Baaghi TV

Tag: پارلیمنٹ

  • صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے آنے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے،رانا ثنا اللہ

    صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے آنے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اسے پارلیمنٹ اور متعلقہ کمیٹیوں سے گزرنے میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں،تاہم مسلم لیگ (ن) نے صوبوں کی تقسیم کا منصوبہ شروع نہیں کیا-

    رانا ثنا اللہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر نئے صوبوں کے قیام کی کوئی باقاعدہ تجویز پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہے تو ہر سیاسی جماعت اور رکن پار لیمنٹ کو اس پر اپنی رائے دینے کا موقع ملے گا معاملہ مزید غور کے لیے پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی کو بھی بھجوایا جا سکتا ہے، صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے آنے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے، جبکہ اس بحث کے نتیجے میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی تجاویز سامنے آسکتی ہیں یا مقامی حکومتوں کے انتخابات کے معاملے پر بھی بحث شروع ہوسکتی ہے۔

    انہوں نے اقتصادی فورم پر صوبوں کی تقسیم کی بحث شروع کیے جانے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے بڑے آئینی اور سیاسی منصوبو ں کے آغاز کے لیے اقتصادی فورم موزوں پلیٹ فارم نہیں منصوبے کے پس پردہ موجود لوگوں نے ممکن ہے مسلم لیگ (ن) سے بات کی ہو، لیکن اگر پارٹی نے یہ منصوبہ پیش نہیں کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسے ڈنڈا لے کر روکنے کے لیے کھڑی ہوجائےمسلم لیگ (ن) کی جانب سے صوبو ں کی تقسیم کے حق میں کوئی بڑا منصوبہ یا تجویز سامنے نہیں آئی،جب مسلم لیگ (ن) نے یہ منصوبہ شروع ہی نہیں کیا تو آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ ہمار ی پالیسی کیا ہے-

    بہاولپور کے حوالے سے سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت اس خطے کو مجوزہ جنوبی پنجاب صوبے میں شامل کر نے کے حق میں نہیں پارٹی میں بعض لوگ الگ بہاولپور صوبے کے قیام کے حامی ہیں جبکہ کچھ اسے لاہور کے ساتھ منسلک رکھنے کے خواہاں ہیں، صو بوں کی تقسیم کے معاملے پر ہونے والی بحث سے پاکستان پیپلز پارٹی نے سیاسی فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ اس کے کارکن اس معاملے کے ساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہوگئے ہیں۔

    متنازع نہری منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے اس منصوبے کی تعمیر کی حمایت کی تھی، تاہم بعد میں پیپلز پارٹی نے اس کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں منصوبہ روک دیا گیا بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بیک ڈور رابطوں سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پسِ پردہ رابطے ہوسکتے ہیں، تاہم ایسے راستے اختیار کرنے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور جو بھی اس راستے کا انتخاب کرے گا اسے وہ قیمت ادا کرنا ہوگی، وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ اختلافات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر جب کابینہ یا سینیٹ میں بات کریں گے تو ان سے وضا حت طلب کی جا سکتی ہے-

  • نئے صوبوں کا قیام: وزیر داخلہ اپنی ذاتی رائے دینے میں آزاد ہیں،رانا ثنا اللہ

    نئے صوبوں کا قیام: وزیر داخلہ اپنی ذاتی رائے دینے میں آزاد ہیں،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صوبوں سے متعلق بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے کیونکہ یہی اس کے لیے مناسب فورم ہے۔

    ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں قراردادیں تقریباً 10 سال قبل منظور کی گئی تھیں جو کہ پرانی ہو چکی ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں یہ قراردادیں اب موثر نہیں ہیں، اگر کسی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک کسی قرارداد پر عملدرآمد نہ ہو تو نئی اسمبلی کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ معاملے پر دوبارہ قرارداد منظور کرے یا نہ کرے۔

    اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کے سوال پر مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو الیکشن کمیشن کی جانب سے آخری وارننگ مل چکی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں جو منظور شدہ بلدیاتی ایکٹ کے تحت ہوں ،ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے کیونکہ یہی اس کے لیے مناسب فورم ہے۔

    محسن نقوی کے بیانات سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو نہیں روکا، وہ اپنی ذاتی رائے دینے میں آزاد ہیں، تاہم عوامی ریفرنڈم بھی آئین اور پارلیمنٹ کی منظوری سے ہی مشروط ہے نہ کہ کسی وزیر کے بیان سے۔

  • صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

    صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے ،اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے مختلف ممالک کے سفیر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے-

    مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بھی پولیس کمانڈوز تعینات، پارلیمنٹ ہاؤس کو آنے والے راستوں پر چیکنگ انتہائی سخت کی گئی ہے،اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے مختلف ممالک کے سفیر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے، جوائنٹ سیشن، مختلف ممالک کے سفیروں کی بڑی تعداد ایوان میں مہمانوں کی گیلری میں موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی اور سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان مہمانوں کی گیلری میں موجود ہیں،اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا، ایوان میں گو زرداری گو کے نعرے لگانا شروع کردیے۔

    لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کا تنازع، خاتون اور مرد وکلا میں ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یہ منفرد اعزاز ہے کہ بطور دوبار منتخب صدرمملکت پارلیمنٹ سے یہ میرا 9واں خطاب ہے، پارلیمنٹ سے ایسا ہر خطاب جمہوری نظام کے تسلسل اور ذمہ داری کی یاد دہانی ہے قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں، اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کی خوشحالی اور امن کیلئے ترقی اور استحکام کا عمل آگے بڑھانا ہے، آج ہم اُن بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں، قائدِاعظم نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا، بے، نظیر بھٹو شہید نے قربانی اور مثالی قیادت سے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔

    لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کا تنازع، خاتون اور مرد وکلا میں ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر میرا ایمان صرف الفاظ تک محدود نہیں، گزشتہ دور میں یکطرفہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے، تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر مملکت کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت ہے گزشتہ دس ماہ میں ہماری قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا، دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں پر ہماری افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا، ہماری بہادر افواج نے معرکۂ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا، 26 فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے۔

    سیاسی قیادت متحد اور قوم ثابت قدم رہی، بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے عسکری اور سفارتی محاذوں پر کامیاب رہے، عالمی برادری نے ہماری اصولی اور فیصلہ کن کارروائی کو تسلیم کیا، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہوسکتا، پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔

    پنجاب: تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے، سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے، افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کیلئے سفارت کاری کی ہر ممکن کوشش کی، انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران چھیڑی جانے والی جنگ کی شدید مذمت کی، خطے کو مزید بحران سے بچانے کیلئے امن، تحمل اور مذاکراتی حل پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکہ میں اسٹریٹجک تعاون اور شراکت داری کی نئی راہیں کھلی ہیں، پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔

    سی پیک 2 پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا، شی جن پنگ کا شکر گزار ہوں، مسئلہ فلسطین پر پاکستان اصولی موقف رکھتا ہے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت، سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈالنے کے غیر قانونی بھارتی اقدامات آبی دہشتگردی ہیں، منتخب صدر کی حیثیت سے وفاق اور پارلیمنٹ کے اتحاد کی حفاظت کا پابند ہوں، بلوچستان کی محرومیوں پر خصوصی توجہ ناگزیر ہے۔

    15 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    انہعوں نے کہا کہ پاکستان کلین انرجی کے شعبے میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، سماجی تحفظ کے فریم ورک بی آئی ایس پی کے ذریعے پسماندہ طبقوں کو بااختیار بنانا ہے، سلامتی، معیشت اور آئینی طرز حکمرانی ایک دوسرے سے منسلک ہیں، آئیں آزمائش کے وقت میں اتحاد برقرار رکھیں، ہمیں یقینی بنانا ہے کہ معاشی فوائد عام آدمی کو پہنچیں۔

  • صدر مملکت نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ 7 اہم بلوں کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ 7 اہم بلوں کی منظوری دے دی

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ 7 اہم بلوں کی منظوری دے دی۔

    صدر مملکت کی منظوری کے بعد ان قوانین کا باضابطہ قانون سازی کا عمل مکمل ہو گیا ہے یہ قوانین تجارت، ٹیکس، سماجی تحفظ، تعلیم، ریلوے اور انسانی حقوق سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں،منظور شدہ قوانین میں گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ کا بل 2026، نیشنل ٹیرف کمیشن (ترمیمی) بل 2026، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ترمیمی) بل 2026، ٹرانسفر آف ریلوے (ترمیمی) بل 2026، دانش اسکولز اتھارٹی بل 2026، انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2026 اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (ترمیمی) بل 2026 شامل ہیں۔

  • غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا،حافظ حمد اللہ

    غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا،حافظ حمد اللہ

    جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ قرآن و سنت کیخلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی، اگر پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی قوانین منظور کرے تو یہ آئین سے انحراف کے مترادف ہے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔

    حافظ حمد اللہ نے کہا کہ سربراہ جے یو آئی کو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور اس میں ان نوجوانوں کی شادیاں کریں جو بالغ ہو چکے ہو اور ان کی عمریں 18 سال سے کم ہوں ہم قانون کو پاؤں کے تلے روندیں گے کیونکہ جو قانون قرآن و سنت کے منافی ہو، ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر مجھے غصہ آیا تو میں نے فیصلہ کیا، اگرچہ میں دوسری شادی اور دوسرے نکاح کے موڈ میں نہیں ہوں، وہ ہی ایک کافی ہے لیکن اگر غصہ آیا، قانون توڑنا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا-

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    وزارت پارلیمانی امور نے سمری ارسال کر دی، مشترکہ اجلاس 20جنوری صبع 10:30پر طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں اہم قانون سازی ہو گی، پار لیمنٹ کا مشترکہ اجلاس میں مجموعی طور پر 29 بل منظوری کے لیے پیش ہوں گے، 18نجی اور 11 حکومتی بل منظوری کے لیے پیش ہوں گے۔

    ذرائع نے کہا کہ 24بل صدر کی منظوری کے بغیر واپس کئیے گئے جو مشترکہ اجلاس میں پیش ہوں گے، پانچ نئے بل اجلاس میں پیش کیئے جائیں گے، جنرنلسٹ پروٹیکشن بل، ڈومیسٹک وائلنس کا بل، مختلف جامعات کے نجی و سرکاری بل، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق میں ترمیم کا بل سمیت دیگر اہم بل شامل ہیں۔

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم

    عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے بیان پر سخت ردِعمل

  • سربیا کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج ، ایوان میدان جنگ بن گیا

    سربیا کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج ، ایوان میدان جنگ بن گیا

    سربیا کی پارلیمنٹ میں احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے اسموک گرینیڈ اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث ایوان میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق سربیا کی پارلیمنٹ میں منگل کے روز اپوزیشن ارکان نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان میں اسموک گرینیڈ اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث ایوان میں افراتفری پھیل گئی۔

    چار ماہ قبل ایک ٹرین اسٹیشن کی چھت گرنے سے شروع ہونیوالے مظاہرےجس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھےسربیا کی حکومت کے لیے اب تک کے سب سے بڑے خطرے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

    عمران خان نےفیصل چوہدری کو جیل معاملات پر قانونی معاونت سے روک دیا

    پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران جب حکمران جماعت سربین پروگریسو پارٹی (ایس این ایس) کی قیادت میں اتحادی حکومت نے ایجنڈے کی منظوری دی،تو کچھ اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر کی طرف بڑھے جہاں ان کی سکیورٹی گارڈز کے ساتھ جھڑپ ہوئی اس دوران دیگر اپوزیشن ارکان نے اسموک گرینیڈ اور آنسو گیس کے شیل پھینکے جس کے نتیجے میں ایوان دھوئیں سے بھر گیا۔

    غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ،اسرائیل کی شرط،حماس کا ردعمل

    پارلیمنٹ کی اسپیکر آنا برنابچ کے مطابق ہنگامے میں دو اراکینِ پارلیمنٹ زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ کے بعد ملتوی،اپوزیشن کا ایوان میں شورشرابا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ کے بعد ملتوی،اپوزیشن کا ایوان میں شورشرابا

    پاکستان کی پارلیمنٹ میں آج ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو آیا، جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔

    یہ اجلاس صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر وزیراعظم کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت نے ایجنڈے میں آٹھ بل رکھے ہیں، جن پر اپوزیشن کو شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگی اور اس کی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گی۔

    مشترکہ اجلاس تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی درخواست کی، تاہم اسپیکر نے انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس پر اپوزیشن ارکان نے اپنے احتجاج کا آغاز کیا اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی شروع کر دی، جن میں "پیکا ایکٹ نامنظور” اور "صحافیوں پہ ظلم بند کرو” جیسے نعرے شامل تھے۔ احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔ ان ہنگامی حالات میں ایوان میں شور و غوغا مچ گیا، جس کے نتیجے میں ایوان مچھلی منڈی کی طرح کا منظر پیش کرنے لگا۔

