Baaghi TV

Tag: ٹیلی فونک رابطہ

  • عمران خان کا سراج الحق سے ٹیلی فونک رابطہ

    عمران خان کا سراج الحق سے ٹیلی فونک رابطہ

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال، دوطرفہ معاملات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی بات چیت کی عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کوایک باضابطہ سازش کے تحت ہٹایا گیا، قومی رجحانات کی حامل محب وطن قوتوں کو مل کر اس سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

    سراج الحق کی جانب سے عمران خان کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور دونوں قائدین کا روابط میں تسلسل برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی 2013 سے 2018 تک خیبرپختونخوا حکومت میں اتحادی رہی ہیں۔

    قبل ازیں عمران خان نے صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ایک آزاد باڈی کوکرنا چاہیے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں غلطی ہوئی،معلوم نہیں تھا کہ چیف الیکشن کمشنر جانبدار نکلیں گے ،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کیس دائر غلطی تھی وزیرقانون نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے مختلف فلیٹس اوراثاثوں کے بارے میں بریف کیا تھا، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کی جانے والی کارروائی غیرضروری سمجھتا ہوں

    کرپشن کا ایک دھیلا اورینج لائن منصوبے میں ثابت نہیں ہوسکا،وزیراعظم

    عمران خان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس تمام جماعتوں کے اکٹھا چلائیں پی ٹی آئی کے سوا کسی جماعت کے پاس فارن فنڈنگ کا ریکارڈ نہیں کوئی فارن فنڈنگ نہیں لی،پارٹی سے نکالے شخص نے غلط کیس کیا،امریکہ کی جنگ کو اپنا بنایا گیا،دورہ روس پر دفتر خارجہ اور فوج آن بورڈ تھے،توشہ خانہ سے تحائف 50 فیصد ادائیگی کرکے لیے،بہت سے تحائف مجھے بنی گالہ رہائشگاہ پر ملے جو میں نے توشہ خانہ میں جمع کرائے،تحائف خریدنے کے بعد میری مرضی میں انہیں جیسے مرضی استعمال کروں،2018 میں توشہ خانہ سے خریداری 15 فیصد پرہوتی تھی،ہمارے دور میں 50 فیصد پرکی گئی،فرح خان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا،کرپشن کیسے کرسکتی ہیں،فرح خان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں،عثمان بزدار پر سب کی نظریں تھیں،عثمان بزدارنے کچھ غلط نہیں کیا،شریف خاندان نے اتی امرا میں سرکاری خرچ سے 70 کروڑ روپےکی دیواربنوائی،ساڑھے 3 سال میں میرے خلاف کچھ نہیں ملا تو توشہ خانہ نکال لائے،تحائف بیچ کر پیسوں سے بنی گالہ کی سڑک بنوائی اور گھرکے اطراف باڑ لگوائی،وزیراعظم ہاوس میں 9 اپریل کی رات 12 بجے تک صحافی میرے ساتھ تھے،پنجاب میں ایک چیف سیکریٹری کو تقرروتبادلے پرپیسے لینے کی شکایت ملنے پرہٹا دیا تھا فوج کی جانب سے 3 آپشنز مجھے بھجوائی گئیں،میں نے کہا ان میں سب سے بہتر آپشن انتخابات ہیں-

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کےخلاف نہیں ہوں، ہوتا توابڑی تعداد میں پاکستانی وہاں احتجاج نہ کرتے،نئی حکومت کے آتے ہی امریکہ اور بھارت نے ڈومور کا مطالبہ کردیا، حکومت نے ڈومور پر کسی قسم کا جواب تک دینے گوارہ نہیں کیا،شہبازشریف نے آتے ہی دھاندلی شروع کردی ہے،من پسند افسران کواعلیٰ عہدوں پر لگایا جارہا ہے،لاہور میں تاریخی جلسہ ہوگا،عوام کو الیکشن تک متحرک رکھوں گا 2018میں ٹکٹس دینے میں غلطی ہوئی،آئندہ انتخابات میں ٹکٹس خود دوں گا،آئندہ انتخابات میں نوجوانوں کو اور اچھے امیدواروں کوسامنے لائیں گے، موجودہ حکومت نیب اور ایف آئی اے میں اپنے کیسز ختم کرائے گی،نوازشریف کے کیسز ختم کرکے واپس لانے کی تیاریاں ہورہی ہیں آصف زرداری کےخلاف بھی کیسز بند کردیئے گئے ہیں،شہبازشریف اور حمزہ شہباز ضمانت پر ہیں ملک میں این آر او ٹو لہ یا جارہا ہے،امریکہ نے گزشتہ سال نومبر سے میرے خلاف سازش شروع کی

