Baaghi TV

Tag: ٹی بی

  • پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام عالمی یوم تفکر منایا گیا

    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام عالمی یوم تفکر منایا گیا

    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نیشنل ہیڈ کوارٹرز نے 22 فروری 2024 کو عالمی یوم تفکر منایا۔
    300 سے زیادہ گائیڈز (6 سے 21 سال کی عمر کے) نے شرکت کی۔ اس دن کا تھیم “ہماری دنیا ہمارا فروغ پذیر مستقبل – ماحولیات اور عالمی غربت” تھا۔ تقریب کے دوران، لڑکیوں کو خوشگوار سرگرمیوں کا تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ پروگرام ایکٹیوٹی سٹیشنز کی شکل میں کیا گیا۔ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق سرگرمیاں اور گیمز اس تقریب کا حصہ تھیں۔

    اس موقع پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے ٹی بی کے عالمی دن کی مناسبت سے پینٹنگ مقابلے کا بھی انعقاد کیا گیا۔ “جی ہاں، ہم ٹی بی کو ختم کر سکتے ہیں” سال 2024 کے عالمی ٹی بی ڈے کا موضوع ہے۔ پوسٹر مقابلے کے ذیلی تھیمز تھے “ٹی بی سے متعلق مفروضات کا خاتمہ: خود مختار خواتین ” اور “ٹی بی کی علامات ، بچاؤاورعلاج۔

    ڈاکٹر رضیہ کنیز فاطمہ نیشنل کوآرڈینیٹر، کامن مینجمنٹ یونٹ (سی ایم یو) برائے ٹی بی، ایچ آئی وی/ایڈز، اور ملیریاتقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ مسز ماریہ موعود صابری، نیشنل کمشنر پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نے ان کا اور دیگر مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے اس دن کے تھیم کے بارے میں بتایا اور انہیں ماحول کے تحفظ کے لیے گائیڈز کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ سے بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے اور زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے لیکن خواتین اور بچوں کو ہر آفت میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ گائیڈز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک نوجوان کے طور پر سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی رویے کرہ ارض پر زندگی کو کیسے متاثر کرتے ہیں، زندگی کی قسم کس طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اور ہمارے رویے میں کیا تبدیلیاں تمام زندگیوں کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہیں۔

    ڈاکٹر رضیہ کنیز فاطمہ نیشنل کوآرڈینیٹر، کامن مینجمنٹ یونٹ (سی ایم یو) برائے ٹی بی، ایچ آئی وی/ایڈز، اور ملیریانے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کے لیے گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے پاکستان میں ٹی بی کے خاتمے میں نوجوانوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پانچواں ملک ہے جہاں ٹی بی کے سب سے زیادہ مریض ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان بالخصوص گرل گائیڈز صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ خصوصا ٹی بی سے متعلق مفروضات کے خاتمے اور آگاہی میں ان کا کردار صورتحال کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اس موقع پر ڈبلیو ایچ او کی آفیسر انچارج محترمہ ایلن نے بھی گائیڈز سے بات کی اور انہیں پاکستان میں ٹی بی کی صورتحال سے آگاہ کیا۔

    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب

    پاکستان گرل گائیڈزایسوسی ایشن، نیشنل کلینرپروڈکشن سینٹرکے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

    گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کے زیر انتظام چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کے خلاف بیج کا اجراء

    گرلزگائیڈنگ اوربوائزسکاوٹنگ کے سفرکی دلچسپ کہانی جسے حکمران وقت تباہ کرنے پرتلے ہوئے ہیں

    قائداعظم محمد علی جناح اورفاطمہ جناح کے نقوش مٹانے کی سازشیں،حکمران خاموش یا بے بس

    جس کی بنیاد بانی پاکستان نے رکھی اسے تہس نہس کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے،سپریم کورٹ کا یادگارفیصلہ

    راولپنڈی میٹروپولیٹن نے قائد اعظم کی روح کوتڑپا دیا

    سپریم کورٹ گرلزگائیڈ کوبچانے تو دوسری طرف ضلعی انتظامیہ مٹانے کے لیے کوشاں

    سپریم کورٹ کا حکم ہوا میں ، گرلزگائیڈ ایسوسی ایشن کے لیے مشکلات

  • ٹی بی کے علاج میں کامیابی

    ٹی بی کے علاج میں کامیابی

    ایک اہم پیشرفت میں جو بدقسمتی سے مقامی میڈیا کی توجہ حاصل نہ کر سکی ، اسے ٹی بی الائنس کی جانب سے ایان گاچیچیو نے اجاگر کیا۔ ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ (ASD) نے پاکستان میں منشیات کے خلاف مزاحمتی تپ دق (DR-TB) کے علاج میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ تنظیم نے ایک پائلٹ پروگرام کے ذریعے 206 شرکاء کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی طرف سے حال ہی میں تجویز کردہ BPaL/M ریگیمینز کے ساتھ علاج کے لیے رجسٹر کیا۔ ان رجیموں میں بیڈاکولین، پٹرومالڈ اور لائنزولڈ کے مجموعے موکسیفلوکسین کے ساتھ یا اس کے بغیر شامل ہوتے ہیں،

    ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ نے ایک قابل ذکر کامیابی کی شرح کی اطلاع دی، 113 میں سے 105 شرکاء (95%) اس علاج سے صحت یاب ہوئے، یہ نئی طرز عمل کے ساتھ عالمی سطح پر مشاہدہ کی گئی کامیابی کی شرح کا آئینہ دار ہے۔ اورمنشیات کے خلاف مزاحم ٹی بی کے علاج کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان مثبت نتائج کے جواب میں، پاکستان نے فوری طور پر DR-TB کے علاج کے رہنما خطوط کو اپ ڈیٹ کیا ہے، ان چھ ماہ کے تمام زبانی طریقہ کار کے استعمال کی توثیق کی ہے۔

    اکتوبر 2022 سے، ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ، پاکستان کے نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام (NTP) اور TB الائنس کے تعاون سے، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں چار مقامات راولپنڈی، نشتر ملتان، جناح لاہور، اور لیڈی ریڈنگ پشاور سے شرکاء کو بھرتی کر رہا ہے۔ ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ کی معاونت میں تکنیکی مہارت، کامیاب نفاذ کو یقینی بنانا، جامع تربیتی مواد اور کارکردگی کی نگرانی کے آلات شامل تھے۔ یہ پروجیکٹ مختلف ممالک میں BPaL/M کے نظام کو نافذ کرنے میں ٹی بی الائنس کے عالمی تجربے پر مبنی ہے۔

    ایک پُرجوش کامیابی کی کہانی عائشہ کی ہے، جو ایک نوجوان ماں ہے جس نے اپنی کمیونٹی میں منشیات کے خلاف مزاحمت کرنے والے تپ دق سے لڑنے والے دوسروں کے مشکل سفر کو دیکھا تھا۔ جب وہ خود بیمار ہو گئیں، عائشہ نے BPaL/M کے طریقہ کار کے لیے پائلٹ پروگرام میں داخلہ لیا، اسے فوری آرام آیا اور اس نے اپنی صحت دوبارہ حاصل کی، عائشہ نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہاکہ، “BPaL/M کا علاج میری زندگی میں سورج کی کرن بن کر ابھرا، جس کی تکمیل میں صرف چھ ماہ لگے۔ اس شاندار پیش رفت کی بدولت، میں اب اپنے خاندان کے لیے حاضر ہو سکتی ہوں اور زندگی کی خوشیوں کا ایک بار پھر مزہ لے سکتی ہوں۔” ان کے شوہر علی نے علاج کے لیے اظہار تشکر کیا، جس میں عائشہ کو ان لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ضمنی اثرات کا سامنا کرنا پڑا جن کا وہ جانتے تھے۔

    جیسے جیسے پروگرام آگے بڑھ رہا ہے، ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ پاکستان میں BPaL/M علاج کے نفاذ کو فروغ دینے، مدد کرنے اور اسکیل کرنے کے لیے وقف ہے۔ ابتدائی چار مقامات کے بعد نیشنل پروگرام نے پہلے ہی ملک بھر میں آٹھ اضافی مقامات پر اسکیلنگ شروع کر دی ہے۔ پاکستان میں 40 سے زیادہ DR-TB کیئر سائٹس تک توسیع کرنے کا منصوبہ ہے۔ مزید برآں، ریمنگٹن فارماسیوٹیکلز کے ساتھ ٹی بی الائنس کی تجارتی شراکت داری ملک میں پریٹومینیڈ اور بی پی اے ایل/ایم ریگیمینز تک رسائی کو مزید بڑھانے کا وعدہ بھی کرتی ہے۔

  • کورونا کےبعد ٹی بی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا:عالمی ادارہ صحت

    کورونا کےبعد ٹی بی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا:عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا کی وبا کے بعد ٹی بی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور پچھلے سال دنیا بھر میں ایک کروڑ لوگ اس سے متاثر ہوئے۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے ٹی بی کے حوالے سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کورونا کی وبا کو ٹی بی کے بڑھنے کا بڑا سبب قرار دیا۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق سال 2019 میں عالمی سطح پر ٹی بی کے کیسز میں نمایاں کمی ہونے لگی تھی اور اس وقت دنیا بھر میں 70 لاکھ لوگ اس سے متاثر تھے مگر 2020 میں یہ کم ہوکر 55 لاکھ تک رہ گئے تھے۔ادارے کے مطابق تاہم کورونا کی وبا آنے کے بعد ٹی بی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا اور 2021 میں دنیا بھر میں اس سے ایک کروڑ لوگ متاثر ہوئے جب کہ اس سے 16 لاکھ اموات بھی ہوئیں۔

    ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا کی وبا کے بعد جہاں ٹی بی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا، وہیں پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والی بیماری کے خلاف طویل جدوجہد بھی ناکام ہوگئی اور سالوں بعد پھر سے ٹی بی ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں ٹی بی کے کیسز میں ساڑھے فیصد تک اضافہ دیکھا گیا جب کہ اسی سال ہونے والی 16 لاکھ میں سے ساڑھے 4 لاکھ اموات وہ تھیں جو خطرناک ٹی بی کے باعث ہوئیں۔ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2021 میں ساڑھے 4 لاکھ اموات ادویات سے بھی کنٹرول نہ ہونے والی ٹی بی سے ہوئیں۔

    عمران خان ایماندار اورمخلص انسان،آرمی چیف کو کبھی غدار نہیں کہا:فیصل واوڈا

    ادارے کے ماہرین نے ٹی بی میں خطرناک اضافے کو جہاں کورونا سے جوڑا، وہیں دنیا کی معاشی تنگ دستی اور دنیا بھر میں جاری کشیدگیوں کو بھی اس کے بڑھنے کے اسباب قرار دیا۔ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر کورونا کے خوف کی وجہ سے ٹی بی کے مریض علاج سے پرہیز کرتے رہے، جس سے یہ بیماری خطرناک حد تک پھیل گئی۔

    روس نے امریکی اور یورپی تجارتی سیٹلائٹس تباہ کرنے کی دھمکی دیدی

    عالمی ادارہ صحت نے یوکرین پر روسی جنگ کو بھی ٹی بی کے بڑھنے کا ایک سبب قرار دیا اور کہا جنگ سے قبل یوکرین میں ٹی بی تیزی سے پھیل رہا تھا اور وہاں کے لوگ جنگ کے بعد اس کے علاج سے محروم رہ جائیں گے۔عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر کے ممالک کو ٹی بی سے نمٹنے کے لیے بر وقت انتظامات کرنے اور اس کی ادویات سستی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    آرمی چیف سے ملاقاتوں میں کوئی غیرآئینی مطالبہ نہیں کیا،الیکشن کا مطالبہ…

  • ہیپاٹائٹس،ٹی بی اور ایڈزکامفت علاج کر رہے ہیں، سلمان رفیق

    ہیپاٹائٹس،ٹی بی اور ایڈزکامفت علاج کر رہے ہیں، سلمان رفیق

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پنجاب بھرمیں ڈینگی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیاہے۔ پاکستان میں منکی پاکس کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہواہے۔ محکمہ صحت پنجاب پولیوکے خاتمہ کیلئے تمام تروسائل بروئے کارلارہاہے۔

    خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ آئی آرایم این سی ایچ پروگرام پیدائش سے دوسال عمرکے بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے حفاظتی اقدامات اٹھارہاہے،
    پنجاب میں ہیپاٹائٹس،ٹی بی اور ایڈزکے رجسٹرڈ مریضوں کو تشخیص اورعلاج کی مفت سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔صوبہ بھرمیں ہیپاٹائٹس،ٹی بی اور ایڈزکے مراکزمیں اضافہ کیاجائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ صحت کے مختلف پروگرامزمیں خالی اسامیوں پر جلدبھرتی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پنجاب کی عوام کو صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کے ویژن کے مطابق صوبہ کی عوام کو صحت کے شعبہ میں ریلیف دیاجائے گا۔

    خواجہ سلمان رفیق۔ کا کہنا تھا کہ پنجاب کے دوردرازکے علاقہ جات میں عوام کے پاس جاکرصحت کی بہترسہولیات کویقینی بنایاجائے گا۔ پنجاب کی عوام کو صحت کی بہترسہولیا ت فراہم کرنے کی جانب تمام ترتوجہ مرکوزکردی گئی ہے۔

    صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق کی زیرصدارت محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں اہم اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹرعاصم الطاف،ڈی جی ہیلتھ سروسزپنجاب ڈاکٹرہارون جہانگیر،ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹرمختاراعوان،ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹرشاہدحسین مگسی،ڈپٹی مینیجر پنجاب ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام ڈاکٹریداللہ ودیگرافسران نے شرکت کی۔

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کے دوران مختلف بیماریوں سے لڑنے کیلئے محکمہ صحت کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرعاصم الطاف،ڈی جی ہیلتھ سروسزڈاکٹرہارون جہانگیراور دیگرپروگرام مینیجرزنے صوبائی وزیر کوصحت کے اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

    اجلاس کے دوران صوبہ بھرمیں کورونا،پولیو،ڈینگی،منکی پاکس،ہیٹ سٹروک،ملیریا،خسرہ،نمونیا،موسماتی انفلنزا،سموگ،ایڈز،کینسر،ٹی بی،ہیپاٹائٹس ودیگربیماریوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