Baaghi TV

Tag: ٹیکس

  • یو اے ای کا  ایک نیا ٹیکس لاگو کرنے کا اعلان

    یو اے ای کا ایک نیا ٹیکس لاگو کرنے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات نے ان ملٹی نیشنل کمپنیوں پر ایک نیا ٹیکس لاگو کرنے کا اعلان کیا ہے جو امارات میں کام کر رہی ہیں۔ اس نئے نظام کے تحت بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنے منافع پر کم از کم 15 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی:خلیج ٹائمز کے مطابق وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا کہ ڈومیسٹک منیم ٹاپ اپ ٹیکس کا نفاذ مالی سالوں کے لیے یکم جنوری 2025 سے شروع ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد ایک منصفانہ اور شفاف ٹیکس نظام قائم کرنا ہے جو عالمی معیار سے ہم آہنگ ہو یہ ٹیکس ان ملٹی نیشنل کمپنیوں پر لاگو ہوگا جن کی مجموعی عالمی آمدنی پچھلے چار مالی سالوں میں سے کم از کم دو سالوں میں تین ارب درہم یا اس سے زیادہ ہو،اس قانون سازی کی مزید تفصیلات وزارتِ خزانہ کی جانب سے جلد جاری کی جائیں گی۔

    خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات اپنے کاروبار دوست ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے اور یہ اقدام ملک کے قومی سٹریٹجک مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

  • احتجاج،اقتصادی سرگرمیاں متاثر،ٹیکس خسارہ بڑھنےکا قوی امکان

    احتجاج،اقتصادی سرگرمیاں متاثر،ٹیکس خسارہ بڑھنےکا قوی امکان

    اسلام آباد: پاکستان میں گزشتہ دنوں ہونے والے سیاسی احتجاج اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد اقتصادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں حکومتی محصولات میں 160 ارب روپے تک شارٹ فال ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ملک بھر میں سیاسی حالات کی وجہ سے پانچ دن تک اقتصادی سرگرمیاں معطل رہیں، جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اپنے مقرر کردہ محصولات کے ہدف کو پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا نومبر تک محصولات جمع کرنے کا مجموعی ہدف 1003 ارب روپے تھا، تاہم اب تک صرف 700 ارب روپے ہی اکٹھے کیے جا سکے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اگر ایف بی آر کو 160 ارب روپے کا شارٹ فال ہو گیا تو پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران ہونے والے 189 ارب روپے کے شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ ماہ کے مجموعی شارٹ فال کی رقم 349 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق، ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور لاک ڈاؤن کے اثرات قومی خزانے پر سنگین نوعیت کے پڑ رہے ہیں، اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام اس بات سے پریشان ہیں کہ بند پڑی اقتصادی سرگرمیوں کے باوجود کس طرح زیادہ سے زیادہ محصولات جمع کیے جا سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ایف بی آر کی بھرپور کوششوں کے باوجود زیادہ سے زیادہ 840 سے 850 ارب روپے جمع کیے جا سکیں گے، جس کا مطلب ہے کہ متوقع خسارہ 150 سے 160 ارب روپے کے درمیان ہوگا۔ایک سرکاری عہدیدار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "لاک ڈاؤن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی کال کے نتیجے میں ملک بھر میں اقتصادی سرگرمیاں رکنے کی وجہ سے حکومتی ریونیو میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔”

    اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کیسے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی مالیاتی ڈیل کو برقرار رکھتے ہوئے اس خسارے کو پورا کرے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں حکومت کے لیے مطلوبہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو پورا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف قومی خزانے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے بلکہ حکومت کے لیے آئی ایم ایف سے امداد حاصل کرنے میں بھی مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، جس کے اثرات ملک کی معیشت پر گہرے ہو سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • ٹیکس فراڈ کی نشاندہی،افسر کیلیے وزیراعظم نے کیا50 لاکھ انعام کا اعلان

