Baaghi TV

Tag: ٹیکسٹائل انڈسٹری

  • فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی

    فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی

    پاکستان کے ٹیکسٹائل مرکز فیصل آباد کو ہنر مند کارکنوں کی کمی کا سامنا ہے جس سے اس کی ترقی کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سرکاری یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ جب تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے ادارے صحیح ہنر سکھانے کی بات کرتے ہیں تو وہ توقعات پر پورا نہیں اترے یہ ہنر مند افرادی قوت کے مسئلے کو حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے.انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا نصاب اکثر پرانا ہوتا ہے تعلیمی اداروں کے ساتھ صنعتی روابط بڑھانے کے بغیر ہم کھو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مہارت کی ترقی کے لیے ناکافی پالیسی سپورٹ اور پبلک فنانسنگ بھی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے ہمارے پیشہ ورانہ اداروں میں جدید تعلیمی اداروں کے مقابلے میں جدید ترین تربیتی آلات کی کمی ہے ہمیں اپنے اصولوں اور اقدار کو بہتر بنانا ہوگا کیونکہ ہمارے معاشرے میں بلیو کالر تکنیکی کیریئر کے خلاف عمومی تعصب ہے اس کا مطلب ہے کہ لوگ ان ملازمتوں کو کم اہمیت دیتے ہیں جن میں ہاتھ سے کام یا تکنیکی مہارتیں شامل ہوتی ہیں، جیسے مکینکس، الیکٹریشن یا دیگر ہنر مند تجارت ہیں.انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی ڈگریوں کو زیادہ عزت اور وقار دیا جاتا ہے چاہے ان کا براہ راست صنعت کی ضروریات سے کوئی تعلق نہ ہو جس سے زیادہ تر لوگ یونیورسٹی کی تعلیم کی طرف راغب ہوتے ہیں حالانکہ بہت سی تکنیکی ملازمتیں اچھی تنخواہ اور مستحکم کیریئر کے مواقع فراہم کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ یہ تعصب نہ صرف ان لوگوں کے لیے نقصان دہ ہے جو تکنیکی شعبوں میں کام کرنا چاہتے ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے ہنرمند کارکنوں کی کمی صنعتی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور پالیسی سازوں اور عوام کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بلیو کالر ملازمتوں کی قدر کو پہچانیں اور انہیں یونیورسٹی کی ڈگریوں کے برابر احترام دیں.فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رکن سہیل ملک کا کہنا تھا کہ وہ کئی دہائیوں سے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کے لیے ڈھول پیٹ رہے ہیں لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ سکل گیپ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے ایک بڑی تشویش ہے. انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں کو تکنیکی ماہرین، انجینئرز اور مشین آپریٹرز تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے کیونکہ ان کا کردار اعلی پیداواری اور کارکردگی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے صنعت کاروں کو پیداواریت اور کارکردگی کی قیمت پر کم اہل امیدواروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے تصفیہ کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ کاروبار کی بے لگام ترقی کے لیے صحیح ٹیلنٹ کی دستیابی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ بے لگام مہنگائی کی وجہ سے صنعتکار مہنگے اندرون ملک تربیتی پروگرام شروع نہیں کر سکتے ایک ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے استاد احمد ریاض نے نوکری کے لیے تیار گریجویٹس پیدا کرنے میں بڑے چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع کا پیشہ ورانہ تربیتی نظام متعدد ساختی چیلنجوں سے دوچار ہے.ان چیلنجوں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارے ایسے ہنر سکھا رہے ہیں جو صنعتوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے وقت اپنے نشان سے محروم رہے ان اداروں میں نصب آلات پرانے ہیں اور نصاب میں بھی سنجیدہ تبدیلی کی ضرورت ہے تکنیکی ترقی کو اپنائے بغیرہم صنعت کے لیے ایک موثر افرادی قوت پیدا نہیں کر سکتے انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ صنعت کی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نوجوانوں کا پروگرام شروع کریں.

