Baaghi TV

Tag: ٹویوٹا

  • بی ایم ڈبلیو کا الیکٹرک کاریں بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہائیڈوجن انجن لانے کااعلان

    بی ایم ڈبلیو کا الیکٹرک کاریں بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہائیڈوجن انجن لانے کااعلان

    بی ایم ڈبلیو نے الیکٹرک کاروں کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ہائیڈروجن انجن کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔

    الیکٹرک گاڑیاں بنانے والے 2030 تک مارکیٹ پر غلبہ حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں،تاہم، ہائیڈروجن انجن اب اس کی جگہ لے رہے ہیں۔ ہائیڈروجن کاریں الیکٹرک گاڑیوں سے ملتی جلتی ہیں، لیکن ان میں ایک خاص بات شامل ہے جسے ہائیڈروجن فیول سیل کہتے ہیں، جو صرف پانی کے بخارات کو خارج کرتی ہے،

    دنیا الیکٹرک کاروں کی طرف جا رہی ہے اور ٹویوٹا واحد معروف ساز کمپنی تھی جس نے ہائیڈروجن سے چلنے والے انجنوں کو بنانے کا عزم کیا ہے، ایک اور بڑی کار ساز کمپنی بی ایم ڈبلیو اچانک ترقی میں اسی ٹیکنالوجی کو تبدیل کرنے کی تیاری کر رہی ہے،بی ایم ڈبلیو نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ہائیڈروجن انجن کا مسئلہ حل کر دیا ہے اور وہ الیکٹرک کاروں کو الوداع کہہ دے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ ہائیڈروجن کاریں آٹوموٹو انڈسٹری میں اگلی بڑی چیز ہوسکتی ہیں۔ صرف پانی کے بخارات کا اخراج پیدا کرنے کی وجہ سے، ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیاں اب سب سے زیادہ ماحول دوست گاڑی کے عنوان کے لیے الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکتی ہیں۔

    اب تک، ریاستہائے متحدہ نے سڑک پر 2.5 ملین سے زیادہ الیکٹرک وہیکلز دیکھی ہیں، لیکن 2022 کے وسط تک، صرف 15,000 ہائیڈروجن کاریں سڑک پر ہوں گی،سال 2025 تک بی ایم ڈبلیو ہائیڈروجن سے چلنے والی کاریں متعارف کرا دی جائیں گی، نقل و حمل کے قریب آنے والے دور میں، اعلی کارکردگی، فوری ایندھن بھرنے، اور ماحول دوست حل پر زور دیا جائے گا،ہائیڈروجن انجن آٹوموٹیو سیکٹر میں ایک ممکنہ گیم چینجر کے طور پر ترقی کر رہے ہیں،صرف چند مینوفیکچررز، جیسے بی ایم ڈبلیو، ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے سڑک ہموار کرنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کو تیار کر رہے ہیں۔

    بی ایم ڈبلییو کے سی ای او اولیور زائپس کے مطابق، ہائیڈروجن انجن طویل مدت میں دنیا کے کئی حصوں میں اہم کردار ادا کریں گے،ایک ہائیڈروجن فیول سیل وہیکل میں بیٹری برقی گاڑی کی طرح ایک موٹر ہوتی ہے، لیکن یہ بڑی بیٹری کے بجائے فیول سیلز کا ڈھیر استعمال کرتی ہے،یہ ایندھن کے خلیے پانی کے بخارات اور توانائی پیدا کرنے کے لیے فضا سے ہائیڈروجن (ایچ 2) اور آکسیجن (او2) کو ملاتے ہیں۔اعلیٰ عہدے داروں نے کہا ہے کہ ہائیڈروجن ٹکنالوجی کے لیے بڑی اور بھاری کاریں زیادہ موزوں ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایس یو وی کی شکل کا پروڈکشن ماڈل کام کر رہا ہے۔

    2024 میں بی ایم ڈبلیو ڈیلرشپ پر جانے کے لیے بی ایم ڈبلیو آئی ایکس 5ہائیڈروجن، تین ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں میں سے ایک لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے،اس ماحول دوست آئیڈیا کا مقصد برقی نقل و حمل کے لیے معیار قائم کرنا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے

    بی ایم ڈبلیو کا جرات مندانہ فیصلہ دلچسپ امکانات پیدا کرتا ہے، لیکن محتاط رہنا بہت ضروری ہے۔ اگرچہ ہائیڈروجن انجن کے فائدے ہیں، الیکٹرک گاڑیاں اور ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں دونوں میں خامیاں ہیں، مستقبل میں پائیدار نقل و حمل کے لیے ٹیکنالوجی میں جدت اور جاری تحقیق ضروری ہے۔

  • ٹویوٹا،سوزوکی کےبعد اب ہنڈا نےبھی پاکستان میں‌ گاڑیوں کی قیمتیں کم کردیں

    ٹویوٹا،سوزوکی کےبعد اب ہنڈا نےبھی پاکستان میں‌ گاڑیوں کی قیمتیں کم کردیں

    لاہور:ٹویوٹا،سوزوکی کےبعد اب ہنڈا نےبھی پاکستان میں‌ گاڑیوں کی قیمتیں کم کردیں،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ٹویوٹا اور سوزوکی کے بعد ہونڈا نے بھی مختلف ماڈلز کی گاڑیوں کی قیمتوں میں دو لاکھ 80 ہزار روپے سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے تک کمی کا اعلان کردیا۔

    پاک وہیلز ڈاٹ کام کے مطابق اٹلس ہونڈا کمپنی نے ہونڈا سٹی ایم ٹی 1.2 ایل کی قیمت 2 لاکھ 80 ہزار روپے، سٹی سی وی ٹی 1.2 اور 1.5 ایل کی قیمت میں 3، 3 لاکھ جبکہ سٹی اسپائر ایم ٹی 1.5 ایل کی قیمت میں 3 لاکھ 10 ہزار اور سٹی اسپائر سی وی ٹی 1.5 ایل کی قیمت میں 3 لاکھ 20 ہزار روپے کم کردی۔

     

     

    پاکستان میں ڈالرکی قیمت میں کمی:انڈس موٹرز کےبعدپاک سوزوکی نےبھی گاڑیاں سستی کردیں

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہونڈا کی بی آر وی سی وی ٹی ایس کی قیمت میں 3 لاکھ 60 ہزار روپے کی کمی کی گئی ہے جبکہ ہونڈا سوک کی 1.5 ایل ایم-سی وی ٹی کی قیمت میں 4 لاکھ 50 ہزار، سوک 1.5 ایل اوریل ایم-سی وی ٹی کی قیمت میں 5 لاکھ اور ٹربو آر ایس 1.5 ایل ایل-سی وی ٹی کی قیمت میں 5 لاکھ 50 ہزار روپے کی کمی ہوئی ہے۔

    پاک وہیلز کے مطابق اٹلس ہونڈا نے قیمتوں میں حالیہ رد و بدل ایکس فیکٹری پرائس میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہونڈا کی جانب سے اعلان کردہ نئی قیمتوں کا اطلاق 17 اگست سے ہوگا۔

    ہنڈائی کمپنی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دیں

    قبل ازیں 30 جولائی کو ہونڈا نے اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں 7 لاکھ 85 ہزار سے 14 لاکھ 50 ہزار روپے تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ اس اضافے کے بعد ہونڈا سٹی ایم ٹی 7 لاکھ 85 ہزار اضافے سے 40 لاکھ 49 ہزار کی، ہونڈا سٹی سی وی ٹی 8 لاکھ 10 ہزار اضافے کے بعد 41 لاکھ 99 ہزار روپے جبکہ سٹی سی وی ٹی 1500 سی سی 8 لاکھ 50 ہزار اضافے کے ساتھ 44 لاکھ 49 ہزار روپے کی ہوگئی تھی۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے بعد ٹویوٹا نے بھی اپنی مختلف ماڈل کی قیمتوں میں 2 لاکھ 60 ہزار فی یونٹ سے 11 لاکھ 40 ہزار روپے فی یونٹس تک کمی کا اعلان کیا تھا جبکہ سوزوکی نے بھی اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کردی تھی۔

  • پاکستان میں ڈالرکی قیمت میں کمی:انڈس موٹرز کےبعدپاک سوزوکی نےبھی گاڑیاں سستی کردیں

    پاکستان میں ڈالرکی قیمت میں کمی:انڈس موٹرز کےبعدپاک سوزوکی نےبھی گاڑیاں سستی کردیں

    کراچی :پاکستان میں ڈالرکی قیمت بڑھتی ہے تو ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے، ڈالرکی قیمت کم ہوتی ہے تو کم ہی چیزیں سستی ہوتی ہیں ،مگراس بار معاملہ اس سے مختلف ہے ، پہلے ڈالر کی قیمت اتنی بڑھ گئی کہ آٹوز گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے پیدوار ہی روک دی یا کم کردی

