Baaghi TV

Tag: ٹرمپ انتظامیہ

  • ٹرمپ انتظامیہ نے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے درجنوں ملازمین برطرف کر دیے

    ٹرمپ انتظامیہ نے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے درجنوں ملازمین برطرف کر دیے

    ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے درجنوں ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطرف کیے گئے افراد میں اعلیٰ سائنسی ماہرین، ڈیزیز ڈیٹیکٹیوز اور واشنگٹن آفس کے تمام ملازمین شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطرفی کے نوٹس جمعے کی شب ای میل کے ذریعے بھیجے گئے جن میں اہلکاروں کو اطلاع دی گئی کہ ان کی ذمہ داریاں یا تو غیر ضروری ہیں یا پہلے سے ادارے کے دیگر حصوں میں انجام دی جا رہی ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق، برطرفیوں سے متاثر ہونے والے ملازمین کی درست تعداد ابھی واضح نہیں، تاہم یہ اقدام حکومتی شٹ ڈاؤن کے دوران سامنے آیا ہے، جس کے دوران صدر ٹرمپ نے ہزاروں سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق، برطرفیوں کا سلسلہ محکمہ خزانہ، صحت، تعلیم، تجارت اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سائبر ڈویژن سمیت متعدد اہم اداروں میں جاری ہے۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کو دس دن گزر چکے ہیں اور ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان سیاسی کشمکش ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “یہ سب ڈیموکریٹس نے شروع کیا، ہم صرف ردِعمل دے رہے ہیں۔” حکومتی ترجمان کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 3 لاکھ وفاقی ملازمین کی برطرفی منصوبے میں شامل تھی، لیکن شٹ ڈاؤن کے باعث اس عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق، اب تک 4,200 ملازمین کو فارغ کرنے کے نوٹس جاری ہو چکے ہیں، جن میں محکمہ خزانہ میں 1,400 اور محکمہ صحت میں 1,100 سے زائد ملازمین شامل ہیں۔ برطرفیوں کی زد میں ہاؤسنگ، توانائی، ماحولیات، داخلہ اور تعلیم کے محکمے بھی آ چکے ہیں۔

    اسرائیل نے معاہدے کے تحت فلسطینی قیدیوں کی رہائی شروع کردی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا انتخاب، پی ٹی آئی کا جے یو آئی سے رابطہ، حمایت کی درخواست

    رجب بٹ نے فاطمہ خان کے الزامات مسترد کر دیے،مقدمےکا اعلان

  • ٹرمپ انتظامیہ کی سپریم کورٹ سے پیدائشی شہریت پر نظرثانی کی اپیل

    ٹرمپ انتظامیہ کی سپریم کورٹ سے پیدائشی شہریت پر نظرثانی کی اپیل

    ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے۔

    یہ حکم نامہ صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی جاری کیا تھا، جس کے تحت ایسے بچوں کو شہریت نہ دینے کی ہدایت کی گئی جو امریکا میں پیدا ہوں مگر ان کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا گرین کارڈ ہولڈر نہ ہو۔وزارتِ انصاف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نچلی عدالتوں نے اس پالیسی کو روک کر سرحدی سلامتی کو نقصان پہنچایا اور ہزاروں نااہل افراد کو شہریت کا راستہ دیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اپنی نئی مدت، جو 6 اکتوبر سے شروع ہو رہی ہے، میں اس مقدمے کی سماعت کرے۔

    یاد رہے کہ اس پالیسی کے خلاف متعدد مقدمات دائر ہیں، جن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ اقدام آئین کی چودہویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے، جو امریکا میں پیدا ہونے والے ہر فرد کو شہریت کا حق دیتی ہے۔

    ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے سفیر واپس بلا لیے

    را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی

    پاکستان میں 16 افغان پناہ گزین کیمپ بند کرنے کا فیصلہ

    بھارت: تھلاپتی وجے کی ریلی میں بھگدڑ، 31 افراد ہلاک، متعدد زخمی

  • ٹرمپ انتظامیہ کا غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش

    ٹرمپ انتظامیہ کا غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش

    ٹرمپ انتظامیہ نے عرب رہنماؤں کے سامنے غزہ میں جاری جنگ ختم کرنے کے لیے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ منصوبہ منگل کے روز پیش کیا گیا جس پر رہنماؤں کے درمیان اس بات پر تبادلۂ خیال ہوا کہ حتمی تجاویز پر کس طرح اتفاق کیا جا سکتا ہے جو تنازع کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ آئندہ دنوں میں کسی نہ کسی قسم کی پیش رفت متوقع ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی وفد اور عرب رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ ہمارا اجلاس نہایت نتیجہ خیز رہا۔نیویارک میں کونکورڈیا سمٹ کے دوران اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ ہم نے جو منصوبہ پیش کیا ہے اسے ہم ’ٹرمپ 21 نکاتی امن منصوبہ برائے مشرقِ وسطیٰ اور غزہ‘ کہتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس امن منصوبے میں اسرائیل سمیت خطے کے تمام پڑوسی ممالک کے خدشات کو مدنظر رکھا گیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ دنوں میں کسی نہ کسی قسم کی مثبت پیش رفت کا اعلان کر سکیں گے۔

    سیلاب متاثرین کا دکھ الفاظ نہیں، عملی مدد سے کم ہوگا: مریم نواز

    فلسطینی صدر کا جنرل اسمبلی سے خطاب، اسرائیلی اقدامات کو جنگی جرم اور نسل کشی قرار

    بنگلہ دیش کیخلاف قومی ٹیم مشکلات کا شکار، 49 رنز پر آدھی ٹیم پویلین لوٹ گئی

  • ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر نئی پابندیاں، ہانگ کانگ کے دو ادارے بھی شامل

    ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر نئی پابندیاں، ہانگ کانگ کے دو ادارے بھی شامل

    ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جن میں ہانگ کانگ میں قائم دو ادارے بھی شامل ہیں۔

    برطانوی روزنامہ گارڈیئن کی رپورٹ کے مطابق، امریکا نے ایران کو حساس مشینری کی فراہمی کے الزام میں کم از کم 20 اداروں، 5 افراد اور 3 بحری جہازوں پر پابندیاں لگا دی ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر شائع نوٹس کے مطابق، یہ کارروائی نیشنل سیکیورٹی صدارتی میمورنڈم-2 کے تحت کی گئی ہے، جس کا مقصد ایران کو میزائل اور دیگر ہتھیاروں کی صلاحیتوں کے فروغ سے روکنا ہے۔

    نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں کا ہدف ایران کی پاسداران انقلاب اور اس کے اتحادیوں کو ان وسائل سے محروم کرنا ہے جو خطے میں غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیوں کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

    ایران کا اسرائیل پر نیا میزائل حملہ، 1 ہلاک، 23 زخمی

    اٹک جیل میں قیدی پر مبینہ تشدد، 5 افسران معطل، سپرنٹنڈنٹ کا تبادلہ

    فرانس اور یورپی ممالک کا ایران اسرائیل کشیدگی کے حل کے لیے سفارتی پیشکش کا اعلان

  • ٹرمپ انتظامیہ کا مزید 36 ممالک پر سفری پابندی لگانے کا منصوبہ

    ٹرمپ انتظامیہ کا مزید 36 ممالک پر سفری پابندی لگانے کا منصوبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکا میں داخلے پر عائد سفری پابندیوں کا دائرہ مزید 36 ممالک تک بڑھانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ایک خفیہ کیبل کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ یہ ممکنہ اقدام صدر ٹرمپ کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مہم کا اگلا مرحلہ ہو گا اس نئی پالیسی کے تحت جن ممالک کو پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے ان میں 25 افریقی ممالک شامل ہیں، جن میں امریکا کے قریبی اتحادی مصر اور جیبوتی بھی شامل ہیں اس کے علاوہ کیریبین، وسطی ایشیا اور بحرالکاہل کے جزائر بھی ممکنہ طور پر متاثر ہوں گے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ متعدد ممالک کے شہریوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں مقیم ہے جبکہ بعض شہریوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ امریکا مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

    اسرائیل ایران کشیدگی : عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوگیا

    محکمہ خارجہ کی جانب سے یادداشت، جس پر وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخط ہیں، میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندی کی زد میں آنے والے ممالک کو 60 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ امریکی شرائط کو پورا کریں اور غیر قانونی امیگریشن پر قابو پائیں، یادداشت میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک تیسرے ملک کے شہریوں کو واپس قبول کرنے پر رضامند ہو جاتا ہے تو امریکا اس پر عائد ویزا پابندیاں نرم کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی اس موقع پر صدر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکی شہریوں کو غیر ملکی دہشت گردوں اور قومی سلامتی کے دیگر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

    آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کا شیڈول جاری

  • امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو فوری ریلیف دے دیا

    امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو فوری ریلیف دے دیا

    امریکی سپریم کورٹ ہنگامی فیصلے میں ممکنہ طور پر نئے ایکٹ کے تحت ملک بدری کے خطرے سے دوچار تارکین وطن کی ملک بدری روک دی۔

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا سے تعلق رکھنے والے ان تارکین وطن کے وکلا نے جمعہ کو عدالتِ عظمیٰ میں ہنگامی اپیل دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہیں فوراً ملک بدر کیے جانے کا خطرہ ہے اور انہیں مناسب نوٹس نہیں دیا گیا تاکہ وہ اپنی ملک بدری کو چیلنج کر سکیں۔ عدالت کے مختصر حکم میں کوئی تفصیلی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ تاہم، عدالت نے حکم دیا کہ جب تک لوزیانا کی ایک وفاقی اپیل عدالت اس کیس میں کارروائی نہ کرے، ٹرمپ انتظامیہ اس ہنگامی اپیل پر جواب نہ دے۔ سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے سے قدامت پسند ججز سیموئل ایلیٹو اور کلیرنس تھامس نے اختلاف کیا۔

    اس دوران عدالت نے حکم دیا کہ”حکومت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس گروپ کے کسی بھی رکن کو، جسے حراست میں لیا گیا ہے، عدالت کے آئندہ حکم تک امریکا سے بے دخل نہ کرے۔”یاد رہے کہ اس سے قبل واشنگٹن ڈی سی میں ایک وفاقی جج جیمز بوسبرگ نے تارکین وطن کے وکلا کو بتایا تھا کہ وہ ملک بدریوں کو روکنے کا اختیار نہیں رکھتے، حالانکہ وہ انتظامیہ کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کر چکے تھے۔ ہنگامی سماعت میں بوسبرگ نے تارکین وطن کے وکیل سے کہا کہ "مجھے آپ کی باتوں سے مکمل ہمدردی ہے، لیکن میرے خیال میں میرے پاس کچھ کرنے کا اختیار نہیں۔”

    فیصلہ سنانے سے قبل جج بوسبرگ نے حکومت کے وکیل ڈیو اینسائن سے پوچھا کہ کیا ملک بدریوں کا عمل جمعہ کی رات یا ہفتہ کو شروع ہو گا۔اینڈسائن نے جواب دیا کہ اگرچہ کوئی پروازیں شیڈول نہیں، لیکن محکمہ داخلہ (DHS) نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کو ان تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔واضح رہے کہ یہ کیس پہلے بھی سپریم کورٹ جا چکا ہے، جہاں ججوں نے کہا تھا کہ تارکین وطن صرف اسی ضلع کی عدالت میں اپنی ملک بدری کو چیلنج کر سکتے ہیں جہاں انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔

    پیپلز پارٹی وفاق کا حصہ، بات ذمہ داری سے کرنی چاہیے، رانا ثنا اللہ

    پیپلز پارٹی وفاق کا حصہ، بات ذمہ داری سے کرنی چاہیے، رانا ثنا اللہ

    پیپلزپارٹی اراکین کا وفاقی حکومت گرانے کا عندیہ

    عظمی بخاری کی صحافیوں کو 5 مرلے کا پلاٹ دینے کی یقین دہانی

    امریکا اور ایران کے مذاکرات کا دوسرا دور مکمل

  • ٹرمپ انتظامیہ کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کا امکان

    ٹرمپ انتظامیہ کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کا امکان

    امریکی جج کا کہنا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کیخلاف عدالتی حکم کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں ۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کےمطابق ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتی حکم سے بچنے کے لیے 227 سال پرانے ایک قانون کا سہارا لیا تھا، جو اصل میں جنگی حالات میں امریکا کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے ایک حکم جاری کیا تھا کہ 200 سے زائد افراد کو ال سلواڈور واپس بھیجنے والی پروازوں کو روکا جائے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اس حکم کو نظرانداز کرتے ہوئے ڈیپورٹیشن جاری رکھی۔

    میڈیا کے مطابق جج جیمز بوس برگ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ” عدالت نے یہ نتیجہ جلدبازی میں نہیں نکالا، بلکہ اس نے فریقین کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے کئی مواقع دیے۔ لیکن ان کی طرف سے دیے گئے جوابات اطمینان بخش نہیں تھے۔یہ معاملہ عدلیہ اور امریکی صدر کی انتظامیہ کے درمیان اختیارات کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تنازع کو مزید شدت دے سکتا ہے۔

    کراچی والوں کے لیے خوشخبری، بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان

    اسلام آباد کا ملتان کو جیت کیلئے 203 رنز کا ہدف

    کرپشن کرنے پرسابق صدر کو اہلیہ سمیت لمبی سزا

    پاکستان کو کویت نے تیل کریڈٹ سہولت میں توسیع دیدی

    موٹروے پر اجتماعی زیادتی ،مرکزی ملزم پولیس کے ہاتھوں ہلاک

  • امریکی یونیورسٹی ٹرمپ انتظامیہ  کے سامنے ڈٹ گئی،  مطالبات مسترد

    امریکی یونیورسٹی ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے ڈٹ گئی، مطالبات مسترد

    ہارورڈ یونیورسٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ادارہ جاتی خودمختاری یا آئینی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی.

    امریکی میڈیا کے مطابق یہ بیان اس ای میل کے بعد جاری کیا گیا جو ہارورڈ کے صدر ایلن ایم گاربر نے جامعہ کے طلباء، اساتذہ اور عملے کو ارسال کی، ای میل میں گاربر نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہارورڈ کو ” مطالبات کی ایک نئی اور توسیع شدہ فہرست” موصول ہوئی ہے، جس میں خبردار کیا گیا کہ اگر ان مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو یونیورسٹی کا وفاقی حکومت کے ساتھ مالیاتی تعلق متاثر ہو سکتا ہے۔یونیورسٹی کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ’ یونیورسٹی نہ تو اپنی خودمختاری قربان کرے گی اور نہ ہی اپنے آئینی حقوق سے دستبردار ہوگی، نہ ہارورڈ اور نہ ہی کوئی اور نجی یونیورسٹی خود کو وفاقی حکومت کے کنٹرول میں دے سکتی ہے۔”

    ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات کیمپس میں مبینہ یہود مخالف جذبات کے خاتمے کے لیے تجویز کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ ان تعلیمی پروگراموں کا آڈٹ بھی شامل ہے جو انتظامیہ کے خیال میں "یہود مخالف رویوں کو فروغ دیتے ہیں یا نظریاتی شدت پسندی کا مظہر ہیں۔”یہ تنازعہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم، اظہارِ رائے کی آزادی، اور تعلیمی اداروں پر حکومتی کنٹرول کے حوالے سے جاری بحث کو مزید شدت دے رہا ہے، اور ہارورڈ اس بحث کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

    ن لیگ کا عوامی رابطے بڑھانے کے لیے کیلیے لاہور سیکریٹریٹ کا فیصلہ

    امارات کا شام کی تعمیرِ نو کیلیے امداد کا اعلان

    امارات کا شام کی تعمیرِ نو کیلیے امداد کا اعلان

    سندھ حکومت کا نوجوانوں کےلیے انٹرپرینیورشپ سیشنز کا فیصلہ

    گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں بڑا اضافہ، الیکٹرک وہیکلز پر بھی لاگو

  • ٹرمپ انتظامیہ نے عربی  ٹی وی چینل "الحرہ” کی فنڈنگ روک دی

    ٹرمپ انتظامیہ نے عربی ٹی وی چینل "الحرہ” کی فنڈنگ روک دی

    واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی حکومت کے زیرِ سرپرستی چلنے والے عربی زبان کے ٹی وی چینل "الحرہ” کی فنڈنگ روک دی ہے، جس کے بعد چینل نے نشریات بند کرنے اور بیشتر عملہ فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:یہ فیصلہ ایلون مسک کی قیادت میں کیے جانے والے بجٹ کٹوتیوں کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے مارچ میں ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ تمام سرکاری میڈیا اداروں کی فنڈنگ بند کر دی جائے گی۔

    "الحرہ” کی بنیاد 2004 میں اس وقت رکھی گئی تھی جب امریکا نے عراق جنگ کے دوران قطر کے چینل الجزیرہ کی خبروں سے نارا ض ہو کر اپنا نکتہ نظر پیش کرنے کے لیے یہ چینل شروع کیا،اب "الحرہ” روایتی نشریات بند کر دے گا، البتہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چند درجن افراد کے عملے کے ساتھ کام جاری رکھنے کی کوشش کرے گایہ چینل 22 ممالک میں ہفتہ وار 30 ملین ناظرین تک پہنچنے کا دعویٰ کرتا ہے، تاہم ہمیشہ سے اسے الجزیرہ، العربیہ اور اسکائی نیوز عربیہ جیسے بڑے چینلز سے سخت مقابلے کا سامنا رہا ہے۔

  • ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ: کولیمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر نے استعفیٰ دے دیا

    ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ: کولیمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر نے استعفیٰ دے دیا

    کولمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ نے ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے باعث استعفیٰ دے دیا۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ کے پاس اگست سے یہ عہدہ تھا، ڈاکٹر کترینہ آر مسٹرانگ نے استعفیٰ کولمبیا یونیورسٹی کے اس اعلان کے بعد دیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ اصلا حات کی ایک فہرست تیار کرے گی جس میں کیمپس پولیس کو گرفتاری کے اختیارات دینا اور مڈل ایسٹ اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ کے لیے نئی نگرانی شامل ہے۔

    یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کولمبیا یونیورسٹی کی منسوخ کی جانے والی 40 کروڑ ڈالر کی سالانہ وفاقی گرانٹ کی بحالی کے لیے کیا گیا تھا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کی گرانٹ طلبا کے فلسطینوں کے حق کیے جانے والے مظاہروں کے بعد معطل کی گئی تھی۔

    متحدہ عرب امارات:شوال کا چاند دیکھنے کیلئے ڈرونز اور اے آئی کا استعمال

    کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کترینہ یونیورسٹی میں اپنی سابقہ پوزیشن میڈیکل سینٹر میں فرائض انجام دیں گی، یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے کو چیئراور سابق صحافی کلیئرشپ مین کو یونیورسٹی کا نیا عبوری صدربنایا گیا ہے۔

    پنجاب : اقلیتی برادریوں کے مسائل کے حل کیلئے مینارٹی ایڈوائزری کونسل قائم