Baaghi TV

Tag: پالیسی

  • کوہلی، روہت، بمراہ کیلئے بُری خبر،بھارتی بورڈ نےصاف انکار کر دیا

    کوہلی، روہت، بمراہ کیلئے بُری خبر،بھارتی بورڈ نےصاف انکار کر دیا

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے ساتھ انکے اہلخانہ اور گرل فرینڈز کے سفر پر پابندی سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی جیتنے کے باوجود بھارتی کھلاڑیوں کو اہلخانہ اور گرل فرینڈز کیساتھ سفر پر پابندی سے متعلق پالیسی نہ تبدیل کرنے پر پلئیرز نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔بی سی سی آئی کے سکریٹری دیواجیت سائکیا نے تصدیق کی ہے کہ پالیسی میں تبدیلی کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی، یہ پالیسی گزشتہ سال بورڈر-گاواسکر ٹرافی میں بدترین شکست کے بعد متعارف کرائی گئی تھی، جس کے تحت کھلاڑیوں کو بیرون ملک دوروں کے دوران 45 دن سے زیادہ رہنے کی صورت میں اپنے ساتھیوں اور بچوں کو صرف 14 دن ساتھ رکھ سکیں گے۔

    اسٹار کرکٹر ویرات کوہلی نے بھارتی بورڈ کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ کسی کھلاڑی سے پوچھیں کہ کیا وہ چاہتا ہے کہ اس کا خاندان ہر وقت اس کے ساتھ رہے؟ تو وہ کہے گا، ہاں۔ میں نہیں چاہتا کہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر اکیلے روتا رہوں، میں اپنی فیملی کیساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ادھر کوہلی کے بیان کے بعد افواہیں گردش کررہیں تھی کہ بھارتی بورڈ فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے تاہم سکریٹری دیواجیت سائکیا نے ان افواہوں کو مسترد کردیا۔انہوں نے مزید کہا بی سی سی آئی کو یہ احساس ہے کہ کچھ لوگوں میں ناراضگی یا مختلف آراء ہوسکتی ہیں انہیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے تاہم یہ پالیسی تمام ٹیم ممبران پر یکساں لاگو ہوتی ہے، چاہے وہ کھلاڑی ہوں، کوچز، مینیجرز، سپورٹ اسٹاف یا دیگر افراد۔

    شرجیل میمن کی جرائم پیشہ افراد کیخلاف کارروائیوں پر سندھ پولیس کی تعریف

    شرجیل میمن کی جرائم پیشہ افراد کیخلاف کارروائیوں پر سندھ پولیس کی تعریف

    فرانسیسی صدرکا محمد بن سلمان سے رابطہ، غزہ اور یوکرین جنگ پر بات چیت

    طالبان نے امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کورہا کر دیا

  • بھارت میں نیا قانون منظور،سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پوسٹ پر عمر قید کی سزا

    بھارت میں نیا قانون منظور،سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پوسٹ پر عمر قید کی سزا

    بھارت آئے روز سوشل میڈیا کے حوالہ سے نئے قوانین متعارف کروا رہا ہے، بھارت میں سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بھارت میں کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس،یوٹیوب چینل بند کروائے جا چکے ہیں جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں، اب بھارت کی ریاست اترپردیش نے قانون منظور کیا ہے، سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد پوسٹ کرنے والے کے تین سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا سنائی جا سکے گی

    بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش حکومت کی کابینہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئی پالیسی کی منظوری دی ہے، نئی پالیسی کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز،ٹویٹر، فیس بک، انسٹا گرام،یوٹیوب پر ریاست مخالف کوئی بھی پوسٹ کرنے والے کو تین برس سے عمر قید کی سزا ہو سکے گی، نئی پالیسی کے تحت حکومتی اقدامات، اسکیموں اور حکومت کے مثبت کاموں کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں کو حکومت کی جانب سے اشتہارات کی صورت میں سراہا جائیگا ،ریاستی حکومت کی نئی پالیسی کے تحت سوشل میڈیا صارفین حکومتی اقدامات اور اسکیموں کو سوشل میڈیا پر شئیر کرکے ماہانہ 8 لاکھ بھارتی روپے تک کما سکتے ہیں۔

    ریاست کے محکمہ اطلاعات کے پرنسپل سکریٹری سنجے پرساد کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی حالت میں مواد کو ناشائستہ، فحش یا ملک مخالف نہیں ہونا چاہیے،ڈیجیٹل اثر و رسوخ رکھنے والے وہ سوشل میڈیا صارفین یا افراد ہیں جن کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد ہے اور وہ مصنوعات، نظریات یا سیاسی عقائد کی توثیق یا مارکیٹنگ کے لیے اپنی پہنچ کا استعمال کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے سیاسی اہداف کے مطابق مواد بنانے والوں کے ایک بڑے حصے کو چینلائز کیا ہے لیکن اسے کچھ آزاد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ افراد کی جانب سے تنقیدی کوریج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اب، ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم اور اثر و رسوخ رکھنے والے ویڈیو مواد کے لیے ماہانہ 8 لاکھ روپے تک کما سکتے ہیں جو حکومت کے دیگر ترقیاتی کاموں اور اسکیموں کی "کامیابیوں” کا پرچار کرتا ہے۔

