Baaghi TV

Tag: ٹیکس

  • گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے ایف بی آر کی وضاحت

    گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے ایف بی آر کی وضاحت

    گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وضاحت جاری کردی۔

    ایف بی آر کے مطابق ٹیکس استثنیٰ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک جامع اور مضبوط نظام وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک کے دیگر حصوں میں تاجروں اور کاروباری برادری کے مفادات متاثر نہیں ہوں گےگلگت بلتستان کو ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 گلگت بلتستان میں لاگو نہیں کیے گئے ہیں۔

    ایف بی آر کے مطابق سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے درآمد کی جانے والی صرف وہی اشیا ٹیکس استثنیٰ کی حقدار ہوں گی جو گلگت بلتستان کی حدود میں استعمال کی جائیں گی، جبکہ گلگت بلتستان کے لیے درآمد کی جانے والی اشیا کی سالانہ ٹیکس استثنیٰ کی حد 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے،اس پالیسی کو شفاف اور مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم تاسیس،لاہور،کراچی ،پشاور،کوئٹہ سمیت اضلاع کی سطح پر پروگرام

    ایف بی آر کے مطابق حکومت گلگت بلتستان ٹیکس فری اشیا کے استعمال کے لیے ہر تاجر کا کوٹہ مقرر کرے گی اور یہ تمام کوٹے مجموعی طور پر 4 ارب روپے کی سالانہ حد سے تجاوز نہیں کریں گےپاکستان کسٹمز (ویب بی او سی) سسٹم کے ذریعے ان کوٹہ جات کی نگرانی خودکار ماڈل کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ کسی تاجر کا مقررہ کوٹہ ختم ہونے پر خودکار سسٹم مزید ٹیکس فری درآمدات کو بلاک کر کے قانون کے مطابق قابلِ اطلاق ٹیکس وصول کرے گا۔

    ایف بی آر کے مطابق حکومتِ گلگت بلتستان نے باضابطہ طور پر اس بات کا عہد کیا ہے کہ ٹیکس سے مستثنیٰ اشیا کا استعمال صرف گلگت بلتستان کی حدود میں ہی ہوگا،پاکستان کسٹمز نے ایسی اشیا کی گلگت بلتستان سے ملک کے دیگر حصوں میں منتقلی کی روک تھام کے لیے انفورسمنٹ کا طریقۂ کار بھی وضع کر لیا ہے، اور جی بی حکومت و تاجروں کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    بھارتی ہندو پنڈت یتی نرسمہا نند کا متنازع بیان، خودکش گروپ بنانے کی اپیل

    ایف بی آر نے ملک بھر کی کاروباری برادری اور تاجروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ استثنائی نظام جائز تجارتی مفادات کو نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اس سہولت کا مقصد صرف گلگت بلتستان کے عوام اور معیشت کی بہتری ہے۔

  • ہمارے یہاں ٹیکس کی شرح صرف 8 فیصد ہے،احسن اقبال

    ہمارے یہاں ٹیکس کی شرح صرف 8 فیصد ہے،احسن اقبال

    وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستانی دنیا میں کم ترین ٹیکس ادا کرنے والی قوموں میں شمار ہوتے ہیں۔

    کراچی میں ایک تقریب میں انہوں نے کہا کہ مضبوط معیشت کی بنیاد ٹیکس، برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری پر ہوتی ہے، نجی شعبہ جتنا مضبوط ہوگا اتنی تیزی سے معاشی اہداف حاصل کریں گے، ہم کم ترین ٹیکس ادا کرنے والی قوموں میں شمار ہوتے ہیں،د نیا میں 16 اور 18 فیصد ٹیکس کی شرح والی قومیں ترقی کر رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ٹیکس کی شرح صرف 8 فیصد ہے، قرضوں کی ادائیگی کے بعد 2ہزار8سو ارب روپے بچتے ہیں، قرضوں کی ادائیگی کے بعد ڈھائی ہزار ارب روپے دفاع پر خرچ ہوجاتے ہیں،پاکستان کی معیشت درست سمت کی جانب گامزن ہے، شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آگئی ہے، مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، حکومتی اقدامات کی بدولت ملک معاشی طور پر مضبوط ہو چکا ہے۔

  • ایف بی آرکاآن لائن آرڈر کیے گئے سامان پر عائد ٹیکس  واپس لینےکافیصلہ

    ایف بی آرکاآن لائن آرڈر کیے گئے سامان پر عائد ٹیکس واپس لینےکافیصلہ

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی جانب سے بیرونِ ملک سے آن لائن آرڈر کیے گئے سامان اور خدمات پر عائد ڈیجیٹل پروسیڈز ٹیکس کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے –

    ایف بی آر کے بدھ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یکم جولائی،سےڈیجیٹل پریزنس پروسیڈز ٹیکس اُن سامان اور خدمات پر لاگو نہیں ہوگا جو کسی بھی فرد یا ادارے کی جانب سے بیرونِ ملک سے آن لائن آرڈر کیے گئے ہوں اور جو مذکورہ ایکٹ کے تحت پہلے ہی ٹیکس کے دائرے میں آتے ہوں، بیرونِ ملک سے آن لائن خریداری کرنے والے پاکستانی صارفین کے لیے عارضی ریلیف میسر آیا ہے، اور ان اشیا پر فی الحال اضافی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت نے مقامی اور غیر ملکی ای کامرس پلیٹ فارمز پر نئے ٹیکسز عائد کیے تھے، جس سے پاکستان میں آن لائن خریداری مہنگی ہوگئی تھی، ان ہی اقدامات کے تحت ’ڈیجیٹل پریزنس پروسیڈز ٹیکس ایکٹ 2025‘ بھی متعارف کرایا گیا تھا، جس کے ذریعے بیرونِ ملک سے آن لائن خریدے گئے سامان پر ٹیکس وصولی کا نظام قائم کیا گیا تھا۔

    پاکستان کو اسپیس ٹیکنالوجی میں دوبارہ قائدانہ کردار دلائیں گے،احسن اقبال

    مجوزہ قانون کے تحت صارفین سے اُن کی خریداری پر ادا کی گئی رقم کا 5 فیصد بطور ٹیکس لیا جانا تھا، جو بینک، مالیاتی ادارے یا ادائیگی کے آن لائن نظام (پیمنٹ گیٹ وے) وصول کرتےاسی قانون کے تحت کسٹمز حکام کو بھی اختیار دیا گیا تھا کہ جب تک کوریئر کمپنیاں ٹیکس کی ادائیگی کا ثبوت فراہم نہ کریں، بیرونِ ملک سے خریدا گیا سامان صارف کو نہ دیا جائے۔

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی ہونے کا نوٹیفکیشن جاری

  • ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر ٹیکس کو بوجھ کم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے،وزیراعظم

    ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر ٹیکس کو بوجھ کم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے،وزیراعظم

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکس نظام کی بہتری سے ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر ٹیکس کو بوجھ کم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس کو ایف بی آر کی اصلاحات، اقدامات کے نتائج اور گزشتہ مالی سال کے اہداف پر بریفنگ دی گئی اجلاس میں وفاقی وزیر براۓ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ, چیئرمین ایف بی ار اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کے انفورسمنٹ اقدامات و دیگر اصلاحات کی بدولت 2024 کی نسبت 2025 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں 1.5 فیصد کا تاریخی اضافہ ہوا، 2024 کے مقابلے مالی سال 30 جون 2025 تک ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد 45 لاکھ سے بڑھ کر 72 لاکھ سے تجاوز کر گئی ایف بی آر کے فیس لیس کسٹمز کلیئرنس سسٹم سے نہ صرف ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوا بلکہ آئندہ تین ماہ تک کلئیرنس کا وقت 52 گھنٹے سے کم کرکے صرف 12 گھنٹے تک کردیا جائے گا، ریٹیل سیکٹر میں 2024 کی نسبت 30 جون 2025 تک آمدن پر ٹیکس کی مد میں 455 ارب روپے کا زائد ٹیکس وصول کیا گیا۔

    نور مقدم کیس: سزا یافتہ مجرم ظاہر جعفر نے نظرثانی درخواست دائر کردی

    ریٹیل شعبے کے ٹیکس میں اضافہ پوائنٹ آف سیلز کے اطلاق، ریٹیلرز کے سسٹم کو ایف بی آر سے ہم آہنگ کرنے اور انفورسمنٹ کی بدولت ممکن ہوا، فیس لیس سسٹم میں نظر ثانی کیلئے خصوصی نظام متعارف کروایا گیا ہے جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کیسز کا بروقت فیصلہ کیا جارہا ہےاقدامات کی بدولت درآمدات پر ویٹڈ ایوریج ٹیرف میں 2.16 فیصد کی کمی واقع ہوئی جس سے صنعتوں کے خام مال کی لاگت میں کمی اور مینو فیکچرنگ شعبے کو سہولت ملے گی، ٹیکس اصلاحا ت اور معیشت کے شعبوں کی ڈیجیٹائیزیشن میں بین الاقوامی ماہرین کی تجاویز کو بھی شامل کیا جائے گاصنعتوں کے پیداواری مراحل کے حکومتی اداروں کے سا تھ اندراج کے لیے پہلے سے موجود ڈیٹا کو مزید بہتر انداز میں استعمال کیا جائے گا، اجلاس کو ایف بی آر کی مزید اصلاحات کے بارے تجاویز پیش کی گئیں۔

