Baaghi TV

Tag: ٹیکس

  • بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں
    وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ائیر 2019 میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس جمع کرایا، وزیراعظم  نے ٹیکس ائیر 2019 میں 82 لاکھ 81 ہزار830 سو روپے کی پریزمٹو آمدنی اور 23 لاکھ 64 ہزار150 روپے کی زرعی آمدنی ظاہر کی ہے۔

    ایف بی آر نے پارلیمنٹرینز کی سال2019کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی ہے، جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 98لاکھ 54 ہزار959 روپے، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے 82 لاکھ 42 ہزار 662 روپے، آصف زرداری نے 22 لاکھ 18 ہزار 229 روپے، اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے 5 لاکھ 35 ہزار243 روپے ٹیکس دیا۔

    دیگر سیاستدانوں میں  شاہدخاقان عباسی نے48لاکھ 71 ہزار277 روپے، وزیرخزانہ شوکت ترین نے  2 کروڑ 66 لاکھ 27 ہزار 737 روپے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 8 لاکھ 51 ہزار 955 روپے اور پی ٹی آئی کے نجیب ہارون نے 14 کروڑ 7 لاکھ 49 ہزار روپے ٹیکس دیا۔  وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 19 لاکھ 21 ہزار 914 روپے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 66 ہزار 258 روپے، سابق وزیراعلیٰ جام کمال نےایک کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار 799 روپے، موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے 10 لاکھ 61 ہزار 777 روپے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےصرف 2 ہزارروپےٹیکس دیا۔

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان کا کتنا ہوا مالی نقصان؟ رحمان ملک کا انکشاف،کیا بڑا اعلان

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    آئی ایم ایف کو بتادیا عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا،شوکت ترین

    وزیر خارجہ بتائیں ہمارے جوان شہید ہیں یا اسامہ ؟ حنا ربانی کھر کا اسمبلی میں اظہار خیال

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 5 لاکھ 55 ہزار 794 روپے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایک کروڑ 39 لاکھ 9 ہزار327 روپے، وفاقی وزیر اسد عمر نے 42 لاکھ 72 ہزار 426 روپے، وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے ایک لاکھ 36 ہزار 808 روپے، وزیر مملکت فرخ حبیب نے 4 لاکھ 5 ہزار 477 روپے، وفاقی وزیر مراد سعید نے 86 ہزار 606 روپے، سینیٹر رضا ربانی نے ایک کروڑ 55 لاکھ 5 ہزار 493 روپے، سینیٹر طلحہ محمود نے 3 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار 549 روپے، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی نے 9 لاکھ 32 ہزار 835 روپے اور وفاقی وزیرعلی زیدی نے10 لاکھ 47 ہزار 808 روپے ٹیکس دیا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرنے والے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمںٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے 331 ارکان نے تاحال تفصیلات جمع نہیں کرائیں، 15 جنوری تک اثاثوں کی تفصیلات موصول نہ ہوئیں تو رکنیت معطل کر دی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کے 17، قومی اسمبلی کے 102، پنجاب اسمبلی کے 127، سندھ اسمبلی کے 31 ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 40 اور بلوچستان اسمبلی کے 14 ارکان نے تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے ٹیکس ڈائریکٹری کے اجراء پر کہا کہ یہ شفافیت کی طرف ایک اہم قدم ہے، قوم کی نظریں ارکان پارلیمان پر ہوتی ہیں، جب قوم کو معلوم ہو گا کہ ارکان پارلیمان شفاف طریقہ سے ٹیکس ادا کرتے ہیں تو شہری بھی اسی جذبہ کے ساتھ ٹیکس ادا کریں گے، اس سے ٹیکس کے پورے نظام میں شفافیت آئے گی۔ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں ٹیکس کے فعال اور مؤثر نظام کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، ٹیکس ریونیو کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرتا، ماضی میں جس کو بھی موقع ملتا وہ ٹیکس کو چھپانے کی کوشش کرتا، اس سے ترقی کے سفر پر اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس جاری اخراجات کیلئے بھی پیسے نہیں ہوتے جبکہ ترقیاتی اخراجات کیلئے قرضے لینا پڑتے ہیں، اگر ٹیکس کا شفاف اور مؤثر نظام موجود ہو تو اس طرح کے مسائل سے چھٹکارا ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمان کی ٹیکس ڈائری کی اشاعت کا آغاز 2013ء میں ہوا تھا، یہ ایک اچھی روایت ہے، اس مرتبہ ٹیکس ڈائریکٹری میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں جو خوش آئند ہیں

    ارکان پارلیمنٹ کے ادا کردہ ٹیکس پر مشتمل ڈائریکٹری میں ان ارکان کے نام شامل ہیں جنہوں نے 3 جوری 2022 تک اپنی ریٹرن فائل کی تھی۔ یہ ریٹرن آن لائن جمع ہوئی یا ہاتھ سے جمع کرائی گئی ڈائریکٹری میں ایسے ممبران کے نام شامل ہیں ٹیکس نل ظاہر کیا گیا ہے ان میں فیصل سلیم رحمان شامل ہیں تاہم انہوں نے زرعی انکم ظاہر کی ہے سینیٹر پلوشہ خان کی طرف سے کوئی آمدن ظاہر نہیں کی گئی قومی اسمبلی کے ریٹرن جمع کرانے والے 312 ارکان میں سے صرف دس ایسے ہیں جن کا انکم ٹیکس نل ہے تاہم ان میں کچھ ارکان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زرعی آمدن کو ظاہر کیا ہے

    حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

  • حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

    حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

    حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

    وزیر مملکت علی محمد نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی ،

    علی محمد خان کا کہنا تھا کہ میری درخواست پر وزیرخزانہ نے لنڈے کے کپڑوں پر ٹیکس نہیں لگایا، شکرہے سیکنڈ ہینڈ کپڑوں پر ٹیکس نہیں لگا ،وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے مردان میں اہل علاقہ سے گفتگو کی،

    وفاقی حکومت نے منی بجٹ میں سب کچھ مہنگا کر دیا ہے تمام اشیاء پر ٹیکسز لگائے گئے ہیں، منی بجٹ کے حوالہ سے اپوزیشن نے بھی احتجاج کیا ہے، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کہہ چکے تھے کہ حکومت نے عوام کو لنڈے کے کپڑوں تک کا نہیں چھوڑا پیک فوڈ ، بجلی، پیٹرول ، دالیں اور گھی سمیت دیگر اشیاء اس منی بجٹ کے مرہون منت مزید مہنگی ہو جائیں گی۔

    حمزہ شہباز کا مزید کہنا تھا کہ 350 ارب کے منی بجٹ کے ذریعہ لگنے والے ٹیکسوں سے جو سیکڑوں اشیاء مہنگی ہونے جا رہی ہیں اس کا عام مہنگائی پر اثر نہیں پڑے گا؟عمران حکومت کا واحد معاشی مقصد اب صرف عوام سے ٹیکس بٹورنا رہ گیا ہے حکمران مال بنانے میں مصروف ہیں اور عوام فاقوں سے خودکشی پر۔

    لنڈے کے کپڑوں پر ٹیکس کے حوالہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے کچھ ٹویٹس کی ہیں اور حکومت پر کڑی تنقید کی ہے

    ر قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ منی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور ہونا قومی خودکشی ہوگی ,شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منی بجٹ روکنے کے لئے متحدہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے پاکستان کی معاشی خودمختاری خطرے میں ہے منی بجٹ کے ملک اور قوم کے لئے تباہ کن اثرات پر حکومتی ارکان اوراس کے اتحادیوں کے احساس کو جگانے کی کوشش کریں گے موجودہ حکومت قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن گئی ہے ایک اور منی بجٹ کینسر کا علاج اسپرین سے کرنے کے مترادف ہے حکومت آئی ایم ایف کا تیارکردہ منی بجٹ نہ دے، استعفی دے تبدیلی کا سونامی معیشت، روزگار اور عوام کی خوشیوں کو نگل گیا ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی کا ریلیف اب تک عوام کو نہیں مل سکا عوام کے لئے اعلان کردہ معاشی ریلیف پیکج کا اثر تو نہیں نہیں پہنچا البتہ بجلی گیس اور اشیاءکی قیمت مزید بڑھ چکی ہے

    آئی ایم ایف کو بتادیا عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا،شوکت ترین

    وزیر خارجہ بتائیں ہمارے جوان شہید ہیں یا اسامہ ؟ حنا ربانی کھر کا اسمبلی میں اظہار خیال

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان کا کتنا ہوا مالی نقصان؟ رحمان ملک کا انکشاف،کیا بڑا اعلان

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

  • خان صاحب:آخرآپ اس قوم سے کیا چاہتےہیں؟اگرحکومت نہیں چل رہی توعوام کا کیا قصورہے:بلاول بھٹو

    خان صاحب:آخرآپ اس قوم سے کیا چاہتےہیں؟اگرحکومت نہیں چل رہی توعوام کا کیا قصورہے:بلاول بھٹو

    کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے منی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے مزید ایک ارب ڈالر لینے کے لئے عمران خان نے منی بجٹ پیش کرکے عام آدمی کو دیوار سے لگادیاہے۔

    حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے منی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ عمران خان کی آئی ایم ایف ڈیل ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادے گی، پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف سے غلط ڈیل کی بھاری قیمت پاکستان کے عوام ادا کررہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بیکری کی اشیاء سے نومولود بچوں کے دودھ تک پر عمران خان نے ٹیکس بڑھا کر سفاکیت کی انتہا کردی، ڈبے کا دودھ اور ماچس بھی عمران خان نے منی بجٹ میں مہنگی کرکے اپنے عوام دشمن ہونے کا ثبوت دیا ہے، موبائل فون کالز کے پیسے بڑھادئیے، کتابوں تک پر ٹیکس عائد کردیا گیا، ملک میں اندھیر نگری کا راج نہیں چلے گا۔

    ادھرعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے منی بجٹ میں کن کن اشیاء پر ٹیکس لگا رہی ہے، تفصیلات سامنے آ گئیں۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مالیاتی ترمیمی بل میں موبائل فونز پر یکساں 17 فیصد ٹیکس، سونے چاندی پر ٹیکس 1 فیصد سے 17 فیصد آئل سیڈ کی درآمد پر ٹیکس 5 فیصد سے 17 فیصد ،مائننگ کیلئے درآمدی مشینری پر 17 فیصد نیا ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں‌

    پرچون فروشوں کا ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ساشے میں فروخت ہونے والی اشیاء کا ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، غیر ملکی سرکاری تحفوں اور عطیات پر 17 فیصد ٹیکس لاگوکیے گئے ہیں‌

    قدرتی آفات کیلئے موصو لہ مال پر ٹیکس لاگو ، پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو درآمدی جانوروں اور مرغیوں پر 17 فیصد ٹیکس ، زرعی بیج، پودوں، آلات اور کیمیکل پر ٹیکس 5 فیصد سے 17، پولٹری سیکٹر کی مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے 17 فیصد کردیا ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 سے بڑھا کر 17 فیصد ، بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ڈیوٹی فری شاپس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا ہے

    بڑی کاروں پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، درآمدی الیکٹرک کاروں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد بزنس ٹو بزنس رقم منتقلی پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 17 فیصد کردیا ادویات کے خام مال پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ، بیکریوں، ریسٹورنٹ اور فوڈ چین پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، کیٹررز، ہوٹلز اور بڑے ریسٹورنٹس پر ٹیکس 7.5 فیصد 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ، درآمدی سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد ، پیکنگ میں فروخت ہونے والے مصالحوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیئے گئے ہیں‌

    فلور ملز پر بھی 10 فیصد ٹیکس لگایا جائے عائد،ماچس، ڈیری مصنوعات، الیکٹرک سوئچ پر 17 فیصد ٹیکس عائد، برانڈڈ مرغی کے گوشت کے گوشت پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد ، پراسس کئے ہوئے دودھ پر ٹیکس 10 فیصد سے 17 فیصد، پیکنگ میں دہی، پنیر، مکھن، دیسی گھی اور بالائی پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد،ڈیری کیلئے مشینری پر بھی ٹیکس شرح 17 فیصد لاگو کردیا ہے

  • پیدائش سے پہلےٹیکس،پیدائش کے وقت ٹیکس،جینے پرٹیکس،مرنے پرٹیکس:غریبوں‌ کی بے بسی پرٹیکس

    پیدائش سے پہلےٹیکس،پیدائش کے وقت ٹیکس،جینے پرٹیکس،مرنے پرٹیکس:غریبوں‌ کی بے بسی پرٹیکس

    لاہور:پیدائش سے پہلےٹیکس،پیدائش کے وقت ٹیکس،جینے پرٹیکس،مرنے پرٹیکس:غریبوں‌ کی بے بسی پرٹیکس ،اطلاعات کے مطابق حکومت نے منی بجٹ کے نام پر ایک بار پھر قوم کو سخت آزمائش میں ڈال دیا ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ حکومت میں بیٹھے طاقتور لوگوں نے غریبوں پر رحم نہ کھانے کی قسم کھالی ہے

    المی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے منی بجٹ میں کن کن اشیاء پر ٹیکس لگا رہی ہے، تفصیلات سامنے آ گئیں۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مالیاتی ترمیمی بل میں موبائل فونز پر یکساں 17 فیصد ٹیکس، سونے چاندی پر ٹیکس 1 فیصد سے 17 فیصد آئل سیڈ کی درآمد پر ٹیکس 5 فیصد سے 17 فیصد ،مائننگ کیلئے درآمدی مشینری پر 17 فیصد نیا ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں‌

    پرچون فروشوں کا ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ساشے میں فروخت ہونے والی اشیاء کا ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، غیر ملکی سرکاری تحفوں اور عطیات پر 17 فیصد ٹیکس لاگو،
    قدرتی آفات کیلئے موصو لہ مال پر ٹیکس لاگو ، پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو درآمدی جانوروں اور مرغیوں پر 17 فیصد ٹیکس ، زرعی بیج، پودوں، آلات اور کیمیکل پر ٹیکس 5 فیصد سے 17، پولٹری سیکٹر کی مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے 17 فیصد کردیا ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 سے بڑھا کر 17 فیصد ، بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ڈیوٹی فری شاپس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا ہے

    بڑی کاروں پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، درآمدی الیکٹرک کاروں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد بزنس ٹو بزنس رقم منتقلی پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 17 فیصد کردیا ادویات کے خام مال پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ، بیکریوں، ریسٹورنٹ اور فوڈ چین پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، کیٹررز، ہوٹلز اور بڑے ریسٹورنٹس پر ٹیکس 7.5 فیصد 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ، درآمدی سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد ، پیکنگ میں فروخت ہونے والے مصالحوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیئے گئے ہیں‌

    فلور ملز پر بھی 10 فیصد ٹیکس لگایا جائے عائد،ماچس، ڈیری مصنوعات، الیکٹرک سوئچ پر 17 فیصد ٹیکس عائد، برانڈڈ مرغی کے گوشت کے گوشت پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد ، پراسس کئے ہوئے دودھ پر ٹیکس 10 فیصد سے 17 فیصد، پیکنگ میں دہی، پنیر، مکھن، دیسی گھی اور بالائی پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد،ڈیری کیلئے مشینری پر بھی ٹیکس شرح 17 فیصد لاگو کردیا ہے

  • موبائل ایپ سے پنجاب کو 60 ارب سے زائد ریکارڈ ٹیکس وصول

    موبائل ایپ سے پنجاب کو 60 ارب سے زائد ریکارڈ ٹیکس وصول

    لاہور : موبائل ایپ سے پنجاب کو 60 ارب سے زائد ریکارڈ ٹیکس وصول ،اطلاعات کے مطابق ٹیکس ادائیگی کی موبائل ایپ پر پنجاب کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، ای پے پنجاب سے ٹرانزیکشنز ایک کروڑ 23 لاکھ سے بڑھ گئیں۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ای پے سے مجموعی طور پر حکومت پنجاب کو60 ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو وصول ہوا ہے۔

    ای پے سے سوا35ارب روپے سیلز ٹیکس اور ساڑھے 10 ارب ٹوکن ٹیکس وصول جبکہ ای پے پنجاب کے سوا8 ارب روپے پراپرٹی ٹیکس اور پونے 3 ارب ٹریفک چالان وصول کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ای پے پی آئی ٹی بی نے محکمہ خزانہ پنجاب کے اشتراک سے وضع کیا۔

    چیئرمین پی آئی ٹی بی کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایپ سے گھر بیٹھے 10محکموں کے21ٹیکسز کی ادائیگی ممکن ہے، ای پے سےعوام کو وقت کی بچت اور ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی گئی ہے۔

    دوسری طرف قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کردیا گیا ہے اور بحث جاری ہے ، اپوزیشن احتجاج کررہی ہے اور حکومت اس بل کا دفاع کررہی ہے، ادھر وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ منی بجٹ سے عوام پر صرف دو ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

    پارلیمانی اجلاس کے بعد قومی اسمبلی میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ بجٹ 350 ارب روپے کا نہیں بلکہ 72 ارب روپے کا مجموعی بجٹ ہے، منی بجٹ سےعوام پر مزید صرف 2 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، عام آدمی پر 17 فیصد جی ایس ٹی نہیں لگے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ منی بجٹ کے معاملے پر تمام اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں اور اتحادی ہمیشہ ساتھ ہی ہوتے ہیں۔

  • #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف جاری مہم اگلے مرحلے میں پہنچ چکی ہے

    دی کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکو نوشی کے خلاف ملک گیر مہم جاری ہے، اس مہم میں تمباکو نوشی سے بچوں کو دور رکھنے کے لئے آگاہی پروگرام کئے جاتے ہیں تو وہیں سوشل میڈیا پر بھی بھر پور مہم چلائی جاتی ہے، آج سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ چلایا گیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ تا کہ کمسن بچے سگریٹ نہ خرید سکیں اور منشیات کی لت سے دور رہیں،

    تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے مہم جاری ہے، پہلے مرحلے میں باغی ٹی وی پر تمباکو نوشی کے خلاف چالیس سے زائد بلاگز شائع کئے گئے اب اگلے مرحلے میں تمباکو نوشی کے خلاف جاری اس مہم میں صارفین نے بڑی تعداد میں حصہ لیا، صارفین نے تمباکو نوشی کے نقصانات پر ٹویٹس کیں اور اپنے جذبات کا اظہار کیا

    پاکستان میں83 ارب سگریٹ بنائے جاتے ہیں اور وہ ہر سال پھونک دیئے جاتے ہیں پاکستان کو سگریٹ بنانے کی اجازت ہے کہ انڈسٹری ہمیں کیا فائدہ دے رہی ہے اکانومی پر کیا اثر ہے کیا اس سے نوکری مل رہی ہے حکومت ٹیکس کیوں نہیں لگاتی سگریٹ نوشی ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہی ہے ایک لاکھ ستر ہزار اموات ہر سال تمباکو سے ہوتی ہیں اور اسکا متبادل نوجوان سگریٹ نوشی کر دیتے ہیں بچوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ہمیں بچوں کو بچانا ہے-

    ایک صارف سیدہ ام حبیبہ کا کہنا تھا کہ اس ٹرینڈ کی مخالفت میں لکھنا ہو تو یہی ہیش ٹیگ استعمال کیجیے
    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ

    https://twitter.com/HSbuddy18/status/1473618000108568587

    https://twitter.com/HassanSajid01/status/1473606648472113153

    https://twitter.com/Rehna_7/status/1473606139552092166

    https://twitter.com/ali_14572/status/1473604974890336259

  • آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق غلط فہمیاں جنم لے رہی تھیں،شوکت ترین

    آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق غلط فہمیاں جنم لے رہی تھیں،شوکت ترین

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق غلط فہمیاں جنم لے رہی تھیں،

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف کوٹیکسز بڑھانے سے انکار کیا، احساس پروگرام کےتحت ہمارے پاس ڈیٹا اکھٹا ہو چکا ہے،ایس ایم ایز کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،بہت محدود لوگوں کو بینک لون دیتے ہیں جو ستم ظریفی ہے،حکومت کو امیر غریب کا پتہ چل گیا ہے،ڈیٹا موجود ہے ، نئی 223 کمپنیوں نے چھوٹے سرمائے سے آغاز کیا تومعیشت میں بہتری ہو گی،ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ روپے کی قدر بہتر ہو،ہمیں اسٹاک مارکیٹ پرلوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہو گا،ایس ای سی پی میں کمپنیوں کی رجسٹریشن تیزی سے ہو رہی ہے ماضی کے مقابلے کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 20 فیصد اضافہ ہوا،

    شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ افواہیں تھیں لاکرز سیل ہوجائیں گے ،ایسا کچھ نہیں ہوگا،آئی ایم ایف معاہدہ کے بعد ٹیکسزمیں اضافہ نہیں ہو گا چھوٹ ختم ہو گی ٹیکسز نہیں بڑھیں گے ،جو پہلے سے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید ٹیکس عائد نہیں ہوگا،عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے ہیں،کیا کھاد پر سبسڈی ہمارے کسانوں تک پہنچ رہی ہے؟ کھاد پر سبسڈی سے بھی یوریا کی بوری کسان کو 2200 میں مل رہی ہے، ہم کسانوں کو ڈائریکٹ ٹارگٹڈ سبسڈی دینے جا رہے ہیں،پہلی جیم بورڈ لسٹنگ کا مارکیٹ میں ہونا اہم اور قابل ستائش ہے اسٹاک مارکیٹ کا جیم بورڈ ایس ایم ای سیکٹر کو سرمایہ فراہم کرے گا، اسمال میڈیم انٹرپرائزز جی ڈی پی گروتھ میں معاون بن رہی ہے،سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،اسٹاک ایکس چینج میں لاکھوں افراد سرمایہ کاری کرتے ہیں،

    کیا فیصل واوڈا قانون سے بالا تر ہیں؟ ،عدم پیشی پر الیکشن کمیشن کا اظہار برہمی

    استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واوڈا الیکشن کمیشن میں پیش، پھر مہلت مانگ لی

    میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں لیکن یہ کام ضرور کریں، فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں بیان

    کامیاب جوان پروگرام،20 روز میں کتنے لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں؟ وزیراعظم کو بریفنگ

    کامیاب جوان پروگرام ،وزیراعظم نے دی رقم بڑھانے کی منظوری

    کامیاب جوان پروگرام کی خود مانیٹرنگ کر رہا ہوں،شفافیت،میرٹ پر سمجھوتہ نہیں ہو گا، وزیراعظم

    کامیاب جوان پروگرام، وزیراعظم عمران خان نے بینکوں کو بڑا حکم دے دیا

    کامیاب جوان پروگرام کی ایک اور کامیاب کہانی

    پیٹرولیم لیوی کچھ نہ کچھ بڑھانی پڑے گی شوکت ترین

  • ایف بی آر  مقررہ ہدف سے  زائد ریوینیو حاصل کرنی میں کامیاب، پچھلے سال کا بھی ریکارڈ ٹوٹ گیا!

    ایف بی آر مقررہ ہدف سے زائد ریوینیو حاصل کرنی میں کامیاب، پچھلے سال کا بھی ریکارڈ ٹوٹ گیا!

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی تا جنوری کیلئے مقررہ ہدف سے 20 ارب زائد ریوینیو حاصل کرلیا۔

    ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں 2570 ارب روپے کے محصولات جمع کیے جو پچھلے سال اسی عرصے میں حاصل ہونے والے 2416 ارب روپے سے 6.4 فیصد زیادہ ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں ریونیو نیٹ کولیکشن 364 ارب روپے رہی جبکہ مقرر کردہ ہدف 340 ارب روپے تھا، یہ وصولیاں پچھلے سال جنوری کے حاصل کردہ نیٹ ریونیو کے مقابلے میں 12.3 فیصد زیادہ ہیں۔ رواں مالی سال اب تک 129 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے جا چکے ہیں جو کہ پچھلے سال اس عرصے میں 69 ارب روپے تھے، اس سال اب تک ریفنڈز کے اجراء میں 87 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔

    ٹیکس گوشواروں کے ساتھ ادا شدہ ٹیکس 48.3 ارب روپے رہا جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں 29.6 ارب روپے تھا۔ اس طرح اس سال ٹیکس ادائیگی میں 63 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر نے 14 لاکھ ٹیکس گزاروں کو نوٹسز جاری کیے ہیں جنہوں نے گوشوارے داخل نہیں کیے یا صفر قابل ٹیکس آمدنی ظاہر کی ہے یا پھر اپنے اثاثوں کی غلط تفصیلات فراہم کی ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق 30 جنوری 2021 تک انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 25 لاکھ 20 ہزار ہو چکی، ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، معاشی ترقی کے باعث ریوینو کے حصول میں مزید بہتری کی توقع ہے-

  • امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے، جس کا اثر غریبوں پر پڑتا ہے ، عبدالحفیظ شیخ نے سچ سچ بتا دیا

    امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے، جس کا اثر غریبوں پر پڑتا ہے ، عبدالحفیظ شیخ نے سچ سچ بتا دیا

    اسلام آبادملک کا امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پر کسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی۔ان خیالات کااظہار :مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ، مشیر خزانہ نے کہا اگر امیر لوگ اپنے کاروبار کے حساب سے ٹیکس نہیں دیں تو لامحالہ اس کےاثرات غربیوں پربھی پڑیں گے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ ملک کا امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پر کسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی۔ پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی تعداد 25لاکھ ہوگئی ہے، ایف بی آر میں 6 لاکھ ٹیکس دہندگان کو رجسٹر کیا گیا اور اسے مزید بڑھایاجائےگا،

    عبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہ ایسا پروگرام متعارف کرا رہے ہیں جس میں ایکسپورٹرز کو فوری ری فنڈ ملے گا،آئندہ سے ہر مہینے کی 16 تاریخ کو ٹیکس ریفنڈ ہوجایا کرے گا۔

  • موٹروے پر سفر کرنے والوں کے لیے ایسی خبر ، جس کو پڑھنا ضروری ہوگیا

    موٹروے پر سفر کرنے والوں کے لیے ایسی خبر ، جس کو پڑھنا ضروری ہوگیا

    اسلام آباد :ٹیکس سسٹم مزید فعال ہوگیا ، اب موٹر وے پر سفر کرنے والے ہو جائیں تیار، حکومت نےٹول ٹیکس میں 10فیصد اضافہ کردیا،اضافہ شدہ ٹیکس کل سے وصول کیا جائیگا۔

    موٹروے ذرائع کے مطابق کل سے ایم ٹو کے ٹول ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ کر دیا جائے گا، اب لاہور سے اسلام آباد جانے والی گاڑیوں کو ٹول ٹیکس 680 کے بجائے 750 روپےدینا ہو گا۔

    دوسری طرف اس حوالے سے شہری حلقوں کی جانب سے ایم ٹو کےٹول ٹیکس میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ٹیکس پالیسی عوام سے جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