    ڈالر کی قدر میں کمی کے بعد پاک سوزوکی نے بھی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کااعلان کردیا ہے۔ملک میں کار اسمبلرز گزشتہ 10 ماہ کے دوران گاڑیوں کی قیمتیں 4 مرتبہ بڑھا چکے ہیں تاہم اب ملک میں ڈالر سستا ہوا تو گاڑیاں بھی سستی ہونے لگیں۔ انڈس موٹرز کے بعد اب پاک سوزوکی نے بھی اپنی گاڑیوں کی قیمتیں 2 لاکھ روپے تک کم کردی ہیں۔

     

     

     

    پاک سوزوکی نے اپنے ڈیلرز کو نئی قیمتوں سے متعلق آگاہ کردیا ہے جس کے مطابق آلٹو وی ایکس (Alto VX) کی قیمت 90 ہزار روپے کمی کے بعد 17 لاکھ 89 ہزار روپے سے گھٹ کر 16 لاکھ 99 ہزار روپے ہوگئی ہے۔اسی طرح 20 لاکھ 79 ہزار روپے والی آلٹو وی ایکس آر (Alto VXR) کی قیمت ایک لاکھ 3 ہزار کم ہوکر 19 لاکھ 76 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

    سوزوکی ویگن آر کے مختلف ویرینٹز میں ایک لاکھ 47 ہزار روپے، کلٹس کے مختلف ویرینٹس میں ایک لاکھ 45 ہزار روپے تک اور سوزوکی سوئفٹ کے مختلف ویرینٹ میں ایک لاکھ 99 ہزار روپے تک کمی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ سوزوکی بولان اور راوی کے ویرینٹس میں بھی 75 سے 79 ہزار روپے کمی کی گئی ہے۔

    اس سے پہلے انڈس موٹرز نے بھی ایسا ہی اعلان کیا تھا ، اب کچھ حالات سدھرنے شروع ہوئے ہیں اور جولائی کے مہینے میں 7 لاکھ 60 ہزار سے31 لاکھ 60 ہزار روپے قیمت کے زبردست جھٹکے کے بعد انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے ڈالر کے مقابلے روپے کی بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے گاڑیوں کی قیمتوں میں 2 لاکھ 60 ہزار سے 11 لاکھ 40 ہزار روپے تک کی کمی کردی۔

    انڈس موٹر کمپنی کے سربراہ علی حبیب انتقال کر گئے ، انا للہ و انا الیہ رجعون

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اپنے ڈیلرز کو جاری کردہ سرکلر میں آئی ایم سی کہا کہ ٹویوٹا کرولا کے تمام ماڈلز کی قیمتوں میں 3 لاکھ 30 ہزار سے 4 لاکھ 40 ہزار روپے تک کی کمی کی جارہی ہے۔اس کے علاوہ ٹویوٹا یارس کے مختلف ماڈل کی قیمت میں بھی 2 لاکھ 60 ہزار روپے سے 3 لاکھ 10 ہزار روپے تک کی کمی کی گئی۔اسی طرح ٹویوٹا ہائی لکس ریو اور فارچیونر کی قیمتوں میں بالترتیب 6 لاکھ 50 ہزار روپے سے 8 لاکھ 20 ہزار سے روپے اور 9 لاکھ 10 ہزار روپے سے 11 لاکھ 40 ہزار روپے تک کی کمی کی گئی۔

     

    آٹو موبائل انڈسٹری سازش کا شکار ،ہنڈا اٹلس اور انڈس موٹرز نے پیداوار روکنے کا

    مزیں برآں کرولا 1.6 ایم ٹی، اے ٹی اور یو پی ایس پی ای سی کی نئی قیمتیں 45 لاکھ 69 ہزار 47 لاکھ 89 ہزار روپے اور 52 لاکھ 79 ہزار روپے ہے، جبکہ سی وی ٹی 18، ایس آر اور ایس آر بلیک ماڈلز کی قیمتیں اب 52 لاکھ 69 ہزار، 57 لاکھ 9 ہزار اور 57 لاکھ 49 ہزار روپے ہے۔