    گھر سے ایک کروڑ 80 لاکھ مالیت کے زیورات چوری کرنیوالی ملازمہ گرفتار

    یوکرین جنگ،روسی صدر کو ٹرمپ سے امیدیں

  • ٹیکسٹائل سیکٹر ،دو برس بعد برآمدات میں اضافہ

    ٹیکسٹائل سیکٹر ،دو برس بعد برآمدات میں اضافہ

    پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر میں دو برس بعد اضافے دیکھا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق اگست 2024 میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات جون 2022 کے بعد کی بلند سطح پر آ گئی ہے، جولائی کے مقابلے اگست میں ٹیکسٹائل کی برآمدات 29.4 فی صد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق اگست 24 میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 1 ارب 64 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ میں ٹیکسٹائل کی برآمدات 5.3 فی صد اضافے سے 2 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہی۔ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ میں ٹیکسٹائل کی برآمدات 2 ارب 77 کروڑ ڈالر رہی تھی۔

    بجلی کی قیمتوں میں معمولی ریلیف کی توقع: سی پی پی اے کی نیپرا میں درخواست

    واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات فروری میں مسلسل تیسرے مہینے بڑھی تھیں، جس سے عالمی خریداروں کی جانب سے آرڈر ملنے کی بحالی کا عندیہ ملتا ہے۔ پاکستان ادارہ شماریات کے حوالے سے بتایا گیا کہ فروری میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 19.20 فیصد بڑھ کر ایک ارب 40 کروڑ ڈالر تک جا پہنچیں، جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں ایک ارب 18 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں: پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مشکلات کا شکار ہوگئی

    سیلاب کی تباہ کاریاں: پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مشکلات کا شکار ہوگئی

    فیصل آباد:حالیہ سیلاب اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے ملک میں کپاس کی فصل بری طرح متاثر،پنجاب میں 15 فیصد، سندھ میں 80اور بلوچستان میں 100فی صد کپاس کی فصل تباہ ہو گئی،ملک بھر میں زیر کاشت کپاس کی 16 لاکھ ایکڑ سے زائد فصل تباہ ہو گئی،

    تفصیلات کے مطابق اس سال حالیہ سیلاب اور طوفانی بارشوں سے جہاں ملک بھر میں دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے وہاں کپاس کی فصل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور گزشتہ دس سالوں کے دوران کپاس کی سب سے زیادہ پیداوار متوقع تھی جس میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہیوزارت زراعت کیاعداد و شمار کے مطابق اس سال پنجاب میں 36 لاکھ 70ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی ریکارڈ فصل کاشت کی گئی تھی جس میں سے سیلاب اور بارشوں سے5 لاکھ 50ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے جو کہ مجموعی کاشت کا پندرہ فیصد ہے

    اسی طرح سندھ میں اس سال 12لاکھ 70ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کی گئی تھی جس میں سے10لاکھ 21 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی فصل بری طرح متاثر ہوچکی ہے جو کہ مجموعی کاشت کا 80 فیصد ہے جبکہ بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور بارشوں کے نتیجہ میں زیر کاشت 3876 رقبہ پر کھڑی فصل سوفیصد متاثر ہو چکی ہے ملک میں کپاس کی مجموعی کاشت کا 32.2 فیصد رقبہ متاثر ہوا ہے اعداد و شمار کے مطابق اس سال پنجاب میں کپاس کی 6 ملین گانٹھ کی پیداوار متوقع تھی جو کہ اب کم ہوکر 0.9 ملین رہ گئی ہے۔

    شدید بارشوں، ژالہ باری اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 100 فیصد، سندھ میں 80 فیصد جبکہ پنجاب میں 30 فیصد سے زائد کاٹن کی فصل پانی کی نظر ہوئی۔پیداواری ٹارگٹ 1 کروڑ 10 لاکھ بیل سے کم ہوکر صرف 60 لاکھ بیل تک رہ گیا ہے۔

    دوسری طرف کاٹن ریسرچرمحمد رضوان کہتے ہیں کہ روئی کی خشک فصل ہوتی ہے، اگرکپاس کے کھیت میں 24 گھنٹے سے زیادہ پانی کھڑا رہے تو پودا خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے، ہماری تقریباً 40 سے 50 فیصد فصل مکمل تباہ ہوچکی ہے اور اگر پانی جلدی نہ اترا تو اگلی فصلیں بھی بہت متاثر ہوں گی۔

    کپاس کی تباہی سے فیصل آباد کے صنعتکار بھی پریشان ہیں اور دھاگے کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے۔ چیمبر آف کامرس کے صدرعاطف منیر نے بتایا کہ ابھی سے دھاگے کے بیگ میں 8 سے 10 ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔کاٹن ریسرچرز کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں آئندہ ایک سال تک زمین کپاس کی فصل اگانے کے قابل نہیں رہے گی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • حکومتی پالیسی رنگ دکھانے لگی:ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ

    حکومتی پالیسی رنگ دکھانے لگی:ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ

    اسلام آباد:حکومتی پالیسی رنگ دکھانے لگی:ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اس حوالے سے ادارہ شماریات نے حوصلہ افزا رپورٹس دی ہیں‌،

    اسی حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملک کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کا حجم 9 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان نے رواں مالی کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران 9 ارب 38 کروڑ ڈالر سے زائد کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کی ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران 7 ارب 44 کروڑ ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کی گئی تھیں۔اس طرح رواں مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران تیار ملبوسات کی برآمدات میں 23 فیصد، ہوزری مصنوعات میں 35 فیصد، بیڈ شیٹس کی برآمد میں 19 فیصد اور تولیوں کی برآمدات میں ساڑھے 17 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    اسی طرح قالین، غالیچوں اور پایدان کی برآّمدات میں بھی 14 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔یہ بھی یاد رہےکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات ملکی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سے روپے کی قدر میں کمی، ٹیکسٹائل شعبے میں استعمال ہونے والی درآمدی اشیا کی ڈیوٹیز میں کمی، بروقت ریفنڈنگ اور کیش سبسڈیز جیسے عوامل شامل ہیں۔

    ایک جانب جب پاکستانی برآمد کنندگان کو آرڈرز مل رہے ہیں تو دوسری جانب ایکسپورٹرز ملک میں حالیہ گیس بحران پر ان برآمدی آرڈرز کو پورا کرنے کے حوالے مخمصے کا شکار ہیں۔

  • آپٹما کا وزیراعظم عمران خان کے نام اہم خط:کہتے ہیں کہ ہم سب مان گئے "مگرآپ بھی تو مان جائیں””بابا”

    آپٹما کا وزیراعظم عمران خان کے نام اہم خط:کہتے ہیں کہ ہم سب مان گئے "مگرآپ بھی تو مان جائیں””بابا”

    اسلام آباد:آپٹما کا وزیراعظم عمران خان کے نام اہم خط:کہتے ہیں کہ ہم سب مان گئے "مگرآپ بھی تو مان جائیں”اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ٹیکسٹائل کے شعبے کی نمائندہ تنظیم آپٹا نے چند دن پہلے وزیراعظم عمران خان اورمشیر تجارت عبدالرزاق داود کے نام ایک بڑا ہی اہم خط لکھا تھا جس میں ایک بڑی درخواست کی گئی ہے

    وزیراعظم کے نام اپنے خط میں آپٹما کی طرف سے کہا گیا ہےکہ جناب وزیراعظم آپ نے گیس بجلی کے نرخ بڑھائے باوجود اس کے کہ یہ ایک اضافی بوجھ تھا مگرہم نے عالمی حالات کے پیش نظرآپ کے اس فیصلے کوسرتسلیم خم کیا اورجتنی قیمت آپ نے مانگی ہم نے گیس اور بجلی کی مد میں دی

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”446361″ /]

    اس خط میں وزیراعظم کو باور کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 70 فیصد سے زائد ٹیکسٹائل کی صنعت صوبہ پنجاب میں ہے جبکہ صورت حال ہے کہ حکومت نے پنجاب میں تمام ٹیکسٹائل ملوں کی گیس سپلائی معطل کر دی ہے جس سے برآمدات سے جڑے شعبے کو رواں مالی سال کے دوران بھاری مالی نقصان ہوا ہے، اس خط میں یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ گیس اور بجلی کے ٹیرف اتنے نہ بڑھائیں کہ معاملات ہی بگڑجائیں ، کچھ کم کریں تو ہم کام کرین گے