    نئی پالیسی کے تحت، حکومت اشتہارات فراہم کرنے کے مقصد سے ایجنسیوں اور فرموں کی فہرست بنائے گی تاکہ انہیں سوشل میڈیا پر حکومت کی "اسکیموں اور کامیابیوں” پر مبنی مواد، ٹویٹس، ویڈیوز، پوسٹس اور ریلز بنانے اور دکھانے کے لیے فروغ دیا جا سکے ،یہ پالیسی ریاست کے ان باشندوں کے امکان کو بھی بڑھا دے گی جو ملک کے مختلف حصوں میں یا بیرون ملک مقیم ہیں انہیں بڑی تعداد میں روزگار کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ریاستی حکومت نے ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر ڈیجیٹل میڈیا اکاؤنٹ ہولڈرز، آپریٹرز اور اثر انداز کرنے والوں کے پے اسکیل کو ان کے صارفین اور پیروکاروں کی بنیاد پر چار زمروں میں تقسیم کیا ہے۔

    شہر قائد،سوشل میڈیا کے ذریعے اسلحہ فروخت کرنیوالے گرفتار

    تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کی اسرائیلی مظالم اور کشمیری شہداء پر خاموشی پر سوالات اٹھنے لگے

    تحریک انصاف کی سوشل میڈیا مقبولیت میں کمی: فر حان ورک کا دعویٰ

    پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عروبہ کومل کی ضمانت منظور

    پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کیخلاف کریک ڈاؤن

    وفاقی حکومت کا سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کیخلاف کریک ڈاوٴن کا فیصلہ

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • چھٹیوں کے دوران ملازمین کو تنگ کرنے پر ہوگا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ

    چھٹیوں کے دوران ملازمین کو تنگ کرنے پر ہوگا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ

    ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے ملازمین کام اور زندگی میں توازن کا مطالبہ کر رہے ہیں، ہندوستان کی فینٹسی اسپورٹس کمپنی ڈریم 11 نے ایک منفرد پالیسی متعارف کرائی ہےتاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے ملازمین کام سے مکمل طور پر وقفے سے لطف اندوز ہوں۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی ٹیکنالوجی کمپنی ڈریم 11 نے اپنے ملازمین کو اسی مشکل سے نجات دلانے کیلئے ایک نئی اور دلچسپ ڈریم 11 ان پلگ پالیسی متعارف کروائی ہے جس کے پیش نظر سینئرز بھی اپنے جونیئرز اور کولیگ کو ان کی چھٹیوں کے دوران پریشان کرتے وقت سوچنے پر مجبور ہیں۔

    آسٹریلوی حکومت کا میلبرن میں خالصتان ریفرنڈم رکوانے سے انکار

    کمپنی ڈریم 11 کی جانب سے اپنے تمام ملازمین کیلئے ’ڈریم 11 ان پلگ پالیسی متعارف کروائی گئی ہے جس کا مقصد ملازمین کو ان کی چھٹیوں کے دوران پرسکون رکھنا ہے جو کہ آفس سے آنے والی کالز، میسیجز اور ای میلز کے ذریعے خراب ہو سکتا ہے۔

    بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ کمپنی کے شریک بانیوں کا کہنا تھا کہ کمپنی کے تمام ملازمین کو سال میں ایک بار ہفتے بھر کی چھٹی دی جاتی ہے جس دوران ملازمین کو کالز ، ای میل اور پیغامات نہیں بھیجے جا سکتے۔

    آرمی آفیسر نے بیوی کو قتل کر کے خودکشی کر لی

    کمپنی عہدیداران کے مطابق کوئی بھی شخص کسی ملازم کے ان پلگ ٹائم کے دوران اگر انھیں ڈسٹرب کرے تو انھیں 1200 ڈالر ( تقریباً1 لاکھ بھارتی روپے) اور ڈھائی لاکھ سے زائد پاکستانی روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کمپنی کی جانب سے زیر غور پالیسی گزشتہ برس فروری میں متعارف کروائی گئی تھی جو اب تک بہتر طریقے سے جاری ہے۔