    ٹیکس فراڈ کی نشاندہی،افسر کیلیے وزیراعظم نے کیا50 لاکھ انعام کا اعلان

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات اور ٹیکس فراڈ کے خلاف مہم کے مثبت نتائج کا سلسلہ جاری ہے

    ایف بی آر کے سینئیر افسر کی جانب سے کھربوں روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ کی کوشش کی بروقت نشاندہی اور کاروائی،وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ٹیکس فراڈ کی کوشش کی بروقت نشاندہی کرنے والے ایف بی آر کے افسر اعجاز حسین کی وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کی،وزیرِ اعظم نے ایف بی آر کے آفیسر اعجاز حسین کی فرض شناسی کی پذیرائی کی،وزیرِ اعظم نے اعجاز حسین کی ایمانداری کے اعتراف میں ان کیلئے 50 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا،وزیرِ اعظم نے اعجاز حسین کی فرض شناسی پر انہیں اعزازی شیلڈ بھی پیش کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فرض شناس افسران اور اپنے پیشے سے مخلص باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ایماندار لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے. اطمینان بخش امر ہے کہ ایف بی آر اصلاحات کے مثبت نتائج کا سلسلہ جاری ہے.پاکستان کی غریب عوام کے ٹیکس چوری کرنے والوں اور انکی معاونت کرنے والوں کی نشاندہی کرکے انہیں کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے گی.غریب عوام کے ٹیکس پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے شکنجے کو مزید مضبوط کیا جائے گا.اعجاز حسین نے اس احسن اقدام سے ملک و قوم کی خدمت کی ہے جو لائق تحسین ہے.ایف بی آر ٹیکس فراڈ کی اس مزموم کوشش کی تفصیلی تحقیقات کے بعد ذمہ داران کو قانون کے کٹھرے میں لائے. ایف بی آر ٹیکس فراڈ میں ملوث عناصر اور انکی معاونت کرنے والوں کو سزا دلوانے کیلئے بہترین قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کرے.

    اس دوران وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس چوری کیلئے ایک 80 برس کی خاتون کے کوائف کو استعمال کیا گیا.4 مارچ 2024 کو ایف بی آر کے سینیئر افسر اعجاز حسین نے ٹیکس فراڈ کی اس کوشش کی نشاندہی کیسیلز ٹیکس فراڈ کی اس کوشش میں ابتدائی طور پر 37 کروڑ منتقل بھی ہوا جس کی ریکوری کا عمل جاری ہے. ٹیکس فراڈ کی کوشش میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کیا جا چکا.

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ تفصیلی تحقیقات کے بعد ٹیکس فراڈ کی کوشش میں مبینہ معاونت کرنے والے ایف بی آر کے حکام کی نشاندہی کرکے انہیں بھی قرار واقعی سزا دلوائی جائے .ملکی معیشت کی ترقی کیلئے ٹیکس بیس میں اضافے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں.ایف بی آر کی اصلاحات اور مکمل ڈیجیٹائیزیشن سے مستقبل میں بھی اس قسم کی کاروائیوں کی روک تھام ہو سکے گی.

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • ٹیکس نادہندگان کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لائی جائے.وزیراعظم

    ٹیکس نادہندگان کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لائی جائے.وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت معیشت کی صورتحال پر جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے وفد سے ہونے والی ملاقاتوں پر بریفنگ دی،اجلاس کو معیشت کے اعشاریوں، مہنگائی کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی.اجلاس کو ٹیکس چوری اور انکی معاونت کرنے والوں اور انکے خلاف کاروائی سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے. معیشت کی ترقی کیلئے اقدامات کی بدولت اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان ہے. بیرونی سرمایہ کار حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں. عوامی ریلیف کو ہر دوسرے اقدام پر ترجیح دی جائے. عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں. مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد پر آگئی.شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آگئی.شرح سود میں کمی سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے. ملکی برآمدات میں اضافہ اور ریکارڈ ترسیلاتِ زر کی بدولت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا،زرعی شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے وزیرِ اعلی پنجاب اور پنجاب حکومت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں.

