Baaghi TV

Tag: ٹیرف

  • کینیڈا کا امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    کینیڈا کا امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد کینیڈا نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کینیڈا نے امریکی اشیا پر 50 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے نئے محصو لات کے جواب میں اسی شرح سے اقدامات کیے جائیں گے،کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے محصولات کا ’’ایک ایک ڈالر کا حساب‘‘ لیا جائے گا تجارت کے معاملے پر امریکا کے ساتھ ’’حالت جنگ‘‘ میں ہیں۔

    کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں امریکا کی جانب سے شرائط تبدیل کرنا غیر منصفانہ اور ناقابل قبول ہے امریکا نے بہت زیادہ مطالبات کیے اور بدلے میں بہت کم پیشکش کی،امریکا کے نئے محصولات کینیڈا کو نقصان پہنچانے کے لیے ہیں، تاہم کینیڈا اپنے قومی مفادات اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

    کینیڈین وزیراعظم کے مطابق امریکی نئے محصولات میں شراب، فرنیچر، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، کپڑے، فشنگ راڈز اور ہاکی کا سامان سمیت تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین برآمدات متاثر ہوں گی،کینیڈا کی جانب سے امریکی اسٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو آلات، زرعی سامان، پلپ اینڈ پیپر اور الیکٹر انکس سمیت دیگر مصنوعات پر بھی جوابی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا آئندہ ہفتے ان صنعتوں کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کرے گا جو نئے امریکی محصولات سے متاثر ہوں گی، جبکہ یہ امداد کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے امریکا کی نئی شرائط میں کینیڈا کی نئے تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت محدود کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں بڑی گاڑیوں کے معاملے پر بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلاف برقرار رہا، جس میں کینیڈا نے درمیانے اور بھاری ٹرکوں کے لیے بھی سازگار ٹیرف شرائط کا مطا لبہ کیا تھا۔

    امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے مذاکرات کی ناکامی کو کینیڈا کے لیے امریکا کے ساتھ شراکت داری کا ایک ضائع ہونے والا موقع قرار دیا، انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی جانب سے جوابی اقدامات کے بعد امریکا بھی ان کے جواب میں اقدامات کرے گا۔

    کینیڈین چیمبر آف کامرس کی چیف ایگزیکٹو کینڈیس لائنگ نے کہا کہ کینیڈا کو مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے اور کاروباری اداروں کو اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جائے گا،اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے مارک کارنی کے جوابی ٹیرف کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ وزیراعظم نے معاہدے پر دستخط نہیں کیے، کیونکہ ان کے بقول یہ اونٹاریو، گاڑیوں، اسٹیل اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کے لیے برا معاہدہ تھا۔

    اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیور نے کہا کہ کینیڈین عوام کو ملک کے خلاف ان ’’غیر منصفانہ حملوں‘‘ سے روزگار اور کاروبار کے تحفظ کے لیے متحد رہنا چاہیے،کینیڈا اپنے قومی مفادات اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

  • کینیڈا پر 50 فیصد ٹیرف 3 دن کے لیے معطل ، تجارتی ڈیل طے ،صدر ٹرمپ کی تصدیق

    کینیڈا پر 50 فیصد ٹیرف 3 دن کے لیے معطل ، تجارتی ڈیل طے ،صدر ٹرمپ کی تصدیق

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی مخصوص مصنوعات پر آدھی رات سے لاگو ہونے والے 50 فیصد اضافی ٹیرف کو 3 روز کے لیے معطل کرتے ہوئے اوٹاوا کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پانے کا اعلان کر دیا ہے۔

    یہ پیشرفت کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جس کے تحت فی الوقت 20 ارب ڈالر کا دوطرفہ تجارت متاثر ہونے سے بچ گیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک پیغام میں تصدیق کی کہ دستاویزات کو حتمی شکل دینے کی شرط پر دونوں ممالک کے درمیان ‘ڈیل’ طے پا گئی ہے،ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ اشارہ بھی دیا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان متنازع ’کی اسٹون ایکس ایل‘ پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔

    اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے کینیڈا پر موٹر گاڑیوں، الکحل اور ڈیری انڈسٹری میں امریکی تجارت کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے ہاکی اسٹکس، وائن اور دیگر مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا،یہ تجارتی پابندیاں ٹیرف ایکٹ 1930 کی شق 338 کے تحت لگائی جا رہی تھیں، جو کہ کسادِ بازاری کے دور کا ایک شاذ و نادر استعمال ہونے والا قانون ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اس منصوبے کی منظوری دی تھی، تاہم بعد میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے 2021 میں اس کے پرمٹ منسوخ کر دیے تھے۔

    امریکی دفتر برائے تجارتی نمائندہ (یو ایس ٹی آر) کے مطابق 50 فیصد ٹیرف سے تقریباً 20 ارب ڈالر کا کینیڈین برآمداتی حجم متاثر ہونا تھا، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ 382 ارب ڈالر کی مجموعی تجارت کا چھوٹا حصہ ہونے کے باوجود چھوٹے تاجروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔

    کینیڈین فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ بزنس کے صدر ڈین کیلی نے خبردار کیا تھا کہ اتنی بھاری شرح سے کینیڈا کی امریکا کو ہونے والی فروخت مکمل طور پر معطل ہو سکتی تھی۔

    امریکی چیمبر آف کامرس نے بھی ٹیرف میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے سپلائی چین متاثر ہوگی، قیمتیں بڑھیں گی اور ‘یو ایس ایم سی اے’ کے تحت قائم 13 ملین امریکی ملازمتیں خطرے میں پڑیں گی۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور آٹو پارٹس پر بھی ٹیرف عائد کر چکی ہے، جبکہ ’یو ایس ایم سی اے‘ تجارتی معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا اشارہ دے کر خطے کی اقتصادی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر چکی ہے۔

  • ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

    ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا کے 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والی اشیا پر نئی درآمدی ڈیوٹیاں عائد کر دی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے یہ اقدام جبری مشقت کے خلاف قوانین پر عمل درآمد میں مبینہ کمزوریوں کا الزام لگاتے ہوئے کیا ہے نئی پالیسی کے تحت زیادہ تر ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد جبکہ بعض ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا ہے یہ اقدامات عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے اور امریکی کارکنوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم کئی ممالک نے ان فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کر تے ہوئے انہیں غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

    نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیا گیا عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف ختم ہو گیا تھا امریکی حکام کے مطابق نئی ڈیوٹیاں جمعہ کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوئیں، جبکہ راستے میں موجود سامان کو 28 جولائی تک رعایت دی گئی ہے۔

    امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابند ی کا قانون رکھتا ہے اور اس پر سختی سے عمل کرتا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے تجارتی شراکت دار بھی اسی طرح کے اقدامات کریں آج کا اقدا م انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو درست کرنے کی طرف ایک قدم ہے تاکہ دنیا بھر کے کارکنوں کی بہتری ممکن ہو سکے۔

    نئی ٹیرف پالیسی کے تحت ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور دیگر کئی ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے،یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ٹیرف کی شرح اس طرح مقرر کی گئی ہے کہ ان کے پہلے سے موجود درآمدی ٹیکس شامل کرنے کے بعد مجموعی شرح تقریباً 10 یا 12.5 فیصد بنتی ہے۔

    دیگر 38 ممالک، جن میں ویتنام اور چین بھی شامل ہیں، کی مصنوعات پر 12.5 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سنکیا نگ کے ایغور مسلمانوں سے متعلق جبری مشقت کے معاملات میں ملوث ہے، تاہم بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

    چین کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نومبر 2025 میں ہونے والی تجارتی مفاہمت کے تحت چین پر عائد ٹیرف دوبارہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ ہے، تاہم اس سے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔

    اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیرف عائد کیے تھے لیکن امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا تھا جس کے بعد اس بار ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت نئے ٹیرف لگا دیے ہیں اور اس اقدام کو قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

    امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت امریکا ایسے ممالک جن میں جبری مشقت پر پابندی کے کچھ قوانین نافذ کیے ہیں، ان پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا اور جن ممالک میں جبری مشقت پر پابندی کے قوانین بالکل نافذ نہیں ہیں، ان پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    کئی ممالک نے امریکی اقدام پر فوری ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین ان نئے ٹیرف کو حیران کن سمجھتی ہے اور امریکا کی جانب سے دی گئی وجہ قابل قبول نہیں،اگر آپ ہمارے مزدور قوانین کا امریکا کے قوانین سے موازنہ کریں تو ہمارے پاس ملازمین کے لیے تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں اور بہتر کام کے حالات موجود ہیں، اس لیے یہ فیصلہ مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں لگتا۔