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

  • وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) انجنیئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے، ملک میں تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی اور بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو حیدرآباد میں حیسکو پاور ونگ کالونی کے کانفرنس ہال میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں 200 یا اس سے کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے تصحیح شدہ نئے بل جاری کئے جائیں گے، گھریلو صارفین کے لئے بجلی کے بل جمع کرانے کی آخری تاریخ کی میعاد 06 ستمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ میری یہاں موجودگی کا مقصد حیسکو اور سیپکو ریجنز میں سیلاب زدگان کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں انتہائی غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں کہیں اوسط سے چار گنا اور بعض مقامات پر سات گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، اس کا اثر ہماری بجلی کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں پر بھی پڑا ہے، گرڈ اسٹیشنز ڈوبے ہوئے ہیں، کہیں کھمبے پانی میں گر گئے ہیں، کچھ مقامات پر حفاظتی اقدامات کے طور پر بھی بجلی کی سپلائی منقطع کی جاتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے حیسکو اور سیپکو کے چیفس کو ہدایات دیں کہ جہاں بھی نکاسی آب کے مسائل درپیش ہیں وہاں کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے اور 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے تاکہ نکاسی آب کا مسئلہ ترجیحی طور پر حل ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کردی گئی تھی کہ بارشوں کے دوران حتی الامکان بجلی کی فراہمی جاری رہنی چاہیئے اس حوالے سے حیسکو اور سیپکو نے محنت کی اور لوگوں نے بھی محسوس کیا ہوگا کیونکہ پہلے بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی بجلی غائب ہوجاتی تھی، لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی بھی چیلینجز درپیش ہیں، صوبے کے تمام اضلاع سے تفصیلی رپورٹ حاصل کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ حیسکو کے تین اہم گرڈ اسٹیشنز بارش کی وجہ سے بند ہوگئے تھے جن میں نوابشاہ ون، دوڑاور جھرک گرڈ اسٹیشن شامل ہیں، نوابشاہ کے چار فیڈرز کو متبادل گرڈ اسٹیشنز سے منسلک کرکے چلادیا گیا ہے، جھرک گرڈ اسٹیشن کو بھی لو لوڈ پر چلادیا گیا ہے، بحالی کا کام جاری ہے، جن گرڈ اسٹیشنز میں پانی جمع ہوا ہے وہاں سے پانی کی نکاسی کا کام بھی کیا جارہا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کارکنان ہمارے اور آپ کے لئے بارش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کام کرتے ہیں ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کا چیلنج ابھی ختم نہیں ہوا، شمال سے ایک نیا ریلا دریائے کابل اور کنہار سے آرہا ہے جو کے پی سے گذرتا ہوا ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی آئے گا، آنے والے چند ہفتے ایمرجنسی کے ہیں جس میں پوری کوشش کی جارہی ہے کہ بجلی کے محکمے کے سربراہان، سینئر افسران اور عملہ پوری ذمہ داری سے خدمات انجام دیں اور کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل مقصد ان کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے لیکن فی الحال سیلاب کی صورتحال اور بلوں کی تصحیح کے معاملے پر ہماری پوری توجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک پارٹی نہیں بلکہ وسیع البنیاد جمہوری حکومت میں شامل دس کی دس پارٹیاں ریلیف کے کام میں مصروف عمل ہیں، ہم سب اکٹھے ہیں اور بلا تفریق سیلاب متاثرین کو ریسکیو کریں گے، ان کو ریلیف بھی پہنچائیں گے اور بحالی کا کام بھی جاری رہے گا۔ صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف کے معاملے میں ملکی سطح پر غور و فکر کیا جارہا ہے، دس روز میں تفصیلی بحث کے بعد ریلیف کے سلسلے میں جو فیصلہ کیا جائے گا وزیراعظم اس کا اعلان کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ متاثرین کو دوسرے طریقے سے بھی ریلیف دیا جارہا ہے اور بی آئی ایس پی کے تحت ہر خاندان کو 25 ہزار روپے کی مالی امداد کی فراہمی کی جارہی ہے، سیلاب کے دوران جو افراد جاں بحق ہوئے ہیں ان کے ورثا کے لئے فی کس 10 لاکھ روپے امدادی چیکس دینے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔ حیسکو کی کارکردگی ایک علیحدہ سوال ہے، خراب ٹرانسفارمرز کی تبدیلی کا معاملہ بھی ایک چیلنج ہے ان مسائل کو بھی حل کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کے دور میں لوڈشیڈنگ کافی حد تک کم ہوگئی تھی۔ بجلی کے حوالے سے ملک میں دو قسم کی صورتحال ہے، ایک تو وہ فیڈرز ہیں جہاں بلوں کی ریکوری 80 فیصد سے زیادہ ہے اور لائن لاسز 20 فیصد سے کم ہیں ، جہاں ریکوری اچھی ہے وہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوتا ہے جبکہ زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے دوران ملک میں بجلی کی طلب 25 ہزار میگاواٹ کے قریب متوقع تھی لیکن یہ طلب 30 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہوگئی۔ پچھلے چار سال یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ملک میں بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہے مگر ملک کے اندر بجلی وافر مقدار میں موجود نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فرنیس آئل پر پرانی ٹیکنالوجی کے ذریعے جو بجلی تیار کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے جیسے حکومت اور عوام اپنا خون جلا رہی ہے، ہمارے پاس بجلی پیدا کرنے کی موثر صلاحیت 25 ہزار میگاواٹ تک کی ہے اس سے زائد بجلی بناتے ہیں تو ہمیں تیل سے بنانی پڑتی ہے جس سے پھر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ جیسے معاملات پیدا ہوتے ہیں۔

    ہماری کوشش ہے کہ اگلے موسم گرما سے قبل جو زیر تکمیل پلانٹس جن میں تھر میں 1320 میگاواٹ کا شنگھائی الیکٹرک اور 330 میگاواٹ کے دو منصوبے وہاں موجود ہیں، سے تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا بھی اعلان کریں گے، اگلے موسم گرما میں ہمارے پاس ان ذرائع سے ہزاروں میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ سولر سے سستی بجلی بنانے کے دوران دن کے وقت ہم ایندھن پر پلانٹس کو کم سے کم چلائیں تاکہ بجلی کی لاگت کم کرکے عوام کے بجلی کے بل بھی کم کئے جاسکیں۔

    انہوں نے کہا کہ بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی اور مستقبل میں جتنی بھی بجلی کی پیداواری صلاحیت ہوگی وہ تھر کول، ہائیڈل ذرائع، پن بجلی، شمسی اور نیوکلیئر ذرائع سے حاصل کی جائے گی جس سے ملک کے صارفین کو بجلی کی لگاتار اور سستی فراہمی یقینی ہوسکے گی۔