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ٹیکس نادہندگان کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لائی جائے .ٹیکس چوری کرنے والوں اور انکی معاونت کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر رہیں گے.ملکی معیشت کی ترقی تب ہی ممکن ہے جب سب اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کریں.تمام شعبہ جات کو ٹیکس ادا کرکے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا.

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • پنجاب اسمبلی،زرعی ترمیمی بل منظور، زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ

    پنجاب اسمبلی،زرعی ترمیمی بل منظور، زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ

    پنجاب اسمبلی اجلاس،:پنجاب اسمبلی نے زرعی ترمیمی بل 2024 منظور کرلیا

    پنجاب بھر میں زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ کردیاگیا،پنجاب زرعی ترمیم بل ایکٹ 2024،نئی شک (D) کے تحت زرعی ترمیمی بل میں زرعی کے ساتھ لائیو سٹاک پر بھی ٹیکس لاگو کر دیا گیا،نئی شک 3AB کے تحت زیادہ آمدن والے اشخاص پر سپر ٹیکس لاگو کیا گیا،ترمیمی بل کے ذریعے زرعی زمین پر انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی،زرعی زمین کے ساتھ لائیو سٹاک سے کمائے جانے والی آمدن پر بھی ٹیکس لاگو کر دیا گیا،لائیو سٹاک پر ٹیکس بھی زرعی ٹیکس میں شمار کیا جائے گا،لائیو سٹاک کا تصور پنجاب لائیو سٹاک بریڈنگ ایکٹ 2014 کے مطابق ہو گا،بل کے مطابق سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت زرعی ٹیکس نا دہندہ کو ٹیکس رقم کا 0.1 فیصد ہر اضافی دن کا جرمانہ عائد ہو گا، سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت 12 لاکھ سے کم زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نا دہندہ کو 10 ہزار جرمانہ ہو گا، سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت چار کروڑ سے کم زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نا دہندہ کو 25 ہزار جرمانہ ہو گا، سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت چار کروڑ سے زیادہ زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نا دہندہ کو 50 ہزار جرمانہ ہو گا،زرعی ٹیکس کا مسودہ کمیٹی سے بھی پاس ہو چکا ہے،

    پیپلز پارٹی نے ایگریکلچر انکم ٹیکس بل کی مخالفت کردی ،علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس بل پر مشاورت نہیں کی ،حکومت کو ہمارے ووٹوں کی ضرورت نہیں،کسان پہلے پسا ہوا ہے اس بل پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے ،احتجاجا اس بل کے خلاف واک آوٹ کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی نے زرعی ٹیکس بل کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا

    پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر میں اہم ترمیم کر دی گئی،،پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی کے ایڈوائز کو ایوان میں داخلے اور بات کرنے کی اجازت ہوگی۔

    ایوان اقبال میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں کو پنجاب اسمبلی نے قانونی تحفظ فراہم کردیا۔ایوان اقبال کو قانونی تحفظ کےلئے قرارداد وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کی۔سپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں دو سیشن جون 2022 کے دوران ایوان اقبال اور پنجاب اسمبلی میں منعقد ہوئے، دونوں اجلاسوں کے سالانہ بجٹ 2022-23 اور سیپلیمنٹری بجٹ 2021-22ء کو آمدنی ریکارڈ کا حصہ بنالیا گیا ہے اور قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے،

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم  پر عملدرآمد میں خامیاں

    ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد میں خامیاں

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو   کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم   پر عملدرآمد کے حوالے سے میریٹ ہوٹل، اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم گول میز مباحثہ منعقد کیا گیا۔ پلڈاٹ کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے زیر اہتمام اس مباحثے میں اہم سٹیک ہولڈر نے شرکت کی جن میں سرکاری حکام، صنعتی شعبے کے قائدین، پالیسی ماہرین اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ جنہوں نے تازہ ترین تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا۔

    تقریب کا آغاز مامون بلال، ایڈوائزر پلڈاٹ کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا جس کے بعد  انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  طارق جنید نے مذکورہ تحقیق کے کلیدی نتائج پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ جس میں انہوں نے صنعتی شعبے کے اندر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عدم تعمیل کے حوالے سے پریشان کن حالات پر روشنی ڈالی۔تمباکو کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کرنے کی کوششیں 2021 میں تین دیگر شعبوں کے ساتھ شروع ہوئیں جن میں سیمنٹ، کھاد اور چینی کے شعبے شامل تھے۔ جولائی 2022 سے ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر کے بغیر سگریٹ کا پیک فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم، حتمی تاریخ گزرنے کے بعد سےاس سسٹم پر عملدرآمد صرف ایک خواب ہی رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ  نے پنجاب اور سندھ کے 11 شہروں میں مارکیٹ پر تحقیق کی جس میں 18 مارکیٹوں میں 40 پرچون فروشوں کی دکانوں  کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس میں کل 720 دکانیں شامل تھیں۔ اس تحقیق کے دو مقاصد تھے؛ فروخت کے وقت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کی صورت حال کا پتہ لگانا اور سگریٹ کے لیے کم از کم طے شدہ قانونی قیمت   پر عملدرآمد کا جائزہ لینا جو ایف بی آر کی طرف سے لازمی ہے۔رپورٹ کے مطابق سروے کیے گئے 264 سگریٹ برانڈ میں سے صرف 19 برانڈ نے اس سسٹم کے مطلوبہ تقاضوں پر پوری طرح عمل کیا جو کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ عملدرآمد نہ کرنے والے برانڈ مارکیٹ کے 58 فیصد حصے پر مشتمل ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈیوٹی ادا نہ کرنے والے   برانڈ 65 فیصد ہیں جبکہ سمگل شدہ برانڈ 35 فیصد ہیں جو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کی غیر موجودگی سے لے کر قیمتوں یا صحت سے متعلق انتباہ کے ضوابط پر عملدرآمد نہیں کرتے ہیں۔اس کے علاوہ 197 برانڈ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے کم جبکہ 48 برانڈ اس طے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے پائے گئے۔ مزید یہ کہ وہ دیگر طے شدہ قانونی تقاضوں پر بھی عملدرآمد نہیں کر رہے تھے۔ 19 برانڈ تمام طے شدہ قانونی تقاضوں کے مطابق عملدرآمد کرتے پائے گئے مگر وہ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔

    اس گول میز مباحثے میں سٹیک ہولڈر کو اس سسٹم کے حوالے سے درپیش چیلنجز، پرچون کی سطح پر اس کے نفاذ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی اور صحت عامہ کی کوششوں پر عدم تعمیل کے مجموعی اثرات پر تفصیل سے تبادلہٴ خیال کرنے کا ایک موقع فراہم کیا گیا۔ کلیدی مقررین میں ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، محمد ظہیر قریشی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سسٹم کے نفاذ کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بتایا۔ تقریب کی صدارت علی پرویز ملک، رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات نے کی جنہوں نے تمام شعبوں میں اس سسٹم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذکورہ سسٹم کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہتر ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    اس سسٹم پر عملدرآمد کو بڑھانے کے لیے اہم مجوزہ سفارشات:
    گول میز مباحثے کا اختتام قابل عمل سفارشات کے ساتھ ہوا جو مندرجہ ذیل ہیں،عدم تعمیل والے برانڈ تک رسائی کو روکنے کے لیے پرچون فروشوں کی سطح پر نفاذ کو مضبوط بنایا جائے،خلاف ورزیوں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جائے،صارفین کو تعمیل شدہ مصنوعات کی خریداری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی کی مہمات کا آغاز کیا جائے،

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • غیرقانونی سگریٹ کی فروخت،پاکستان کو سالانہ 3 سو ارب کا نقصان

