Baaghi TV

Tag: ٹرانس جینڈر

  • بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن دور کے ایک اہم حکم کو منسوخ کرتے ہوئے امریکی فوج میں ٹرانس جینڈرز کی بھرتی پر پابندی لگا دی ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام ملک کی فوجی حکمت عملی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 9 ہزار سے 14 ہزار ٹرانس جینڈرز امریکی فوج کا حصہ ہیں۔بدھ کے روز، ٹرمپ نے بائیڈن کے دور میں جاری کردہ حکمنامہ کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت ٹرانس جینڈرز کو امریکی فوج میں بھرتی کی اجازت دی گئی تھی۔ اس پابندی کے نتیجے میں ٹرانس جینڈرز افراد کی فوج میں ملازمت کرنے کی راہ بند ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ میں صرف دو جنسوں کو تسلیم کیا جائے گا، یعنی مرد اور عورت۔

    اسی دوران، ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ خارجہ کے ذریعے امریکی سفارتخانوں میں پرائیڈ اور بلیک لائیوز میٹر پرچم لہرانے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ اب صرف امریکی پرچم لہرایا جا سکے گا، جبکہ دیگر کسی بھی نوعیت کے پرچم کی اجازت نہیں ہو گی۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کوسٹ گارڈ کی پہلی خاتون کمانڈنٹ، ایڈمرل لنڈا فیگن کو بھی برطرف کر دیا۔ ایڈمرل فیگن کوسٹ گارڈ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں اور ان کی برطرفی پر مختلف حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کا آغاز کرتے ہوئے میکسیکو بارڈر پر اضافی فوجی اور ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق 1500 اضافی فوجیوں کو میکسیکو بارڈر پر تعینات کیا جائے گا، اور ان کے ساتھ ہیلی کاپٹرز اور انٹیلی جنس تجزیہ کار بھی روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنا ہے۔مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے بارڈر پر گراؤنڈ فورسز کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، اور پینٹاگون نے کیلی فورنیا اور ٹیکساس سے 5 ہزار غیر قانونی تارکین کو بے دخل کرنے کے لیے طیارے فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، میکسیکو بارڈر پر باڑ لگانے کے لیے بھی پینٹاگون معاونت فراہم کرے گا۔

    یہ تمام اقدامات اس بات کا غماز ہیں کہ ٹرمپ نے امریکی سیاست میں اپنے جارحانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے، اور ان کے فیصلے ان کے سیاسی نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ٹک ٹاک سے پابندی ہٹاؤ نہیں تو پاکستان چلی جاؤں گی،راکھی ساونت کا مودی کو پیغام

  • ٹرانسجینڈر سے ناجائز تعلقات پر نوجوان اور خواجہ سرا دونوں گرفتار

    ٹرانسجینڈر سے ناجائز تعلقات پر نوجوان اور خواجہ سرا دونوں گرفتار

    لاہور:ہیومن رائٹس سیل SSP آفس نے اپنی نوعیت کا انوکھا کیس حل کردیا،اطلاعات کے مطابق ٹرانسجینڈر سے ناجائز تعلقات پر نوجوان اور خواجہ سرا دونوں گرفتارکرلیئے گئے ہیں‌

    تفصیلات کے مطابق چند روز قبل انچارج ہیومن رائٹس سیل ماریہ نوید کو ایک درخواست موصول ہوئی جس کے مطابق خواجہ سرا انعم نے الزام عائد کیا کہ نبیل عرف علی نامی نوجوان نے اسے زبردستی اپنی قید میں رکھا، اسکے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کیے اور مزاحمت پر اسے جان سے مارنے کی نیت سے کیروسین آئل کا استعمال بھی کیا

    انچارج HRC ماریہ نوید نے اپنی نوعیت کے اس انوکھے کیس کو SSP حیدرآباد امجد احمد شیخ صاحب کے احکامات پر حل کرتے ہوئے مختلف حقائق سے پردہ فاش کیا

    انکوائری رپورٹ کے مطابق خواجہ سرا کی جانب سے نبیل نامی نوجوان پر عائد الزامات صرف الزام کی حد تک ہی رہے جبکہ حقیقت اسکے برعکس ظاہر ہوئی جس کے مطابق عرصہ دراز سے نبیل نامی نوجوان خواجہ سرا انعم کے عشق میں مبتلا اور دونوں اپنی خوشی کیساتھ زندگی گزار رہے تھے مزید اہم یہ بھی انکشاف ہوا کہ نبیل نامی نوجوان اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بھی ملوث رہتا ہے جو واردات کے بعد محفوظ پناہ گاہ خواجہ سرا کے گھر میں رہتا تھا، پولیس کرمنل ریکارڈ کے مطابق نبیل عرف علی تھانہ حالی روڈ اور تھانہ A-سیکشن پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب ہے

    ایس ایس پی حیدرآباد نے معاشرے میں جاری اس طرح کی فحاش حرکات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا حکم جاری کیا جس پر حالی روڈ پولیس نے خواجہ سرا اور نبیل نامی نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

