Baaghi TV

Tag: پارا چنار

  • اشیائے خورد و نوش اور سامان لیکر قافلہ پارا چنار پہنچ گیا

    اشیائے خورد و نوش اور سامان لیکر قافلہ پارا چنار پہنچ گیا

    اشیائے خور و نوش اور دیگر سامان لے کر 225 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پارا چنار پہنچ گیا۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق قافلے میں اشیائے خورد و نوش کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات بھی بھجوائی گئیں ، گزشتہ روز بھی 30 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم روانہ ہو گیا تھا۔دوسری جانب کرم میں امن معاہدے کے تحت بنکرز کی مسماری اور اس سے منسلک خندقوں کو مسمار کرنے کا عمل جاری ہے ، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 272 بنکرز مسمار کیے جا چکے ہیں۔علاوہ ازیں امن معاہدے کے تحت اسلحہ اور ہتھیاروں کو مرحلہ وار ریاست کے پاس جمع کروانے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے اور اب تک 100 سے زائد شرپسند عناصر کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب پاراچنارپریس کلب کے باہر راستوں کی بندش کے خلاف شہریوں کا احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے، مظاہرین کا راستے کھولنے اور متاثرین کے لئے فوری ریلیف پیکج کا مطالبہ کیا ہے۔حاجی امداد صدر ٹریڈ یونین کے مطابق 15 روز کے وقفے سے کل 113 چھوٹی بڑی گاڑیوں میں سامان لایا گیا، لوئر کرم و دیگر مختلف علاقوں میں بھی سو سے زائد ٹرک سامان پہنچایا گیا۔انھوں نے کہا کہ پانچ ماہ سے محصور پانچ لاکھ عوام کے لئے فوری طور ایک ہزار ٹرک سامان کی ضرورت ہے۔

    ارمغان سے منشیات کے کاروبار اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع

    امریکن سیکریٹری دفاع کا بھی افغان دہشتگرد پکڑنے پر پاکستان کا شکریہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ، 3 لاکھ 7 ہزار روپے تولہ

    ون ڈے پلیئرز رینکنگ جاری، روہت شرما، رضوان اور فخر کی تنزلی

    امریکی صدر کے بیان کے بعد جادو ٹونے زمین بوس ہوگئے، گورنر سندھ

  • امداد کی61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم پہنچ گیا

    امداد کی61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم پہنچ گیا

    پارا چنار کے لیے جانے والا 61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ بگن کو پار کرتے ہوئے کرم ایجنسی پہنچ گیا۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق 61 گاڑیوں پر مشتمل سامانِ رسد کا قافلہ پارا چنار کے لیے آج دوپہر ایک بجے روانہ ہوا جو 16 جنوری کو ہوئے حملے کے مقام بگن کو کراس کر کے کرم کے اندر داخل ہوگیا۔ قافلے میں آٹا، چینی، پھل، سبزیاں اور ادویات پر مشتمل سامان شامل ہے، قافلے کی حفاظت پولیس اور ضلعی انتظامیہ کر رہی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز بھی معاونت کے لیے موجود ہیں۔ڈی پی او ہنگو محمد خالد کے مطابق ٹوٹل 61 گاڑیوں کا قافلہ کرم کے اندر داخل ہو گیا ہے، آر پی او کوہاٹ عباس مجید اور کمشنر کوہاٹ خود قافلے کی نگرانی کررہے ہیں، قافلے میں مال بردار گاڑیوں سمیت ادویات اور اشیائے ضرورت کی گاڑی بھی شامل کیے گئے ہیں۔ کرم قافلے کیلئے بہترین سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آپریشن میں تمام شر پسندوں کی مکمل صفائی پر کام شروع ہو چکا ہے۔کرم کے علاقے بگن میں مسجد کی تزئین و آرائش اور علاقے کی صفائی مہم کا آغاز عوام اور انتظامیہ کے باہمی تعاون کی علامت ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کرم میں فریقین کے دستخط شدہ امن معاہدے کے مطابق آئندہ بھی کسی واقعے کے نتیجے میں شر پسندوں کے خلاف بلاتفریق سخت کارروائی کی جائے گی۔افواج پاکستان اور مقامی افراد کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد علاقے میں امن کے قیام کی ضمانت ہے۔ بگن میں اب تک جاری کامیاب آپریشن میں سول انتظامیہ، پولیس، سیکیورٹی اداروں اور مقامی مشران کی شاندار ہم آہنگی کے ذریعے اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