    سرکلر کے مطابق یارس ایم ٹی 1.3 کی نئی قیمت 35 لاکھ 39 ہزار، سی وی ٹی 37 لاکھ 69 ہزار، اے ٹی آئی وی ایم ٹی 37 لاکھ 29 ہزار، اے ٹی آئی وی سی وی ٹی 39 لاکھ 29 ہزار، اے ٹی آئی وی ایم ٹی 1.5 کی قیمت 40 لاکھ 9 ہزار اور اے ٹی آئی وی سی وی ٹی 1.5 کی نئی قیمت 42 لاکھ 59 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

    ٹویوٹاانڈس نےپاکستان میں پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا

    اس کے علاوہ ریو 2.8 ایم ٹی کی قیمت 91 لاکھ 69 ہزار، آٹو 2.8 ایم ٹی 96 لاکھ 9 ہزار، فائیو آٹو اینڈ روکو بالترتیب ایک کروڑ 5 لاکھ 99 ہزار اور ایک کروڑ 11 لاکھ 79 ہزار روپے میں دستیاب ہوں گی۔

    ساتھ ہی ساتھ فارچیونر 2.7 جی کی قیمت کم ہو کر ایک کروڑ 15 لاکھ 79 ہزار روپے، 2.7 وی کی ایک کروڑ 32 لاکھ 59 ہزار، سگما 4 کی ایک کروڑ 39 لاکھ 69 ہزار اور لیجنڈر کی نئی قیمت ایک کروڑ 46 لاکھ 99 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

  • ٹویوٹاانڈس نےپاکستان میں پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا

    ٹویوٹاانڈس نےپاکستان میں پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا

    لاہور:پاکستان میں گاڑیوں کے عالمی برانڈ ٹویوٹاانڈس نے پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا ہے ، اس حوالے سے پاکستان کے سنیئر تجزیہ نگارمبشرلقمان جو کہ معاشی اور اقتصادی صورت حال سے بخوبی واقف رہتے ہیں ، انہوں نے اہل وطن کوباخبررکھتے ہوئے کہاہے کہ ٹویوٹا انڈس جلد ہی اپنی پیداوار بند کردے گی۔

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ٹویوٹا انڈس موٹرز کےاندرونی ذرائع نے اس صورت حال سے آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت معاشی گرداب میں پھنس جانے کی وجہ سے سرمایہ کار بھی پریشان ہیں، مبشرلقمان نے ٹویوٹا انڈس موٹرز کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس کوئی زرمبادلہ نہیں ہے اور اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ وہ مدد نہیں کر سکتے۔

    ٹویوٹا انڈس کی طرف سے یہ بھی فیصلہ متوقع ہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے انکار کے بعد جلد ہی انہیں ان کاروں کے لیے تمام ایڈوانسز واپس کرنا ہوں گے جو ان کے پاس ہیں اور اگر یہ حالت برقرار رہی تو تمام پروڈکشن بند کر دی جائے گی۔

     

    مبشرلقمان نے اس حوالے سے معاشی صورت حال پر دکھ کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے درآمد کنندگان کو سنگین مسائل کا سامنا ہے کیونکہ بینک ان کے لیے L/Cs نہیں کھول رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بینک 260 روپے فی ڈالر چاہتے ہیں کیونکہ پاکستانی روپے کا اتار چڑھاؤ نہیں رک رہا ہے۔ مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ صورت حال اس قدر خراب ہوگئی ہےکہ ملک میں کاروبار ٹھپ ہونے والے ہیں کیونکہ ہم درآمدات پر منحصر معیشت ہیں۔

    یاد رہے کہ سن 2019 کے آخر میں بھی انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے اپنا پلانٹ بند کردیا تھا، ٹیوٹا موٹرز کے سپیئر پارٹس بنانےوالی کمنی نے مصنوعات کو نہ بنانےکا فیصلہ کیاتھا ، ان دنوں کو نان پرودکشن ڈیز کی وجہ سے بند کیا جا رہا ہے .

    کمپنی کے ذمہ دار نے اپنا نام نا بتاتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قیمتوں میں اضافے اور انجن کے ہر پیس پرفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے اضافے کی وجہ سے مینوفیکچرنگ مہنگی ہو رہی ہے جس وجہ کسٹمر میں بھی کافی کمی آئی ہے.
    واضح رہے کہ ان دنوں میں آٹو موبائل کمپنی کافی بحران آیا ہوا ہے،ہنڈا اور انڈس موٹرز کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا جارہا ہے کیوں کہ ان کے سالانہ منافع میں کمی آئی ہے