    حیسکو اور سیپکو کو حکومت سندھ کے حوالے کرنے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت سندھ سے بات چیت چل رہی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں بھی بجلی کی ڈسٹری بیوشن کے عمل میں شامل ہوسکتی ہیں۔ اس موقع پر چیف ایگزیکیوٹو آفیسر حیسکو نور احمد سومرو، مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما شاہ محمد شاہ، سابقہ سینیٹر نہال ہاشمی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے

  • ایک بار پھر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی پروازوں کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری

    ایک بار پھر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی پروازوں کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری

    اسلام آباد: ایک بار پھر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی پروازوں کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری ،اطلاعات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندرون ملک پروازوں کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی، جس کے تحت مسافروں کے ٹکٹوں پر شناختی کارڈ نمبر درج کرنا لازمی ہوگا، نئے احکامات فوری طور پر نافذالعمل ہوں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس کے تحت اندرون ملک سفر کیلئے ٹکٹوں پر شناختی کارڈ نمبر درج کرنا لازم ہوگا، آن لائن ٹکٹ بکنگ یا براہ راست ٹکٹ فروخت کے وقت شناختی کارڈ نمبر کا اندراج یقینی بنانا ہوگا۔

    ٹریول ایجنسیاں بھی ٹکٹ بک یا فروخت کرتے وقت ٹکٹوں پر شناختی کارڈ نمبر درج کرنے کی پابند ہوں گی۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نئے احکامات فوری طور پر نافذالعمل ہوں گے۔

    دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے نئی پابندیوں کا اعلان کردیا ہے، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی صدارت میں این سی اوسی کا اجلاس ہوا، جس میں ملک بھر میں کورونا کی موجودہ صورتحال اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں احتیاطی تدابیر پر 31 جنوری تک عمل جاری رکھنے اور شادی ہالز کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر 15 فرروی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • پہلی قومی سلامتی پالیسی   ۔۔۔   دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    سیاسی ہلڑبازی اور معاشی افراتفری کی ہنگامی خیزیوں پر تو ہم روز بات کرتے ہیں ، آج پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے متعلق بات کریں گے جس کا اجرا کردیا گیا ہے۔ 100 صفحات پر مشتمل اس پالیسی ڈاکومنٹ کے آدھے حصے کو پبلک کیا گیا ہے جبکہ باقی آدھے حصے کو مخفی رکھا گیا ہےکیونکہ قومی سلامتی کے تمام امور کو عوام کے سامنے نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی یہ عام معلومات کیلئے ہوتی ہے۔ یہ قومی سلامتی پالیسی ڈاکومنٹ سول اور ملٹر ی اتفاق رائے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ کل چھ حصوں پر مشتمل اس دستاویز کو مرتب کرنے کیلئے 600 سے زائد ماہرین سے آراء لی گئیں اور مشاورت کی گئی ہے حتی کہ اس کی جامعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹز کے طلبا سے بھی اس پر آرا ء لی گئی ہیں۔

    یہ پالیسی معاشی، عسکری اورانسانی سکیورٹی کے 3 بنیادی نکات پرمشتمل ہےجبکہ معاشی سلامتی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی اور نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا کیونکہ سالانہ نظرثانی کا مقصد ہی یہ ہے کہ آنے والے وقت کے تقاضوں کے مطابق پالیسی کو پرکھا اور ماحول کے مطابق ڈھالا جاسکے۔ اس پالیسی کا محور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے دنیا میں پاکستان کے مقام کو نمایاں کرنا ہے اور اس کے لئے جیو-اسٹریٹیجک اور جیو-پولیٹیکل امور کلیدی جز ہیں اور اس میں معاشی سلامتی اور تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

    قو می سلامتی کے چھ بنیادی حصے ہیں۔ 1۔ قومی ہم آہنگی، 2۔معاشی مستقبل کاتحفظ، 3۔دفاع اور جغرافیائی سالمیت، 4۔داخلی سلامتی، 5۔ بدلتی دنیا میں خارجہ پالیسی ، 6۔ اور انسانی سلامتی

    اب ان حصوں پر بھی فردا فردا بات کرلیتے ہیں کہ ان کی الگ الگ اہمیت کیا ہے اور ان کو کیوں انفرادی طور پر زور دیکر بیان کیا گیا ہے ۔

    قومی ہم آہنگی : اس حصے کا پہلا جز ہے کہ اسلامی جمہوریہ اور آئین کے مطابق ہمارے کرداراور وسیع ثقافت کےتحفظ کویقینی بنانے کا تعین کیا گیا ہے یعنی ہمارے ملک میں اسلامی تشخص کے مطابق فردی آزادیوں کا پاس رکھا جائے گا لیکن مادر پدر آزاد معاشرت ہماری قومی سلامتی کے منافی ہے۔

    اس حصے کا دوسرا جز ہے کہ سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کا خاتمہ کیا جائے گا یعنی ملک میں امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی تفریق چاہے وہ معاشی لحاظ سے ہے کہ جہاں امیر تو امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب مزید غریب ہورہا ہے تو اس کی وجہ سے بھی معاشرے میں ایک تقسیم پیدا ہوتی ہے جسے ختم کرنا اب قومی سلامتی کے اہم پہلو کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ مضبوط وفاق کے قیام کیلئے اتحاد اور اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی استحکام کے ذریعے ان اہداف کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔
    قومی ہم آہنگی کا تیسرا جز بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت اور ادارہ جاتی استعداد یا صلاحیت کو بڑھانا اب ہماری قومی سلامتی ذمہ داری بن چکی ہے۔ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ، ای گورننس کے ذریعے لوگوں تک سہولیات کی فراہمی اور رسائی کو آسان بناتے ہوئے عوامی خدمت کو مؤثر بنایا جائے گا۔ اب اسکا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کے ذریعے ایک حکومت سے دوسری حکومت کے قیام کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں عوام کو کچھ ڈلیور کرنا بھی ہوتا ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو اس سے عدم مساوات اور بدانتظامی پھیلے گی ، لوگوں کا اپنی ریاست پرسے یقین کمزور ہوگا اور ہم ان حالات کا سامنا ایک طویل عرصے سے کررہے ہیں لیکن اب اگر مقتدرہ میں یہ سوچ پیدا ہوئی ہے تو یقینا نیک شگون ہے۔

    قومی سلامتی پالیسی کے مرکزی نکتے پر اب بات کریں تو وہ ہےمعاشی مستقبل کا تحفظ اور یہ نکتہ زیادہ توجہ طلب ہے کیونکہ یہی وہ مدعا جس پر موجودہ قومی سلامتی پالیسی کا دارومدار ہے۔معاشی مستقبل کا تحفظ کیسے ممکن ہے۔ معاشی تحفظ اور خودمختاری کا حصول پائیدار ، مجموعی اورجامع مالی ترقی کےذریعے یقینی بنانا ہے۔ یعنی اگر ہم مسلسل گروتھ کو یقینی بنائیں اور تمام طبقات کی مشترکہ ترقی اور مالی بہتری کریں تو ہماری قومی سلامتی کا تحفظ یقینی ہوگا۔ پالیسی کے اس حصے کو مزید ذیلی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

    1۔بیرونی عدم توازن:( یعنی روپوں میں کمانے اور ڈالر میں خرچ کرنے کے درمیان عدم توازن ہے جس کے سبب قرضے لینے پڑتے ہیں، اسکو ختم کرنے کیلئے ڈالر کمانے کے ذرائع بڑھانے ہوں گے اور یہ ایکسپورٹ اور ترسیلات زر کے ذریعے ممکن ہے۔ چنانچہ ان پہلوؤں پر سب سےزیادہ توجہ دینا ہوگی۔

    2۔ عمودی عدم مساوات: ( یعنی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کے قبضہ کو ختم کرنا ہوگا جس میں ایک طبقہ پالیسی اور معیشت پر قابض ہے اوردوسرے کا استحصال کررہا ہے۔ مافیاز کاراج ، چینی، تیل، پیٹرول ، کھاد وغیرہ وغیرہ جس سے معاشرے میں عدم مساوات ہے ۔ اب یہ سلسلہ ختم کرنا ہوگا ورنہ یہ قومی سلامتی کیلئے ایک خطرے کے طور پر موجود رہے گا۔

    3۔افقی عدم مساوات: اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں علاقائی سطح پر ترقی یافتہ اور پسماندہ کے لحاظ سے جو تقسیم ہے اس کو ختم کیا جائے، بلوچستان، سابقہ فاٹا ، گلگت بلتستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے بہت سے علاقے ہیں جن کو مواقع ، وسائل فراہم کیے جائیں اور انہیں ترقی دی جائے تاکہ لوگوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت نہ کرنی پڑے یوں معاشی اورمعاشرتی ترقی کا حصول یکساں طور پر ممکن ہوسکے گا۔

    4۔گروتھ اینڈ ڈویلپمنٹ: (عام طور پر اردو میں ہم ان دونو ں کو ایک ہی لفظ کے طور پر لیتے ہیں لیکن گروتھ کا مطلب بڑھوتری یا نشوونما ہے اور ڈویلپمنٹ کا مطلب ترقی ہے۔ جب ہماری انڈسٹری اور سروسز سیکٹر میں نشوونما ہوگی تو اسکا ایک مجموعی مثبت اثر آئے گا، ٹیکس جمع ہوگا اور زیادہ پیسہ ہوگا تاکہ ترقیاتی کاموں میں لگے اور اس طرح ہم ترقی کر سکیں گے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ہماری گروتھ مستحکم ہو ، کم از کم 6 فیصد کے حساب سے ہم ہر سال اپنی معیشت میں اضافہ کریں تو 20 لاکھ نوجوان جو ہر سال جاب کے مارکیٹ میں آتے ہیں انہیں کھپایا جا سکے گا ، اس لئے یہ ایک مسلسل عمل ہے جسے یقینی بنانا ہوگا۔

    تجارت ، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری: ہم نے اگر ڈالر کمانے ہیں تو اس کیلئے ہماری انڈسٹر ی کا مضبوط ہونا ضروری ہے ، ٹیکسٹائل ہو یا کوئی اور شعبہ اس کی استعداد ِ کار بڑھانا ہوگی تبھی ہم درآمد ات بڑھا سکیں گے اور صرف یہی نہیں مزید نئی مارکیٹس ڈھونڈنا ہوں گی اور دوسروں کو اپنے ملک میں پیسہ لگانے کیلئے آمادہ کرنا ہوگا ، ایز آف ڈوئنگ بزنس کے ذریعے ، پھر پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو استعمال اور بروئے کا ر لاتے ہوئے علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دیکر ہم قوم سلامتی کیلئے معاشی تحفظ کو حاصل کرسکتے ہیں۔
    5۔مالیاتی مینجمنٹ: ہم ہمیشہ ایک ہی مسئلے کا شکار رہتے ہیں کہ گروتھ بڑھانے کیلئے ڈالر خرچ کریں توہمارا مالیاتی خسارہ بڑھنے لگ جاتا ہے ، اب یہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن رہا ہے کیونکہ اسکی وجہ سے ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں اور پھر قرض داروں جیساکہ آئی ایم ایف وغیرہ کی شرائط ماننا پڑتی ہیں، اس کی مینجمنٹ بہتر کرنا ناگزیر ہے اگر ہم قومی سلامتی اور معاشی تحفظ چاہتے ہیں۔