    مدرسے میں زہریلا کھانا کھانے سے 9 بچوں کی حالت غیر،ایک جاں بحق

    اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے ایف بی آر حکام اور اصلاحات کے عمل میں شامل افسران و اہلکاروں کی کوششوں کی تعریف کی اور آئندہ ہفتے تجاویز کے حوالے سے قابل عمل اہداف اور مدت کا تعین کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے ڈیجیٹائیزیشن سے اہداف کے حصول میں معاونت ملی، اسے مستقل بنیادوں پر پائیدار نظام بنانے کیلئے اقدامات یقینی بنائے جائیں، غیر رسمی معیشت کے سد باب کیلئے انفورسمنٹ کے حوالے سے مزید اقدامات کئے جائی، ایف بی آر کے ڈیجیٹل ونگ کی ازسر نو تشکیل کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دے کر اہداف کے حصول کے وقت کا تعین کیا جائے۔

    پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تاریخی اضافہ ریکارڈ

    وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ اصلاحاتی عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور انکی تجاویز کی شمولیت کو یقینی بنائے گی، ایف بی آر کی اصلاحات کے اطلاق میں کاروباری حضرات، تاجر برادری، اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کو مد نظر رکھا جائےٹیکس نظام کی بہتری سے ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر ٹیکس کو بوجھ کم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 18 سے کم کر کے 10 فیصد کر دیاہے، وزیر خزانہ

    سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 18 سے کم کر کے 10 فیصد کر دیاہے، وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے طویل مشاورت کے بعد درآمدی سولر پینلز کے پرزہ جات پر تجویز کردہ 18 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 10 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ برآمد شدہ سولرز کے پرزہ جات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ مقامی صنعت کو فروغ دینے اور مسابقتی ماحول قائم کرنے کے لیے کیا گیا تھا دونوں ایوانوں میں تفصیلی غور و غوض اور اراکان پارلیمنٹ کی تجاویز پر حکومت نے لچک کا مظاہرہ کر تے ہوئے ٹیکس کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس ٹیکس کا اطلاق صرف 46 فیصد درآمدی پرزہ جات پر ہوگا جب کہ امپورٹڈ سولر پینلز کی پلیٹوں پر صرف 4.6 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوگا، درآمدی سولر پینلز کی مجوزہ 10 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ سے قبل ہی بعض عناصر کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری میں ملوث ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، ان عناصر کو وارننگ دیتا ہوں کہ ان کے خلاف جلد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پچھلے مالی سال میں وفاقی حکومت نے کوئی منی بجٹ متعارف نہیں کروایا، ہم نے مالی نظم و ضبط کو کنٹرول کیا، افراط زر پر قابو پایا، کرنٹ اکاؤ نٹ میں نمایاں بہتری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا ان تمام اقدامات کا مقصد پاکستان کو اقتصادی غیر یقینی کی دلدل سے نکال کر پائیدار ترقی کی راہ پر گا مزن کرنا ہے، حکومت نے اپنے مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں عوامی فلاح کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئندہ برس کے لیے وفاقی حکومت کے اخراجات میں صرف 1.9 فیصد اضافہ ہوا ہے، گزشتہ برسوں کے دوران 10، 12 اور 13 فیصد تک وفاقی اخراجات میں اضافے ہوتے رہے ہیں کم اور متوسط آمدن والے افراد قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ طبقہ ٹیکس بھی دیتا ہے اور مہنگائی بھی جھیلتا ہے، تنخواہ دار ملازمین پر عائد انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز پہلے سے ہی بجٹ تجاویز کا حصہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر 6 سے 12 لاکھ تک سالانہ کمانے والے افراد پر انکم ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دی ہے ، ریاست اس طبقے کو بوجھ تلے دبانا نہیں چاہتی، سرکاری ملازمین کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے 10 فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنز میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 592 ارب روپے سے بڑھا کر 716 روپے کیا،بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی معاو نت کا دائرہ وسیع کرنا اس حکومتی عزم کا عکاس ہے کہ معاشرے میں کمزور افراد، بیواؤں، یتیم اور خصوصی افراد کو بھی معاشی تحفظ حاصل ہو، اس اقدام سے تقر یبًا ایک کروڑ خاندانوں کو مالی مدد حاصل ہوگی۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر افسران کے اختیارات کے حوالے سے تجاویز پر وزیراعظم کی ہدایت پر مزید وضاحت شامل کی ہے تاکہ افسران کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا خطرہ نہ رہےسینیٹ کی کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کی سفارشات حکومت کو موصول ہو چکی ہیں، امید ہے گزشتہ برس کی طرح امسال بھی قائمہ کمیٹی کی 50 فیصد سے زائد سفارشات کو فنانس بل کا حصہ بنایا جائے گاقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ساتھ بھی مشاورت جاری ہے جس کی تکمیل کے بعد ہم فنانس بل کی حتمی شکل تک پہنچ جائیں گے حکومت کی کوشش ایک جامع، ہمہ گیر اور پائیدار ترقی کا حصول ہے جس میں تمام پاکستانیوں کو ترقی کرنے کا حق حاصل ہو۔