    وفاق میں کس جماعت کو کتنی اور کون کون سی وزارتیں ملیں گی؟

  • وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید مذمت

    وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید مذمت

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات پر حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید النہیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور یکجہتی کا اظہار کیا اور ڈرون حملوں میں اموات پر دکھ کا اظہار کیا وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مشکل کی گھڑی میں پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ کھڑا ہے شیخ محمد بن زید ال نہیان نے حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

    قبل ازیں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ابوظبی حملے میں پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    وفاقی وزیر خارجہ نے اماراتی ہم منصب سے پاکستانی شہری کی جلد میت حوالگی کے انتظامات کا مطالبہ کیا اور حوثی باغیوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ برداشت قرار دیا۔

    دوسری جانب ابو ظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید النہیان کو ریاست اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے فون کیا ہے ، جس میں عرب امارات پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔

    عرب امارات کے ڈپٹی سپریم کمانڈرشیخ محمد بن زاید النہیان سے گفتگو کرتے ہوئے حوثیوں کے حملوں کوبزدلی قرار دیتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ فعل قراردای ، اور متحدہ عرب امارات پر اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت پر زور دیا۔

    عمان رائل نیوی کمانڈر کی راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم…

    ادھر اسرائیلی صدر نے ان مجرمانہ حملوں کے متاثرین کے لیے شیخ محمد سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔جس کے جواب میں شیخ محمد نے صدر ہرزوگ کا یو اے ای اور اس کے عوام کے تئیں ان کے موقف اور مخلصانہ جذبات کا شکریہ ادا کیا۔

    علاوہ ازیں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو سیکیورٹی انٹیلیجنس میں معاونت کی پیش کش کردی اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کو تعزیتی خط لکھا جس میں انہوں نے ایک روز قبل ابوظبی میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔

    اپنے خط میں اسرائیلی وزیراعظم نے لکھا کہ ’اسرائیل خطے میں جنگ اور انتہا پسندی کے خلاف ہے، ہم اپنے اتحاد سے مشترکہ دشمن کو باآسانی شکست دے سکتے ہیں‘۔ نفتالی نے لکھا کہ ’اسرائیل اس جنگ میں ابوظبی کے شانہ بشانہ ہے اور ہم ہر قسم کے تعاون کو بھی تیار ہیں‘۔

    پاکستان کی ابوظبی ایئرپورٹ پر بزدلانہ دہشتگرد حملے کی شدید مذمت

    انہوں نے لکھا کہ ’اگر یو اے ای چاہیے تو عوام کی حفاظت اور اس طرح کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ متحدہ عرب امارات کو کسی بھی حملے کی صورت میں پیشگی اطلاع اور جوابی کارروائی کی معاونت فراہم کرسکتی ہے‘۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں منگل کے روز تین پیٹرولیم ٹینکرز پر ڈرون راکٹ حملے ہوئے، جس میں پاکستانی سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوئے راکٹ حملے کے بعد ابوظبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب نئی تعمیر ہونے والی عمارت میں خوفناک آتشزدگی ہوئی تھی۔ بعد ازاں یمن کے حوثی باغیوں نے میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف جاری آپریشن کا ردعمل قرار دیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ ہم ان دہشت گردانہ حملوں کا بھرپور جواب دیں گے۔

    پاکستان میں قازقستان کے سفیر کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات