Baaghi TV

Tag: ٹی ٹی پی

  • بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ اب خواتین اور نوجوانوں کو منظم انداز میں انتہا پسند ی کی جانب راغب کر کے خودکش حملوں اور دیگر دہشتگرد سرگرمیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف شدت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک دہشتگردوں کو لاجسٹک سہولتیں، تربیتی وسائل، مالی معاونت اور بھرتی کے وسیع نیٹ ورکس فراہم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری آبادیوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں حالیہ برسوں میں دہشتگرد تنظیموں نے معاشی مشکلات، سماجی کمزوریوں اور نفسیاتی عوامل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں اور خواتین کی بھرتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ان افراد کو نظریاتی طور پر تیار کرنے کے بعد خودکش حملوں، سہولت کاری اور تنظیمی نیٹ ورکس کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سیکیورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ نوجوانوں اور خواتین کو استعمال کرنے کی یہ حکمت عملی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

    مارچ 2026 میں سیکیورٹی اداروں نے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لائبہ عرف فرزانہ کے مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی تحقیقا ت کے مطابق لائبہ جولائی 2025 میں کالعدم بی ایل اے میں شامل ہوئی تھی اسے سابق ٹی ٹی پی کمانڈر ابراہیم عرف قاضی ماما کے نیٹ ورک کے ذر یعے انتہا پسند نظریات کی طرف مائل کیا گیا اور بعد ازاں بی ایل اے کے حوالے کر دیا گیا لائبہ کو نہ صرف ایک ممکنہ خودکش کارروائی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا بلکہ اسے مالی طور پر کمزور نوجوان خواتین کو تنظیم میں شامل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ کیس اس رجحان کی ایک اہم مثال ہے جس میں خواتین کو دہشت گرد نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے فعال کردار دیا جا رہا ہے۔

    ایک اور کیس میں رحیمہ بی بی کے بیان نے دہشتگرد تنظیموں کے باہمی روابط کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے زرینہ رفیق نامی ایک خاتون خودکش بمبار کی معاونت کی، جس کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے بتایا گیا حملے سے قبل زرینہ کو افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں اسے عسکری تربیت فراہم کی گئی۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کی ایک وجہ ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس کے ساتھ مبینہ تعاون بھی قرار دیا جا رہا ہے ماہرین کے مطابق یہ گٹھ جوڑ دہشتگرد تنظیموں کو اسلحہ اور بارودی مواد تک رسائی، تربیتی سہولتیں، مالی معاونت، آپریشنل رہنمائی اور بھرتی کے مؤثر نیٹ ورکس فراہم کرتا ہے۔

    ان کے مطابق افغانستان کے راستے موجود سہولت کار مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطوں اور کارروائیوں میں معاونت کرتے ہیں، جس سے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد نسبتاً آسان ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض سیکیورٹی ماہرین اس رجحان کو خطے میں دہشتگردی کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔

    کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس اب بھی ایک سنجیدہ خطرہ ہیں اس حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ قریبی گھروں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا سیکیورٹی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں مختلف نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور معاون گروہوں کے ذریعے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث امن و امان کے قیام کی کوششوں کو مسلسل چیلنجز درپیش رہتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باوجود اب سب سے بڑا چیلنج صرف دہشتگرد حملوں کو روکنا نہیں بلکہ ان بھرتی نیٹ ورکس کو توڑنا بھی ہے جو نوجوانوں اور خواتین کو انتہا پسندی کی طرف لے جا رہے ہیں، آن لائن انتہا پسندی کا مقابلہ، نوجوانوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا، خواتین کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا، اور دہشت گرد بھرتی نیٹ ورکس کا خاتمہ انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی کے اہم ستون بن چکے ہیں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ سماجی، تعلیمی اور معاشی سطح پر بھی مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک عناصر کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دہشتگردی کے ایک نئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں خواتین اور نوجوانوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ لائبہ عرف فرزانہ اور رحیمہ بی بی جیسے کیسز اس بات کی مثال سمجھے جا رہے ہیں کہ کس طرح سرحد پار تربیتی نیٹ ورکس، مقامی سہولت کار اور انتہا پسند تنظیموں کے درمیان تعاون دہشتگردی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک پیچیدہ، کثیر جہتی اور طویل المدتی چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی، سماجی اور سیاسی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

  • افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

    افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

    افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف سامنے آیا ہے-

    مختلف سفارتی ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان رجیم نے ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشتگرد تنظیموں کے اہم کمانڈروں کو کابل میں موجود گرین زور، خصوصاً ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دے رکھی ہے تاکہ انہیں محفوظ رکھا جاسکے پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے بھی گزشتہ روز ٹویٹ میں کہا کہ کچھ سفار تی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کابل کے گرین زون، خاص طور پر وزیر اکبر خان علاقے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی، گل بہادر، بشیر زیب اور دیگر مطلوب دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں، ذرائع کے مطابق ان کا قیام سفارتی علاقے کے قریب خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے اور کئی بین الاقو امی سفارت کار جلد کابل چھوڑ سکتے ہیں۔

    سیکیورٹی اور علاقائی ماہرین کے مطابق طالبان نے 1990 کی دہائی میں اپنی سابقہ جنگی حکمت عملی کی طرح دہشت گردوں کو ایسے علاقوں میں رکھا ہے جہاں حملہ کرنا دیگر ممالک کے لیے سیاسی اور سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماضی میں طالبان نے جرمن کلب جیسے بین الاقوامی کمپاؤنڈز میں قیام کر کے اپنے رہنماؤں کو محفوظ بنایا تھا۔

    ایران کو یقینا فتح ہوگی، روسی فوجی ماہر کی پیشگوئی

    افغان طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ٹی ٹی پی اراکین کو پناہ لینے والے قرار دیا اور کہا کہ یہ دہشت گرد نہیں بلکہ مہاجر ہیں، تاہم بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروہ تسلیم کیا گیا ہے، جس پر اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک نے انہیں پاکستان میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں القاعدہ، داعش خراسان، آئی ایم یو، ای ٹی آئی ایم اور دیگر شامل ہیں، ان کے تربیتی کیمپ اور نیٹ ورکس مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔

    ایران کیخلاف امریکا واسرائیل جنگ:چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی خطے کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے۔ بین الاقوامی تعاون اور مضبوط انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے بغیر افغانستان دوبارہ علاقائی اور عالمی دہشت گردوں کا گڑھ بن سکتا ہے طالبان کی جانب سے ان گروہوں کو پناہ دینا اور ان کی موجودگی کو مہاجرین کے طور پر پیش کرنا خطے میں تشویش اور سفارتی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

  • جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کا نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان

    جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کا نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان

    پاکستان کی معروف دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کراچی نے فتنہ الخوارج کے سربراہ نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، تصدیق کی جاتی ہے کہ نور ولی محسود عرف ابو منصور عاصم ولد حاجی گل شاہ سکنہ شمالی وزیرستان (تنظیم فتنہ الخوارج تحریک طالبان پاکستان) کا جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں،جامعہ ہذا نے اگر کسی بھی قسم کی سند جاری کی ہو وہ کینسل کی جاتی ہے-

    واضح رہے کہ نور ولی کا تعلق وزیرستان سے ہے، جو اس وقت فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے سربراہ ہیں،مفتی نور ولی کا شمار کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کے قریبی کمانڈروں میں ہوتا تھا، جہاں وہ ڈپٹی کمانڈر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

  • کراچی:سی ٹی ڈی کی کارروائی ، ٹی ٹی پی الخوارج کا اہم کارکن گرفتار، اسلحہ برآمد

    کراچی:سی ٹی ڈی کی کارروائی ، ٹی ٹی پی الخوارج کا اہم کارکن گرفتار، اسلحہ برآمد

    کراچی: کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) انٹیلیجنس وِنگ نے تاج کمپلیکس کے قریب کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) پاکستان الخوارج سے تعلق رکھنے والے اہم کارکن کوگرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا۔

    باغی ٹی وی : انچارج سی ٹی ڈی، ڈی ایس پی راجہ عمر خطاب کے مطابق گرفتار ملزم خلیل الرحمن کا تعلق نُور ولی اللہ گروپ سے ہے، ملزم نے گزشہ سال دسمبر 2024 میں ٹی ٹی پی الخوارج کمانڈر مصباح کے حکم پر قائد اعظم کے مزار اور کراچی کے مختلف علاقوں کی ویڈیو بنا کر افغانستان بھیجی تھی اور سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی اور دھمکی دی تھی کہ ہم کراچی آگئے ہیں۔

    انچارج سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم نے سوشل میڈیا پر پرچی پر پیغام ’’ امیر محترم نور ولی ابو آلعاصم نور ولی محسود تحریک طالبان پاکستان TTP کراچی Comming soon ‘‘ لکھا ہوا وائرل کیا تھا، ملزم افغانستان میں دہشت گردی کی ٹریننگ بھی حاصل کر چکا ہے جسے انٹیلیجنس ، ٹیکنیکل بنیادوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مددسے گرفتار کیا گیا۔

    سیالکوٹ: پاکستان بیت المال کی جانب سے رمضان میں مستحق افراد کے لیے افطار کا اہتمام

    ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ وہ افغانستان سے ٹریننگ لے کر کراچی آیا اور مخلتف ہوٹلوں پر کام کرتا رہا، اس کے بعد ایک پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی اور ڈیفنس میں ایک بنگلے پر ڈیوٹی کررہا تھا، ملزم فارغ اوقات میں رات وقت ٹی ٹی پی کے حوالے سے دیواروں پر وال چاکنگ کرتا تھا، ملزم ڈیفنس کے ایریا میں الخوارج ٹی ٹی پی کی چاکنگ کرنے میں بھی ملوث ہے۔

    میرا مقصد صرف جعلسازی کو ہائی لائٹ کرنا تھا،ناکہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کی تذلیل ،نادیہ حسین

    راجہ عمر خطاب کے مطابق اسی دوران اس نے ویڈیوبناکر سوشل میڈیا پر وائرل کروائی تھی، سی سی ٹی وی کی مدد سے اس ملزم کا سراغ لگایا گیا جس کو کراچی کے مختلف علاقوں میں گھومتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

  • ٹی ٹی پی کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کے مجرموں کو 5، 5 سال قید کی سزا

    ٹی ٹی پی کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کے مجرموں کو 5، 5 سال قید کی سزا

    پشاور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کے مجرموں کو 5، 5 سال قید کی سزا سنا دی۔

    باغی ٹی وی: کالعدم ٹی ٹی پی کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کے کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد اقبال خان نے کی، جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو 5، 5 سال قید اور 60 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔

    پراسیکیوشن نے موقف اختیار کیا کہ ملزم مدثر اور اسماعیل کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے لیے چندہ اکٹھا کر رہے تھے دونوں ملزمان کو جمیل چوک پشاور میں چندہ اکٹھا کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ملزمان سے چندے کی رقم اور دیگر اشیا بھی برآمد ہوئی تھیں ملزمان کے خلاف تمام شواہد موجود ہیں، عدالت نے جرم ثابت ہونے پر دونوں مجرموں کو 5، 5 سال قید اور 60 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملے بڑھنے کی وجہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغان طالبان کی مسلسل مالی اور لاجسٹک مدد ہے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور طاقت برقرار ہے، 2024 کے دوران اس نے پاکستان میں 600 سے زائد حملے کئے، افغان طالبان ٹی ٹی پی کو ماہانہ 43 ہزار ڈالر فراہم کر رہے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 فروری کو طلب

    رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ افغانستان کے صوبے کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی کے نئے تربیتی مراکز قائم کئے گئے ہیں رپورٹ میں بلوچستان لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کے داعش اور مشرقی ترکستان اسلامی تحریک سے گٹھ جوڑ اور اسے افغانستان سے ملنے والی مدد کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان حکومت پر مسلسل اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ طالبان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں لیکن اس کے باوجود افغان سرحد سے ٹی ٹی پی کے دہشتگرد مسلسل پاکستان میں حملے کر رہے ہیں اور پاکستان میں دہشتگردی میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی افغان حکومت کو پیش کر چکا ہے۔

    امریکا سے مزید 277 بھارتی ڈی پورٹ

  • پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    پارا چنار میں امن کی بحالی کے لیے کیے جانے والے معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا ایک اہم رہنما ہے، جو علاقے میں امن کے قیام کی کوششوں کے خلاف سرگرم رہا۔ حاجی کریم کی اس متنازعہ حرکت سے علاقے میں ایک بار پھر بدامنی کا سامنا ہے، جس سے نہ صرف پاڑا چنار بلکہ پورے خیبر پختونخوا اور پاکستان میں سیاسی اور سماجی ماحول پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    حاجی کریم کے ٹی ٹی پی سے گہرے روابط

    ذرائع کے مطابق، حاجی کریم کا ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) سے گہرا تعلق ہے، جو پاکستانی حکومت کے خلاف سرگرم ہے اور مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتا رہا ہے۔ حاجی کریم کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت اور ان کے ساتھ روابط کی خبریں ایک بڑی تشویش کا باعث بنی ہیں۔ یہ تعلقات علاقے میں امن و سکون کو تباہ کرنے کی ایک اہم وجہ سمجھے جا رہے ہیں۔

    ٹی ٹی پی پی ٹی آئی کی اعلانیہ حامی

    حاجی کریم کی حمایت میں، ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے اور پی ٹی آئی کو اپنی اعلانیہ حامی جماعت قرار دیا ہے۔ اس سیاسی حمایت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور ملکی سیاست میں پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرنا اس بات کا غماز ہے کہ پارٹی کے موقف اور ٹی ٹی پی کے تعلقات پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے۔

    پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان میں آپریشنز اور افغانستان میں کارروائیوں کی مخالف

    پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کئی آپریشنز کیے ہیں، مگر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی حمایت اور ان کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کرنے کا موقف اپنایا ہے۔ یہ متضاد پالیسی ملک کے داخلی اور خارجی معاملات میں گہری پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے، جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی کا پارا چنار میں جاری فساد سے بلکل لاتعلق رہنا

    پی ٹی آئی کی قیادت نے پاڑا چنار میں جاری فساد پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، حالانکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ پارٹی کی اس لاتعلقی نے لوگوں میں سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی اس فساد سے واقعتاً لاتعلق ہے، یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور سازش چھپی ہوئی ہے؟

    یہ پارا چنار بدامنی کہیں پی ٹی آئی کا ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی مشترکہ منصوبہ تو نہیں؟

    حالات کی یہ پیچیدگی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کہیں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے درمیان کسی مشترکہ منصوبے پر عمل ہو رہا ہے، جس کا مقصد پارا چنار اور دیگر علاقوں میں بدامنی پھیلانا ہو؟پی ٹی آئی کے اتحادی مجلس وحدت المسلمین (MWM) نے بھی حالیہ دنوں میں کراچی اور دیگر علاقوں میں شیعہ سنی فسادات کو بڑھانے کی کوشش کی تھی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ فسادات ایک گہری سازش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ان سوالات کا جواب وقت کے ساتھ سامنے آئے گا، لیکن اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ پاڑا چنار میں جاری بدامنی اور فسادات میں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کی مشترکہ سازش کا عنصر کہاں تک حقیقت رکھتا ہے۔

  • فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی  میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ

    کیا فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے؟

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں فتنہ الخوارج کے لیڈر نور ولی کے ہاتھو ں کمانڈر رحیم عرف شاہد عمر اور مزید تین خوارجی طارق، خاکسار اور عدنان مارے گئے۔ نور ولی کی اقتدار کی ہوس ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے، جو اختلافات کو قتل و غارت اور خونریزی کے ذریعے حل کر رہا ہے ۔دھوکہ دہی اور اندرونی لڑائی نے ٹی ٹی پی کی بکھرتی ہوئی قیادت کو بے نقاب کر دیا ہے۔فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ کی قیادت کے حصول کے لیے تنازع اس واقعے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔ افغان سرزمین ان کی بدامنی کا میدان جنگ بنی ہوئی ہے، جو خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ۔ تحریک خوارج پاکستان ٹی ٹی پی جو دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، اس کا اصل میں دین کے ساتھ دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ مجرموں کا ایک ٹولہ ہے جو صرف اقتدار اور طاقت کے لیے سرگرم ہے۔

    سکیورٹی اداروں کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    فتنہ الخوارج کے اندرونی تنازعات میں شدت،آپس میں لڑپڑے

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان کی سر زمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر منظرِ عام پرآگئے۔

    افواج پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے،حال ہی میں پاکستان میں افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، افغانستان سے دہشتگرد پاک افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔سب پر یہ بات عیاں ہے کہ ”دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے”۔دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔

    09 دسمبر 2024 کو، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔آپریشن کے نتیجے میں دو خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا جبکہ ایک خارجی زخمی حالت میں پکڑا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A2, M4,AK-47 برآمد ہوا۔

    10 نومبر 2024 کو ضلع شمالی وزیرستان میں دس خوارج کو جہنم واصل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A4, M4,AMV-65 برآمد ہوا۔

    23/24 اکتوبر 2024 کی رات، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع باجوڑ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران، پاکستانی فوج کے دستوں نے دو خودکش بمباروں سمیت 9 خوارج اور 1 ہائی ویلیو ٹارگٹ خارجی رنگ کے لیڈر سید محمد عرف قریشی استاد کو جہنم واصل کیا۔ہلاک ہونے والے خوارج سے بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ جس میں M4, AMD65, AK47 گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

    19/20 ستمبر 2024 کو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں اپنے ہی فوجیوں اور دہشت گردوں کے درمیان دو شدید مقابلے ہوئے جس کے نتیجے میں بارہ خوارج جہنم واصل کر دیے گئے۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں SKS, AK-47, RPD, LMG برآمد ہوا۔

    افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحے کی پاکستان سمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف غیر ملکی اسلحے کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔یورو ایشین ٹائمز کے مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی کارروائیوں میں غیر ملکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے مطابق امریکا نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے، جس میں 300,000 انخلا کے وقت باقی رہ گئے۔اس بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔امریکا نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔ امریکی انخلا کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں مدد دی،یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان رجیم نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے افغانستان کے ناظم الامور کی ملاقات