    6۔توانائی کا تحفظ: پہلی بار پاکستان میں حکومتی سطح پر انرجی سیکیورٹی پر زور دیا گیا ہے کیونکہ موجودہ توانائی کے حصول کا نظام ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ بجلی ، گیس اور پیٹرول تینوں توانائی کے حصول کے ذرائع ہیں ۔ بجلی اور گیس میں گردشی قرضہ ہمارے لئے قومی سلامتی خطرہ بن چکا ہے اور پیٹرول چونکہ باہر سے لینا ہماری مجبوری ہے تو اس کے لئے ڈالر خرچ ہوتے ہیں، چنانچہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب اپنے گھریلو ذرائع یعنی ہائیڈرو الیکٹرک انرجی اور ونڈملز وغیرہ سے توانائی کا حصول کیا جائے گا ۔ جو ڈیم زیر تعمیر ہیں ان سے ہم 2030تک اپنی 60 فیصد ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اس کیلئے توانائی کے حصول کے مقامی ذرائع، اسٹوریج کپیسٹی کو بڑھانا ہوگا تاکہ آئے روز کی عالمی قیمتوں کے اضافےسے زرمبادلہ پر دباؤ کم آئے، اس کے علاوہ ہمیں توانائی ذرائع کیلئے مقامی سطح پر مزید وسائل کی تلاش پر بھی کام کرنا ہوگا جوکہ معاشی مستقبل کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہے۔

    7:تعلیم، تکنیک اور جدت: سستی معیاری تعلیم کا حصول اور اس کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی اور جدت یا ایجادات کی اہلیت سے لیس کرنا ہوگا، موجودہ حالات میں اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو آئندہ 30 سال میں ہمارے تعلیم یافتہ لوگ عالمی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق کارآمد نہیں رہیں گے اور فرسودہ ہونے کی وجہ سے ورک فورس سے باہر نکل جائیں گے، اس لئے اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ جدید علم سے روشناس کرانا ہوگا بصورت دیگر ہم اس ریس سے نکل جائیں گے۔ اب گوگل ، فیس بک، وٹس ایپ سے بات آگے نکل چکی ہے ، ربوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہیومن ریسورس کی تعریف بدل چکے ہیں، اب مشین پیزا تیار اور ڈرونز ڈلیور کرتے ہیں تو اس لحاظ سے ہمیں اپنی تیاری کرنی ہوگی ۔ مجھے خوشی ہے کہ بالاخر ہم اس بارے میں سوچنا شروع کررہے ہیں، اس لئے آج کے دور کے اعتبار سے معاشی تحفظ قومی سلامتی کا لازمی جز ہے ۔

    گلوبل ہیومن ریسورس(عالمی افرادی قوت): معاشی مستقبل کے تحفظ کے حصول کیلئے قومی سلامتی تناظر میں یہ اہم بات ہے جو اس ڈٖاکومنٹ میں سامنے رکھی گئی ہے، دنیا بھر میں لیبر یا ورک فورس کا 30 فیصد جنوبی ایشاء سے مہیا کیا جاتا ہے، اس لئے اب وقت کی ضرورت ہے کہ آپکی ورک فورس یا لیبر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، اسکلڈ یا سیمی اسکلڈ لیبر کی ہی اب گلوبل مارکیٹ میں جگہ ہے ، ووکیشنل ٹریننگ سے بات اب آگے نکل چکی ہے ، اس لئے آپ کو جدید تعلیم و تربیت سے لیس کر کے ہنر مند افراد کو بیرون ملک بھیجنا ہوگا ۔ لوگوں کا باہر جانا اور وہاں سے زرمبادلہ کماکرملک میں بھیجنا معاشی تحفظ کیلئے چونکہ ضروری ہے اس لئے اس شعبے پر توجہ دینی ہوگی۔ جب پوری دنیا انفراسٹرکچر کی بہتری کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ ایک ان-پڑھ کو کرین آپریٹر کے طور پر بھیج دیں، 70 کی دہائی والی اپروچ اب نہیں چلے گی، اپنی ورک فورس کے ذریعے بہترین افرادی قوت ہمیں عالمی منڈیوں کیلئے تیار کرنا ہوگی۔

    معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے قومی سلامتی کے جن امور کو پالیسی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا ہے ابھی میں نے صرف ان پر بات کی ہے ، مضمون کے دوسرے حصے میں سیکیورٹی اور دیگر پالیسی ایشوز پر بات کریں گے۔

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟

    تحریر: فیصل رانا

  • نئے سوشل میڈیا قوانین : کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن کا آغاز کردیا

    نئے سوشل میڈیا قوانین : کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن کا آغاز کردیا