    آسٹریلیا اور برازیل نے بھی امریکی ٹیرف کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ناروے نے کہا کہ ان اقدامات کی کوئی واضح وجہ موجود نہیں۔

    کینیڈا کے وزیر برائے امریکی تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ کینیڈا اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری رابطہ جاری رکھے گا انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے ہفتوں میں امریکا کے ساتھ اس معاملے اور دیگر مسائل پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں کو فائدہ پہنچ سکے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کی سابق تجارتی مشیر کیلی این شا نے کہا کہ نئی ٹیرف پالیسی زیادہ تر انہی اقدامات کے مطابق ہے جن کا پہلے سے اندازہ تھا، تاہم کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، جن میں تقریباً 471 مصنوعات کو ٹیرف سے استثنیٰ دینا شامل ہے میرے خیال میں معاشی اثرات کے لحاظ سے یہ صورتحال زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ یورپی یونین جیسے شراکت داروں نے ٹیرف کی حد مقرر کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے، جس کی وجہ سے نئی شرحیں پہلے کے مقابلے میں کم رہیں گی۔

    امریکی حکام کے مطابق تیل، گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، طیارے اور ان کے پرزے، اہم معدنیات اور کچھ ایسی مصنوعات جن پر پہلے ہی قومی سلامتی کے قوانین کے تحت ٹیرف عائد ہے، نئی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

  • ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

    برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی ڈیوٹیاں نافذ کی جا سکتی ہیں جبکہ ابتدائی طور پر بیشتر ممالک پر 10 فیصد ٹیرف برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ زیادہ شرح کے ٹیرف عائد کرنے کے لیے قانونی بنیاد بھی تیار کر رہی ہے،گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی گاڑیوں اور دیگر سامان پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جو آئندہ ماہ سے نافذ ہوگا۔

    واضح رہے 20فروری 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے مستقل ٹیکس لگانے کے قانون کو غیر آئینی قرار دے کر روک دیا تھا،عدالت نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر ان ٹیرفس کو ختم کیا جو ‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’ (IEEPA) کے تحت مختلف ممالک پر لگائے گئے تھےکیونکہ عدا لت کے مطابق کانگریس نے صدر کو اس قانون کے تحت ڈیوٹیز لگانے کا اختیار نہیں دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ایک اور قانون (Section 122) استعمال کر کے 15 فیصد عالمی ٹیکس لگایا تھا،اس قانون کے تحت ٹیکس صرف 150 دنوں کے لیے عارضی طور پرلگایا جا سکتا ہے جو اسی ہفتے 24 جولائی 2026 کو ختم ہو رہا ہے۔

  • امریکہ .گرین لینڈ معاملہ :ٹرمپ نے ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    امریکہ .گرین لینڈ معاملہ :ٹرمپ نے ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پرامریکا کا ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یکم جون کو ٹیرف میں 10 سے بڑھ کر 25 فیصد تک اضافہ ہو جائیگا، گرین لینڈ کی خریداری کیلئے معاہدہ ہونے تک ٹیرف نافذ رہے گا امریکی صدرنے واضح کیا ہے کہ جوممالک گرین لینڈ کے معاملے پرامریکی مؤقف کی حمایت نہیں کریں گے، انہیں اضافی تجارتی محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ٹرمپ کے مطابق فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈزاورفن لینڈ کوگرین لینڈ کے معاملے پرامریکا کا ساتھ نہ دینے پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائیگا اس کے علاوہ ڈنمارک، ناروے اورسویڈن بھی امریکی ٹیرف کی زد میں ہوں گے،یہ فیصلہ امریکی مفادات کے تحفظ اورعالمی معاملات میں واشنگٹن کے مؤقف کو مضبوط بنانے کیلئے کیا گیا ہے، امریکا اپنے اسٹریٹجک اوراقتصادی مفادات پرکسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریگا، ٹیرف کا نفاذ یکم فروری سے عمل میں آئے گا۔

    پنجاب بارکونسل الیکشن:اعظم نذیر تارڑ گروپ کو برتری،56 امیدوار کامیاب

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان تجارتی اورسفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ عالمی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب گرین لینڈ اور ڈنمارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کیے گئےگرین لینڈ کے دارالحکومت میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے سامنے احتجاج کیا جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی مظاہرین نے کہا کہ وہ امریکی صدر کی پالیسیوں اور بیانات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، احتجاجی مظاہرے میں گرین لینڈ کے وزیراعظم نے بھی شرکت کی، جنہوں نے ٹرمپ مخالف جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔

    سولر پینل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    اسی طرح ڈنمارک میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر امریکی صدر کے خلاف نعرے درج تھے مظاہرین نے کہا کہ وہ عالمی سیاست میں امریکی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے مظاہرے جاری رکھے جائیں گے۔

  • ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا

    ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا

    واشنگٹن:امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے لین دین رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت معاشی قدم اٹھاتے ہوئے تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیرف ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک کو امریکا کے ساتھ ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیرف ادا کرنا ہوگا صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی –

    رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کا حالیہ حکم ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آیا ہےواضح رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور امریکی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

  • حکومت کا بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) میں ہونے والی سماعت کے دوران پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی بریفنگ کے بعد اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے بچنے کے لیے سبسڈی میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کر دی گئی ہے جس کے باعث اب ٹیرف بڑھانے کی ضرورت باقی نہیں رہی، جولائی سے اب تک انرجی مکس میں نمایاں بہتری آئی ہے جس سے پیداواری لاگت کم ہوئی اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوا۔

    حکام نے واضح کیا کہ حکومت نے تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیرف میں ردوبدل نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہےاس وقت ملک بھر میں تمام کیٹیگریز کے بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 629 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بجلی سستی نرخوں پر میسر رہے۔

  • ملک بھر کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ملک بھر کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف برقرار رکھنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے ملک بھر کے لئے بجلی کا بنیادی ٹیرف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق گھریلو صارفین کیلئے زیادہ سے زیادہ بجلی کا ٹیرف 47 روپے 69 پیسے فی یونٹ پر برقرار رکھنے کی تجویزدی گئی ہے، نیپرا نے اس حوالے سے اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوا دی ہیں پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لئے ایک سے 100 یونٹ تک بجلی کا ٹیرف 10 روپے 54 پیسے فی یونٹ جبکہ 101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 13 روپے 01 پیسے فی یونٹ برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔

    نیپرا کے مطابق نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لیے ایک سے 100 یونٹ تک بجلی کا ٹیرف 22 روپے 44 پیسے جبکہ 101 سے 200 یونٹ تک 28 روپے 91 پیسے فی یونٹ برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے201 سے 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے صارفین کے لئے فی یونٹ ٹیرف 33 رو پے 10 پیسے، 301 سے 400 یونٹ کیلئے 37 روپے 99 پیسے اور 401 سے 500 یونٹ کیلئے 40 روپے 22 پیسے برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    بنگلہ دیش نے بھارت میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کردیں

    نیپرا کے مطابق 501 سے 600 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لئے ٹیرف 41 روپے 62 پیسے جبکہ 601 سے 700 یونٹ تک 42 روپے 76 پیسے فی یونٹ رکھنے کی سفارش کی گئی ہے 700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کیلئے ٹیرف 47 روپے 69 پیسے فی یونٹ برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاہم ٹیکسوں اوردیگرسرچارجزشامل ہونے کے بعد سلیب کے حساب سے فی یونٹ قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    اتھارٹی کے مطابق لائف لائن گھریلو صارفین کیلئے ماہانہ 50 یونٹ تک بجلی کا ٹیرف 3 روپے 95 پیسے جبکہ 51 سے 100 یونٹ تک کے لئے 7 روپے 74 پیسے فی یونٹ برقرار رکھنے کی تجویز ہے یکساں ٹیرف کی درخواست سے متعلق فیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کردیا گیا ہے، جس پر حتمی منظوری دی جائے گی۔

    منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں 34 پولیس اہلکار معطل

  • بھارت پر 50 فیصد امریکی ٹیرف کا آج سے نفاذ

    بھارت پر 50 فیصد امریکی ٹیرف کا آج سے نفاذ

    امریکا نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد تک ٹیکس لگا دیا ہے، جو اب تک کے سخت ترین اقدامات میں سے ایک ہے، پاکستان پر 19 ٹیرف عائد کیا گیا ہے

    بھارت پر 50 فیصد ٹیرف کا مطلب ہے کہ امریکا جانے والے بھارتی مصنوعات اب مہنگی ہو جائیں گی اور امریکی مارکیٹ میں متبادل سستی اشیا کی جانب عوام راغب ہوں گے، امریکہ کی اس پابندی سے بھارت کی 55 فیصد برآمدات متاثر ہوں گی، جن کی مالیت 87 ارب ڈالر ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ٹیکسٹائل، انجینئرنگ مصنوعات، دوائیں اور آئی ٹی ہارڈویئر کی برآمدات پر پڑے گا۔

    بھارت پر امریکی 50 فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے، اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روس سے بھارت جو تیل کی مصنوعات لینے کے بعد ریفائن کرکے اسے انٹرنیشنل مارکیٹ کو دیتا ہے اس سے جو رقم روس کو ملتی ہے وہ یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال ہو رہی ہے۔

    دنیا کے بہترین نوجوان کرکٹرز میں 4 پاکستانی کھلاڑی بھی شامل

    امریکا کے اس فیصلے کے بعد بھارتی مالیاتی منڈیوں میں بھی گراوٹ دیکھنے میں آئی،بھارتی کرنسی کی قدر کم ہوکر 87.68 فی ڈالر پر آگئی جبکہ اسٹاک مارکیٹ کے دونوں بڑے انڈیکس 1 فیصد گر گئے، جو پچھلے تین ماہ کا سب سے برا دن ثابت ہوا،ماہرین کے مطابق بھارت نے امریکہ اور روس دونوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کی کوشش میں زیادتی کر دی، اس صورتحال سے بنگلہ دیش، ویتنام اور چین جیسے ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    امریکی حکام نے کہا ہے کہ بھارت روس سے سستا خام تیل خرید کر عالمی منڈی میں زیادہ قیمت پر بیچ رہا ہے اور اس طرح وہ یوکرین جنگ سے منافع کما رہا ہے۔

    سب سے مہنگی انگوٹھی کس کی؟ ٹیلر سوئفٹ کی منگنی کے بعد نئی بحث

  • تجارتی جنگ جاری،امریکہ نے چین پر ٹیرف 245 فیصد تک بڑھا دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر ٹیرف کو 245 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کر دیا .

    وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام صرف اقتصادی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی ضروری تھا۔ چین کے جوابی اقدامات نے ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام “آزادی کے دن” کے بعد کیا گیا، یعنی وہ دن جب امریکا نے پہلی بار چین پر ٹیرف لگایا تھا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق اس عرصے میں 75 سے زائد ممالک نے امریکا سے نئے تجارتی معاہدوں کے لیے رابطہ کیا، لیکن چین نے اس کے برعکس امریکا پر جوابی ٹیرف لگائے۔ اس پر صدر ٹرمپ کی حکومت نے "فیصلہ کن اقتصادی کارروائی” کرنے کا فیصلہ کیا۔

    تاحال چین کی طرف سے اس فیصلے پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین یا تو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) میں شکایت کر سکتا ہے یا خود بھی جوابی اقدامات کر سکتا ہے۔یہ نیا ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور چین سے درآمد ہونے والی کئی اشیاء پر لاگو ہوگا۔ متاثرہ شعبوں اور اشیاء کی فہرست امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کی جانب سے جلد جاری کی جائے گی۔

    قیدی سےملاقات،امریکی سفارتخانےکے ارکان اڈیالہ جیل جا پہنچے

    مئیر کراچی کا ون وے کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کا فیصلہ

    اسرائیل کا دورہ ،پاکستانی صحافیوں کیخلاف کاروائی کا امکان

    ٹرمپ انتظامیہ کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کا امکان

    پی ایس ایل 10 ، یونائیٹڈ نے ملتان کو 47 رنز سے ہرا دیا