Baaghi TV

Tag: ٹیکسز

  • بجلی کے فی یونٹ میں  15 روپے 28 پیسے کےمختلف ٹیکسز شامل

    بجلی کے فی یونٹ میں 15 روپے 28 پیسے کےمختلف ٹیکسز شامل

    اسلام آباد: ہ بجلی اتنی مہنگی کیوں ہوتی ہے اور بجلی کا یونٹ 45 روپے 6 پیسے کیسے بنتا ہے؟ نیشل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے رپورٹ جاری کر دی-

    باغی ٹی وی: نیپرا کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 7.62 روپے فی یونٹ میں بننے والی بجلی 7 قسم کے مختلف ٹیکسز ملا کر عوام کو 45 روپے میں فراہم کی جاتی ہے بجلی کی قیمت میں 15 روپے 28 پیسے کے فی یونٹ مختلف ٹیکسز شامل ہیں، بجلی کے بل میں 67 پیسے فی یونٹ نئے سال کے بھی شامل کیے جاتے ہیں، صارفین کو بجلی کے بلوں میں 3 روپے 10 پیسے ڈسکوز مارجن بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ایک پیسہ فی یونٹ کی ایڈجسٹمنٹ بھی شامل کی جاتی ہے، صارفین ایک روپے 37 پیسے فی یونٹ ٹرانسمیشن چارجز بھی ادا کرتے ہیں، 17 روپے ایک پیسہ فی یونٹ کپیسٹی پیمنٹ کے ادا کیے جاتے ہیں، بجلی کی خالص قیمت صرف 7 روپے 62 پیسے فی یونٹ ہےلیکن7 قسم کےچارجز، ٹیکسز، مارجن اور ایڈجسٹمنٹ ادا کرکے 45 روپے فی یونٹ میں ایک بلب جلتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کی مخالفت

    سال 2024 نے کسی کی دولت کو دگنا کیا تو کچھ کواربوں کا نقصان

    سال 2024 میں پاکستانی روپے کی قدر میں 1.17 فیصد اضافہ

  • ٹیکسوں کی بھرمار؛استعمال شدہ کاروں کےدرآمد کنندگان پھنس گئے:اربوں روپےڈوبنے کااندیشہ

    ٹیکسوں کی بھرمار؛استعمال شدہ کاروں کےدرآمد کنندگان پھنس گئے:اربوں روپےڈوبنے کااندیشہ

    کراچی:ٹیکسوں کی بھرمار؛ استعمال شدہ کاروں کے درآمد کنندگان پھنس گئےاطلاعات کےمطابق حکومتی پالیسیوں اور ٹیکسوں میں تبدیلی کی وجہ سے درآمد کی گئی سیکڑوں گاڑیاں بندرگاہوں پر کھڑی کھڑی خراب ہورہی ہیں۔

    میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان

    حکومت کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے گزشتہ چند ماہ میں ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے اسٹرکچر میں متعدد بار تبدیلی کی ہے جس کے نتیجے میں پرانی کاروں پر ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کی شرح میں اس حد تک غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا ہے کہ باہر سے پرانی کاریں منگوانے والے بندرگاہوں پر کاریں پہنچنے کے باجود اپنی کاریں کلیر نہیں کر پارہے۔

    آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے:وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    باہر سے استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ بندگاہوں پر ایک ہزار سے زائد کاریں پھنس گئی ہیں جو کھڑی خراب ہورہی ہیں یہ گاڑیاں گزشتہ چار ماہ کے عرصے میں پہنچی ہیں۔اس ضمن میں آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ایک لیٹر بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں اس مسئلے کے حل میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

    ایسوسی ایشن کی جانب سے ارسال کئے گئے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لئے جو اقدامات کئے ہیں اس میں استعمال شدہ گاڑیوں کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ پرانی گاڑیوں کی ضمن میں ملک سے قیمتی زر مبادلہ باہر نہیں جاتا بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے رشتہ داروں کو گاڑیاں گفٹ کے طور پر بھیجتے ہیں اور اس پر ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کی ادائیگی بھی باہر سے ہی ڈالر میں کی جاتی ہے جس سے ڈالر باہر نہیں جاتے بلکہ ملک کے اندر آتے ہیں۔

    پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ:معاملات مزید خراب ہوسکتے…

    موٹر ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے19اگست کو 800سی سی اور اس سے اوپر کی استعمال شدہ گاڑیوں پر 100فیصد سرچارج لگایا۔ 22 اگست کو 1800سی سی اور اس سے اوپر کی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 70 فیصد سے بڑھا کر 100فیصد کی گئی اور 600 سی سی سے 1500سی سی تک کی کاروں پر ریگولیٹری ڈیوٹی جو پہلے صفر تھی اسے 100 فیصد کردی گئی اسی طرح ہائبرڈ اور الیکٹرک کاروں پر بھی 100 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی۔ اسی طرح ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کی شرح بھی 7فیصد سے بڑھا کر 35فیصد تک کردی گئی ہے۔

     

     

    وفاقی وزیر خزانہ کو بھیجے گئے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پہلے سے 90فیصد تا 375 فیصد ٹیکسزعائد ہیں حالیہ سرچارج،ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی اس کے اوپرلگائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں صورتحال ابتر ہوگئی ہے۔موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق ملک میں نئی گاڑیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں پرانی گاڑیوں سے کسی حد تک صارفین کو کم قیمت گاڑیاں مل رہی ہیں لیکن جس طرح ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا گیا ہے ا س سے آٹواسمبلرز کو من مانی کے لئے کھلا میدان مل گیا ہے جب کہ شہری بھی کم قیمت گاڑیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

  • بجٹ میں سبسڈیز واپس لینے اور ٹیکسز میں اضافے کا امکان ہے،مفتح اسماعیل

    بجٹ میں سبسڈیز واپس لینے اور ٹیکسز میں اضافے کا امکان ہے،مفتح اسماعیل

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ بجٹ میں سبسڈیز واپس لینے اور ٹیکسز میں اضافے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : مفتاح اسماعیل نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران واضح طور پر کہا کہ آئی ایم ایف کی نظریں بجٹ پر ہیں، اس کے بعد معاہدہ متوقع ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ حکومت نے تیل کے لیے روس سےرابطہ کیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ پابندیاں عائد ہونے کی وجہ سے روس نے گزشتہ حکومت کو جواب نہیں دیا تھا۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے گندم کے لیے یوکرین اورروس سے رابطہ کیا ہے، دونوں ممالک میں سے جو بھی گندم فراہم کرے گا ہم خرید لیں گے۔

    سابق حکومت کے اقدامات سے دوست ممالک ناراض ہیں، مریم نواز

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پابندیوں کے باعث روس سے تیل خریدنا مشکل ہو گاانہوں نے کہا کہ بجٹ میں سبسڈیز واپس لینے اورٹیکسز میں کچھ اضافے کا امکان ہے تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے ہمیں پھنسانے کے لیے سبسڈیز کا اعلان کیا تھا۔

    پاکستان میں ذی القعدہ کا چاند نظر آ گیا

    دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اوگرا نےمنگل کی شام سے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کردی ا یل پی جی گیس کی قیمت میں کمی کے فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے-

    اوگرا کی جانب سے قیمت میں کمی کا فیصلہ سامنے آتے ہی فی کلوگرام ایل پی جی گیس کی قیمت میں 13 روپے کمی کردی گئی ہےاس طرح سے فی کلو ایل پی جی کی قیمت گھٹ کر 219 روپے کی ہوگئی ہے۔

    ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز پرگھی اورکوکنگ آئل مزید مہنگا

    نوٹیفیکیشن کے مطابق گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 155 روپے کی کمی کے ساتھ 2581.35 ہوگئی ہے جب کہ کمرشل سلنڈر کی نئی قیمت 9931.65 روپے مقرر کی گئی۔

    دوسری جانب حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا اعلان کردیاوزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 179 روپے 86 پیسے پر برقرار رہیں گی۔

    شہباز گِل حکومت کےخلاف نفرت کی فصل بونےلگے،مرنےمارنےکی دھمکیوں پر اتر آئے

  • بلوچستان اسمبلی کےکس رکن نےکتنا ٹیکس دیا،حیران کُن تفصیلات،سب حیران رہ گئے

    بلوچستان اسمبلی کےکس رکن نےکتنا ٹیکس دیا،حیران کُن تفصیلات،سب حیران رہ گئے

    کوئٹہ :بلوچستان اسمبلی کےکس رکن نےکتنا ٹیکس دیا،حیران کُن تفصیلات سامنے آگئیں ،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 2019 میں اراکین بلوچستان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

    بلوچستان اسمبلی ایف بی آر کی 2019 کی ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق صوبائی مشیر اکبر اسکانی ایک کروڑ 33لاکھ روپے ٹیکس ادا کرکے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے رکن اسمبلی ہیں، سابق وزیر اعلیٰ جام کمال نے 1 کروڑ 17 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا اور وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے دس لاکھ 61 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

    رکن اسمبلی عارف جان محمد حسنی نے سب سے کم دو لاکھ 69 ہزار، اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے 8 لاکھ 78 ہزار روپے کا ٹیکس دیا ، سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے 3 لاکھ 43ہزار روپے، سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری نے پانچ لاکھ 81 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔

    رکن اسمبلی حمل کلمتی نے 28 لاکھ 84 ہزار روپے، سکندر عمرانی نے 21 لاکھ 10 ہزار روپے، سردار عبدالرحمان کھیتران نے 12 لاکھ 43ہزار روپے ، مٹھا خان کاکڑ نے گیارہ لاکھ 57 ہزار روپے، نواب زادہ طارق مگسی نے دس لاکھ 99 ہزار روپے ، عبدالخالق ہزارہ نے دس لاکھ 42 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔

    رکن اسمبلی عبدالواحد صدیقی نے چھ لاکھ 46 ہزار روپے، احمد نواز نے چھ لاکھ 53 ہزار روپے ، اختر حسین لانگو نے چھ لاکھ 62 ہزار روپے ، اسد اللہ بلوچ نے سات لاکھ 60 ہزار روپے ، اصغر علی ترین نے سات لاکھ 81ہزار روپے، بشرٰی رند نے سات لاکھ 92 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔

    ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے چھ لاکھ 73 ہزار روپے ، نوابزادہ گہرام بگٹی نے پانچ لاکھ 94 ہزار روپے ،،اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی نے چھ لاکھ 40 ہزار روپے ، ماہ جبین شیران نے چار لاکھ بیس ہزار روپے ، مستورہ بی بی نے پانچ لاکھ 39 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔

    میر نعمت اللہ زہری نے پانچ لاکھ 68 ہزار روپے ، میر ضیاء اللہ لانگو نے چھ لاکھ 39 ہزار روپے ، مبین خان خلجی نے پانچ لاکھ44ہزار روپے ، محمد نواز نےپانچ لاکھ66ہزار روپے ،سردار صالح محمد بھوتانی نے سات لاکھ 86 ہزار روپے ،نصر اللہ زیرے نے چھ لاکھ 52 ہزار روپے ، نور محمد دومڑ نے نو لاکھ 13 ہزار روپے، مولوی نور اللہ نے پانچ لاکھ 99 ہزار روپے ، سلیم احمد کھوسہ نے 8 لاکھ 26 ہزار روپے، سردار یار محمد رند نے پانچ لاکھ 96 ہزار روپے، سردار سرفراز چاکر ڈومکی نے سات لاکھ 29 ہزار روپے، شام لعل لاسی نے 6 لاکھ 24 ہزار روپے ،سید احسان شاہ نے 7 لاکھ 81 ہزار روپے ، ٹائٹس جانسن نے6 لاکھ 36 ہزار روپے اور عمر خان جمالی نے 8 لاکھ95 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔

    رکن اسمبلی یونس عزیز زہری نے چھ لاکھ 57 ہزار روپے ، زابد علی ریکی نے پانچ لاکھ 14 ہزار روپے ،ظہور احمد بلیدی نے چھ لاکھ 54 ہزار روپے ،زمرک خان اچکزئی نے 8 لاکھ 89 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔

    بلوچستان اسمبلی کے 44 اراکین اسمبلی کے نام ٹیکس ڈائریکٹر ی میں شامل ہیں جب کہ 21 اراکین اسمبلی کے نام ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرنے کے باعث ٹیکس ڈائریکٹری میں شامل نہیں کیے گئے۔

  • منی بجٹ یا اصلاحات کی آڑ میں ٹیکسزکا نیا شیڈول:تیاریاں جاری

    منی بجٹ یا اصلاحات کی آڑ میں ٹیکسزکا نیا شیڈول:تیاریاں جاری

    اسلام آباد :منی بجٹ یا اصلاحات کی آڑ میں ٹیکسز کا نیا شیڈول:تیاریاں جاری ،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ سے طے کی گئے شرائط کے مطابق منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، اس سلسلے میں چند دنوں تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کرسارے معاملات حل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں

    اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے چوتھے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس کو بل میں تبدیل کردیا، 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے ترمیمی فنانس بل میں شیڈول 6 ختم کر دیا جائے گا.

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے چھٹے شیڈول کے خاتمے سے 350 ارب روپے کی ٹیکس مراعات ختم ہو جائیں گی، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ وصولی کا ہدف 600 ارب روپے سے کم کرکے 356 ارب روپے مقرر کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق موبائل فون، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان ہے جبکہ ترمیمی بل حکومت برآمدات کے علاوہ زیرو ریٹنگ سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لے گی جن اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ زائد ہے، اس اسٹینڈرڈ سیلز ٹیکس ریٹ 17 فیصد لاگو ہوگا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مخصوص شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بڑھانے یا کم کرنے کا اختیار وزیر اعظم کو دینے کی تجویز ہے۔

    رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829 ارب روپے سے بڑھا کر 6100 ارب روپے مقرر کرنےکا تجویز ہے جبکہ ترقیاتی پروگرام میں 200 ارب روپے کمی کرنے کی تجویز بھی ترمیمی بل کا حصہ ہے۔

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی قسط وصولی کیلئے ان اقدامات پر جلد از جلد عمل کرنا ہوگا جبکہ پاکستان کو 12 جنوری 2022 سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔

    اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ ترمیمی بل کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں سارا ہوم ورک مکمل کرلیا گیا ہے