    ایس ایس پی حیدرآباد نے انچارج ہیومن رائٹس سیل ماریہ نوید کو اپنی نوعیت کے اس انوکھے کیس کو بخوبی حل کرنے پر شاباشی دی اور تعریفی سرٹیفکیٹ CC-lll کیلئے بھی نامزد کیا

    مزید SSP حیدرآباد نے اپنے پیغام میں کہا کہ شہر حیدرآباد میں کسی کو بھی فحاشی و عریانی جیسی حرکات کی ہرگز اجازت نہیں اور اس طرح کی کسی بھی قسم کی کوئی حرکات میں پایا گیا خواہ وہ خواجہ سرا ہی کیوں نہ ہو اسکے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

  • ٹرانس جینڈر قواعد کی شق 3 کالعدم قرار دینے کی درخواست واپس لینے کی بنا پرمسترد

    ٹرانس جینڈر قواعد کی شق 3 کالعدم قرار دینے کی درخواست واپس لینے کی بنا پرمسترد

    لاہور ہائی کورٹ ،ٹرانس جینڈر قواعد کی شق 3 کالعدم قرار دینے کی درخواست واپس لینے کی بنا پر مسترد کر دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی، دوران سماعت جسٹس شجاعت علی خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کی درخواست میں قانون کو چیلنج کیا گیا جو پہلے ہی زیر سماعت ہے، درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ ٹرانس جینڈ رولز کی شق 3 شریعت اور آئین پاکستان سے متصادم ہے شق 3 کے تحت جنس کی تبدیلی کا نادرا کو دیا گیا اختیار ماورائے قانون قرار دیکر کالعدم قرار دیا جائے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ٹرانس جینڈر ایکٹ کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا،درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے رولز حقائق کے برعکس ہیں لاہور ہائی کورٹ میں رانا عمران جاوید ایڈووکیٹ نے اپنی دائر کی گئی درخواست میں نشاندہی کی ہے کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ رولز کے مطابق کوئی بھی مرد یا عورت جنس کی تبدیلی کا شناختی کارڈ بنوا سکتا ہے درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ شناختی کارڈ کے لیے کسی میڈیکل کی ضرورت نہیں ہے ٹرانس جینڈر ایکٹ کے رولز اسلامی تعلیمات اور قوانین کے منافی ہیں لہٰذا اس ایکٹ کو کالعدم قرار دیا جائے

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی بھی ٹرانسجینڈر بل کو دیکھ کر خاموش نہ رہ سکے

    سینیٹ اجلاس، ٹرانسجینڈر بل زیر بحث، جماعت اسلامی نیا بل لے آئی

  • پاکستان میں شرعیت کے منافی کسی قانون کی گنجائش نہیں ہے:مفتی محمد یوسف کشمیری

    پاکستان میں شرعیت کے منافی کسی قانون کی گنجائش نہیں ہے:مفتی محمد یوسف کشمیری

    کراچی:جامعہ الدراسات الاسلامیہ کے مدیر و رکن مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان مفتی محمد یوسف کشمیری نے کہا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے۔اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے۔یہاں شریعت کے منافی کسی قانون کی گنجائش نہیں ہے ۔لیکن بدقسمتی سےدین بیزارطبقہ مغربی ممالک کی پیروی کرتے ہوئےپاکستان میں فحاشی اور بے حیائی پر مبنی قوانین کو لاگو کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔حالیہ ٹرانس جینڈرایکٹ قانون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    مفتی محمد یوسف کشمیری کا کہنا تھا کہ جو معاشرے میں ہم جنس پرستی اور فحاشی کو فروغ دینے کا سبب بنے گا۔حکومت کو آئین کے منافی اس قانون کےخاتمے کے لیے فوری اورمؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”544359″ /]

    ٹرانس جینڈرایکٹ پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے مفتی یوسف کشمیری کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعےہم جنس پرستوں کیلئے راہ ہموار کرنے اور اس کو قانونی شکل دینےکی کوشش کی جا رہی ہے ۔ٹرانس جینڈر قانون آئین و شریعت کے خلاف ہے ۔ اس قانون کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔ پارلیمنٹ ممبران اپنا کردار ادا کر کے اس متنازعہ قانون کو واپس لینے میں کردار ادا کریں۔

    مفتی یوسف کشمیری کا مزید کہنا تھا کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کےبھی وہی حقوق ہیں ۔جو ایک مرد یا عورت کے ہیں۔یہاں تک کہ وراثت میں بھی اگر ایک خواجہ سرا عورت کے نزدیک تر ہے۔ تو ترکے میں عورت کے برابر اور اگر ایک مرد کے نزدیک تر ہے تو مرد کے برابر حصہ ملے گا۔انسانیت کے نام پہ دین بیزار طبقہ اپنی فحاشی کی آزادی چاہتا ہے۔ اسے کسی کے حقوق سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

  • "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو اپنی بہن سے شادی کرنی تھی. یہ وہ فعل ہے جس کی اجازت کسی بھی مذہب میں نہیں. بادشاہ نے اپنے مصاحبوں سے مشورہ کیا. ایک شیطان صفت مصاحب نے مشورہ دیا کہ کوئی بھی بڑا دھماکہ فوری طور پر نہیں کیا جاتا. پہلے اس کے لیے زمین نرم کی جاتی ہے. عوام کو پہلے ہلکی پھلکی بے غیرتی کا عادی بنایا جاتا ہے. پھر جب رب کے قانون کے صریحاً خلاف ورزی کی جاتی ہے تو عوامی ردعمل انتہائی معمولی ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو ہوتا بھی نہیں.