    اس کے باوجود اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو جاری رکھا اور حکومتی قانون سازی کے ایجنڈے پر کام کرنے کا عمل نہ رک سکا۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ احتجاج ایک دن پہلے کی طرح ہی تھا، جس میں حکومت کے فیصلوں کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18منٹ جاری رہا،مشترکہ اجلاس نے 9منٹ میں 4بل کثرت رائے سے منظور کئے،،نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ کے قیام کا بل 2024منظور ،بل سینیٹر منظور احمد نے پیش کیا ،بل کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی،تجارتی تنظیمات ترمیمی بل 2021ء مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیا گیا جبکہ درآمدات و برآمدات انضباط ترمیمی بل بھی منظور کر لیا گیا۔قومی ادارہ برائے ٹیکنالوجی بل 2024ء اور نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ بل 2024ء بھی مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیے گئے۔علاوہ ازیں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء ڈیفر کر دیا گیا جبکہ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء مؤخر کر دیا گیا۔این ایف سی ادارہ برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی ملتان ترمیمی بل 2023ء اور نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیے گئے۔وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس، سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیا گیا۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تجارتی تنظیمات ترمیمی بل سمیت 4 قوانین منظور کر لیے گئے، پی ٹی آئی اراکین پلے کارڈز کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے اور بھرپور احتجاج کیا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت مقررہ وقت کے ایک گھنٹہ بعد شروع ہوا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، بلاول بھٹو زرداری، وزیر دفاع خواجہ آصف، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان اور دیگر اراکین ایوان میں پہنچے، پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کونسل کے اراکین بھی ایوان میں موجود تھے۔

    اپوزیشن کے احتجاج کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 12 فروری 2025 کو دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا.

    دوسری جانب پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر 1 کے باہر صحافیوں نے پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا،پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر بھی صحافیوں کے احتجاج میں شامل ہوگئے،صحافیوں کی جانب سے شہباز گردی نامنظور کے نعرے لگائے گئے،پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر 1 کے باہر صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی،

    یقینی بنائیں تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔وزیراعظم

    پی ڈی ایم اے کو بند کر دیں اگر اس نے کچھ نہیں کرنا۔عدالت

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری کو طلب

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری کو طلب

    وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعہ کو طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متعدد قوانین کی منظوری دی جائے گی۔ اجلاس میں دونوں ایوانوں سے رہ جانے والے بل منظور کیے جائیں گے۔مشترکہ اجلاس بلانے کی سمری وزیراعظم نے بھجوائی تھی، وزارت پارلیمانی امور کل اجلاس کا باضابطہ ایجنڈا جاری کرے گی، اجلاس جمعہ کو صبح دس بجے ہوگا۔واضح رہے کہ آج وزیراعظم کی قومی اسمبلی آمد کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں- اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس پیپلزپارٹی کی وجہ سے ایک گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوا، پی پی کے مجبور کرنے پر وزیراعظم اجلاس میں شریک ہوئے۔

    ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کی آمد کے بغیر اجلاس میں شرکت سے انکار کیا تھا، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، خورشید شاہ کی منتیں کرتے رہے کہ اجلاس شروع کرنے دیا جائے خورشید شاہ نے وزیرقانون کوجواب دیا کہ جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے، اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، جس پر اعظم نذیر تارڑ نے یقین دہانی کرائی وزیراعظم تین بجے تک ایوان میں پہنچ جائیں گے۔پی پی رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم پہنچیں گے تو ہی شریک ہوں گے، بعد ازاں شہباز شریف پارلیمنٹ پہنچے تو اس کے بعد ہی اجلاس شروع ہوا۔

    پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ زندہ ہوگیا،عملے کی دوڑیں

    ملک میں عالمی برانڈز کی جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت کا انکشاف

    اسرائیل کے آرمی چیف نے استعفیٰ دے دیا

    نو مئی مقدمات ،6پی ٹی آئی رہنمائوں کی ضمانت کی توثیق

  • نئے مالی سال کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے پیش کیا جائے گا

    نئے مالی سال کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے پیش کیا جائے گا

    اسلام آباد: نئے مالی سال 2025-26 کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ نے بجٹ کال سرکلر 2025-26 جاری کر دیا جس کے مطابق بجٹ پیش کرنے سے قبل وفاقی کابینہ سے بجٹ اہداف اور دستاویزات کی منظوری لی جائے گی، بجٹ اسٹریٹجی حکمت عملی پیپر کی یہ منظوری اپریل کے تیسرے ہفتے میں لی جائے گی۔

    وزارت خزانہ کے مطابق سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس مئی کے پہلے ہفتے میں ہوگا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس مئی کے دوسرے ہفتے بلایا جائے گا،کابینہ کیلئے بجٹ کے تخمینے اور دستاویزات مئی تک تیار کر لی جائیں گی، فروری میں کرنٹ اور ترقیا تی بجٹ پر نظرثانی کا تخمینہ پیش کیا جائے گا فروری میں بجٹ ریویو کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا، اگلے ماہ مڈ ایئر ریویو رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