    غیرقانونی سگریٹ کی فروخت،پاکستان کو سالانہ 3 سو ارب کا نقصان

    پاکستان میں غیر قانونی سگریٹس کی فروخت کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، ملک میں 50 فیصد سے زیادہ سگریٹس اسمگل ہو کر فروخت ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث، قانونی سگریٹس کی فروخت میں واضح کمی آئی ہے، جس کا اثر ٹیکس آمدنی پر بھی پڑا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، قانونی سگریٹس کی فروخت میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 300 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ صرف رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں قانونی سگریٹس کی فروخت میں 80 کروڑ اسٹکس کی کمی آئی ہے۔ جولائی سے ستمبر تک کی مدت میں قانونی سگریٹس کی فروخت 7.1 ارب اسٹکس سے کم ہو کر 6.3 ارب اسٹکس پر آ گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو اس سال قانونی سگریٹس کی مارکیٹ سیل میں 4 ارب روپے کی مزید کمی کا امکان ہے۔ اسی طرح، کچھ برانڈز کی سالانہ فروخت میں بھی زبردست کمی آئی ہے، مثلاً ایک مشہور برانڈ کی فروخت 66 کروڑ سے کم ہو کر 30 کروڑ اسٹکس تک پہنچ گئی ہے۔

    یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ غیر قانونی تجارت کا مسئلہ پاکستان میں سنگین ہوتا جا رہا ہے، جو نہ صرف صحت کے مسائل پیدا کر رہا ہے بلکہ معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے اور ٹیکس کی آمدنی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

    پاکستان میں سگریٹ نوشی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، اور اس کا اثر نہ صرف بالغوں پر پڑتا ہے بلکہ بچوں کی صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے بچوں کے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ہم سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں تاکہ ہم اپنے بچوں کو اس نقصان دہ عادت سے بچا سکیں۔سگریٹ میں پائے جانے والے مختلف کیمیکلز اور زہریلے مادے بچوں کے جسم میں داخل ہو کر ان کی صحت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں میں شامل زہریلے مادے بچوں کی سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے آسم، برونکائٹس، اور دیگر سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں بچوں کی دماغی نشونما پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں کمی آ سکتی ہے اور ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔طویل مدتی اثرات میں بچوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی شامل ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے دل کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں سے بچوں کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے، جس کے باعث وہ مختلف انفیکشنز اور بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔سگریٹ میں موجود زہریلے مادے بچوں کے جسم میں کینسر کی نشوونما کا باعث بن سکتے ہیں۔

    بچوں کو سگریٹ سے بچانے کے لیے اقدامات
    پاکستان میں سگریٹ نوشی کے اثرات سے بچوں کو بچانے کے لیے کچھ مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے،والدین کی تربیت اور مثال بچوں کے لیے سب سے اہم ہوتی ہے۔ اگر والدین خود سگریٹ نوش ہیں تو یہ عادت بچوں میں منتقل ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ والدین کو خود بھی اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر نمونہ پیش کر سکیں۔ اس کے علاوہ، والدین کو اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔سکولز اور کالجز میں بچوں کو سگریٹ نوشی کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف آگاہی پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ ان پروگرامز میں بچوں کو بتائیں کہ سگریٹ نوشی ان کی صحت، تعلیم اور زندگی کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔حکومت کو سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے قوانین مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ اسکولز اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگانی چاہیے۔ علاوہ ازیں، سگریٹ کی فروخت پر پابندی لگانے کے لیے موثر قانون سازی ضروری ہے۔یہ ضروری ہے کہ پبلک مقامات، جیسے پارکس، سڑکیں، اور کھیل کے میدانوں میں سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی جائے۔ اس سے بچوں کو اس بات کا شعور ہوگا کہ سگریٹ نوشی معاشرتی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مہمات چلانی چاہیے تاکہ لوگوں کو سگریٹ نوشی کے اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، والدین اور دیگر بزرگ افراد کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی نہ کریں۔صحت کے شعبے میں بہتری لاتے ہوئے، حکومت کو ایسی سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں جن کے ذریعے لوگ سگریٹ نوشی سے نجات حاصل کر سکیں۔ نیکوٹین کو کم کرنے والی ادویات، تھراپی اور کونسلنگ سیشنز ان اقدامات کا حصہ ہو سکتے ہیں،پاکستان میں سگریٹ کی قیمت بہت کم ہے، جس کی وجہ سے بچے اسے آسانی سے خرید سکتے ہیں۔ حکومت کو سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ کم عمر بچے سگریٹ خریدنے کی استطاعت نہ رکھیں۔آج کل الیکٹرانک سگریٹ یا ‘وپنگ’ بھی بچوں میں مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بھی سگریٹ نوشی کی طرح مضر صحت ہے، لہٰذا اس پر بھی پابندی لگانی چاہیے اور اس کے بارے میں آگاہی فراہم کرنی چاہیے۔

    پاکستان میں سگریٹ نوشی کی روک تھام اور بچوں کو اس عادت سے بچانے کے لیے ایک اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ والدین، اسکولز، حکومت اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بچوں کی صحت کو اس خطرے سے بچایا جا سکے۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات اور اس کے اثرات کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو صحت مند زندگی فراہم کر سکتے ہیں۔

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • سگریٹ پہلے کے پی کے میں ،اب فیکٹریاں آزاد کشمیرمنتقل،انکشاف

    سگریٹ پہلے کے پی کے میں ،اب فیکٹریاں آزاد کشمیرمنتقل،انکشاف

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پنجاب ایکسائز کو شراب کی برآمد پر ٹیکس کامعاملہ جلد ازجلد حل کرنے کی ہدایت کردی،چیئرمین کمیٹی نے کورم کے بغیر ہی اجلاس شروع اور مکمل کردیا،

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہوا ۔اجلاس میں وزیرمملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک سپیشل سیکرٹری خزانہ چیئرمین ایف بی آر،ودیگر حکام نے شرکت کی ۔اجلاس میں سینیٹر فیصل واوڈا، 45منٹ بعد سینیٹر شیری رحمان کمیٹی میں آئیں ۔چیئرمین کمیٹی کورم کے بغیر ہی اجلاس چلاتے رہے ۔منظور کاکڑ کی عدم شرکت کی وجہ سے ان کا ایجنڈا موخر کردیا گیا ،سینیٹر محسن عزیز کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ان کا ایجنڈا موخر کردیا گیا ، الائیڈ بینک کے حوالے سے ایجنڈے پر درخواست گزار نے کہاکہ الائیڈ بینک نے معائدہ کیا تھا کہ ہم آپ کو 6فیصد انٹرسٹ دیں گے جو نہیں دی گئی۔الائیڈ بینک کے حکام نے کہاکہ 49سال پرانہ کیس ہے اس معاملے پر عدالت کے باہر سیٹیل ہوگیا تھا لاہور ہائی کورٹ میں عدالت ان کی اپیل مسترد ہوچکی ہے ۔ درخواست گزار نے کہاکہ گارنٹی کے پیسے واپس نہیں دیئے ہیں ۔ ہمارے پیسے ڈالر میں لیئے ہیں وہ ہمیں ادا کیے جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم آپ کو روپے میں پیسے دیں گے ڈالر میں نہیں دیں گے ۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہاکہ صارف کو ہراساں کرنے پر بینک کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے ۔ حکام سٹیٹ بینک نے کہاکہ یہ معاملہ عدالت میں ہی حل ہونا ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ بینکوں کے حوالے سے مسائل پر جب کئی سے ریلیف نہیں ملتا تو لوگ کمیٹی میں آتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں پارٹیاں مل کر مسئلے کا حل کریں ۔قائمہ کمیٹی نے 4ہفتوں میں سٹیٹ بینک سے معاملے پر رپورٹ طلب کرلی۔

