Baaghi TV

Tag: ٹیکس

  • آنے  والے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا سوچیں گے،محمد اورنگزیب

    آنے والے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا سوچیں گے،محمد اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے حوالے سے بیان سامنے آگیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ملک میں معاشی استحکام آ رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے،کرنسی میں بھی استحکام ہے اور پالیسی ریٹ بھی کم ہوا ہے، ہماری معیشت کی بنیاد بن گئی ہے، اب ہمیں پائیدار ترقی کی طرف جانا ہےبجٹ سے پہلے ہی کاروباری حضرات سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں، ایف بی آر میں اصلاحات پر بھی کام کر رہے ہیں، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کا بوجھ ہے، آنے والے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا سوچیں گے۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹیکس نظام میں بہتری آئی ہے، ریئل اسٹیٹ میں بھی ٹیکس بہتری آئی ہے، ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سٹہ بازی نہیں چلنے دیں گے، تعمیراتی انڈسٹری کی سپورٹ کے لیے کام کر رہے ہیں سعودی عرب، دبئی اور واشنگٹن میں سب سے ملاقاتیں ہوئیں، اوورسیز میں کوئی ناراضی نہیں ہے، ملک میں 35 ملین ڈالر تک زر مبادلہ پہنچ چکا ہے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بھی پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے،ملک کو پرائیویٹ سیکٹر ہی آگے لے کر جائے گا۔

    سعودی عرب کی جانب سے غزہ کے لیے مزید 34 طبی امدادی قافلے روانہ

    آسٹریلیا کا براعظم ایشیا سے ٹکرانے والا ہے؟

    جب دہشت گردی کی کوئی اخلاقی حدود نہ ہو تو پھر سانحہ اے پی ایس ہوتا ہے،عطا تارڑ

  • پہلی بار گھر خریدنے والوں کو ٹیکس میں مکمل چھوٹ دینے کی تجویز

    پہلی بار گھر خریدنے والوں کو ٹیکس میں مکمل چھوٹ دینے کی تجویز

    اسلام آباد: حکومت نے رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ کے شعبے میں عوام کے لیے مراعات کا پیکیج تیار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: گھر خریدنے کے خواہمشند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی ، حکومت کی جانب سے بڑی چھوٹ ملنے کا امکان ہے تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ریئل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ شعبے کی بحالی کا ورکنگ پیپر تیار کرلیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کو ٹاسک فورس کی سفارشات بھجوا دی گئیں، جس کے بعد وزیر اعظم نے سفارشات کا جائزہ لینے لے کیلئے 3 فروری کو اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے-

    ذرائع کا کہنا تھا کہ ورکنگ پیپر میں رہائشی گھروں کیلئے اضافی منزل کی تعمیر کی اجازت دینے کی تجویز ہے جبکہ پہلی بار گھر خریدنے والوں کو ٹیکس میں مکمل چھوٹ دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے،پراپرٹی کی خرید و فروخت پر بھی ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے، کم آمدن طبقے کو سبسڈی دینے پر غور کیا جارہا ہے،اس کے علاوہ گھروں کی تعمیر کے لئے قرضے دینے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔

    ملک کے مزید 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    پراپرٹی فروخت کرنے پر ٹیکس 4 سے کم کرکے 2 فیصد مقرر کرنے، خریدار پر ٹیکس 4 فیصد سے کم کرکے اعشاریہ 5 فیصد مقرر کرنے، پرا پرٹی کی خرید وفروخت پرفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے اور ہاؤسنگ کے لیے کم آمدن افراد کو ہاؤسنگ سبسڈی دینے کی سفارش کی گئی ہے،ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ پر ٹیکسز کو 14 فیصد سے کم کرکے 4 سے 4.5 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔

    وزیرِاعظم کا وفاقی کابینہ ارکان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ

    اس کے علاوہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو وزارت داخلہ کے بجائے وزارت ہاؤسنگ کے تحت کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ گھروں کے لیے آسان قرضہ اسکیم کو بحال کرنے کی سفارش کے ساتھ ساتھ ہاؤسنگ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو سہولت دینے کی تجویز بھی منصوبے کا حصہ ہے۔

    فلسطینیوں کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، مولانا فضل الرحمان