    اسلام آباد:غیر قانونی آن لائن مواد، سوشل میڈیا کمپنیوں‌ کے حوالے سے اہم خبر،اطلاعات کے مطابق پی ٹی اے نے سوشل میڈیا کمپنیوں کی رجسٹریشن شروع کر دی۔

    تفصیلات کے مطابق نئے سوشل میڈیا قوانین کے نفاذ کے بعد حکومت کو بڑی کامیابی حاصل ہوگئی ہے، سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن کا آغاز کردیا ہے، سنیک ویڈیو اور پیگو نے پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹریشن کرا لی،پی ٹی اے نے سنیک ویڈیو اور بیگو کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کردیئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کے نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ رجسٹر ہونا ضروری ہے۔

    اس تناظر میں پی ٹی اے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جویو ٹیکنالوجی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ (Snack Video) اور بیگو سروس پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ (BIGO Live, Likee) رجسٹر ہونے والی پہلی سوشل میڈیا کمپنیاں بن گئی ہیں۔

    ترجمان پی ٹی اے کے مطابق دونوں کمپنیوں کے نمائندوں نے پی ٹی اے ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا، بعد ازاں کمپنیوں کو "رجسٹریشن سرٹیفکیٹ” سے جاری کیا گیا۔

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو غیر قانونی آن لائن مواد ہٹانے اور بلاک کرنے کے رولز 2021 (پروسیجر، نگرانی اور حفاظت) کے تحت پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹر ہونا ضروری ہے۔

    ان کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سروس اور یوزر بَیس کی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی، اس سے قبل وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا کے ان نئے قوانین کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

  • قومی سلامتی پالیسی، ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قرار

    قومی سلامتی پالیسی، ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قرار

    قومی سلامتی پالیسی، ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قرار
    وزیراعظم عمران خان نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کےعوامی ورژن کا اجراء کر دیا ، اس حوالے سے جمعہ کو وزیراعظم آفس میں ایک تقریب ہوئی ، تقریب میں وفاقی وزراء ، قومی سلامتی کے مشیر ، ارکان پارلیمنٹ ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، تمام سروسز چیفس ، سینئر سول و فوجی حکام ، ماہرین ، تھنک ٹینکس ، میڈیا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی میں ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قراردیا گیا ہے ،پالیسی کے مطابق ہمسائے میں جارحانہ اور خطرناک نظریئے کا پرچار، پرتشدد تنازعہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے دشمن کی جانب سے کسی بھی وقت بطور پالیسی آپشن طاقت کے استعمال کے ممکنات موجود ہیں جنگ مسلط کی گئی تو مادر وطن کے دفاع کیلئے قومی طاقت کے تمام عناصر کیساتھ بھرپور جواب دیا جائے گا پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا ہر قیمت اور ہر صورت میں تحفظ کیا جائے گا ہر جارحیت کا جواب دینے کیلئے خود انحصاری پر مبنی جدید دفاعی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی جائیگی ،مسلح افواج کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روایتی استعداد کار کو تقویت دی جائے گی دفاعی پیدوار، مواصلاتی نیٹ ورک کی مرکزیت، جنگی میدان کی آگہی، الیکٹرانک وارفیئر صلاحیت کو تقویت دینگے ملکی دفاع کے لیے اسلحہ کی دوڑ میں پڑے بغیر کم سے کم جوہری صلاحیت کو حد درجہ برقرار رکھا جائے گا پاکستان کی جوہری صلاحیت علاقائی امن و استحکام کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے داخلی سلامتی کیلئے نیم فوجی دستوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت، جدت، ضرورت پر توجہ مرکوز ہو گی فضاء، بحری، ساحلی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ایوی ایشن سیکیورٹی پروٹوکول بہتر، بحری نگرانی بہتر کی جائے گی دیرپا، مضبوط فضائی نگرانی، اثاثوں کا نیٹورک، مواصلاتی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو وسعت دی جائے گی بحری، تجارتی سلامتی اور انسداد بحری قزاقی، جرائم کے خاتمے کیلئے بحری قوت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا سرحدی مسائل خصوصاً لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری پر توجہ مرکوز کی جائے گی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب، قبائلی اضلاع کی ترقی پر توجہ مرکوز رہے گی غلط اور جعلی اطلاعات اور اثر انداز ہونے کے لیے بیرونی آپریشنز کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا

    قومی سلامتی پالیسی کے اجراء کی تقریب ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملٹری سیکیورٹی قومی سلامتی کا صرف ایک پہلو ہے،قومی سلامتی کے تمام پہلووں پر مشتمل جامع پالیسی کی تشکیل زبردست اقدام ہے یہ دستاویز قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانے میں مددگار ہو گی،

    وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی پالیسی کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ،اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ معید یوسف اور نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پالیسی میں نیشنل سیکیورٹی کو صحیح معنوں میں واضح کیا گیا ہے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں سویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے ایک تگڑی فوج ہونے کے باوجود ایک نہ رہ سکا،اگرمعیشت کمزور ہوتو اس سے ملک کی سیکیورٹی بھی متاثرہوگی، ملک کو محفوظ بنانے پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ھمارے پاس ڈسپلن اور تربیت یافتہ فوج ہے ماضی میں ہم نے ملک کو معاشی طور پر مستحکم نہیں کیا، کوشش ہے کہ ریاست اور عوام ایک راستے پر چلیں، ریاست اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیتی ہے مجبور ی میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے،آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑتی تھی آئی ایم ایف کی شرائط مانیں تو سیکیورٹی متاثر ہوتی ہے،بڑی محنت سے نیشنل سیکیورٹی پالیسی کومرتب کیا گیا ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی نظام بھی قوم بناتی ہے،سندھ کے سوا تمام صوبو ں کو ہیلتھ انشورنس دی ہے،پاکستان کو قانون کی حکمرانی کا چیلنج درپیش ہے،رسول اکرمﷺ ریاست مدینہ میں قانون کی پاسداری لے کر آئے قانون کی بالادستی نہ ہو تو معاشرے میں غربت ہوتی ہے قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا،ملک کے شمالی علاقے سوئٹزر لینڈ سے زیادہ خوبصورت ہیں،

    مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام پالیسز اعلیٰ معیار کی ہیں،نیشنل سیکیورٹی پالیسی مکمل کرنے میں لمبا عرصہ لگا،ہر شعبے کی اپنی سیکیورٹی پالیسیز ہیں تعلیم کا قومی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے،ہم نے پوری دنیا کی پالیسیاں دیکھی ہیں

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے پالیسی پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے پر سینیٹ میں احتجاج کیا تھا۔

    خان صاحب آپکے لیے ایک آفر ہے استعفی دو اور گھر جاؤ،جنید سلیم

    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، بڑا مطالبہ سامنے آ گیا

    میرے پاکستانیو….رات کے اندھیرے میں پٹرول بم گرا دیا گیا،ریٹ‌ ڈالر کے قریب پہنچ گیا

    اگر ٹیکس لیتے تو پٹرول کی قیمت 180 ہونی تھی،وزارت خزانہ

    رات سونے سے پہلے یہ کام کر لیں، خاتون رکن کا قومی سلامتی کمیٹی میں بریفنگ بارے تہلکہ خیز انکشاف

  • ہائبرڈ وارفیئر بھی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ ہوگا:عوام الناس قومی سلامتی پالیسی کوجاننےکے لیے تیار

    ہائبرڈ وارفیئر بھی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ ہوگا:عوام الناس قومی سلامتی پالیسی کوجاننےکے لیے تیار

    اسلام آباد:ہائبرڈ وارفیئر بھی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ ہوگا:عوام الناس قومی سلامتی پالیسی کوجاننےکے لیے تیار،اطلاعات کے مطابق قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آگئے جبکہ 100 سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی معاشی، عسکری اورانسانی سکیورٹی کے 3 بنیادی نکات پرمشتمل ہوگی جبکہ اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق قومی سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی اور نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا۔

    ذرائع نے بتایا کہ خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک سے تجارت بنیادی نقطہ ہوگا، پالیسی میں ملکی وسائل بڑھانے کی حکمت عملی دی گئی ہے جبکہ ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق کشمیر کو پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا اور مسئلہ کشمیر کا حل پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ قومی سلامتی پالیسی میں بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کا بڑاچیلنج قراردیاگیا، شہروں کو ہجرت، صحت، پانی، ماحولیات، فوڈ، صنفی امتیازہیومن سکیورٹی کےاہم عنصر ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران سے معاملات بڑھانے کا اختیار حکومت کو تجویز کیاگیا، اس کے علاوہ گڈ گورننس، سیاسی استحکام فیڈریشن کی مضبوطی پالیسی کا حصہ ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے یہ پیغام جاری کیا گیا ہے کہ جمعہ کے روز اس قومی پالیسی کے کچھ اہم نقات کوقوم بتائے جائیں گے اور ساتھ ساتھ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی پالیسی پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے پالیسی پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے پر سینیٹ میں احتجاج کیا تھا۔

  • پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    اسلام آباد:پاکستان کی پہلی جامع قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے ، اس حوالے سے اس قومی پالیسی کی دستایزات پرمشتمل سو سے زائد صفحات کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق 100سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر اعظم عمران خان جمعہ کو 50 صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا اجراء کرینگے، پالیسی اکانومی، ملٹری اور ہیومن سکیورٹی تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔

    ذرائع کے مطابق اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی، پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پہلی بار جامع پالیسی تیار کی گئی، سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی، نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پالیسی کی وارث ہو گی۔

    ذرائع کے مطابق ہر مہینے حکومت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی، پالیسی میں دو سے زائد ایکشن وضع کئے گئے، پالیسی ایکشن کا حصہ کلاسیفائیڈ تصور ہو گا، خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پالیسی کا بینادی نقطہ ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہو گا، ملکی وسائل کو بڑھانے کی حکمت عملی دی گئی ہے، کشمیر کو پاکستان کی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا، مسئلہ کشمیر کا حل پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے، پالیسی پر سیاسی فریقین کو اعتماد میں لینے کے لئے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن آمادہ ہو گیا، بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کا بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ شہروں کی جانب ہجرت، صحت، پانی اور ماحولیات بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق فوڈ اور صنفی امتیاز ہیومن سیکیورٹی کے اہم عنصر ہے ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد حکومت کو معاملات آگے بڑھانے کا اختیار کی بھی تجویز ہے، گڈ گورننس، سیاسی استحکام ،فیڈریشن کی مضبوطی پالیسی کا حصہ ہے۔