوم کو کرپٹ بنادیا،ہر سنُنے والے کو پتہ ہی نہیں‌ کہ کون کرپٹ ہے ،ایسے اندھے الزامات کی صورت میں تو ہرکوئی ایک دوسرے کی طرف شک سےدیکھے گا ،یہ شک انسانوں کے درمیان محبت اوراعتماد کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے ، ایسے اندھے الزامات ہرشخص اپنے مخالف پرمن گھڑت الزامات کی تیراندازی کرکے اس کی شخصیت کو داغدار کرنے کی کوشش کرے گااور یہی کچھ ہورہا ہے،

    ان الزامات کےبعد ماتحت اپنے افسران کی طرف شک کی نظرسے دیکھیں تویہ بھی اچھا نہیں اوراگرافسران اپنے ماتحت عملے کو شک کی نظرسےدیکھیں تو یہ بھی اچھا نہیں ، ٹرانسپریسی انٹرنیشنل نے تواس بیماری کے علاج کی بجائے الٹا بیماراور نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے

    یورپ ، مغرب اور دیگردنیا میں پہلے ثبوت رکھے جاتے ہیں اورپھردعویٰ کیا جاتا ہے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے ، الزامات کی بوچھاڑ کی کردی گئی اور ثبوت ایک بھی نہیں

    جہاں تک تعلق ہے وزیراعظم عمران خان کے کرپشن کے خلاف دعووں کا تو یہ الزامات عمران‌ خان نے تو نہیں لگائے تھے ، یہ تو نوازشریف نے آصف علی زرداری اور پی پی کی حکومت آئی تو اس نے نوازشریف کی شریفانہ کرپشن کے ثبوت سب کے سامنے رکھ دیئے اور یہ احتساب کا عمل بھی نوازشریف کے دور سے شروع ہوا تھا جب سیف الرحمن کومیاں نوازشریف نے کہا کہ آصف علی زرداری اور پی پی کو اس حد تک داغدار کردیں کہ وہ سیاست میں زندہ ہونے کے قابل نہ رہ جائیں

    اور پھرسابق صدر جنرل پرویز مشریف نے نوازشریف کا مشن جاری رکھتے ہوئے احتساب کا آگے بڑھانے کی کوشش کی اور پھرایک وقت آیا کہ اپنا اقتداربچانے کی خاطرشریف برادران اور آصف علی رزداری کی کرپشن کوڈیل کےذریعے حلال کربیٹھے ، اس کےبعد پی پی اور ن لیگ نے موجودہ احتسابی عمل کی بنیاد رکھی

    بات ہورہی ہے کہ عمران خان نے کسی پر براہ راست کرپٹ ہونے کا الزام نہیں لگایا ، بلکہ انہوں نے ان حقائق کا حوالہ دیا جونوازشریف اور پی پی قیادت نے ایک دوسرے کے خلاف پیش کیے تھے اور جس کرپشن پرعدالت عظمیٰ نے نوازشریف کوبد عنوان اور مافیا قرار دے کروزارت عظمیٰ‌کے منصب سے الگ کردیا تھا

    ان حالات میں ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کو چاہیے کہ وہ ثبوت پیش کرے جس طرح‌ شریف برادران اور آصف علی زرداری کے خلاف عدالتوں میں ثبوت ہیں

    اس ملک کے کس شہری نے کتنی کرپشن کی اور کب سے کب تک کی ،یہ ثبوت فراہم کرے

    ان زبانی کلامی الزامات سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے کہ جن کے خلاف عدالتوں میں کرپشن کے کیسزثبوتوں کی بنیاد پرچل رہے ہیں اور ان زبانی کلامی الزامات سے ہرشہری دوسرے کی طرف شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور الزامات کا یہ سلسلہ شیطانیت کی انتہا ہے جوپرامن معاشروں کے پرامن شہریوں کو ایک دوسرے سے دور کردے

    ٹرانسپریسی انٹرنیشنل اپنے الزامات کے ثبوت فراہم کرے ، افراد کے نام بتائے ،محکموں کی نشاندہی کرے اور کتنی کرپشن کی اس کی تفصیلات فراہم کرے ،اگرایسا نہیں ہے تو پھرٹرانسپریسی قوم کے سامنے معافی مانگے اور معافی اس صورت میں قابل قبول ہوگی جب یہ ادارہ ان قوتوں کی نشادہی کرے گا جنہوں‌ نے اس ادارے کو ڈھال بناکرسیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی ،20 سال سے ایسی این جی اوز کی شام غریباں کو جانتا ہوں ، ان کی کرڈیبلٹی کا پہچانتا ہوں