    امارات کے اسکولوں میں 9 دن کی چھٹیاں ہو گئیں

    روزانہ 2ہزار پاکستانی بہتر روزگار کیلئے ملک سے جا رہے ہیں

    سیف علی خان کی جان بچانے والے رکشہ ڈرائیور سے ملاقات، بڑی پیشکش

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

  • کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم کے علاقے بگن میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے متاثرین کے لیے ہنگو میں عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان افراد کو مناسب پناہ گزینی اور امدادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر زمان نے میڈیا کو بتایا کہ بگن سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے محمد خواجہ کے علاقے میں عارضی کیمپ قائم کیا جائے گا۔ اس کیمپ میں سیکڑوں ایکڑ اراضی پر ہزاروں خاندانوں کے لیے خیمہ بستی قائم کی جائے گی۔ کیمپ میں رہائش کے علاوہ دیگر سہولتوں کا بھی انتظام کیا جائے گا، جن میں اسکول، مساجد، بی ایچ یو (بنیادی صحت مرکز) اور دیگر ضروری سہولتیں شامل ہوں گی۔ڈی سی ہنگو گوہر زمان نے مزید بتایا کہ پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے خیموں اور دیگر امدادی سامان کے 22 ٹرک فراہم کیے جائیں گے، جن میں سے 4 ٹرک کا سامان ہنگو کی ضلعی انتظامیہ کو موصول ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے کیمپ کے قیام کے لیے کام شروع کر دیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر پناہ اور ضروری اشیاء فراہم کی جائیں گی۔

    ڈی سی ہنگو نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ کرم کے متاثرین کو جو نقل مکانی کر چکے ہیں، انہیں تمام تر سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور وہ ایک محفوظ ماحول میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔

    یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گزشتہ دنوں کرم کے علاقے بگن میں کھانے پینے کا سامان لے جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا۔ حملے کے بعد حکام نے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بحال کیا جا سکے اور مقامی عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    کمشنر اور آر پی او کوہاٹ کا کُرم کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرم میں پائیدار امن کے لیے کوہاٹ معاہدہ تاریخی معاہدہ ہے۔ کرم میں بلا تفریق امن دشمن عناصر کے خلاف قانون حرکت میں ہے۔ کرم میں شر پسندوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ کوشش ہے کہ کرم میں انسانی المیہ پیدا نہ ہو۔شر پسند کرم عوام میں گھل مل گئے ہیں۔ کرم میں فریقین امن کے لیے پر عزم ہیں۔ امن معاہدے پر ہر صورت عمل درآمد کرائیں گئے، سوشل میڈیا کے ذریعے شر پھیلانے والوں کے خلاف بھی کاروائی کر رہے ہیں،سیکورٹی فورسز کا آپریشن دہشت گردوں اور امن دشمنوں کے خلاف ہے

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    بھارت مالیاتی فراڈ کا مرکز ، عالمی سطح پر بڑھتے دھوکہ دہی کے واقعات

  • پاراچنار روڈ پر 48 چیک پوسٹس اور اسپیشل فورس  بنانے کا فیصلہ

    پاراچنار روڈ پر 48 چیک پوسٹس اور اسپیشل فورس بنانے کا فیصلہ

    کُرم: خیبر پختونخوا حکومت نے ٹل پاراچنار روڈ پر 48 چیک پوسٹس قائم کرنے اور اسپیشل ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دستاویز کے مطابق محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا وفاقی حکومت سے پاراچنار میں ایف آئی اے سائبر ونگ قائم کرنے کی درخوا ست کرے گی، ٹل پاراچنار روڈ کی حفاظت کیلئے اسپشل پوسٹس فورس قائم کی جائے گی پولیس چیک پوسٹوں کیلئے درکار فنڈز سے متعلق حکومت کو آگاہ کیا جائے گا، فورس میں 399 ایکس سروس مین کو بھرتی کیا جائے گا، یہ فورس ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو جواب دے ہوگی۔

    دستاویز کے مطابق حکومت کرم کے رہائشیوں سے اسلحہ خریدنے پر غور کرے گی، کرم میں اسلحہ لائسنسز کے جلد اجرا کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا، ضلع کرم میں تمام بنکرز کو یکم فروری تک ختم کیا جائے گا، بنکرز کا خاتمہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے کیا جائے گا کرم سے اپیکس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں یکم فروری تک اسلحہ جمع کیا جائے گا، اس اسلحہ کا ڈیجٹلائز ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، اسلحہ کی نگرانی ضلعی انتظامیہ کے ذمہ ہوگی۔

  • پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    پارا چنار میں امن کی بحالی کے لیے کیے جانے والے معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا ایک اہم رہنما ہے، جو علاقے میں امن کے قیام کی کوششوں کے خلاف سرگرم رہا۔ حاجی کریم کی اس متنازعہ حرکت سے علاقے میں ایک بار پھر بدامنی کا سامنا ہے، جس سے نہ صرف پاڑا چنار بلکہ پورے خیبر پختونخوا اور پاکستان میں سیاسی اور سماجی ماحول پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    حاجی کریم کے ٹی ٹی پی سے گہرے روابط

    ذرائع کے مطابق، حاجی کریم کا ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) سے گہرا تعلق ہے، جو پاکستانی حکومت کے خلاف سرگرم ہے اور مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتا رہا ہے۔ حاجی کریم کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت اور ان کے ساتھ روابط کی خبریں ایک بڑی تشویش کا باعث بنی ہیں۔ یہ تعلقات علاقے میں امن و سکون کو تباہ کرنے کی ایک اہم وجہ سمجھے جا رہے ہیں۔

    ٹی ٹی پی پی ٹی آئی کی اعلانیہ حامی

    حاجی کریم کی حمایت میں، ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے اور پی ٹی آئی کو اپنی اعلانیہ حامی جماعت قرار دیا ہے۔ اس سیاسی حمایت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور ملکی سیاست میں پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرنا اس بات کا غماز ہے کہ پارٹی کے موقف اور ٹی ٹی پی کے تعلقات پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے۔

    پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان میں آپریشنز اور افغانستان میں کارروائیوں کی مخالف

    پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کئی آپریشنز کیے ہیں، مگر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی حمایت اور ان کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کرنے کا موقف اپنایا ہے۔ یہ متضاد پالیسی ملک کے داخلی اور خارجی معاملات میں گہری پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے، جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی کا پارا چنار میں جاری فساد سے بلکل لاتعلق رہنا

    پی ٹی آئی کی قیادت نے پاڑا چنار میں جاری فساد پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، حالانکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ پارٹی کی اس لاتعلقی نے لوگوں میں سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی اس فساد سے واقعتاً لاتعلق ہے، یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور سازش چھپی ہوئی ہے؟

    یہ پارا چنار بدامنی کہیں پی ٹی آئی کا ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی مشترکہ منصوبہ تو نہیں؟

    حالات کی یہ پیچیدگی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کہیں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے درمیان کسی مشترکہ منصوبے پر عمل ہو رہا ہے، جس کا مقصد پارا چنار اور دیگر علاقوں میں بدامنی پھیلانا ہو؟پی ٹی آئی کے اتحادی مجلس وحدت المسلمین (MWM) نے بھی حالیہ دنوں میں کراچی اور دیگر علاقوں میں شیعہ سنی فسادات کو بڑھانے کی کوشش کی تھی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ فسادات ایک گہری سازش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ان سوالات کا جواب وقت کے ساتھ سامنے آئے گا، لیکن اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ پاڑا چنار میں جاری بدامنی اور فسادات میں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کی مشترکہ سازش کا عنصر کہاں تک حقیقت رکھتا ہے۔

  • اگرضرورت پڑی تو پارا چنارجانے کیلئے تیار ہیں،علامہ طاہر اشرفی

    اگرضرورت پڑی تو پارا چنارجانے کیلئے تیار ہیں،علامہ طاہر اشرفی

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان علماکونسل علامہ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن اہم قدم ہے ، اگر کسی نے وزارت تعلیم کےساتھ نہیں جانا وہ نہ جائے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت ڈی جی آر ای کے نظام کو سب نے تسلیم کر لیا ہے ، ملک بھر میں 18 ہزارسے زائد مدارس کی رجسٹریشن ہوچکی ہے، مدارس کی رجسٹریشن اہم قدم ہے ، اگر کسی نے وزارت تعلیم کےساتھ نہیں جانا وہ نہ جائے،ہم کل بھی مدارس کے چوکیدار تھے اور آج بھی ہیں جبکہ آئندہ بھی رہیں گے-

    مدارس رجسٹریشن آرڈیننس کے تحت وزارت تعلیم اور صنعت و تجارت دونوں میں سے کسی بھی وزارت میں مدارس کی رجسٹریشن کرائی جا سکتی ہے وزارت تعلیم سے بھی مدارس کی رجسٹریشن جاری ہے وزارت تعلیم سے رجسٹریشن کو سب نے تسلیم کیا ہوا ہے دونوں نقطہ نظر کو اس آرڈیننس میں تسلیم کیا گیا ہے جو وزارت صنعت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، ہم کل اور آئندہ بھی مدارس کے چوکیدار رہیں گے۔

    صدر کا 6 بینکوں کو متاثرین کو رقم واپس کرنے کا حکم

    چیئرمین پاکستان علما کونسل نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ پارا چنارکے حالات پرپورا ملک پریشان ہےمسائل کا حل طاقت سے نہیں مذاکرات سے ہوتا ہےہم سب پاکستانی ہیں، ہم کوشش کررہے ہیں، اگرضرورت پڑی تو پارا چنارجانے کیلئے تیار ہیں ہم سب پاکستانی،آیئے پاکستان زندہ باد کہتے ہوئے مسئلہ حل کریں، زمین کے تنازعے کو بات چیت سے حل کیا جائے اور خیبرپختونخوا حکو مت سے گزارش ہے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔

    یو اے ای میں چھوٹے طیارہ سمندر میں گر کر تباہ،خاتون پائلٹ سمیت 2 افراد جاں بحق

    ان کا کہنا تھا کہ ادویات نہ ملنے سے اموات ہو رہی ہیں یا لوگ پریشان ہیں تو یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئےتمام اکابرین سے کہتا ہوں تلخیوں کے بجائے صبر سے کام لیا جائےکراچی سمیت جہاں راستے بند ہیں اور لوگوں کی مشکلات کا خیال کرنا چاہئے پاکستان کے لوگوں کیلئے کوشش کریں تاکہ اس صورتحال سے باہر نکلا جائےملک کی خاطر آپس کے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا بات چیت سے تمام مسا ئل کا حل نکل سکتا ہے۔ ہم تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھائی چارے کی فضاءکیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

    آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان

  • پاراچنار معاملے پر سندھ میں سیاست کرنا ناانصافی ہے، شازیہ مری

    پاراچنار معاملے پر سندھ میں سیاست کرنا ناانصافی ہے، شازیہ مری

    پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ پاراچنار معاملے پر سندھ میں سیاست کرنا ناانصافی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں نیوز کانفرنس کے دوران شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارا چنار کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے لیکن شہر میں جگہ جگہ دھرنے سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ دھرنے سندھ کے بجائے خیبر پختونخوا میں ہونے چاہئیں، پارا چنار کے معاملے پر سندھ میں سیاست کرنا اور لوگوں کو تکلیف دینا ناانصافی ہے۔پی پی ترجمان نے مزید کہا کہ احتجاج کرنا ہے تو خیبر پختونخوا میں کریں۔ وزیراعلی ہائوس پشاور کے باہر دھرنا دیں، وہاں زور لگائیں۔شازیہ مری کا کہنا ہے کہ جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا وہ غلط فہمی پر تھے۔شازیہ مری نے بلاول ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ بینظیر بھٹو کمزور اور غریب کی ا?واز تھیں۔بلاول بھٹو نے بھی اپنی تقریر میں کہا کہ محترمہ غریب اور کمزور کی آواز تھیں۔ترجمان پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم نے صرف ایک لیڈر کو نہیں بلکہ کمزور لوگوں کے لیے لڑنے والی شخصیت کو کھویا ہے۔اٴْنہوں نے کہا کہ لوگ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ملک میں امن و استحکام دیکھنا چاہتے ہیں۔شازیہ مری نے مزید کہا کہ پی پی وہ واحد جماعت ہے جو آمروں کے خلاف کھڑی رہی۔

