Baaghi TV

Tag: ٹیکس

  • حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

    حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

    حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

    وزیر مملکت علی محمد نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی ،

    علی محمد خان کا کہنا تھا کہ میری درخواست پر وزیرخزانہ نے لنڈے کے کپڑوں پر ٹیکس نہیں لگایا، شکرہے سیکنڈ ہینڈ کپڑوں پر ٹیکس نہیں لگا ،وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے مردان میں اہل علاقہ سے گفتگو کی،

    وفاقی حکومت نے منی بجٹ میں سب کچھ مہنگا کر دیا ہے تمام اشیاء پر ٹیکسز لگائے گئے ہیں، منی بجٹ کے حوالہ سے اپوزیشن نے بھی احتجاج کیا ہے، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کہہ چکے تھے کہ حکومت نے عوام کو لنڈے کے کپڑوں تک کا نہیں چھوڑا پیک فوڈ ، بجلی، پیٹرول ، دالیں اور گھی سمیت دیگر اشیاء اس منی بجٹ کے مرہون منت مزید مہنگی ہو جائیں گی۔

    حمزہ شہباز کا مزید کہنا تھا کہ 350 ارب کے منی بجٹ کے ذریعہ لگنے والے ٹیکسوں سے جو سیکڑوں اشیاء مہنگی ہونے جا رہی ہیں اس کا عام مہنگائی پر اثر نہیں پڑے گا؟عمران حکومت کا واحد معاشی مقصد اب صرف عوام سے ٹیکس بٹورنا رہ گیا ہے حکمران مال بنانے میں مصروف ہیں اور عوام فاقوں سے خودکشی پر۔

    لنڈے کے کپڑوں پر ٹیکس کے حوالہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے کچھ ٹویٹس کی ہیں اور حکومت پر کڑی تنقید کی ہے

    ر قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ منی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور ہونا قومی خودکشی ہوگی ,شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منی بجٹ روکنے کے لئے متحدہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے پاکستان کی معاشی خودمختاری خطرے میں ہے منی بجٹ کے ملک اور قوم کے لئے تباہ کن اثرات پر حکومتی ارکان اوراس کے اتحادیوں کے احساس کو جگانے کی کوشش کریں گے موجودہ حکومت قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن گئی ہے ایک اور منی بجٹ کینسر کا علاج اسپرین سے کرنے کے مترادف ہے حکومت آئی ایم ایف کا تیارکردہ منی بجٹ نہ دے، استعفی دے تبدیلی کا سونامی معیشت، روزگار اور عوام کی خوشیوں کو نگل گیا ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی کا ریلیف اب تک عوام کو نہیں مل سکا عوام کے لئے اعلان کردہ معاشی ریلیف پیکج کا اثر تو نہیں نہیں پہنچا البتہ بجلی گیس اور اشیاءکی قیمت مزید بڑھ چکی ہے

    آئی ایم ایف کو بتادیا عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا،شوکت ترین

    وزیر خارجہ بتائیں ہمارے جوان شہید ہیں یا اسامہ ؟ حنا ربانی کھر کا اسمبلی میں اظہار خیال

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان کا کتنا ہوا مالی نقصان؟ رحمان ملک کا انکشاف،کیا بڑا اعلان

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

  • خان صاحب:آخرآپ اس قوم سے کیا چاہتےہیں؟اگرحکومت نہیں چل رہی توعوام کا کیا قصورہے:بلاول بھٹو

    خان صاحب:آخرآپ اس قوم سے کیا چاہتےہیں؟اگرحکومت نہیں چل رہی توعوام کا کیا قصورہے:بلاول بھٹو

    کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے منی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے مزید ایک ارب ڈالر لینے کے لئے عمران خان نے منی بجٹ پیش کرکے عام آدمی کو دیوار سے لگادیاہے۔

    حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے منی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ عمران خان کی آئی ایم ایف ڈیل ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادے گی، پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف سے غلط ڈیل کی بھاری قیمت پاکستان کے عوام ادا کررہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بیکری کی اشیاء سے نومولود بچوں کے دودھ تک پر عمران خان نے ٹیکس بڑھا کر سفاکیت کی انتہا کردی، ڈبے کا دودھ اور ماچس بھی عمران خان نے منی بجٹ میں مہنگی کرکے اپنے عوام دشمن ہونے کا ثبوت دیا ہے، موبائل فون کالز کے پیسے بڑھادئیے، کتابوں تک پر ٹیکس عائد کردیا گیا، ملک میں اندھیر نگری کا راج نہیں چلے گا۔

    ادھرعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے منی بجٹ میں کن کن اشیاء پر ٹیکس لگا رہی ہے، تفصیلات سامنے آ گئیں۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مالیاتی ترمیمی بل میں موبائل فونز پر یکساں 17 فیصد ٹیکس، سونے چاندی پر ٹیکس 1 فیصد سے 17 فیصد آئل سیڈ کی درآمد پر ٹیکس 5 فیصد سے 17 فیصد ،مائننگ کیلئے درآمدی مشینری پر 17 فیصد نیا ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں‌

    پرچون فروشوں کا ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ساشے میں فروخت ہونے والی اشیاء کا ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، غیر ملکی سرکاری تحفوں اور عطیات پر 17 فیصد ٹیکس لاگوکیے گئے ہیں‌

    قدرتی آفات کیلئے موصو لہ مال پر ٹیکس لاگو ، پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو درآمدی جانوروں اور مرغیوں پر 17 فیصد ٹیکس ، زرعی بیج، پودوں، آلات اور کیمیکل پر ٹیکس 5 فیصد سے 17، پولٹری سیکٹر کی مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے 17 فیصد کردیا ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 سے بڑھا کر 17 فیصد ، بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ڈیوٹی فری شاپس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا ہے

    بڑی کاروں پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، درآمدی الیکٹرک کاروں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد بزنس ٹو بزنس رقم منتقلی پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 17 فیصد کردیا ادویات کے خام مال پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ، بیکریوں، ریسٹورنٹ اور فوڈ چین پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، کیٹررز، ہوٹلز اور بڑے ریسٹورنٹس پر ٹیکس 7.5 فیصد 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ، درآمدی سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد ، پیکنگ میں فروخت ہونے والے مصالحوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیئے گئے ہیں‌

    فلور ملز پر بھی 10 فیصد ٹیکس لگایا جائے عائد،ماچس، ڈیری مصنوعات، الیکٹرک سوئچ پر 17 فیصد ٹیکس عائد، برانڈڈ مرغی کے گوشت کے گوشت پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد ، پراسس کئے ہوئے دودھ پر ٹیکس 10 فیصد سے 17 فیصد، پیکنگ میں دہی، پنیر، مکھن، دیسی گھی اور بالائی پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد،ڈیری کیلئے مشینری پر بھی ٹیکس شرح 17 فیصد لاگو کردیا ہے

  • پیدائش سے پہلےٹیکس،پیدائش کے وقت ٹیکس،جینے پرٹیکس،مرنے پرٹیکس:غریبوں‌ کی بے بسی پرٹیکس

    پیدائش سے پہلےٹیکس،پیدائش کے وقت ٹیکس،جینے پرٹیکس،مرنے پرٹیکس:غریبوں‌ کی بے بسی پرٹیکس

    لاہور:پیدائش سے پہلےٹیکس،پیدائش کے وقت ٹیکس،جینے پرٹیکس،مرنے پرٹیکس:غریبوں‌ کی بے بسی پرٹیکس ،اطلاعات کے مطابق حکومت نے منی بجٹ کے نام پر ایک بار پھر قوم کو سخت آزمائش میں ڈال دیا ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ حکومت میں بیٹھے طاقتور لوگوں نے غریبوں پر رحم نہ کھانے کی قسم کھالی ہے