    صوبوں کی طرف سے برآمدات پر ٹیکس کے معاملے پر پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا۔ کمیٹی نے معاملہ موخر کردیا ۔ بعد میں درخواست گزار اور پنجاب حکومت کے حکام کمیٹی میں آئے ۔ ڈی جی ایکسائز پنچاب فرخ خان نے کہاکہ ہم نے کوئی ٹیکس برآمدات پر نہیں لگایا ہے ۔درخواست گزار مری بروری نے کہاکہ ہمیں شراب پنجاب ایکسائز برآمد کرنے نہیں دے رہاہے ۔ ہم پاکستان کی ضرورت پوری کررہے ہیں۔ ہم اس سے ملک کے لیے ریونیو کمانا چاہتے ہیں.کمیٹی نے پنجاب کے حکام کو ہدایت کی کہ اس معاملے کو جلد ازجلد حل کیا جائے ۔

    ایف بی آر کی ٹریک اینٍڈ ٹریس معاملہ زیر بحث آیا۔وزیر مملکت نے کہاکہ یہ سسٹم ٹوبیکو پر مکمل فعال ہے چینی پر بھی سو فیصد لاگو ہوگیا ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اس کا مقصد تھا کہ ریونیو میں اضافہ ہو ریونیو میں اضافہ نہیں ہواہے ۔ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ پروڈکشن مانیٹرنگ شروع ہوگئی ہے سیمنٹ میں ایشو ہے سیمنٹ کی مکمل لائن پر یہ لوگو نہیں ہوا ۔ ڈیجیٹل انوائسنگ کا معاملہ ہے ۔ اس معاملے کی سرٹیفکیٹشن کی طرف جائیں گے لائسنس کی طرف نہیں جائیں گے ۔ ٹریک اینڈ ٹریس کا معائدہ 2021میں ہوا تھا ۔سگریٹ کی پروڈکشن چپ کر ہوتی ہے مگر فروخت سرے عام ہوتا ہے ۔ قانونی سگریٹ 42فیصد ہے جبکہ باقی سب سمگل سگریٹ ہے ۔ سگریٹ پہلے کے پی کے میں تھے اب انہوں نے اپنی فیکٹریاں آزاد کشمیر میں منتقل کردی ہیں۔ سگریٹ پر ٹیکس زیادہ ہے جس کی وجہ سے قانونی سگریٹ اور غیرقانونی سگریٹ کی قیمت میں بہت زیادہ فرق ہے ۔جس کی وجہ سے اس کو روکنا بہت مشکل ہے ۔صوبہ کے پی کے بھی سیگریٹ کی غیرقانونی آمدورفت پر وفاق کے ساتھ کام کر رہی ہے

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • روپے کی صلاحیت کے حساب سے اب بھی ٹیکس کلیکشن 2016 کی سطح پر ہے،چئیرمین ایف بی آر

    روپے کی صلاحیت کے حساب سے اب بھی ٹیکس کلیکشن 2016 کی سطح پر ہے،چئیرمین ایف بی آر

    اسلام آباد: چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر )راشد لنگڑیال کا کہنا ہے کہ جو ٹیکس اکٹھا کیا وہ قرض میں چلا گیا، روپے کی صلاحیت کے حساب سے اب بھی ٹیکس کلیکشن 2016 کی سطح پر ہے۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے ایف پی سی سی آئی میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جو ٹیکس اکٹھا کیا وہ قرض میں چلا گیا، اگر پورے سال کا ٹیکس صرف قرض میں جائے تو معاملہ ٹھیک نہیں ہے ملک میں ٹاپ 1 فیصد افراد انکم ٹیکس پورا نہیں دے رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ مزید ٹیکس شرح نہ بڑھے، صنعت کار تکلیف دہ مراحل سے گزرے، اب حالات بہتر ہو رہے ہیں، امید ہے کہ شرحِ سود میں 2 فیصد کمی آئے گی۔

    آئی سی سی ٹیسٹ پلیئرز کی رینکنگ جاری،بابراعظم کی ایک درجہ …

    چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہمیں کسی ایفی ڈیوٹ کی ضرورت نہیں سب سیلز ٹیکس لاء میں موجود ہے، آپ کہہ دیں کہ ہر چیز قانون کے تحت خریدی گئی ہے، ہم کچھ نہیں کہیں گےایک شخص نے مجھے بتایا کہ وہ فلائنگ انوائس کا کاروبار کرتے ہیں، جانتے بوجھتے فلائنگ انوائس والے گرفتار ہوں گے۔