  • ایف بی آر افسران کو نقد انعامات دینے کی اسکیم کی منظوری مل گئی

    ایف بی آر افسران کو نقد انعامات دینے کی اسکیم کی منظوری مل گئی

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) افسران کو نقد انعامات دینے کی اسکیم کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کےمطابق ایف بی آر افسران کو انعامات دینے کی اسکیم کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کی وزیراعظم شہباز شریف نے منظوری دے دی ہے نقد انعامات صرف انکم ٹیکس اور کسٹمز کے 1800 کیڈر افسران کو دیئےجائیں گے۔

    دوسری جانب ایف بی آر نے انکم ٹیکس اور کسٹمز کے افسران کی آن لائن ویلیوایشن کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،نوٹیفکیشن کے مطابق ایف بی آر، ریٹنگ اور ریوارڈ سسٹم کا 21 جنوری کی سہ پہر ٹیسٹ رن کرے گا جس میں انکم ٹیکس اور کسٹمز افسران پیئر ریٹنگ کریں گے۔

    ایف بی آر کے مطابق اسکیم کے تحت ٹیکس افسران اپنے سینئرز ہم پلہ اور جونیئرز کی رینکنگ کریں گے، افسران کی رینکنگ اے، بی، سی، ڈی اور ای کیٹیگری میں کی جاسکے گی، رینکنگ کے تحت 20 فیصد افسران کو ایک کیٹیگری میں ڈالنا ضروری ہے جب کہ اے کیٹیگری والے افسران کو 5 بنیادی تنخواہیں انعام میں دی جائیں گی۔

  • حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    ایک طرف پاکستان میں مہنگائی بڑھ رہی، غریب خود کشیاں کر رہے تو وہیں حکمران قومی خزانے پر عیاشیاں کر رہے ہیں،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 1010 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی مجموعی لاگت 6 ارب روپے سے زائد ہو گی۔

    ایف بی آر نے گاڑیاں خریدنے کے لیے ایک کمپنی کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا ہے، جس میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری 2 مراحل میں کی جائے گی۔ایف بی آر کے خط کے مطابق، گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی کی جائے گی، اور یہ پیشگی ادائیگی 500 گاڑیوں کی مکمل ادائیگی کے طور پر شمار کی جائے گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلی کھیپ کی ترسیل کے بعد باقی رقم کی ادائیگی کی جائے گی، اور 1010 گاڑیوں کی ڈلیوری جنوری سے مئی 2025 کے دوران مکمل ہو گی۔

    پہلے مرحلے میں جنوری میں 75 گاڑیاں، فروری میں 200 گاڑیاں اور مارچ میں 225 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں اپریل میں 250 گاڑیاں اور مئی میں 260 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ایف بی آر کے ترجمان نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فیلڈ افسران کی استعداد کار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گاڑیاں صرف اور صرف فیلڈ افسران کے استعمال کے لیے ہوں گی۔

    تاریخی کوہالہ پُل پر "کشمیر بنے گا پاکستان” کنونشن کا انعقاد

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

  • ٹیکس دینے والوں میں کراچی اس بار بھی سر فہرست

    ٹیکس دینے والوں میں کراچی اس بار بھی سر فہرست

    رواں سال بھی ٹیکس دینے والوں میں کراچی ہر بار کی طرح اس بار بھی سر فہرست رہا جہاں سے ایف بی آر نے دو ہزار 522 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔

    ایف بی آر کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال 2023-24 کے دوران جغرافیائی اعتبار سے ٹیکس وصولیوں کی مرتب کردہ رپورٹ میں یہ بتایا ہے کہ ملک کے کون سے شہر نے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والوں میں پہلا نمبر کراچی کا ہے جبکہ ٹیکسوں کی ادائیگیوں کی فہرست میں دوسرا نمبر لاہور اور تیسرے نمبر پر اسلام آباد ہے۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے لارج ٹیکس آفس نے مجموعی طور پر 2 ہزار 522ارب روپے سے زائد مالیت کا ٹیکس جمع کیا، لارج ٹیکس آفس کراچی نے زیر تبصرہ مدت کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 1ہزار 360ارب روپے سے زائد کی وصولیاں کی ہیں جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ایل ٹی او کراچی کی وصولیوں کا حجم 13کروڑ 63لاکھ روپے رہا۔رپورٹ کے مطابق سیلز ٹیکس کی مد میں ایل ٹی او کراچی نے 1ہزار ارب روپے سے زائد کی وصولیاں کیں۔ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق ایل ٹی او لاہور نے زیرتبصرہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 1ہزار 402ارب روپے سے زائد مالیت کے محصولات وصول کیے جبکہ اسلام آباد لارج ٹیکس آفس نی1ہزار 164ارب روپے کا مجموعی ٹیکس جمع کیا۔

    اخراجات کمی،قطر ایئرویز کے پاکستان بھر میں دفاتر بند

    پاک بحریہ کی سالانہ کوسٹل کمانڈ ایفیشنسی پریڈ کا کراچی میں انعقاد

    کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم کو سلو اوور ریٹ پر جرمانہ

    انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب سمیت متعدد افسر تبدیل

  • پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    اسلام آباد: حکومت نے ایک بڑی کاروائی کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ملک کے سب سے امیر 10 فیصد افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہوں نے گزشتہ برسوں میں ٹیکس چوری کی ہے۔ ان افراد کی تعداد 2 لاکھ 50 ہزار تک پہنچتی ہے، اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ہر ایک تقریباً 64 لاکھ پاکستانی روپے سالانہ ٹیکس چوری کرتا ہے۔

    اس فہرست میں سے حکومت نے مزید 1 لاکھ 90 ہزار افراد کو نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ افراد زیادہ تر کاروباری شخصیت، زمینوں کے مالکان اور بڑی کمپنیوں کے مالکان ہیں جو ٹیکس نیٹ ورک سے باہر ہیں اور ان کی دولت کا بیشتر حصہ غیر قانونی ذرائع سے آ رہا ہے۔

    پاکستان میں ٹیکس کی وصولی کی شرح بہت کم ہے، اور ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں ٹیکس کے نظام کو مضبوط بنانے اور دولت کی غیر مساوی تقسیم کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ایف بی آر نے ان افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور ان پر نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ٹیکس کی ادائیگیاں مکمل کریں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی رقم سے ملک کی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے اور اس رقم کو عوامی خدمات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

    یہ خبر ملکی معیشت کے حوالے سے ایک بڑی اہمیت کی حامل ہے اور عوام میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا ایک اہم قدم ہے جو کرپشن کے خلاف ایک سنگین کارروائی کی صورت اختیار کر رہا ہے، جبکہ کچھ افراد اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات معاشی طبقاتی فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے اور اس کے بعد مزید افراد کی شناخت کی جائے گی جو ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیکس چوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوامی خدمات میں اضافہ کیا جا سکے۔

    فیصل آباد، دھند کی وجہ سے حادثہ،چھ افراد کی موت

    پاکستان کے ایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ

  • ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ

    ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیرخزانہ محمداورنگزیب کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں ترمیمی ٹیکس لا 2024 بارے اجلاس ہوا، وزیرخزانہ کو چیئرمین ایف بی آر نے بریفنگ دی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ 3 برسوں میں ٹیکس تناسب جی ڈی پی کا 14 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔محمداورنگزیب کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی کیلئے ماہرین و نجی شعبے کی خدمات لی جائیں گی، ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے آئندہ 6 ماہ کے دوران نکال دیا جائے گا۔تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ٹیکس ٹو جی فی پی نہیں بڑھ سکتا، اگر ترامیم اب نہیں لائی گئیں تو انفورسمنٹ کیلئے اقدامات آئندہ بجٹ میں متعارف کرائے جائیں گے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بہت زیادہ ہے اگر ان کا ٹیکس کم کرنا ہے تو تمام سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا ۔چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر میں 62 ہزار رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے صرف 42 ہزار کمپنیاں سیلز ٹیکس جمع کراتی ہیں، ایکٹیو ٹیکس گزار نہ ہونے کی صورت میں کاروبار کو سیل کیا جائے گا، منقولہ جائیداد قبضے میں لی جائیں گی اور وصول کنندہ کا تقرر کیا جائے گا۔راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر کے پاس اس وقت صرف 300 آڈیٹرز ہیں جن کی کارکردگی ناقص ہے، نئی تجاویز کے باعث ترامیم سے 95 فیصد لوگ متاثر نہیں ہوں گے، ٹیکس لا ترمیمی بل سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 5 برسوں میں 18 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں اور انفرادی سطح پر انکم ڈیکلیئریشن اور اخراجات میں فرق بہت زیادہ ہے، ٹیکس نیٹ سے باہر قابل ٹیکس آمدن افراد کیلئے پراپرٹی، بینک اکاؤنٹس اور بزنس سیل کیا جا سکے گا، ترامیم سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکس آڈٹ کیلئے 1600 سو آڈیٹر ہائر کئے جائیں گے۔چیئرمین ایف بی آرکا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کا 18 فیصد ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے صوبوں کو 3 فیصد ٹیکس جمع کر کے وفاق کو دینا ہو گا، صوبے صرف 0.8 فیصد اور پٹرولیم لیوی سے ایف بی آر کو 1 فیصد جی ڈی پی کی شرح کا ٹیکس ملتا ہے، سیلز ٹیکس میں 3 ہزار ارب روپے اور انکم ٹیکس میں 2 ہزار ارب روپے کا گیپ ہے۔راشد لنگڑیال نے اپنی بریفنگ میں مزید کہا کہ ٹیکس گزار سمجھتا ہے ٹیکس کا پیسہ ارکارن پارلیمنٹ، ججز کی تنخواہیں بڑھانے کیلئے استعمال ہوتا ہے، شبلی فراز یہاں تو سینیٹرز کی تنخواہیں ہی اتنی کم ہیں کہ گزارا بھی مشکل ہے۔

    کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

    کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

    یورپی بینک کی کراچی واٹر کارپوریشن کو تعاون فراہم کرنے کی منظوری

    یورپی بینک کی کراچی واٹر کارپوریشن کو تعاون فراہم کرنے کی منظوری

    انسانی اسمگلروں کو 33 ،33 سال قید کی سزا

  • ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد بحال کریں گے،وزیر خزانہ

    ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد بحال کریں گے،وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے ہم ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد بحال کریں گے-

    باغی ٹی وی : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں ممبران کمیٹی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر نے شرکت کی، اجلاس میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں جو ٹیکس جمع ہو ان کی بھلائی پر لگے، ٹیکس وصولی کے لیے شکنجہ تنگ، فون بند کردیں گے، اکاؤنٹ بندکردیں گے جیسی زبان درست نہیں، عوام اور حکومت میں اعتماد کا فقدان ہے، ٹیکس لینے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں، پکڑ دھکڑ کی باتیں درست نہیں، اس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہماری طرف سے تو ایسا نہیں ہے۔

    آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان کر دیا

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سینیٹر شبلی فراز کی باتیں بہت اہم ہیں، ہم ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد بحال کریں گے،کرپشن کا خاتمہ یقینی بنانا ہے، ایف بی آر کی تنظیم نو کی جا رہی ہے، ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے گا ٹیکس ترمیمی بل 2024 کا مقصد ٹیکسز کا دائرہ کاربڑھانا ہے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ زیادہ ہے، تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا جبکہ وفاقی حکومت میں بھی رائٹ سائزنگ کی جا رہی ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری کی آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے 11ویں کانووکیشن میں شرکت

    چیئرمین ایف بی آر نے کہا پاکستان میں زیادہ تر کاروبار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں اور صرف 62 ہزار کاروبار رجسٹرڈ ہیں، ان ہی سے زیادہ ٹیکس آ رہا ہے جو دے رہے ہیں، صارف سے سیلز ٹیکس وصولی کر کے آگے جمع بھی نہیں کیا جا رہا، شبلی فراز نے سوال کیا کہ ایف بی آر میں سرمایہ کاری سے ٹیکس کتنا بڑھے گا؟ اس پر وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ اس وقت ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.3 فیصد ہے، جی ڈی پی میں ٹیکس تناسب 13.5فیصدتک بڑھانا چاہتے ہیں، فالٹی پراسس کو ٹھیک کرنا ہے ورنہ نتیجہ صفر بٹا صفر ہو گا-

    بچے کا نام رکھنے پر شدید اختلاف، بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی

  • وزیراعظم کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لئے اقدامات پرجائزہ اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لئے اقدامات پرجائزہ اجلاس

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لیے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف اقدامات کی تفصیلات پر بات چیت کی گئی۔