    المی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے منی بجٹ میں کن کن اشیاء پر ٹیکس لگا رہی ہے، تفصیلات سامنے آ گئیں۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مالیاتی ترمیمی بل میں موبائل فونز پر یکساں 17 فیصد ٹیکس، سونے چاندی پر ٹیکس 1 فیصد سے 17 فیصد آئل سیڈ کی درآمد پر ٹیکس 5 فیصد سے 17 فیصد ،مائننگ کیلئے درآمدی مشینری پر 17 فیصد نیا ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں‌

    پرچون فروشوں کا ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ساشے میں فروخت ہونے والی اشیاء کا ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، غیر ملکی سرکاری تحفوں اور عطیات پر 17 فیصد ٹیکس لاگو،
    قدرتی آفات کیلئے موصو لہ مال پر ٹیکس لاگو ، پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو درآمدی جانوروں اور مرغیوں پر 17 فیصد ٹیکس ، زرعی بیج، پودوں، آلات اور کیمیکل پر ٹیکس 5 فیصد سے 17، پولٹری سیکٹر کی مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے 17 فیصد کردیا ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 سے بڑھا کر 17 فیصد ، بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ڈیوٹی فری شاپس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا ہے

    بڑی کاروں پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، درآمدی الیکٹرک کاروں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد بزنس ٹو بزنس رقم منتقلی پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 17 فیصد کردیا ادویات کے خام مال پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ، بیکریوں، ریسٹورنٹ اور فوڈ چین پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، کیٹررز، ہوٹلز اور بڑے ریسٹورنٹس پر ٹیکس 7.5 فیصد 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ، درآمدی سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد ، پیکنگ میں فروخت ہونے والے مصالحوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیئے گئے ہیں‌

    فلور ملز پر بھی 10 فیصد ٹیکس لگایا جائے عائد،ماچس، ڈیری مصنوعات، الیکٹرک سوئچ پر 17 فیصد ٹیکس عائد، برانڈڈ مرغی کے گوشت کے گوشت پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد ، پراسس کئے ہوئے دودھ پر ٹیکس 10 فیصد سے 17 فیصد، پیکنگ میں دہی، پنیر، مکھن، دیسی گھی اور بالائی پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد،ڈیری کیلئے مشینری پر بھی ٹیکس شرح 17 فیصد لاگو کردیا ہے

  • موبائل ایپ سے پنجاب کو 60 ارب سے زائد ریکارڈ ٹیکس وصول

    موبائل ایپ سے پنجاب کو 60 ارب سے زائد ریکارڈ ٹیکس وصول

    لاہور : موبائل ایپ سے پنجاب کو 60 ارب سے زائد ریکارڈ ٹیکس وصول ،اطلاعات کے مطابق ٹیکس ادائیگی کی موبائل ایپ پر پنجاب کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، ای پے پنجاب سے ٹرانزیکشنز ایک کروڑ 23 لاکھ سے بڑھ گئیں۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ای پے سے مجموعی طور پر حکومت پنجاب کو60 ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو وصول ہوا ہے۔

    ای پے سے سوا35ارب روپے سیلز ٹیکس اور ساڑھے 10 ارب ٹوکن ٹیکس وصول جبکہ ای پے پنجاب کے سوا8 ارب روپے پراپرٹی ٹیکس اور پونے 3 ارب ٹریفک چالان وصول کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ای پے پی آئی ٹی بی نے محکمہ خزانہ پنجاب کے اشتراک سے وضع کیا۔

    چیئرمین پی آئی ٹی بی کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایپ سے گھر بیٹھے 10محکموں کے21ٹیکسز کی ادائیگی ممکن ہے، ای پے سےعوام کو وقت کی بچت اور ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی گئی ہے۔

    دوسری طرف قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کردیا گیا ہے اور بحث جاری ہے ، اپوزیشن احتجاج کررہی ہے اور حکومت اس بل کا دفاع کررہی ہے، ادھر وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ منی بجٹ سے عوام پر صرف دو ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