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    افغانستان نے بھارت میں قائمقام قونصلر کی تقرری کر دی

    قومی ترانے کی بے حرمتی:پاکستان نے افغانستان سفارتخانے کی وضاحت کو سختی سے مسترد کردیا

  • فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    کیا فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے؟

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں فتنہ الخوارج کے لیڈر نور ولی کے ہاتھوں کمانڈر رحیم عرف شاہد عمر اور مزید تین خوارجی طارق، خاکسار اور عدنان مارے گئے.نور ولی کی اقتدار کی ہوس ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے، جو اختلافات کو قتل و غارت اور خونریزی کے ذریعے حل کر رہا ہے ۔ دھوکہ دہی اور اندرونی لڑائی نے ٹی ٹی پی کی بکھرتی ہوئی قیادت کو بے نقاب کر دیا ہے، فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ کی قیادت کے حصول کے لیے تنازع اس واقعے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔ افغان سرزمین ان کی بدامنی کا میدان جنگ بنی ہوئی ہے، جو خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ۔

    تحریک خوارج پاکستان ٹی ٹی پی جو دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، اس کا اصل میں دین کے ساتھ دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ مجرموں کا ایک ٹولہ ہے جو صرف اقتدار اور طاقت کے لیے سرگرم ہے۔تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے یہ گروہ اپنے آپ کو دین اور اسلام کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر ان کی سرگرمیاں دین سے دور اور مجرمانہ ہیں۔ یہ تنظیم اپنے مخصوص مفادات کے لیے مسلسل خونریزی اور دہشت گردی کے راستے اختیار کر رہی ہے، اور ان کا اصل مقصد دین کی تعلیمات کی پاسداری نہیں، بلکہ صرف اقتدار اور طاقت کا حصول ہے۔

    ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات اور قیادت کی جنگ نے اس تنظیم کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان جاری یہ تصادم خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے اور یہ تحریک دراصل دین کے لبادے میں ایک دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے، جو اپنے اقتدار کے لیے بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہی ہے

  • ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈر رحیم اللہ عرف شاہد عمر افغانستان کے صوبے کنڑ کے علاقے شرنگل میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے رہنما کی ہلاکت کے حوالے سے ابھی تک افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم عسکریت پسند تنظیم نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

    افغان سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق شاہد عمر کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ افغان طالبان کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کے بعد واپس اپنے مقام پر جا رہے تھے۔ حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق، ٹی ٹی پی کمانڈر شاہد عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک سینئر کمانڈر تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ اس کے علاوہ وہ ایک طویل عرصہ تک افغان طالبان کی جانب سے بگرام جیل میں قید رہا، جہاں اس نے آٹھ سال گزارے۔

    رحیم اللہ عرف شاہد عمر، ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند تنظیم کے فوجی کمیشن کا رکن بھی تھا اور اس نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے ٹی ٹی پی کا شیڈو گورنر ہونے کا بھی عہدہ سنبھالا تھا۔رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کے مزید کمانڈروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم اس خبر کے شائع ہونے تک ان کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔رحیم اللہ عرف شاہد عمر کی ہلاکت نہ صرف ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان نے بار بار اس بات کا الزام عائد کیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ سرحد پار پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، لیکن افغان طالبان حکومت نے ان دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی کی تردید کی تھی۔ شاہد عمر کی ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔

    کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات کی نوعیت بھی اس واقعے کے بعد مزید زیر بحث آ سکتی ہے، کیونکہ یہ دونوں گروہ ماضی میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈر افغان طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں پناہ گزین ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ ابھی تک پوری طرح سے قابو میں نہیں آ سکے، اور یہ پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر جب پاکستان کی سرحد کے قریب دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے کی خبریں آ رہی ہوں۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر کو قتل کرنے کی ذمہ داری جبھتہ الرباط نے قبول کرلی
    افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں قتل ہونے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے انتہائی سینئر کماںدر شاھد عمر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کھانا کھارہے تھے۔شاھد عمر ٹی ٹی پی کے بانیوں میں شمار ہونے والے رہنما فقیر محمد کے بھتیجے تھے اور ٹی ٹی پی میں ان کو اہم مقام حاصل تھا وہ 8 سال سابقہ افغان حکومت کی قید میں بھی گزار چکے تھے، ذرائع کے مطابق ان کو کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ایک اور رکن نے کھانے کی دعوت پر بلا کر کھانے کے دوران ہی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والا کمانڈر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا اور حکومت نے ان کے سر پر ایک کروڑ پاکستانی کرنسی کا انعام بھی رکھا تھا۔