    اس کی مثال آج کل کے دور میں یہ ہے کہ پہلے میڈیا کے زریعے ہمیں مزاح کے نام پہ ایک مرد کو ساڑھی پہنا کر سج سنوار کر بٹھایا گیا ( بیگم نوازش علی). پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ ہر دوسرے ڈرامے میں ایک مرد لہرا کر بل کھاتا ہوا نظر آیا. عوام نے اسے مزاح کا ایک انداز سمجھا. اب اگر روزمرہ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کرتا نظر آتا ہے تو ہم اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے ہیں. پھر پچھلے دنوں ایک مرد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ( ڈاکٹر)، لیکن کھلے عام سیکس چینج کو اپنا حق مانتا ہے. خود کو عورت کی طرح پیش کرتا ہے اور ہم جنس پرست ہونے پہ فخر کرتا ہے، اسے ایک اسکول میں بطور رول ماڈل مدعو کیا گیا. جس پہ کچھ والدین نے اعتراض کیا. باقی والدین اس کی انگریزی سے مرعوب ہوتے رہے.

    اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں ایسے لوگوں کا کیا مقام ہے. یہ مکمل مرد اور عورت اپنی جنس سے مطمئن نہیں، اسی لیے وہ خواجہ سراؤں کی آڑ لے کر پاکستان میں ایک ایسا قانون پاس کروانا چاہتے ہیں جس سے ان کو اپنا گھناؤنا فعل کرنے کی مکمل آزادی مل جائے.

    کم علمی کے باعث بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کے وہی حقوق ہیں جو ایک مرد یا عورت کے ہیں. یہاں تک کہ وراثت میں بھی اگر ایک خواجہ سرا عورت کے نزدیک تر ہے تو ترکے میں عورت کے برابر اور اگر ایک مرد کے نزدیک تر ہے تو مرد کے برابر حصہ ملے گا. یہ باتیں ہم سے چھپائی جاتی ہیں. انسانیت کے نام پہ اپنی فحاشی کی آزادی درکار ہے. یہ قوم لوط کا فعل ہے جس پہ اللہ کا غضب ایسے بھڑکا تھا کہ توبہ کرنے کے لیے تین دن کا وقت بھی نہیں دیا گیا جو اس سے پہلے تمام گمراہ قوموں کو دیا گیا تھا.

    اکتوبر میں اس بل پر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی. ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ہم بھرپور احتجاج کر کے اس بل کو رکوائیں. ہمیں یہ کام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے اٹھ کر کرنا ہے. یاد رہے کہ اللہ کا عذاب اور غضب صرف ان پہ نہیں آتا جو اس فعل میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان پہ بھی آتا ہے جو اس کو قبیح فعل سمجھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں.

    اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

  • ٹرانس جینڈر مہرب معز اعوان  نے ماریہ بی کو مشورہ دیدیا

    ٹرانس جینڈر مہرب معز اعوان نے ماریہ بی کو مشورہ دیدیا

    مہرب معزاعوان کے آج کل سوشل میڈیا پر کافی چرچے ہیں۔فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے ان کے بارے میں دعوی کیا ہے وہ ٹرانس جینڈر نہیں ہیں بلکہ مرد ہیں۔ ماریہ بی نے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک لمبی چوڑی پوسٹ بھی لگائی۔ اس پوسٹ پر رد عمل دیتے ہوئے اب مہرب معز اعوان بھی آگئے ہیں میدان میں۔ انہوں نے معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کو چیلنج دیدیا ہے اور اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ماریہ بی میرے بارے میں جتنے اور جو بھی دعوے کررہی ہیں وہ سب کے سب غلط ہیں۔ان کا یہ کہنا کہ میرا تعلق ٹرانس جینڈر کمیونٹی سے نہیں ہے تو وہ بالکل غلط کہہ رہی ہیں۔مہرب معز اعوان نے مزید کہا کہ ماریہ آپ قانون کھول کر پڑھ لیں ٹرانس جینڈر کی تعریف کیا ہے آپ کو معلوم پڑ جائیگا۔انہوں نے ماریہ بی کو

    پاکستان کا ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ پڑھنے کا مشورہ بھی دیا۔انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کا برینڈ فیل ہو رہا ہے اس لئے آپ کو اس طرح کی حرکتیں کرنا پڑتی ہیں خود کو زندہ رکھنے کے لئے آپ کو یہ سب کرنا پڑ رہا ہے آپ کی شاید یہ مجبوری ہے لیکن اگر آپ نے یہ سلسلہ جاری رکھاتو یقینا میرا وکیل آپ کے وکیل سے گفتگو کرے گا تو کیا خیال ہے اس بارے میں ، ہوجائے پھر؟