    پارلیمانی اجلاس کے بعد قومی اسمبلی میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ بجٹ 350 ارب روپے کا نہیں بلکہ 72 ارب روپے کا مجموعی بجٹ ہے، منی بجٹ سےعوام پر مزید صرف 2 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، عام آدمی پر 17 فیصد جی ایس ٹی نہیں لگے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ منی بجٹ کے معاملے پر تمام اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں اور اتحادی ہمیشہ ساتھ ہی ہوتے ہیں۔

  • #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف جاری مہم اگلے مرحلے میں پہنچ چکی ہے

    دی کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکو نوشی کے خلاف ملک گیر مہم جاری ہے، اس مہم میں تمباکو نوشی سے بچوں کو دور رکھنے کے لئے آگاہی پروگرام کئے جاتے ہیں تو وہیں سوشل میڈیا پر بھی بھر پور مہم چلائی جاتی ہے، آج سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ چلایا گیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ تا کہ کمسن بچے سگریٹ نہ خرید سکیں اور منشیات کی لت سے دور رہیں،

    تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے مہم جاری ہے، پہلے مرحلے میں باغی ٹی وی پر تمباکو نوشی کے خلاف چالیس سے زائد بلاگز شائع کئے گئے اب اگلے مرحلے میں تمباکو نوشی کے خلاف جاری اس مہم میں صارفین نے بڑی تعداد میں حصہ لیا، صارفین نے تمباکو نوشی کے نقصانات پر ٹویٹس کیں اور اپنے جذبات کا اظہار کیا

    پاکستان میں83 ارب سگریٹ بنائے جاتے ہیں اور وہ ہر سال پھونک دیئے جاتے ہیں پاکستان کو سگریٹ بنانے کی اجازت ہے کہ انڈسٹری ہمیں کیا فائدہ دے رہی ہے اکانومی پر کیا اثر ہے کیا اس سے نوکری مل رہی ہے حکومت ٹیکس کیوں نہیں لگاتی سگریٹ نوشی ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہی ہے ایک لاکھ ستر ہزار اموات ہر سال تمباکو سے ہوتی ہیں اور اسکا متبادل نوجوان سگریٹ نوشی کر دیتے ہیں بچوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ہمیں بچوں کو بچانا ہے-

    ایک صارف سیدہ ام حبیبہ کا کہنا تھا کہ اس ٹرینڈ کی مخالفت میں لکھنا ہو تو یہی ہیش ٹیگ استعمال کیجیے
    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ

    https://twitter.com/HSbuddy18/status/1473618000108568587

    https://twitter.com/HassanSajid01/status/1473606648472113153

    https://twitter.com/Rehna_7/status/1473606139552092166

    https://twitter.com/ali_14572/status/1473604974890336259

  • آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق غلط فہمیاں جنم لے رہی تھیں،شوکت ترین

    آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق غلط فہمیاں جنم لے رہی تھیں،شوکت ترین

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق غلط فہمیاں جنم لے رہی تھیں،

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف کوٹیکسز بڑھانے سے انکار کیا، احساس پروگرام کےتحت ہمارے پاس ڈیٹا اکھٹا ہو چکا ہے،ایس ایم ایز کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،بہت محدود لوگوں کو بینک لون دیتے ہیں جو ستم ظریفی ہے،حکومت کو امیر غریب کا پتہ چل گیا ہے،ڈیٹا موجود ہے ، نئی 223 کمپنیوں نے چھوٹے سرمائے سے آغاز کیا تومعیشت میں بہتری ہو گی،ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ روپے کی قدر بہتر ہو،ہمیں اسٹاک مارکیٹ پرلوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہو گا،ایس ای سی پی میں کمپنیوں کی رجسٹریشن تیزی سے ہو رہی ہے ماضی کے مقابلے کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 20 فیصد اضافہ ہوا،

    شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ افواہیں تھیں لاکرز سیل ہوجائیں گے ،ایسا کچھ نہیں ہوگا،آئی ایم ایف معاہدہ کے بعد ٹیکسزمیں اضافہ نہیں ہو گا چھوٹ ختم ہو گی ٹیکسز نہیں بڑھیں گے ،جو پہلے سے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید ٹیکس عائد نہیں ہوگا،عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے ہیں،کیا کھاد پر سبسڈی ہمارے کسانوں تک پہنچ رہی ہے؟ کھاد پر سبسڈی سے بھی یوریا کی بوری کسان کو 2200 میں مل رہی ہے، ہم کسانوں کو ڈائریکٹ ٹارگٹڈ سبسڈی دینے جا رہے ہیں،پہلی جیم بورڈ لسٹنگ کا مارکیٹ میں ہونا اہم اور قابل ستائش ہے اسٹاک مارکیٹ کا جیم بورڈ ایس ایم ای سیکٹر کو سرمایہ فراہم کرے گا، اسمال میڈیم انٹرپرائزز جی ڈی پی گروتھ میں معاون بن رہی ہے،سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،اسٹاک ایکس چینج میں لاکھوں افراد سرمایہ کاری کرتے ہیں،

    کیا فیصل واوڈا قانون سے بالا تر ہیں؟ ،عدم پیشی پر الیکشن کمیشن کا اظہار برہمی

    استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واوڈا الیکشن کمیشن میں پیش، پھر مہلت مانگ لی

    میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں لیکن یہ کام ضرور کریں، فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں بیان

    کامیاب جوان پروگرام،20 روز میں کتنے لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں؟ وزیراعظم کو بریفنگ

    کامیاب جوان پروگرام ،وزیراعظم نے دی رقم بڑھانے کی منظوری

    کامیاب جوان پروگرام کی خود مانیٹرنگ کر رہا ہوں،شفافیت،میرٹ پر سمجھوتہ نہیں ہو گا، وزیراعظم

    کامیاب جوان پروگرام، وزیراعظم عمران خان نے بینکوں کو بڑا حکم دے دیا

    کامیاب جوان پروگرام کی ایک اور کامیاب کہانی

    پیٹرولیم لیوی کچھ نہ کچھ بڑھانی پڑے گی شوکت ترین

  • ایف بی آر  مقررہ ہدف سے  زائد ریوینیو حاصل کرنی میں کامیاب، پچھلے سال کا بھی ریکارڈ ٹوٹ گیا!

    ایف بی آر مقررہ ہدف سے زائد ریوینیو حاصل کرنی میں کامیاب، پچھلے سال کا بھی ریکارڈ ٹوٹ گیا!

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی تا جنوری کیلئے مقررہ ہدف سے 20 ارب زائد ریوینیو حاصل کرلیا۔

    ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں 2570 ارب روپے کے محصولات جمع کیے جو پچھلے سال اسی عرصے میں حاصل ہونے والے 2416 ارب روپے سے 6.4 فیصد زیادہ ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں ریونیو نیٹ کولیکشن 364 ارب روپے رہی جبکہ مقرر کردہ ہدف 340 ارب روپے تھا، یہ وصولیاں پچھلے سال جنوری کے حاصل کردہ نیٹ ریونیو کے مقابلے میں 12.3 فیصد زیادہ ہیں۔ رواں مالی سال اب تک 129 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے جا چکے ہیں جو کہ پچھلے سال اس عرصے میں 69 ارب روپے تھے، اس سال اب تک ریفنڈز کے اجراء میں 87 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔

    ٹیکس گوشواروں کے ساتھ ادا شدہ ٹیکس 48.3 ارب روپے رہا جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں 29.6 ارب روپے تھا۔ اس طرح اس سال ٹیکس ادائیگی میں 63 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر نے 14 لاکھ ٹیکس گزاروں کو نوٹسز جاری کیے ہیں جنہوں نے گوشوارے داخل نہیں کیے یا صفر قابل ٹیکس آمدنی ظاہر کی ہے یا پھر اپنے اثاثوں کی غلط تفصیلات فراہم کی ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق 30 جنوری 2021 تک انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 25 لاکھ 20 ہزار ہو چکی، ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، معاشی ترقی کے باعث ریوینو کے حصول میں مزید بہتری کی توقع ہے-

  • امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے، جس کا اثر غریبوں پر پڑتا ہے ، عبدالحفیظ شیخ نے سچ سچ بتا دیا

    امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے، جس کا اثر غریبوں پر پڑتا ہے ، عبدالحفیظ شیخ نے سچ سچ بتا دیا

    اسلام آبادملک کا امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پر کسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی۔ان خیالات کااظہار :مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ، مشیر خزانہ نے کہا اگر امیر لوگ اپنے کاروبار کے حساب سے ٹیکس نہیں دیں تو لامحالہ اس کےاثرات غربیوں پربھی پڑیں گے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ ملک کا امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پر کسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی۔ پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی تعداد 25لاکھ ہوگئی ہے، ایف بی آر میں 6 لاکھ ٹیکس دہندگان کو رجسٹر کیا گیا اور اسے مزید بڑھایاجائےگا،

    عبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہ ایسا پروگرام متعارف کرا رہے ہیں جس میں ایکسپورٹرز کو فوری ری فنڈ ملے گا،آئندہ سے ہر مہینے کی 16 تاریخ کو ٹیکس ریفنڈ ہوجایا کرے گا۔

  • موٹروے پر سفر کرنے والوں کے لیے ایسی خبر ، جس کو پڑھنا ضروری ہوگیا

    موٹروے پر سفر کرنے والوں کے لیے ایسی خبر ، جس کو پڑھنا ضروری ہوگیا

    اسلام آباد :ٹیکس سسٹم مزید فعال ہوگیا ، اب موٹر وے پر سفر کرنے والے ہو جائیں تیار، حکومت نےٹول ٹیکس میں 10فیصد اضافہ کردیا،اضافہ شدہ ٹیکس کل سے وصول کیا جائیگا۔

    موٹروے ذرائع کے مطابق کل سے ایم ٹو کے ٹول ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ کر دیا جائے گا، اب لاہور سے اسلام آباد جانے والی گاڑیوں کو ٹول ٹیکس 680 کے بجائے 750 روپےدینا ہو گا۔

    دوسری طرف اس حوالے سے شہری حلقوں کی جانب سے ایم ٹو کےٹول ٹیکس میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ٹیکس پالیسی عوام سے جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔

  • ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    اگر ہماری اکانومی ایک ڈاکیومینٹڈ اکانومی ہوتی جس میں برسوں سے لوگوں کا سارا ڈیٹا ان کی ساری انکم اور اثاثے یعنی منی ٹریل ہر لمحہ مرتب ہورہی ہوتی تو کسی بھی جعلی رسید ، اووربلنگ یا انڈر انوائیسنگ کو ایک دو چیکس لگا کر کراس چیک کیا جانا مشکل نہ ہوتا اور ہمارے لین دین کے معاملات میں اتنے گھپلے ، اتنی دو نمبریاں اور اتنی پیچیدگیاں نہ ہوتیں ۔

    سب سے پہلے تو اس طرح سے ملزم عاطف کے پاس کروڑوں روپے جمع ہی نہیں ہو پاتے ۔ بینکنگ چینل سے اتنی اتنی بڑی بڑی رقوم کا ایک ہی شخص کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہونا پہلے دن ہی نوٹس میں آجاتا ۔ FBR سے لیکر اسٹیٹ بنک کے اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ تک نوٹسز آچکے ہوتے کہ میاں کونسا کام ہورہا ہے کہ ڈیڑھ دو سالوں میں ہی آپکے اکاونٹ میں یہ پانچ کروڑ ، دس کروڑ یا پچپن کروڑ تک کیسے آگئے۔ دوسری طرف دینے والوں کے پاس بھی پہلے تو اس طرح اتنا پیسہ جمع ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کے پاس گھر یا گاؤں کی زمین بیچ کر آتا بھی تو وہ اسے اس طرح بغیر کسی لکھت پڑھت کبھی کسی عاطف کے حوالے نہ کرتا ۔

    مرید کا دوسرا قاتل ہمارا اخلاقی طور پر زوال پذیر معاشرہ بھی ہے جس نے نفسا نفسی کو اس قدر زور دے رکھا کہ ہر شخص بہت کچھ بہت جلدی کرنے کے چکر یا خواہش میں ہے ۔ سب کو بہت کچھ فورا فورا چاہیے ۔ کیونکہ معاشرے نے یا ریاست نے بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی ترجیح نہیں بنایا لہذا مستقبل کے خدشات نے ہم سب کو پروفیشنل وولچرز بنا دیا ہے ایک عاطف ہی کیا یہاں پر شخص ہی ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے کما رہا ہے No wonder کے ہم دنیا کی چند بدعنوان ترین قوموں میں سرفہرست ہیں باوجود اسکے کہ سب سے زیادہ زکوۃ ، خیرات ، صدقات، حج ، عمرے ، کرنے میں بھی ہماری ہی قوم آگے ہے ۔ سارا رمضان زیادہ پرافٹ لینے والے حاجی صاحب شب قدر کی راتوں میں حرم شریف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ڈاکیومینٹیشن سے بھی انکاری ہیں ۔

    دیکھا جائے تو ڈاکیومینٹیشن کا ایمانداری سے براہ راست اور گہرا تعلق ہے۔ اور یہ دین اسلام کا بڑا شدید تقاضہ بھی ۔ آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ قرآن کریم میں سب سے طویل آیت مبارک مبارکہ ، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 282 ہے اور یہ نماز روزہ حج یا زکوۃ سے متعلق نہیں بلکہ لین دین ، قرض دینے لینے ، یعنی پیسے کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقلی کی Documentaion یعنی باقاعدہ لکھت پڑھت کے متعلق ہے ۔ زبانی قول و قرار نہیں بلیک اینڈ وائٹ میں کاغذ کے اوپر تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت ثبوت کے طور پر کام آئے ۔ اسی سے کام کاج میں شفافیت پیدا ہوتی ہے اور کسی کے لیے بھی اپنی بات سے پھرنا یا مکرنا مشکل ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے لکھنے کے ساتھ ساتھ گواہوں کی موجودگی کی بھی شرط رکھی ہے گواہوں کو کہا گیا کہ کبھی شہادت نہ چھپانا اور گواہوں کا معیار تک بتایا ہے لکھنے والے کاتب تک حکم کہ جو قرض لینے والا لکھے ویسا ہی ایمانداری سے لکھو ۔ کیونکہ ڈاکیومینٹیشن کو اپنا کر ہی کوئی سوسائٹی ہر وقت کی جھک جھک سے بچ سکتی ہے اور افراد معاشرہ بھی ایک دوسرے سے لوٹے جانے یا ڈز کھانے کے ڈر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

    جس معاشرے میں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ اور written فارم میں ہوگی وہاں بے ایمانی اور دھوکے بازی کے چانسز اتنے ہی کم ہوں گے ۔ چھوٹے سے چھوٹے فرد سے لیکر بڑے سے بڑے عہدیدار کو بھی اگر یہ احساس ہو کہ اس سے کسی بھی وقت چیک اینڈ بیلنس سے گزرنا پڑ سکتا ہے تو وہ بھی کسی بلیک اکانومی کا حصہ بننے سے کنی کترائے گا ۔ اس لینڈ کروزر کا کیا فائدہ جسے روڈ پر لے کر نکلتے ہی پوچھا جائے کہ SHO صاحب رسیداں کڈھو ، کدھر سے لی اور کیسے لی تو پھر کون جلتی میں ہاتھ ڈالے گا ۔ ظاہر ہے مکمل خاتمہ شاید نہ ہو پائے لیکن ایک بند تو بندھے گا ۔ بات لمبی ہونے کا ڈر ہے ورنہ تو اپنے گلی محلوں میں ہونے والی بے ہنگم تعمیرات، پارکوں کے اجڑنے یا اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے کے پیچھے جائیں تو کہیں نہ کہیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا رشوت خور اہلکار یا تھانے کا ایس ایچ او ہی ہوگا ۔ کیونکہ ان سب کو پتہ ہے بھلے ان کی تنخواہیں تیس پینتیس چالیس پچاس ہزار روپے ہیں اور ان کا لائف اسٹائل کسی بھی طرح لاکھوں روپے کمانے والے لوگوں سے کم نہیں بلکہ کئی سولہ سترہ گریڈ کے اہلکاروں کو بادشاہوں والی زندگی گذارتے ہوئے تو ہم سے اکثر لوگ دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔ بابو کو بھی ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا کیونکہ کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔ اور اگر پوچھے تو گاڑی اماں کے نام پلاٹ ، بنگلہ بیوی کے نام فلاں چیز اس کے نام تو فلاں چیز اسکے نام دکھا کر کھاتا پورا کرکے دکھا دو ۔ دو کروڑ کی گاڑی تیس لاکھ کی شو کر دو ۔ کون پوچھے گا پلٹ کر ۔
    جو بیچنے والا ہے وہ بھی ڈبل ڈبل کھاتے بنا کر چل رہا ہے ۔ ایک گنگا ہے جس میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے ۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں اور اپنی اکانومی کو ڈاکیمینٹڈ بنانے میں پورا ساتھ دیں ۔ کیونکہ اس بلیک یا undocumented economy کے دیمک نے ہمارے معاشرے کے اخلاقی وجود کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ اسی بلیک اکانومی کی وجہ سے رشوت لینے والے ، زیادہ منافع کما کر کم ٹیکس دینے والے اور کسی بھی غلط طریقے سے زیادہ سے زیادہ wealth accumulateکرنے والے کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ وہ اتنی ویلتھ کہاں پارک کرے گا ۔ یہ اسی بے فکری کا ہی نتیجہ ہے کہ پولیس سے لیکر عدلیہ اور تعلیم سے لیکر صحت تک کے ادارے میں اس کرپشن کے ناسور نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ ڈاکیومینٹیشن کا سوچ کر سب کی جان نکلے جارہی ہے ۔ ڈاکیومینٹیشن ہوگی تو ریاست اور ادارے کسی بھی بندے سے پوچھ سکیں گے کہ بھائی آپ کی تنخواہ ، دکان کی کمائی ، سرکاری نوکری میں تو آپ کا یہ طرز زندگی یہ ہائی فائی لائف اسٹائل اور بڑی بڑی Gatted societies میں رہنا تو افورڈ ہی نہیں ہو سکتا تو یہ سب کیسے چل رہا ہے ؟ ذرا وضاحت کردیجیے ۔ اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا جائے تو اس میں کیا برا ہے ؟ ۔ کسی بھی صحیح انسان کو اس میں تو کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہئیے کہ وہ ڈاکیومینٹڈ اکانومی کا حصہ بنے اور ہر ٹرانسیکشن کا ایک بلیک اینڈ وائٹ ثبوت لے بھی اور دے بھی ۔

    اس کوشش اور جدوجہد میں سیاسی وابستگی یا لبرلز اور مذہبی کی تخصیص رکھنا اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کرنا ہوگا ۔ ڈاکیومینٹیشن تو ہر معاشرے کی ضروت ہے چاہے سیکولر ہو یا وحی کا ماننے والا ۔ ڈاکیومینٹشن تو ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کی زندگی کو امن سکون تحفظ اور بہتر ماحول دے سکے گی ۔امن اور سکون ہوگا تو سب کو اپنی دوسری خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندر نئی خصوصیات پیدا کرنے کا وقت بھی مل سکے گا اور حوصلہ بھی ہوگا کہ اب مقابلہ محنت کا محنت ، ذہانت کا ذہانت اور Creativity کا Creativity سے ہوگا ۔