Baaghi TV

Tag: ٹیریان وائٹ

  • ٹیریان وائٹ کیس:عمران خان کی نااہلی کی درخواست خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    ٹیریان وائٹ کیس:عمران خان کی نااہلی کی درخواست خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیریان وائٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی نااہلی کی درخواست خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 رکنی لارجربینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کی درخواست مسترد کرنے کا 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس پر جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت نے دستخط کیے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ابتدائی طور پر چیف جسٹس عامر فاروق پر مشتمل سنگل بینچ نے سماعت کی، 2 مئی کو لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جو 9 مئی 2023 کو بنایا گیا، لارجر بینچ میں چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب طاپر شامل تھے،فریقین کے دلائل سننے کے بعد بینچ کے 2 ارکان نے فیصلہ دیا، چیف جسٹس عامر فاروق 10 مئی 2023 کو بیچ سے الگ ہو گئے۔

    فیصلے کے مطابق چیف جسٹس نے 2 ججز کا فیصلہ سربمہر کرنے کی ڈائریکشن دی تھی، چیف جسٹس کی ہدایت پر یہ نیا بینچ تشکیل دیا گیا، آج اوپن کورٹ میں فریقین اور صحافیوں کی موجودگی میں لفافے کو ڈی سیل کیا گیا، معلوم ہوا کہ جسٹس محسن کیانی اور جسٹس ارباب طاہر نے تفصیلی فیصلہ دیا دونوں ممبرز نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نااہلی درخواست کو خارج قرار دیا، بینچ کے اکثریتی فیصلے میں پٹیشن خارج کر دی گئی، ہمارا خیال ہے کہ اس کیس میں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں اور عدالتی فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    عمران خان کے خلاف ٹیریان کیس ایک بار پھر ناقابل سماعت قرار

    جون کے دوسرے ہفتے سے پری مون سون شروع ہونے کی پیشگوئی

    جب آپ اپنی عزت کا مطالبہ کرتے ہیں تو دوسروں کی بھی کریں،عرفان صدیقی

  • ٹریان وائٹ سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم

    ٹریان وائٹ سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان نااہلی کیس میں ٹریان وائٹ کیس سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کی جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر لارجر بینچ میں شامل ہیں –

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان نے متفرق درخواست دائر کی ہے جس پر اعتراض عائد کیا گیا،نادرا نے بائیومیٹرک تصدیق سے انکار کر دیا ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کسی د کان پر چلے جائیں وہاں بائیومیٹرک ہو جائے گا،عمران خان کے وکیل نے گزشتہ سماعت پر اعتراض اٹھایا تھا،عمران خان کے وکیل کا موقف ہے کہ قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں-

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کے رکن قومی اسمبلی نہ ہونے پر درخواست قابل سماعت نہیں-

    مدعی کے وکیل اور سابق جسٹس حامد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان نے بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کوکاغذات نامزدگی میں ظاہرنہیں کیا لہذا ہماری استدعا ہے کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے،عمران خان حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں-

    عمران کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دو دفعہ الیکشن کمیشن اس معاملے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر عمران خان ممبر قومی اسمبلی نہیں تو پھر کیا صورت حال بنے گی ؟ مدعی کے وکیل اور سابق جسٹس حامد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان ابھی بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا لاہور ہائیکورٹ نے ابھی فیصلہ دیا ہے الیکشن کمیشن نا اہل نہیں کر سکتا؟ اہلیت دیکھنے کا اختیار ہائی کورٹس اور عدالتوں کا ہے۔

    چیف جسٹس عمر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا حلف اٹھانے کیلئے کوئی مدت متعین ہے؟حامد علی شاہ نے کہا کہ قانون حلف لینے کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں کرتا،چودھری نثار حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر صوبائی اسمبلی ہیں-

    چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق معاملہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے آیا تھا چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق فیصلہ عدالت کے سامنے پیش کریں-

    وکیل حامد علی شاہ نے دوران سماعت اپنے ہی لکھے پرانے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس عمر فاروق نے کہا کہ یہ تو آپ کا ہی فیصلہ ہے، چیف جسٹس کی نشاندہی پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں امیدوار کیلئے بیان حلفی جمع کرانے کی شرط رکھی تھی-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کے پاس غلط معلومات ملنے پر الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار ہے، چیف جسٹس عمر فاروق بولے کہ کیس میں ایسا نہیں ہوا، اس الیکشن کو تو کسی نے چیلنج ہی نہیں کیا،فیصلے کیمطابق اہلیت دیکھنے کا اختیار ہائیکورٹس اور عدالتوں کا ہے،اس فیصلے کو بھی دیکھ لیں گے-

    چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ حبیب اکرم کیس میں سپریم کورٹ نے بیان حلفی کاغذات کا حصہ بنایا، الیکشن ایکٹ کے مطابق زیر کفالت بچوں کی تفصیلات بتانا لازم تھیں، مگر بچوں کی تفصیلات بتانا تو لازم نہیں ہیں نا؟۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ تفصیلات لازم نہیں ہیں، مگر اثاثوں کی فہرست میں بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات بتانی ہیں، اس اعتبار سے بالواسطہ طور پربچوں کی تفصیلات لازم ہیں۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر تفصیلات غلط جمع کرائی گئی ہوں تو الیکشن ایکٹ کیا کہتا ہے؟۔ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ اگر تفصیلات غلط ہوں تو یہ کرپٹ پریکٹس میں آئے گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ غلط تفصیلات پر الیکشن کمیشن نے 120دن کے اندر ایکشن لینا ہوتا ہے، اگر الیکشن کمیشن نے ایکشن نہیں لیا تو پھر بس نہیں لیا۔

    وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق پارٹی سربراہ کو پبلک آفس ہولڈر تصور کیا جائے گا، اس دوران عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ بولنے لگے تو چیف جسٹس نے کہا کہ تحمل کریں، انکی بات بھی سن لیں کوئی جلدی نہیں ہے-

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل میں تو نہیں گیا؟وکیل نے کہا کہ معاملہ ٹربیونل میں گیا لیکن وہاں میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف 2 ریفرنسز مسترد کر چکا ہے؟-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف ریفرنس تکنیکی بنیادوں پر خارج کیے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر بیان حلفی غلط ثابت ہوتا ہے تو اسکے کیا نتائج ہونگے؟وکیل درخواست گزار نے جواب دیا غلط بیان حلفی پر 62 ون ایف لگتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے سامنے فیصل واوڈا کیس موجود ہے، اسکو دیکھ لیجئے گا،

    عدالت نے وکیل درخواست گزار کو ٹریان وائٹ کیس سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم دے دیا اور سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کردی۔

    عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر لارجر بینچ کی سماعت 8مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو آئندہ بدھ اور جمعرات کو دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا-

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بدھ اور جمعرات کو آپ دلائل مکمل کریں، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل سنیں گے-

    کیس قابل سماعت ہونے پر آئندہ بھی دلائل جاری رہیں گے۔