  • پنجاب پولیس کو ٹیکس کلیکشن کا بڑا ٹارگٹ مل گیا

    پنجاب پولیس کو ٹیکس کلیکشن کا بڑا ٹارگٹ مل گیا

    پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پولیس کو ٹیکس وصولی کے بڑے اہداف دے دیئے ہیں۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق پولیس کو مختلف مدات میں مجموعی طور پر 30 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کی وصولیاں کرنا ہوں گی ای چالانز کی مد میں رواں مالی سال کے مقابلے میں 52 کروڑ روپے زیادہ وصول کرنے کا ہدف دیا گیا ہے رواں سال ای چالانز کا ہدف 95 کروڑ تھا، جو بڑھا کر آئندہ مالی سال کیلئے ایک ارب 47 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے پنجاب ہائی وے پٹرولنگ (پی ایچ پی) کو بھی ڈیڑھ ارب روپے کے ای چالانز کا ہدف دیا گیا ہے۔

    آئی سی سی کا ٹیسٹ میچز کو 5 کے بجائے4 روزہ کرنے کا عندیہ

    دستاویزات کے مطابق لاہور میں صرف ٹریفک فائنز کی مد میں 11 ارب 20 کروڑ روپے کی وصولی کا ہدف رکھا گیا ہے، جب کہ ڈرائیونگ لائسنس فیسز کی مد میں 14 ارب 50 کروڑ روپے جمع کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے پولیس کو دیے گئے ان بڑے مالی اہداف کا مقصد صوبے کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے، تاہم اس سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو محصول وصولی کا کردار دینا ان کے بنیادی فرائض پر اثرانداز تو نہیں ہوگا۔

    نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے وابستہ 47 سائنسدانوں اور انجینئرز کو اعزازات سے نوازدیا گیا

  • نان فائلرز کے لئے  بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز

    نان فائلرز کے لئے بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز

    نان فائلرز کے خلاف مزید پابندیاں لگائے جانے کا امکان ہے-

    ذرائع کے مطابق نان فائلرز کے بینک سے 50 ہزار روپے نکلوانے پر ٹیکس کی شرح دگنی کرنے کی تجویز ہے، 50 ہزار روپے نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.6 کی بجائے 1.2 کیا جائے گا نا ن فائلرز کی موبائل فون سم، انٹرنیٹ ڈیوائس بلاک نہیں ہوں گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ نان فائلر ز کیلئے گاڑیاں اور جائیداد کی خریداری پر پابندی برقرار رہے گی، نان فا ئلرز مالی لین دین کی ٹرانزیکشن نہیں کر سکیں گے،، نان فائلرز پر بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

    نا ن فائلرز کے شیئرز خریدنے اور میوچل فنڈ میں سرمایہ کاری پر پابندی ہو گی، ٹیکس سسٹم سے نا ن فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے پر کام جاری ہے، پوائنٹ آف سیل میں ٹیکس چوری کیخلاف جرمانے میں 10 گنا اضافہ کیا جائے گا۔

    وزیراعظم کی زیر صدارت آج معاشی ٹیم کا اہم اجلاس ہوگا

    پوائنٹ آف سیل مشین سے ٹیکس چوری کیخلاف جرمانہ 5 سے بڑھا کر 50 لاکھ کرنے کی تجویز ہے، پوائنٹ آف سیل میں کیش کے خفیہ طور پر الگ ریٹ رکھنے والوں کیخلاف بھی کارروائی ہو گی، ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں سیکشن 114 بی میں نا ن فائلر کے خلاف ایکشن ہوں گے۔

    بین الاقوامی سطح پر انڈین میڈیا کی ساکھ بری طرح متاثر

  • بینکوں سے کیش نکالنے پر نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس دُگنا کرنے کی تجویز

    بینکوں سے کیش نکالنے پر نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس دُگنا کرنے کی تجویز

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بینکوں سے کیش نکالنے پر نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1.2 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    بزنس ریکارڈر نے ذرائع کے حوالے سےبتایا کہ حکومت کے اس اقدام کا مقصد ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والوں کے لیے مالیاتی سرگرمیوں کو مشکل بنانا ہے تاکہ وہ بھی ٹیکس نیٹ میں آئیں اس سلسلے میں حکومت یکم جولائی 2025 سے نان فائلر کی کیٹیگری ہی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے یعنی ایسے ”غیر اہل افراد“ کسی قسم کا مالیاتی لین دین نہیں کر سکیں گے۔

    اس سلسلے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو نے ”ٹیکس قوانین (ترمیمی) بل 2024“ کی رپورٹ منظور کر لی ہے جس کے تحت نان فائلرز کی معاشی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی، اور یہ تمام اقدامات آئندہ فنانس بل 2025-26 کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے۔

    غیرقانونی کال سینٹر کیس: ملزم ارمغان کیخلاف چالان جمع نہ کروانے پر عدالت برہم

    واضح رہے کہ فنانس ایکٹ 2023 کے تحت پہلے ہی یہ شرط دوبارہ متعارف کروائی گئی تھی کہ جو افراد ایف بی آر کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں شامل نہیں، ان پر بینک سے کیش نکلوانے پر 0.6 فیصد ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ٹیکس لاگو ہو گا، بشرطیکہ ایک دن میں نکلوایا گیا مجموعی کیش 50,000 روپے سے زیادہ ہو۔ ٹیکس اس پوری رقم پر لاگو ہوتا ہے، نہ کہ صرف اضافی رقم پر۔

    غزہ میں نسل کشی پر فرانس اور جرمنی نے بھی اسرائیل کو خبردار کردیا

  • آئی ایم ایف  کی ٹیکس بڑھانے کیلئے سخت اقدامات کی تجویز

    آئی ایم ایف کی ٹیکس بڑھانے کیلئے سخت اقدامات کی تجویز

    اسلام آباد: آئی ایم ایف نے ٹیکس بڑھانے کیلئے سخت اقدامات کی تجویز دیدی۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ ٹیکس نا دہندگان کے خلاف مزید سخت اقدامات لیےجائیں، ٹیکس حکام کے اختیارات کےاستعمال میں اضافہ اور شفافیت لائی جائے، ٹیکس چوری روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال مزید بڑھایا جا ئے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پی او ایس پر ٹیکس چوری کا جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ٹیکس چوری پر جرمانے کے ساتھ فوجداری مقدمات درج کرنے کی بھی تجویز ہے، سولر پینلز سمیت تمام ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز ہے جبکہ کھاد، اسپرے اور زرعی آلات پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنےکی تجویز ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ میں زرعی ان پٹس اور مشینری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ پرتعیش اشیاء کی فہرست میں مزید اشیاء شامل کرکے ٹیکس میں اضافےکی بھی تجویز ہے، پرتعیش اشیاء پر سیلز ٹیکس 25 فیصد سے بڑھانے کی تجویز ہے۔

  • ٹیکس اتھارٹی میں شفافیت لارہے ہیں، وزیر خزانہ

    ٹیکس اتھارٹی میں شفافیت لارہے ہیں، وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایف بی آر میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے انسانی مداخلت کو کم سے کم کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : پشاور میں چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے معاشی استحکام کے ثمرات سامنے آرہے ہیں، ٹیکس اتھارٹی میں شفافیت لارہے ہیں، پالیسی ریٹ میں کمی ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، ٹیکس پالیسی کا اختیار ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن منتقل کیا جاچکا ہے بار بار کہہ چکا ہوں کہ نجی سیکٹر کو ملک کی قیادت کرنی ہےایف بی آر میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے انسانی مداخلت کو کم سے کم کر رہے ہیں،ایف بی آر کی تمام تر توجہ ٹیکس جمع کرنے پر ہونی چاہیے۔

    احسن بھون جوڈیشل کمیشن کے ممبر بن گئے

    وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ہماری ترجیح ہےشرح سود 23 سےکم ہوکر گیارہ فیصد پر آگئی ہےہم اسے سنگل ڈیجٹ میں لانے کے لیے پرعزم ہیں، حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے رائٹ سائزنگ کی جارہی ہے، آئندہ بجٹ کے لیے تاجروں سے تجاویز حاصل کررہے ہیں۔

    سوڈان میں فوجی طیارہ گر کر تباہ، 46 اہلکار ہلاک