    اجلاس میں شوگر انڈسٹری میں ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب اور نگرانی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ایف بی آر کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور ویڈیو اینالیٹکس کے استعمال سے نہ صرف محصولات کی وصولی میں بہتری آئے گی بلکہ ٹیکس نیٹ کو بھی وسعت دی جا سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹیکنالوجی کے استعمال سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچے گا اور ٹیکس کے عمل کو زیادہ شفاف بنایا جا سکے گا۔‘‘وزیراعظم نے شوگر انڈسٹری میں ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب کی اہمیت پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے چینی کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے اور قیمتوں میں توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا، ’’ہماری بھرپور کوشش ہے کہ عوام کو سستے داموں چینی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اس کے لیے چینی کے اسٹاک کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔‘‘وزیراعظم نے شوگر ملوں میں ٹیکس چوری اور کم ٹیکس دینے والی ملوں کے خلاف سخت اور بلا امتیاز کارروائی کی ہدایت بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘اجلاس میں وزیراعظم نے ایف بی آر کی ویلیو چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کے کام کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے عمل سے نہ صرف ٹیکس کے نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ ٹیکس کی وصولی میں بھی نمایاں بہتری ہو گی۔‘‘وزیراعظم نے سیمنٹ اور ٹوبیکو انڈسٹری میں بھی ویڈیو اینالیٹکس کے استعمال پر زور دیا اور اس کے لیے اقدامات جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

    اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت خزانہ علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت ملک کے محصولات میں بہتری لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ قومی خزانے کی حالت مضبوط ہو سکے اور عوام کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔وزیراعظم کے اس اقدامات سے مجموعی طور پر حکومت کی ٹیکس پالیسی میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو گی جس سے نہ صرف اقتصادی استحکام آئے گا بلکہ عوام کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی میں بھی مدد ملے گی۔

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ممکنہ شیڈول

  • ٹیکس پالیسی  ٹیکس کلیکشن سے بہتر بنائیں گے،وزیر خزانہ

    ٹیکس پالیسی ٹیکس کلیکشن سے بہتر بنائیں گے،وزیر خزانہ

    سیالکوٹ: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایف بی آرکا پالیسی میکنگ میں کوئی تعلق نہیں ہوگا، ان کا کام اب کلیکشن کرنا ہوگا-

    باغی ٹی وی : سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پالیسی ریٹ نیچے آیا ہے تو یہ خوش آئند ہے، اوورسیز چیمبرز میں گئے تو وہاں سب کا اپنا پوائنٹ آف ویو تھا، آپ لوگوں کی مدد سے آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ ملا ہے، بجٹ پیش کرتے ہیں تو اس کے بعد کچھ چیزیں رہ جاتی ہیں، اسے دوبارہ پورا کیا جاتا ہے، آپ ابھی سے ہمیں پرپوزل بھیجیں تاکہ اپریل میں آپ کو مسئلہ نہ ہو، ہم آپ سے ڈسکس کریں گے کہ ہم یہ چیزیں بجٹ میں لے کر جارہے ہیں۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سیلریڈ کلاس کی تنخواہ پر ٹیکس کٹ رہا ہے، ٹیکس پالیسی ہم ٹیکس کلیکشن سے بہتر بنائیں گے، ہرایک کو ٹیکس اتھارٹی کے ساتھ ڈیل کرنا پڑے گی، ایف بی آرکا پالیسی میکنگ میں کوئی تعلق نہیں ہوگا، ان کا کام اب کلیکشن کرنا ہوگا،تین چیزیں چکن، دال ماش اور دال چنا کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں، اس پر کام کیا اور قیمتوں کو کم کیا جس کا فائدہ عام آدمی کو ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ کے ملک میں صرف دو فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں، صنعت کاروں پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے، مضبو ط معیشت ہماری سیکیورٹی کی ضامن ہے، حکومتی اقدامات سے مہنگائی میں کمی ہوئی، پالیسی ریٹ نیچے آیا، محنت کر رہے ہیں مہنگائی میں کمی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں، پاکستانی اشیا کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہو گا۔

    انہوں کہا کہ دھرنے اور احتجاج سے ملکی معیشت کو نقصان ہوتا ہے اور ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنا ہو گی کاروباری بندش سے 2.2 ارب روپے کا یومیہ نقصان ہوتا ہےمعاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے پالیسی ریٹ اور کرنسی مارکیٹ کی ذمہ داری اسٹیٹ بینک کی ہے، اور ہم مارکیٹ کے حساب سے کرنسی پر رائے دے سکتے ہیں اس بار سیلری کلاس نے ٹیکس دیاجبکہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں، چارٹرآف اکانومی کے لیے ہمیں ایک پیج پر ہونا ہو گا، اسمگلنگ پر ضرب لگائی اور پیٹرول اسمگلنگ پر قابو پایا، سگریٹ اسمگل کرنے پر 900 سے زائد دکانیں بند کی گئیں-