Baaghi TV

Tag: ٹرسٹ

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ٹرسٹ کو ہتھیانے اور فنڈز میں خرد برد کا انکشاف

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ٹرسٹ کو ہتھیانے اور فنڈز میں خرد برد کا انکشاف

    لاہور: ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ٹرسٹ کو ہتھیانے اور فنڈز میں خرد برد کا انکشاف سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی : ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ان ہی کے ٹرسٹ سے نکال دیا گیا اور جعلی دستاویزات پر ٹرسٹ ڈیڈ رجسٹر بھی کرالی،محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا خواب تھا کہ لاہور میں عوام کے مفت علاج کے لیے ایک اسپتال بنائیں،اس حوالے سے انہوں نے ایک بورڈ آف ٹرسٹ بنایا تھا، پھر بعض ممبران کو انہوں نے اپنی زندگی میں ہی ٹرسٹ سے نکال دیا تھا تاہم ان کی وفات کے بعد ان افراد نے جعل سازی کرکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ہی ٹرسٹ سے نکال دیا اور جعلی دستاویزات پر ٹرسٹ ڈیڈ رجسٹر بھی کرالی۔

    وزیراعظم نے پی آئی اے کی نجکاری پر عمل درآمد کیلئے حتمی شیڈول طلب …

    نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے عبدالقدیر خان کی بیٹی ڈاکٹر دینا نےبتایا کہ والد کے ٹرسٹ کو جعل سازوں سے بچانے کے لیے انہوں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن انہیں انصاف نہ ملا اورالٹا مخالفین نے ان کی ذات پر کیچڑ بھی اچھالا،جعل سازی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد انہیں امید ہےکہ عدالتیں انصاف فراہم کریں گی اور وہ اپنے والد کا خواب پورا کر سکیں گی۔

    شاعرہ اور افسانہ نگار نیر رانی شفق

  • چودھری رحمت علی میموریل ٹرسٹ، خدمت انسانیت کی اعلی مثال

    چودھری رحمت علی میموریل ٹرسٹ، خدمت انسانیت کی اعلی مثال

    لاہور:صحت کی دیکھ بھال کیلئے قائم خیراتی ادارہ رحمت علی میموریل ٹرسٹ لگن اور دلجمعی سے پسماندہ عوام کی خدمت میں مامور ہے-

    باغی ٹی وی: رحمت علی میموریل ٹرسٹ (CRAMT)، ٹاؤن شپ، لاہور، ایک خیراتی ادارہ جو 1976 میں پسماندہ عوام کے لیے صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کی خدمات انجام دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    خدمت انسانیت کا اجر دنیا میں نہیں بلکہ رب آخرت میں دیں گے، موجودہ حالات میں جہاں وطن عزیز پاکستان میں مہنگائی ، بے روزگاری ، غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، گھروں میں فاقے تو علاج کے لیے بھی کچھ نہیں، زندہ رہنے کے لئے بھی انسانی ضروریات کو پورا کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہو تو ایسے میں وہ ادارے ، افراد جو غریب عوام کی بے لوث خدمت کرتے ہیں کسی نعمت سے کم نہیں، انہی اداروں میں سے ایک چودھری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ہے جس کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں-

    لاہور میں موجود اس ادارے نے عوامی خدمت میں وہ مثال قائم کی ہے جو شاید حکومتیں بھی نہیں کر سکتیں، خدمت انسانیت کا یہ کام پاکستانی قوم کے تعاون سے ہی ممکن ہو رہا ہے ، رمضان برکتوں والا مہینہ چل رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہ مبارک میں چودھری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کی ہر ممکن مدد کریں تاکہ انکی خدمت انسانیت کہ شمع جلتی رہے-

    ڈاکٹر ایس ایم کے واسطی جو لاہور کے مشہور چائلڈ اسپیشلسٹ تھے ،انہوں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر 70کی دہائی میں چوہدری رحمت علی کے نام پر ٹرسٹ بنانےکی ٹھانی۔ڈاکٹر رشید چوہدری اوردیگر احباب کےساتھ مل کرجو پودا انہوں نے لگایا آج اس شجرسایہ دار کےتحت ایک ہسپتال ، ایک گرلز کالج،ایک گرلز اسکول، ایک بوائز اسکول ،ایک مسجد اور اس سے ملحق ایک مدرسہ قائم ہیں-

    رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے سماجی خدمت کے شعبے درج ذیل ہیں۔

    چودھری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ہسپتال سے سالانہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ لوگ مستفید ہو تے ہیں ، غریب اور مستحق افراد کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔ٹرسٹ کے زیر اہتمام بوائز ہائی اسکول،گرلز اسکول،گرلز ڈگری کالج میں طلباء طالبات کی تعداد 2000سے زائد ہے۔

    ماہانہ فیس انتہائی کم،تاہم ذہین و مستحق طلباء طالبات کو فیس میں خصوصی رعایت جبکہ انتہائی ضرورت مند طلباء کومفت تعلیم کی سہولت میسر ہے۔جامعہ مسجد رحمت و دارالعلوم میں بچوں کو حفظ قرآن،ناظرہ تجوید و درس نظامی کی مفت تعلیم جبکہ ان بچوں کے کھانے پینے ،علاج اور رہائش کے اخراجات بھی ادارہ کے ذمہ ہیں۔

    48 بستروں والا ہسپتال ہے جس کی او پی ڈی میں مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو چیک کیا جاتا ہےسپتال نے پچھلے سال 160,000 سے زیادہ مریضوں کی علاج معالجہ کیا او پی ڈی کے مریضوں سے انتہائی کمزور افراد کو اعلیٰ معیار کی مشاورت اور مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 50 روپے کی معمولی فیس لی جاتی ہے۔

    ایک مسجد اور ایک رہائشی سہولت کا انتظام ہے جس میں حفظ اور قرآن سیکھنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔

    چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ٹاؤن شپ، لاہور کے صدرڈاکٹر عثمان واسطی کا کہنا ہےکہ جاری خدمات کو برقراررکھنے اور خدمات کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے، کمیونٹی کی مالی مدد ٹرسٹ کے لیے ایک ضروری لائف لائن ہے بورڈ آف ٹرسٹ کیجانب سے شہریوں سے درخواست کی کہ آپ زکوٰۃ اور عطیات کے ذریعے اس سماجی بہبود کے منصوبے کو تقویت دیں ہم آپ کی ہمدردی اور حمایت کے لیے پیشگی شکریہ ادا کرتے ہیں آپ کے قیمتی تعاون کا انتظار رہے گا۔

    ٹرسٹ کے ماہانہ کل اخراجات ایک کروڑ سے زائد ہیں جبکہ توسیع اور مزید سہولیات کے لئے عطیات اور مالی معاونت کا تخمینہ الگ جو احباب اس شجر سایہ دار کا سایہ پھیلانے میں زکوۃ، عطیات و صدقات کے ذریعے سےشامل ہو سکیں۔اس میں انکی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی ہے اور معاشرے کا حق داروں کا حق بھی ادا ہونے کی صورت بھی ہےچوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے لیے اپنی زکوٰۃ، صدقات اور عطیات فراہم کرنے کے لیے تفصیلات درج ذیل ہیں۔

    آن لائن ڈپازٹ کے لیے؛

    1-نیشنل بینک آف پاکستان (ٹاؤن شپ لاہور)
    اکاؤنٹ کا عنوان: Ch. رحمت علی میموریل ٹرسٹ ہسپتال
    بینک اکاؤنٹ: 1669003035978601 (برانچ کوڈ 1669)
    IBAN نمبر: PK70NBPA1669003035978601

    2- بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ (اکبر چوک، پیکو روڈ لاہور)
    اکاؤنٹ کا عنوان: Ch. رحمت علی میموریل ٹرسٹ
    بینک اکاؤنٹ: 201139351240201 (برانچ کوڈ 2011)
    IBAN نمبر: PK84BKIP0201139351240201

    3- علاوہ ازیں عطیات جمع کرنے کے لیےاس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں :
    042-35154812، 0309-3330125

    چودھری. رحمت علی میموریل ٹرسٹ 45-سوک سینٹر، ڈاکٹر واسطی چوک،ٹاؤن شپ، لاہور میں واقعہ ہے چودھری. رحمت علی میموریل ٹرسٹ پنجاب چیریٹی کمیشن (پی سی سی)پاکستان سینٹر فار فلانتھراپی (PCP کی جانب سے رجسٹرڈ ہے، تمام عطیات انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 2 (36) کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں ٹرسٹ عطیات/فنڈز کا انتظام ایک اچھی طرح سے طے شدہ نظام کے ذریعے کرتا ہے۔

    ویب سائٹ:
    www.chaudhryrahmatalitrust.com

  • سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    ملک پاکستان سیلاب جیسی آفت سے دو چار ہے۔ چاروں جانب پانی ہی پانی ہے۔ مگر یہ پانی پینے کے لئے نہیں بلکہ زندگیاں چھیننے کے لیے ہے۔بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی، کوئٹہ ،لسبیلہ،نصیر آباد، نوشکی، سندھ میں جامشورو، ، ٹنڈوآدم ،مٹیاری، پنوعاقل،لاڑکانہ ،سانگھڑ سکھر ، ٹھٹھہ،میرپور خاص،سکھر،حیدرآباد اور پنجاب کے علاقے راجن پور، تونسہ شریف، لیاقت پور اور فاضل پور کے دیہات سمیت دیگر کئی علاقے اس وقت سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔لوگوں کے گھر ٹوٹ چکے ہیں۔ جانور بپھرا ہوا پانی بہا کر لے گیا ہے۔ کئی مائیں اپنے لاڈلوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔

    نا جانے اس پانی نے ان کے پیاروں کے ساتھ کیا کیا ہو گیا ؟۔ انکی نعشوں کو خشک زمیں تک نہ مل پائی۔ ہائے ! کیسا دکھ ہے یہ کہ جنھوں نے اپنی ساری جمع پونجی سے گھر بنایا تھا۔ مگر ابھی اس گھر میں ایک رات تک نہیں گزاری تھی۔اور اسی گھر کو اپنی آنکھوں کے سامنا سیلاب میں بہتا دیکھنا پڑا۔لوگ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ بے گھر لوگ سڑک کنارے بھوکے بیھٹے ہیں۔ بچے بیمار پڑے ہیں ۔

    اور ایسے میں ان بچوں کی مائیں تو پریشان ہیں ۔مگر ایک اور ماں جسے ریاست کہتے ہیں۔ چپ سادھے بیٹھی ہے۔نا جانے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ کرنا نہیں چاہتیں یا بے بس ہیں۔ نہ کوئی عمران نظر آرہا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران ۔

    ‏کِتھے نیں عمران وغیرہ
    ڈُب گئے جے انسان وغیرہ

    زرداراں دے شہر وی آئے
    پانی دے طوفان وغیرہ

    شہبازاں نُوں کون جگاوے
    کون کرے اعلان وغیرہ

    نہ لبھیا پرویز الہی
    نہ کوئی عثمان وغیرہ

    مولانا نُوں لبھو آ کے
    چَھڈن کوئی فرمان وغیرہ

    ملک ریاض نُوں میسج بھیجو
    لے کے آوے دان وغیرہ

    ‏شاہ محمود تے پیر گیلانی
    ٹُر گئے نیں گیلان وغیرہ

    این ڈی ایم اے سُتی رہ گئی
    کون بچاندا جان وغیرہ

    موت کلہنی کھو لیندی اے
    ہونٹاں توں مسکان وغیرہ

    کون سنبھالے مجبوراں نوں
    کون کرے احسان وغیرہ

    ہور نہ اُنگل چُک حکیما!
    مارن گے دربان وغیرہ

    مگرایک ایسا ادارہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیلاب متاثرین کی دادرسی کو سب سے پہلے پہنچا ۔ لوگوں کو دلدل سے نکالا۔بیشتر بے گھر متاثرین کو خیمے دیے تاکہ وہ عارضی طور پر اپنے سر چھپا سکیں۔یہ وہ ادارہ ہے۔ جس کا دستور اور منشور دونوں خدمت ہیں۔ آپ متاثرہ علاقوں میں خود جاکر دیکھیں ، مین سٹریم میڈیا دیکھیں یا پھر سوشل میڈیا آپکو ہر جگہ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نظر آئیں گے ۔اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر یہ رضاکار متاثرین کو بچانے میں مصروف عمل ہیں ۔جن علاقوں میں حکومت وقت پہنچ ہی نہیں پائی ۔ان متاثرہ علاقوں کی گلی گلی میں الخدمت کے رضاکار پہنچے ہیں۔

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان 1990 سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے۔ اور آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ ، تعلیم ، صحت ، یتیموں کی کفالت جیسی دیگر کئی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ اور اب الخدمت فاؤنڈیشن لوگوں کا ٹرسٹ اور امید بن چکی ہے۔

    2022 کی اس آفت میں سوشل میڈیا دیکھیں تو کئی لوگ جنہیں ریاست کو مدد کے لیے پکارنے چاہیے۔وہ الخدمت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں ۔ اس سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آپ سے گزارش ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دیجیے ۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو جلد از جلد اس آفت سے نجات دلائے۔ اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے والوں کو اجر عظیم دے۔