    اس خط میں مزید کہا گیاہے کہ اس تنظیم نے پہلے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور اسی بنیاد پرلاہور ہائیکورٹ نے ملوں میں بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال ہونے والی گیس کے بلوں میں اضافہ تاحکم ثانی روک دیا، عدالت نے حکم امتناعی جاری کر دیا، وفاقی حکومت ، اوگرا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

    وزیراعظم سے درخواست کی گئی ہے کہ جناب اگریہی صورت حال رہی تو سخت سردی میں ہزاروں گھروں کے چولہے بند ہوجائیں گے اور بلا شبہ اس کا ردعمل حکومت کے خلاف جائے گا،آپٹما کی طرف سےکہا گیا ہے کہ تمام ترکٹھن پالیسیوں کے باوجود آپٹما نے تمام بوجھ برداشت کیے لیکن گیس کی لوڈ شیڈنگ کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے اس لیے مہربانی کرکے معاملے کو جلد حل کیا جائے

    تنظیم کی طرف سے مشیر تجارت عبدالرزاق داود کے نام بھی خط لکھا گیا ہے اورتازہ ترین صورت حال سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ پچھلے کئی مہہینو ں سے اس سلسلے میں ہونے والے فیصلوں سے بھی آگاہ کیا گیا ہے

    ادھر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سیکریٹری جنرل شاہد ستارکا کہنا ہے کہ ’’ہماری گیس سپلائی اور بجلی بدھ کی شام سات بجے سے بند کر دی گئی ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہم اپنے ایکسپورٹ کے آرڈرز کیسے پورے کریں گے۔ حکومت کے 30؍ ارب ڈالرز کی برآمدات کے ہدف کو بھی خطرات ہیں کیونکہ گیس سپلائی معطل کرنے کی وجہ سے ٹیکسٹائل کے شعبے کو زبردست نقصان ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ گیس سپلائی پورے موسم سرما میں فروری سے مارچ 2022ء تک بند رہے گی۔

    شاہد ستار کا کہنا تھا کہ سرکاری ذریعے کا کہنا ہے کہ حکومت نے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کی منظوری دی تھی اور فیصلہ کیا تھا کہ اس پر رواں ماہ کے وسط میں نظرثانی کی جائے گی۔ سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے گیس حکام کو ہدایت کی کہ فوری طور پر 200؍ یونٹس کو گیس کی سپلائی معطل کر دی جائے کیونکہ ملک میں گیس کی قلت ہے۔ سرکاری عہدیداروں کو بتایا گیا کہ پنجاب میں برآمدات کے شعبے سے جڑی صنعتوں کی گیس بند کر دی گئی ہے۔ وزیر توانائی نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو یقین دہانی کرائی تھی کہ گیس فراہم کی جائے گی لیکن اس کی لئے قیمت 6.5؍ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 9؍ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگی۔ اس پر اپٹما نے آمادگی کا اظہار کیا تھا تاکہ موسم سرما میں گیس کی سپلائی بحال رہ سکے۔ تاہم، وزارت توانائی نے 2؍ دسمبر کو کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے روبرو گیس لوڈ مینجمنٹ پلان جاری کر دیا۔

    شاید ستارکا یہ بھی کہنا تھا کہ اجلاس کی صدارت وزیر پلاننگ اسد عمر نے کی۔ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی وجہ سے ایک طرف گیس کی بندش کی وجہ سے پنجاب کے ٹیکسٹائل شعبے کو زبردست دھچکا لگا کیونکہ ایک طرف ان کا ٹیرف بڑھا دیا گیا (یہ سندھ اور کے پی کے مقابلے میں دگنا تھا) تو دوسری طرف شعبے کو گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کرنا پڑی۔ ملک کی 70؍ فیصد ٹیکسٹائل انڈسٹری پنجاب میں ہے اور گیس کی سپلائی معطل کرنے سے 80؍ فیصد انڈسٹری تقریباً بند ہو جائے گی جس سے ملکی برآمدات کو بھی نقصان ہوگا۔ موجودہ حالات میں انڈسٹری وعدوں کے مطابق اپنے ایکسپورٹ آرڈرز پورے نہیں کر پائے گی جس سے پاکستان اُس غیر ملکی زر مبادلہ سے محروم ہو جائے گا جو برآمدات کی صورت میں اُسے ملنا تھے۔