    راشد لنگڑیال نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ریفنڈز پر پیسے لیے جاتے ہیں، ہم ریفنڈز کو کھلی سماعت یا کیمرے کے سامنے کرنے کو تیار ہیں، میں نے افسر سے پوچھا ریفنڈز کے پیسے کیسے طے ہوتے ہیں؟ جس پر افسر نے کہا کہ جعلی ریفنڈز پر زیادہ، جائز پر کم پیسے لیتے ہیں-

    ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

  • پنجاب کی طرف سے برآمدات پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ ٹھیک نہیں،چیئرمین ایف بی آر

    پنجاب کی طرف سے برآمدات پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ ٹھیک نہیں،چیئرمین ایف بی آر

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانے نے بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل 2024 پاس کرلیا ۔ ایف بی آر نے پوائنٹ آف سیل کی رسید پر ایک روپے فیس رکھی ہے جس سے اب تک 647ملین روپے جمع ہوئے ہیں ۔ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبہ پنجاب کی طرف سے برآمدات پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ ٹھیک نہیں ہے صوبے صوبے سے باہر برآمدات پر ٹیکس نہیں لگاسکتے ہیں۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں شاہ زہب درانی،شیری رحمان اور انوشہ رحمان نے شرکت کی ایف بی آر حکام نے بتایا کہ پی او ایس سروس کی ایک روپ فیس لی جاتی ہے اب تک اس مد میں 647ملین جمع ہوئے ہیں ۔چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ صوبے برآمد پر ٹیکس لگارہے ہیں صوبہ پنجاب میں یہ ٹیکس لگادیا ہے وہ کس قانون کے تحت یہ کام کررہاہے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ صوبے یہ ٹیکس نہیں لگاسکتے ہیں وزارت قانون سے اس پر رائے لی جائے ۔ وزیز خزانہ نے کہاکہ اس پر وزارت قانون سے رائے لینی ہوگی ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ای وی ڈالوں(گاڑیوں) پر بھی ٹیکس لگادیا گیا ہے ۔ پیک آپ اگر لوڈر ہوتو ان گاڑیوں پر ای وی گاڑیوں کو جو مراعات حاصل ہیں وہ ان پر نہیں لگے گا. یہ ذیادتی ہے ۔حکام نے بتایا کہ ای وی میں مسافر گاڑیوں کےلیے مرعات ہیں مگر لوڈر گاڑیوں کے لیے یہ مراعات نہیں ہیں جس پر کمیٹی نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت کردی۔کمیٹی میں بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل 2024 پر بحث کی گئی ۔کمیٹی نے بل پاس کردیا ۔

    ایشیائی ترقیاتی بنک کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نئی کنٹری آپریشنل سٹریٹجی 2024-27تیار کی جا رہی ہے، نئی سٹریٹجی کے تحت آٹھ ارب اکتالیس کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کرنے کا ارادہ ہے ، نئے کنٹریکٹ آپریشن کے تحت پاکستان کو سات منصوبوں کیلیے رواں سال دو ارب ڈالر فراہم کریں گے ، دو ہزار پچیس میں پندرہ منصوبوں کیلیے ایک ارب پچاسی کروڑ ڈالر دینے کا ارادہ ہے ،دو ہزار چھبیس میں دو ارب تیس کروڑ ڈالر دیں گے،دو ہزار ستائیس میں بارہ منصوبوں کیلیے دو ارب پچیس کروڑ ڈالر دیں گے، نئی سٹریٹجی حکومت اور نجی شعبے کی مشاورت سے بنائیں گے ، اے ڈی بی قرض پر کمٹمنٹ چارجز کی مد میں معمولی رقم کاٹتے ہیں، بی آر ٹی پشاور کے بارے میں کچھ شکایات آئیں تھیں،بی آر ٹی پشاور پروجیکٹ میں نیب بھی تحقیقات کر رہا ہے

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے