Baaghi TV

Tag: ٹرمپ انتظامیہ

  • فلسطین کے لیے مظاہرہ، امریکہ نے 300 طلبا کے ویزے منسوخ کردیے

    فلسطین کے لیے مظاہرہ، امریکہ نے 300 طلبا کے ویزے منسوخ کردیے

    امریکا نے فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کرنے پر تین سو غیر ملکی طلبا کے ویزے منسوخ کر دیے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی و زیرِخارجہ مارکو روبیو نے طلبا ویزے منسوخ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مظاہروں میں شرکت کرنے والے 300 سے زائد طلبہ کے ویزے منسوخ کرچکے ہیں۔مارکو روبیو نے کہا کہ ایسے طلبا کے ویزے منسوخ کیے ہیں جو اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے، یونیورسٹیوں میں توڑپھوڑ اور افراتفری پھیلانے والوں کو ویزے نہیں دیں گے۔واضح رہے ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی یونیورسٹیوں میں فلسطینیوں کےحق میں ہونے والے مظاہروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

    غزہ جنگ کے خلاف کولمبیا یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاج کی قیادت کرنے والے ایک فلسطینی طالب علم محمود خلیل کو امریکہ میں گرفتاری کے بعد ملک بدری کا سامنا ہے۔ان کی گرفتاری کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ مزید گرفتاریاں بھی ہوں گی، غزہ میں جنگ کے خلاف کیمپس میں ہونے والے احتجاج میں حصہ لینے والوں کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ایڈز کے سدباب کیلئے فوری اقدامات کا حکم

    سندھ، ٹرک و ڈمپرز میں کیمرے ، ٹریکرز نصب کرنے کا حکم

    کراچی،یوم القدس کے سلسلے میں اجتماعات اور ریلیاں

  • ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کیخلاف مقدمہ دائر

    ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کیخلاف مقدمہ دائر

    واشنگٹن: امریکی نگراں ادارے ’امریکن اوور سائیٹ‘ نے صدر ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

    باغی ٹی وی :فوربز کے مطابق مقدمے میں وزیرِ دفاع، ڈائریکٹر انٹیلی جنس، سی آئی اے کے ڈائریکٹر، وزیرِ خزانہ اور وزیرِ خارجہ کو نامزد کیا گیا ہےامریکن اوور سائیٹ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ امریکی عہدیداروں نے یمن پر حملے کے فوجی منصوبے پر بات چیت کے لیے میسجنگ ایپ سگنل کا استعمال کیا۔

    امریکن اوور سائیٹ کے مطابق میسجنگ ایپ سگنل کا استعمال فیڈرل ریکارڈز ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، سگنل ایپ خودکار طور پر پیغامات حذف کر سکتی ہے، سگنل پر بھیجے گئے پیغامات کو سرکاری ریکارڈ قرار دے کر محفوظ رکھنے کا حکم دیا جائے۔

    مولانا یوسف جمیل نے اپنے والد مولانا طارق جمیل کے ذرائع آمدن بتا دئیے

    محبت و خدمت سے ہی تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں، خالد مسعود سندھو

    میلانیا ٹرمپ کا عروسی لباس نیلامی کے لیے پیش

  • طالبان نے امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کورہا کر دیا

    طالبان نے امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کورہا کر دیا

    طالبان نے امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کو امریکہ اور قطر کے ساتھ مذاکرات کے بعد رہا کر دیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے آج امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کو دو سال سے زائد عرصے بعد رہا کر دیا۔ یہ رہائی ٹرمپ انتظامیہ اور قطری حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔فاکس نیوز ڈیجیٹل کو سفارتی ذرائع نے بتایا کہ اس رہائی میں قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ جارج گلیزمن کو طالبان نے افغانستان میں حراست میں لے رکھا تھا، اور کئی مہینوں کی بات چیت کے بعد انہیں آزاد کر دیا گیا۔امریکی حکام نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیگر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

    جارج گلیزمن بدھ کی شام کابل ایئرپورٹ سے دوحہ روانہ ہوئے، جہاں انہیں امریکی یرغمالیوں کے ایلچی ایڈم بوہلر اور قطری وزارت خارجہ کی ایک ٹیم خوش آمدید کہے گی۔65 سالہ امریکی شہری گلیزمن کو 5 دسمبر 2022 کو کابل میں بطور سیاح دورہ کرنے کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔یاد رہے کہ قطر نے 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ امریکہ کے افغانستان کے ساتھ سرکاری تعلقات نہیں ہیں۔

    اس ھوالے افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات کے خواہاں ہیں۔افغان وزیر خارجہ سے امریکی وفد کی ملاقات کے حوالے سے افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت ہوگی۔مولوی امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ امریکا کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں تاکہ اعتماد بحال ہو سکے، دونوں ممالک کو 20 سال کی جنگ کے اثرات سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

    افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو مستقبل میں مثبت سیاسی و اقتصادی تعلقات بنانے کی ضرورت ہے۔افغان میڈیا کے مطابق ایڈم بوہلر نے افغانستان میں سیکیورٹی کی بہتری اور منشیات کے خلاف اقدامات کو سراہا۔ امریکی خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر نے کہا کہ افغانستان اور امریکا کے تاریخی تعلقات رہے ہیں، جن میں بعض اوقات چیلنجز درپیش رہے، اب وقت آگیا ہے کہ مستقبل کی طرف مثبت راہ اپنائی جائے۔

    دوسری جانب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی کابل میں امریکی خصوصی ایلچی ایڈم بویہلر سے ملاقات ہوئی۔کابل سے افغان وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں افغان امریکا باہمی تعلقات، قیدیوں کی رہائی اور افغان شہریوں کےلیے امریکی قونصلر سروس پر تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات میں افغانستان کےلیے سابق امریکی نمائندہ خصوصی ذلمے خلیل زاد بھی موجود تھے۔

    مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 10ہزار افراد کا اعتکاف

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

  • ٹرمپ انتظامیہ کا بیرون ملک سفارتی مشنز بند کرنے کا فیصلہ

    ٹرمپ انتظامیہ کا بیرون ملک سفارتی مشنز بند کرنے کا فیصلہ

    یورپ میں کئی امریکی قونصل خانے بند ہونے کا امکان، جرمنی، فرانس اور اٹلی کے سفارتی دفاتر نشانے پر، واشنگٹن میں بھی عملے میں کمی کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن امریکی محکمہ خارجہ نے بیرون ملک تقریباً ایک درجن قونصل خانے بند کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، جن میں زیادہ تر مغربی یورپ میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ، محکمہ اپنی عالمی افرادی قوت میں کمی اور واشنگٹن میں موجود مختلف ماہر بیوروز کو ضم کرنے پر بھی غور کر رہا ہے، جن کا تعلق انسانی حقوق، مہاجرین، عالمی جرائم، خواتین کے حقوق اور انسانی اسمگلنگ جیسے امور سے ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کےمطابق امریکی سفارتی مشنز کو عملے میں کم از کم 10 فیصد کمی کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی ایلون مسک کی قیادت میں حکومتی اخراجات میں تاریخی کمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امریکی حکومت کا سائز بہت بڑا ہو چکا ہے اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غیر ضروری اور غیر مؤثر استعمال ہو رہا ہے۔ اسی لیے، ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس کے تحت امریکی سفارتی خدمات کو زیادہ مؤثر اور "امریکہ فرسٹ” ایجنڈے کے مطابق ڈھالنے کی ہدایت دی گئی۔

    محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق "ہم عالمی سطح پر اپنی سفارتی موجودگی کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ امریکی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے جدید چیلنجز سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے۔”

    پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری کر دی

    تارکین وطن کی 4 کشتیاں ڈوب گئیں، 186 افراد لاپتا

    الخدمت پورے کراچی میں واٹرفلٹریشن پلانٹس لگانا چاہتی ہے، نوید علی بیگ

    انجری کے باعث نیوزی لینڈ کے اہم پلئیر کی فائنل میں شرکت مشکوک

  • پاکستان کو ایف 16‘ پروگرام کیلئے 39 کروڑ ڈالر امریکی فنڈز جاری

    پاکستان کو ایف 16‘ پروگرام کیلئے 39 کروڑ ڈالر امریکی فنڈز جاری

    ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان میں امریکی حمایت یافتہ پروگرام کے لیےجاری کر دیے.

    امریکی میڈیا کے مطابق کانگریس کے ایک معاون نے بتایا کہ امریکی ساختہ ایف 16 لڑاکا طیاروں کے استعمال کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جائیں نہ کہ حریف بھارت کے خلاف۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ اقدام منجمد غیر ملکی امداد میں 5.3 ارب ڈالر کی ریلیز کا حصہ تھے، جو زیادہ تر سیکیورٹی اور انسداد منشیات کے پروگراموں کے لیے ہیں۔

    فنڈز سے ٹیکنیکل سیکیورٹی ٹیم (ٹی ایس ٹی) کو سپورٹ ملے گی، یہ ملک میں موجود کنٹریکٹرز کا ایک دستہ ہے، جس کا کام سخت مانیٹرنگ اصولوں کے مطابق ’ایف-16‘ کے استعمال کی نگرانی کرنا ہے، جس کے تحت پاکستان ایئر فورس کو ایف-16 اور خاص طور پر نئے F-16C/DB-52 صرف انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔اس نے نوٹ کیا کہ یہ نگرانی ’نئی نہیں ہے‘ مزید کہا کہ ٹی ایس ٹی پاکستان میں 2019 میں بھی موجود ہے، جب امریکا نے پاکستان ایئر فورس ایف-16 بیڑے کے لیے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے امدادی پیکج کے ساتھ اس کی موجودہ تعیناتی کی منظوری دی۔

    تاہم، فارن پالیسی میگزین کی 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے ساتھ فائٹ میں ایف 16 کا استعمال اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا جس پر پاکستان نے امریکا سے طیارہ وصول کرتے وقت دستخط کیے تھے۔ممتاز امریکی میگزین نے 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان فائٹ کے دوران پاکستان کے ایف 16 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے بھارتی دعوے کی بھی تردید کی تھی۔فارن پالیسی نے 2 امریکی دفاعی اہلکاروں سے انٹرویو کیا تھا، جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان میں تمام ’ایف 16‘ طیارے موجود تھے۔

    عہدیداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے 27 فروری 2019 کو فائٹ کے دوران ایک ایف 16 لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا، تو پاکستان نے امریکا کو طیارے گننے کی دعوت دی تھی۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امداد کو منجمد کرنے کا حکم دیا تھا، رائٹرز نے 13 فروری تک منظور شدہ مزید 243 مستثنیات کی فہرست حاصل کی، جس کی کل مالیت 5 ارب 30 کروڑ ڈالر تھی۔جاری کردہ فنڈز کی اکثریت (4.1 ارب ڈالرز) امریکی محکمہ خارجہ کے سیاسی، فوجی امور کے بیورو کے زیر انتظام پروگراموں کے لیے ہے، جو دوسرے ممالک اور گروپوں کو ہتھیاروں کی فروخت اور فوجی امداد کی نگرانی کرتا ہے، دیگر فنڈز کا اجرا ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاؤن اور امریکا میں غیر قانونی منشیات کے بہاؤ کو روکنے کی کوششوں سے متعلق ہے۔

    بدترین کارکردگی،قومی ٹیم کی برانڈ ویلیو کو بھی بڑا نقصان پہنچنے کا خدشہ

    انڈیا کے ایک ہی وینیو پر کھیلنے سے فرق نہیں پڑتا، جوز بٹلر

    پانی و بجلی کی بندش کیخلاف کراچی شہر میں احتجاجی مظاہرے، بدترین ٹریفک جام

    پانی و بجلی کی بندش کیخلاف کراچی شہر میں احتجاجی مظاہرے، بدترین ٹریفک جام

    50 روز گر گئے، پولیس ننھے صارم کے ملزم کا سراغ لگانے میں ناکام

  • ٹرمپ انتظامیہ حماس کے ہمدردوں کے پیچے پڑ گئی،ویزے منسوخ

    ٹرمپ انتظامیہ حماس کے ہمدردوں کے پیچے پڑ گئی،ویزے منسوخ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس سے ہمدردی رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سام دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے، جس کے تحت فلسطینیوں کے حامی مظاہروں میں حصہ لینے والے غیر ملکی کالج کے طلبہ اور دیگر غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تمام غیر ملکی جنہوں نے حماس کی حمایت میں جاری مظاہروں میں شرکت کی تھی، ہم آپ کو ڈھونڈیں گے اور ملک بدر کریں گے۔اس آرڈر میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ محکمہ انصاف کو حکم دیں کہ امریکی یہودیوں کے خلاف دہشت گردانہ دھمکی، توڑ پھوڑ اور تشدد پر جارحانہ بنیادوں پر کارروائی کریں۔ٹرمپ نے کہا کہ میں کالج کیمپس میں حماس کے تمام ہمدردوں کے اسٹوڈنٹ ویزے بھی فوری طور پر منسوخ کر دوں گا، جو بنیاد پرستی سے متاثر ہوئے۔

    واضح رہے کہ امریکا کی متعدد یونیورسٹیز میں فلسیطن کی حمایت میں طلبہ نے احتجاج کیا تھا جبکہ جامعات کی انتظامیہ اور فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے درمیان تناؤ کی فضا بھی رہی تھی، اس کے علاوہ مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔احتجاج کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہوئے تھے، جہاں بڑی تعداد میں مظاہرین نے جامعات کے میدانوں میں ’غزہ یکجہتی کیمپ‘ قائم کیے تھے اور یہ سلسلہ یالے، ایم آئی ٹی اور دیگر میں پھیل گیا تھا۔یاد رہے کہ غزہ میں 15 ماہ سے جاری لڑائی کے بعد 16 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

    اسرائیل اورحماس کے درمیان 6 ہفتوں پر محیط جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں وسطی غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ میں واپسی شامل ہے۔اس معاہدے کے تحت غزہ میں جنگ بندی کے بعد روزانہ 600 ٹرک انسانی امداد کی اجازت دی جائے گی، 50 ٹرک ایندھن لے کر جائیں گے جبکہ 300 ٹرک شمال کی جانب مختص کیے جائیں گے، جہاں شہریوں کے لیے حالات خاص طور پر سخت ہیں۔

    ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

    دبئی دنیا کا سب سے صاف ترین شہر قرار

    صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    سول اسپتال کراچی بجلی سے محروم، متعدد آپریشن ملتوی

    سندھ ہائیکورٹ کے12 نئے ایڈیشنل ججز نےعہدے کا حلف اٹھا لیا