    کراچی میں ٹرین حادثات،بچے سمیت دوافراد جاں بحق

    ریڈ بک کا مطلوب انسانی اسمگلر 17 سال بعد گرفتار

    احتجاج ختم کیا جائے، کراچی کے شہریوں کی تکلیف سمجھے، ترجمان حکومت سندھ

    شدید دھند ،موٹر ویز مختلف مقامات پر بند

  • مریم نواز کا پارا چنار کو ادویات کی فراہمی کا وعدہ پورا

    مریم نواز کا پارا چنار کو ادویات کی فراہمی کا وعدہ پورا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاراچنار کے عوام کو ادویات کی فراہمی کا وعدہ پورا کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مریم نواز نے پاراچنار کے عوام کے رابطہ کرنے پر 19 دسمبر کو کابینہ اجلاس میں ادویات اور دیگر ضروری سامان بھجوانے کی ہدایت کی تھی، صوبائی وزرائے صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیراورسیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے ادویات کی پاراچنار منتقلی کے عمل کی نگرانی کی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ادویات اور ضروری سامان سمیت41ضروری آئٹمز کی دوسری کھیپ پارا چنا روانہ کردی گئی، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے مزید 5 ٹرک کی فراہمی کیلئے ضروری اقدامات کا حکم دے دیا۔حکام کے مطابق مزید ادویات پاراچنار بھجوائی جارہی ہیں، ضروری ادویات میں انسولین، کتے کے کاٹنے کی ویکسین، جان بچانے والی دیگر ادویات اور ضروری سامان سمیت24 آئٹمز شامل ہیں، اب تک ضروری ادویات کے 12 بڑے کاٹن پاراچنار پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید ادویات کی ترسیل کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔وزیر اعلی مریم نوازشریف کی ہدایت پرپاراچنار کی بزرگ مریضَہ کو فوری آپریشن کے لئے پنجاب ایئرایمبولینس سروس کے ذریعے اسلام آباد منتقل کردیا گیا، ضلع کرم سے تعلق رکھنے والی 60 سالہ مریضَہ کے بیٹے ذیشان حید ر نے وزیر اعلیٰ مریم نوازشر کا شکریہ ادا کیا اور ایئر ایمبولینس سروس کو سراہا۔مریم نواز نے کہا کہ کرم کے عوام مشکل میں ہیں، یہ سیاست نہیں خدمت کا وقت ہے ،دعا ہے حالات جلد نارمل ہوں اور زندگی اپنی معمولات کی طرف لوٹ آئے، پارا چنار کے عوام ہمارے اپنے ہیں، مصیبت اور مشکل میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے، عوام کی ضرورت کے مطابق موبائل ہیلتھ یونٹ بھی کرم بھیجا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو مزید مریضوں کو پاراچنار سے ایئر ایمبولینس سروس کے ذریعے راولپنڈی منتقل کیا جائے گا، قائد نوازشریف نے مجھے خصوصی طور پر پاراچنار کے لوگوں کی مدد کی ہدایت کی ہے، پارا چنار کے بہن بھائیوں کی ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ ایئر ایمبولینس سروس شروع کرنے کا مقصد ہی بروقت اور جلد امداد کی فراہمی تھا، مصیبت زدہ لوگوں کی مدد ہمارا نصب العین ہے۔

    آن لائن فراڈ سے شہری پریشان، اذیت کا شکار ہوگئے

    ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    سندھ حکومت کا صوبے کے اسکولوں کو سولرائزڈ کرنے کا اعلان

    عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے، خواجہ آصف

  • ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    پاراچنار کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں، جہاں 65 دنوں سے محاصرے کی حالت برقرار ہے۔ علاقے میں بنیادی ضروریاتِ زندگی بشمول ادویات، خوراک، اور پیٹرول کی کمی کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ عوام فاقوں پر مجبور ہیں، اور کئی معصوم بچے علاج نہ ملنے کے باعث اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

    ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید میر حسن جان نے بتایا کہ یکم اکتوبر سے ہسپتال میں دواوں اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث مریضوں کو مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا سکا ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال صحت کے شعبے میں سنگین بحران پیدا کر سکتی ہے۔ڈاکٹر سید میر حسن جان نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ "ہسپتال میں دواوں کا ذخیرہ پشاور ہیلتھ ڈائریکٹریٹ سے موصول ہوا تھا، لیکن یہ مقدار ہسپتال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔” اُنہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے باعث دواوں اور سرجیکل سامان کا استعمال بہت زیادہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں دواوں کی کمی شدت اختیار کر گئی ہے۔ڈاکٹر حسن جان نے بتایا کہ "اس وقت ہسپتال کے مختلف یونٹس میں دواوں کی شدید کمی ہے اور اس مسئلے کو انسانیت کے ناطے فوراً حل کرنے کی ضرورت ہے۔” بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ یکم اکتوبر 2024 سے اب تک 29 بچے ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ دواوں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ تھل-پاراچنار روڈ بند ہونے کے باعث دوا فراہم کرنے والی کمپنیاں دواوں کو پاراچنار تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔ اس روڈ کی بندش کو 69 دن ہو چکے ہیں، جس سے نہ صرف دوا کی فراہمی متاثر ہوئی ہے بلکہ پاراچنار اور اپر کرم کے علاقے میں ضروری اشیاء جیسے کہ کھانے پینے کی چیزیں، ایندھن اور گیس کی کمی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔

    سماجی کارکن اسد اللہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغان سرحد اور اہم شاہراہوں کو فوراً کھولا نہ گیا تو علاقے میں ایک بڑا انسانی سانحہ پیش آ سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ "ہمیں فوری طور پر ضرورت مند افراد کے لیے کھانے پینے کی امداد فراہم کرنی چاہیے کیونکہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے مقامی لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔”مقامی انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کوہاٹ میں ملتوی ہونے والی گرینڈ جرگہ کو دوبارہ طلب کیا جائے گا تاکہ شاہراہوں کی بحالی اور دیگر مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔ اس جرگہ کا مقصد علاقے میں امن و امان قائم کرنے اور ضروری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

    پاراچنار کی صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کا بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ علاقے کے راستے کھولے جائیں تاکہ متاثرین کو ادویات، خوراک، اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا سکے۔ لیکن محاصرے کی وجہ سے ان تک امداد پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ پاراچنار میں ادویات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کا علاج معالجہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ کئی بچے جنہیں معمولی علاج کی ضرورت تھی، وہ اس کمی کے باعث اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، علاقے میں خوراک کی کمی کی وجہ سے روزے رکھنے والے عوام کے لئے حالات اور بھی بدتر ہو گئے ہیں۔پاراچنار میں پیٹرول اور دیگر ضروری اشیائے خورد و نوش کی شدید کمی ہو چکی ہے، جس کے باعث عوام کو روزمرہ کی زندگی گزارنے میں سخت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ علاقے کے مختلف حصوں میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور لوگ اپنی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ روزانہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔

    فیصل ایدھی ایئر ایمبولینس کے ہمراہ پارا چنار پہنچ گئے
    پاراچنار میں جاری اس انسانی بحران کے حل کے لئے ایدھی فاؤنڈیشن نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ایدھی ایئر ایمبولینس کی پہلی پرواز پاراچنار ایئرپورٹ پر پہنچی ہے، جس میں فیصل ایدھی بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ پاراچنار پہنچے۔ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ خود یہاں آ کر عوام کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہیں اور اس بحران کے حل کے لیے اپنے ادارے کی طرف سے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے۔ایدھی ایئر ایمبولینس کی پرواز کے ذریعے پشاور سے ادویات پاراچنار پہنچائی جائیں گی اور ساتھ ہی مقامی مریضوں کو پشاور منتقل کر کے ان کا علاج کیا جائے گا۔ فیصل ایدھی نے کہا کہ ان کی ٹیم پاراچنار کے ہسپتالوں میں ضروری امداد فراہم کرے گی اور جلد از جلد مزید امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کے علاقے پارہ چنار ہسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی کے باعث 29 معصوم بچوں نے دم توڑ دیا، مگر انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اور نام نہاد جعلی انقلابی سب کے سب خاموش ہیں۔ لگتا ہے ان بچوں کی موت میں کوئی “سیاسی فائدہ” نہیں تھا، اس لیے نہ کوئی مارچ نکلا، نہ کوئی ٹویٹ ہوا۔ انسانیت یہاں مر گئی اور ضمیر کہیں بیچا جا چکا ہے۔