Baaghi TV

Tag: پانامہ

  • سپریم کورٹ، پانامہ تحقیقات،جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ، پانامہ تحقیقات،جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں جماعت اسلامی نے پانامہ اسکینڈل معاملہ پر نیب سے رجوع کرنے کی حامی بھرلی

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے پانامہ اسکینڈل معاملہ پر جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پانامہ میں مخصوص کیس میں جے آئی ٹی بنائی گئی۔علم نہیں پانامہ اسکینڈل کے باقی مقدمات کدھر گئے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ یہی ہمارا موقف ہے باقی کیسز کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب کو اس سلسلے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کسی معلومات پر بھی ایکشن لے سکتا ہے،جماعت اسلامی کی درخواست نیب کیلئے انفارمیشن ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ نیب کا اختیار ترامیم کے بعد کم ہوگیا ہے۔نیب نئی ترامیم کے مطابق ہی معاملہ کو دیکھ سکتا ہے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ نیب ہماری درخواست پر پانامہ کی تحقیقات کرے۔پانامہ پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی مثال موجود ہے۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کس کیس میں کیا ہوا عدالت کا کنسرن نہیں ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جے آئی ٹی پانامہ اسکینڈل کس قانون کے تحت بنائی گئی تھی۔کیا نیب قانون میں جے آئی ٹی کی گنجائش ہے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ پانامہ اسکینڈل میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب سے داد رسی نہ ہوتو سپریم کورٹ کی بجائے ہائیکورٹ جائیے گا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ آئینی بینچ نے گلگت بلتستان اعلی عدلیہ تقرری کیس کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کردی،عدالت نے کیس کی سماعت درخواست گزار وکیل مخدوم علی خان کی درخواست پر کیس ملتوی کیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حالات کی وجہ سے اسلام آباد نہیں آسکا۔گلگت بلتستان عدلیہ میں تقرریوں کا معاملہ اہم ہے۔ویڈیو لنک سے دلائل دینا مشکل ہوگا،عدالت کوئی آئندہ ہفتہ کی تاریخ دے دے،میں اسلام آباد پرنسپل سیٹ پر آکر دلائل دونگا۔

    سپریم کورٹ کا تلور شکار کیخلاف کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں تلور شکار کیخلاف کیس سن چکا ہوں ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تلور شکار کا تصور مارخور کے آفیشل شکار کیطرح ہے۔مارخور کے شکار کو ٹرافی ہنٹنگ کانام دیا گیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تلور کے شکار اور آئیبیکس ٹرافی ہنٹنگ میں فرق ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو تلور تو ہجرت کرنے والے پرندے ہوتے ہیں۔

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے اسٹوڈنٹس یونین بحالی کی درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کردیا،سپریم کورٹ نے درخواست پر صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا ،آئینی بینچ نے اسٹوڈنٹس یونین پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کر دیئے،سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگانے کا حکم دے دیا،جسٹس امین الدین خان پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

  • عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پر رکھ کر فائر نہ کریں،چیف جسٹس

    عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پر رکھ کر فائر نہ کریں،چیف جسٹس

    براڈ شیٹ کمپنی کی پانامہ جے آئی ٹی کے والیم 10 تک رسائی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،براڈ شیٹ کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے، وکیل براڈ شیٹ نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی غیر موثر نہیں ہوا، جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں ثالثی کورٹ میں کارروائی کا کیا بنا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہاں معاملہ نمٹ چُکا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ والیم 10 میں ایسا کیا ہے کہ اسے خفیہ رکھا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم آپ کو سنیں گے مگر ہمیں پتہ تو چلے کہ ہمارے سامنے درخواست کیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پانچ رکنی بینچ نے پانامہ فیصلے میں والیم 10 کے بارے میں کوئی آبزرویشن دی تھی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت عوام کا حق ہے کہ وہ دیکھیں کیسے ملک کو لوٹا گیا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم اس طرف نہیں جائیں گے کیونکہ اس میں تو ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، آپ کو والیم 10 ثالثی کورٹ میں کارروائی کے لیے چاہیے تھا، وہاں معاملہ نمٹ چُکا اب تو آپ کی درخواست غیر موثر ہو چُکی،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ براڈ شیٹ کو ریکور پراپرٹی میں سے بیس فیصد حصہ مل چُکا، 28 ملین ڈالر دیے گئے، براڈ شیٹ کمپنی نے والیم 10 فراہم کرنے کی درخواست واپس لے لی .وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ضرورت پڑی تو والیم 10 فراہمی کی نئی درخواست دائر کریں گے براڈ شیٹ کے ساتھ یہی معاہدہ تھا کہ شریف فیملی کی پراپراٹی سے ریکور 20 فیصد حصہ کمپنی کو ملے گا، پاکستان عوام کا 80 فیصد حصہ کہاں ہے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستانی عوام کی بات نہ کریں،اپ اپنے موکل براڈ شیٹ کی بات کریں، اگر والیم 10 میں کچھ بھی ہوتا تو پانامہ کا پانچ رکنی بنچ ضرور لکھتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ براڈشیٹ اب والیم 10 سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتی، براڈ شیٹ کی حد تک معاملہ نمٹ چکا ہےدوسرا فریق نیب ہے،وہ ہمارے سامنے کھڑا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ شریف خاندان کے اثاثوں کا کھوج لگانے کیلئے براڈشیٹ کی خدمات لی گئیں،ملک کو کیسے لوٹ کر جائیدادیں بنائی گئیں سب سامنے لایا جائے یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پر رکھ کر فائر نہ کریں، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس میں عدالت فیصلہ کرچکی، وزیراعظم کو نااہل کیا گیا، اپنے دلائل کو پانچ رکنی بنچ کے فیصلے سے تک ہی محدود رکھیں، کیا پانامہ فیصلے میں والیم 10 کے حوالے سے کوئی ہدایت ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانامہ کے حتمی فیصلے میں والیم 10 کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے کچھ نہیں ہے، والیم 10 کو خفیہ رکھنے کا آرڈر حتمی فیصلے میں ضم نہیں کیا گیا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ براڈ شیٹ کمپنی پاکستان کے عوام کی نمائندگی نہیں کرسکتی،اپ پاکستان کے عوام کی جانب سے نہیں کمپنی کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں ،

    سپریم کورٹ نے براڈ شیٹ کمپنی کے وکیل لطیف کھوسہ کی والیم 10 تک رسائی کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایک شخص ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک گیا اور تدریسی عمل جاری رکھا، بھارتی شہری کو 102سال کی عمر میں نوبل انعام ملا،پاکستان میں جو بہترین دماغ تھے وہ اس وقت حکومت میں ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ بہتر دماغ اس وقت عدالت میں بھی موجود ہیں جن کی ذمہ داری ہے ملک آئین کے مطابق چلانا، پانامہ فیصلے میں لکھا ہے کہ اداروں پر شریف خاندان کا قبضہ تھا، آج بھی تمام اداروں پر قبضہ ہوچکا ہے،ملک سے زیادہ کسی چیز سے پیار نہیں کرتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے ساتھ تو سب کو ہی محبت ہے،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

  • پانامہ جے آئی ٹی سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر

    پانامہ جے آئی ٹی سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر

    سپریم کورٹ، پانامہ جے آئی ٹی سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقررکر دی گئیں،

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ 22 اگست کو سماعت کرے گا ،بینچ میں جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی شامل ہیں،سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے براڈ شیٹ کمپنی نے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 حاصل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی رکھی ہے

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے شریف خاندان کی غیر ملکی جائیدادوں کی تلاش میں نیب کی معاونت کی لیکن نیب نے اس کا معاوضہ ادا نہیں کیا، درخواست گزار براڈ شیٹ کمپنی نے برطانیہ کی ایک عدالت میں نیب کے خلاف واجبات کے حصول کیلئے مقدمہ دائر کیا تھا براڈ شیٹ کمپنی نے سپریم کورٹ سے چیئرمین نیب کو پانامہ پیپرز لیکس کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 فراہم کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی تھی براڈشیٹ کمپنی پانامہ جے آئی ٹی والیم 10 کو برطانوی عدالت میں اسے بطور ثبوت پیش کرنا چاہتی تھی

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

  • میر شکیل الرحمان کے خلاف بول نیٹ ورک کی درخواست عدم پیرویِ پر خارج

    میر شکیل الرحمان کے خلاف بول نیٹ ورک کی درخواست عدم پیرویِ پر خارج

    سپریم کورٹ، میر شکیل الرحمان کے خلاف دی نیوز میں پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ چھاپنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے میر شکیل الرحمان کے خلاف بول نیٹ ورک کی درخواست عدم پیرویِ پر خارج کر دی ،بول نیٹ ورک کی جانب سے وکیل بابر اعوان کی عدم پیشی پر کیس خارج کیا گیا ،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،بول نیٹ ورک نے 2017 میں پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ کی احمد نورانی کی خبر کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی سپریم کورٹ نے میر شکیل الرحمان، میر جاوید الرحمان اور احمد نورانی کو طلب کیا تھا ،عدالت نے عدم پیروی کی بنیاد پر بول نیٹ ورک کی درخواست خارج کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا

    دوسری جانب پانامہ پیپرز میں شامل 436 افراد کیخلاف کارروائی کیلئے دائر درخواست،جماعت اسلامی نے عدالت عظمیٰ کی طرف سے پوچھے گئے 9 سوالات کا تحریری جواب جمع کرا دیا ،عدالت نے پہلا سوال کیا کہ کن حالات کے پیش نظر جماعت اسلامی کی پہلے آنے والی درخواست کو پاناما مرکزی کیس سے الگ کیا گیا؟ جس پر جماعت اسلامی نے جواب میں کہا کہ پاناما کیس سننے والے بنچ نے کہا تھا اگر جماعت اسلامی کا کیس سنا گیا تو فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، پانامہ کیس سننے والے بنچ نے کہا ہم پہلے نواز شریف کے کیس کو سنیں گے، پاناما کیس سننے والے بنچ کی اصل توجہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے کیس پر تھی،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں بنچ نے 9جون کی عدالتی کارروائی میں 9 سوالات پوچھے تھے

    امیر جماعت اسلامی نے 2017 میں پانامہ پیپرز میں سامنے آئے 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کی درخواست دائر کی تھی پانامہ سکینڈل میں شریف خاندان کے علاوہ چوہدری خاندان سے مونس الہیٰ کا بھی نام آیا تھا ،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

  • سپریم کورٹ،پانامہ پیپرز تحقیقات،جماعت اسلامی کا جواب جمع

    سپریم کورٹ،پانامہ پیپرز تحقیقات،جماعت اسلامی کا جواب جمع

    سپریم کورٹ ،پانامہ پیپرز میں شامل 436 افراد کیخلاف کارروائی کیلئے دائر درخواست،جماعت اسلامی نے عدالت عظمیٰ کی طرف سے پوچھے گئے 9 سوالات کا تحریری جواب جمع کرا دیا

    عدالت نے پہلا سوال کیا کہ کن حالات کے پیش نظر جماعت اسلامی کی پہلے آنے والی درخواست کو پاناما مرکزی کیس سے الگ کیا گیا؟ جس پر جماعت اسلامی نے جواب میں کہا کہ پاناما کیس سننے والے بنچ نے کہا تھا اگر جماعت اسلامی کا کیس سنا گیا تو فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، پانامہ کیس سننے والے بنچ نے کہا ہم پہلے نواز شریف کے کیس کو سنیں گے، پاناما کیس سننے والے بنچ کی اصل توجہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے کیس پر تھی،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں بنچ نے 9جون کی عدالتی کارروائی میں 9 سوالات پوچھے تھے

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پانامہ کیس میں عدالتی سوالات کے جواب جمع کرا دیے جماعت اسلامی نے پانامہ پیپرز میں شامل افراد کیخلاف تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کر دی ،جواب میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی میں ایف آئی اے، نیب اور ایف بی آر سمیت متعلقہ اداروں کے افسران شامل کیے جائیں، دنیا بھر میں پانامہ پیپرز لیک ہونے کے بعد کارروائی کا آغاز کیا گیا، درخواست کو مرکزی پانامہ کیس سے عدالتی آبزرویشن پر الگ کیا گیا تھا،پانامہ کیس میں دیگر درخواستوں میں صرف پبلک آفس ہولڈر کیخلاف کارروائی کیلئے تھیں،پانامہ کیس ایف بی آر کا معاملہ ہونے کے حوالے سے سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی، چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو کہا تھا کہ حسن اور حسین نواز پاکستان میں مقیم نہیں ہیں،
    نیب اور ایف آئی اے سے بھی رجوع کیا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی،پانامہ تحقیقات کیلئے کمیشن یا جے آئی ٹی کی تشکیل سے کسی متعلقہ ادارے کا کام متاثر نہیں ہوگا،نوازشریف کیساتھ پانامہ کیس میں آہنی ہاتھوں سے نمٹا گیا ہے تو باقیوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے،

    امیر جماعت اسلامی نے 2017 میں پانامہ پیپرز میں سامنے آئے 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کی درخواست دائر کی تھی پانامہ سکینڈل میں شریف خاندان کے علاوہ چوہدری خاندان سے مونس الہیٰ کا بھی نام آیا تھا ،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

  • پانامہ میں شامل 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    پانامہ میں شامل 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ، پانامہ کیس ،جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل جماعت اسلامی بتائیں اب اس معاملہ کا کیا کرنا ہے، سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا ، سات سال سے آپ کو اس کیس می کوئی دلچسپی نہیں تھی، پہلے وکیل جماعت اسلامی بتائے اپنا درخواست کو ڈی لنک کیوں کروایا ،پانچ رکنی بینچ سے اتنا بڑا ریلیف کیوں نہیں لیا؟ وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پانامہ میں نام آئے 436 لوگوں کی بھی تحقیقات ہو۔جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کو کیوں بائی پاس کرنا چاہتے ہیں۔کیا باقی تمام اداروں کو بند کردیں۔ کیا سارے فیصلہ سپریم کورٹ سے کروانے ہیں۔

    پانامہ کیس میں سپریم کورٹ مقدمہ کو نواز شریف کیس سے علیحدہ کروانے پر برہم ہو گئی،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں، آف شور کمپنیاں کیسے بنائی گئیں وہ ادارے دیکھیں گے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم کوئی از خود نوٹس نہیں لیں گے، بہت سی باتیں کرنے کو دل کرتا ہے نہیں کریں گے ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سات سال بعد یاد آیا کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے؟ اس وقت ایک ہی فیملی کے خلاف کیس چل رہا تھا، وہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے یہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے، اس وقت آپ کے اس عدالت کے سامنے کیوں نہ کہا یہ سب لوگوں کا معاملہ ہے ساتھ سنا جائے؟ اس معاملے پر عدالت کا کندھا استعمال نہ کریں ، اس وقت یہ معاملہ آپ کی استدعا پر ڈی لیسٹ کیا گیا؟ میں کہنا نہیں چاہتا مگر یہ مجھے کچھ اور ہی لگتا ہے، اس وقت بنچ نے آپ کو اتنا بڑا ریلیف دے دیا تھا،آپ نے اس بنچ کے سامنے کیوں نہیں کہا اس کو ساتھ سنیں، آپ نے سات سال میں کسی ادارے کو درخواست کہ تحقیقات کی جائیں؟ آپ نے اپنی ذمہ داری کہاں پوری کی؟ نیب یا کسی اور ادارے کو تحقیقات کا حکم دے دیں،آپ نے سات سال میں کسی ادارے کے سامنے شکایت نہیں کی،سارے کام اب یہاں سپریم کورٹ ہی کرے؟ 436 بندوں کو نوٹس دیئے بغیر ان کے خلاف کاروائی کا حکم کیسے دیں؟ان 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی ہونگے، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں ہے، دیکھنا یہ ہوتا ہے وہ کمپنی بنائی کیسے گئی، 436 بندوں کے خلاف ایسے آرڈر جاری کر دینا انصاف کے خلاف ہوگا،

    پانامہ پیپرز میں 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کی سراج الحق کی درخواست پر سماعت ،عدالت نے پانامہ پیپرز میں نامزد 436 افراد کے خلاف جے آئی ٹی بنانے پر جواب طلب کر لیا ،

    سپریم کورٹ کے 5 ججز کی جانب سے 3 نومبر 2016 کو پانامہ کیس قابل سماعت قرار دیا گیا تھا،عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ پانامہ پیپرز میں نامزد افراد کیخلاف نیب، ایف آئی اے،اینٹی کرپشن سمیت اداروں سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ ایف بی آر، اسٹیٹ بنک، نیب سمیت تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں سپریم کورٹ تحقیقات کیسے کرا سکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تو یہ کام کیسے کریں گے؟ عدالت پانامہ میں نامزد 436 افراد کو سنے بغیر فیصلہ کیسے کرے؟ کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

  • حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں،سراج الحق

    حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان ملک میں کرپشن کے خلاف جدو جہد ہر رہی ہے ۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ کرپشن کے ناسور کے خلاف جدو جہد ہر ایک پر لازم ہے۔ پانامہ لیکس کی خبر میں 436 پاکستانیوں کا نام تھا۔جماعت اسلامی کے اس پر سب سے پہلے کاروائی کی درخواست کی تھی ۔ افسوس کے صرف ایک فرد کے خلاف فیصلہ ہوا۔ 435 افراد کے خلاف کچھ بھی نہ ہوا۔ پانامہ لیکس کے دو ججز چیف جسٹس بنے لیکن کچھ نہ کیا۔ ملک میں احتساب کے ادارے کیا کر رہے ہیں ؟ایف آئی اے ،نیب اور دیگر اداروں نے کیا کام کیا ؟ہمارے ان اداروں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں اپوزیشن کے خلاف تمام ادارے تیز ہوجاتے ہیں ۔چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنا فرض پورا کرے ۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی فاقہ چل رہا ہے کچھ لوگوں کے مال و دولت میں اصافہ ہو رہا ہے ۔یہ عوام کے پیسہ پر ڈاکہ ڈالا گیا یے۔سپریم کورٹ آنا پارٹی کا نہیں عوام کا مسئلہ ہے آج وزیروں اور مشیروں کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ہمارا مذہب اور آئین اس سب کی اجازت نہیں دیتا۔ بین الاقوامی سروے کے مطابق پاکستان میں 7ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔کرپٹ لوگوں کی بنا پر سارے ادارے تباہ ہوگئے ۔جماعت اسلامی نے چوک چوراہے سے پارلیمنٹ تک آواز بلند کی ۔ آج عوام کے حقوق لینے سپریم کورٹ میں حاضر ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ اس دفعہ بھی ایک جے آئی ٹی بنائی جائے۔ اداروں کی مدد لی جس کے لیے وہ بنے ہیں ۔

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

  • پانامہ،436 پاکستانیوں کیخلاف تحقیقات،2017 میں دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر

    پانامہ،436 پاکستانیوں کیخلاف تحقیقات،2017 میں دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر

    سپریم کورٹ آف پاکستان ،پانامہ، 436 پاکستانیوں کیخلاف تحقیقات کا معاملہ،سپریم کورٹ نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی طرف سے 2017 میں دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں دو رکنی بنچ 9 جون کو کیس کی سماعت کرے گا ،جسٹس امین الدین خان بنچ کا حصہ ہوں گے سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے امیر جماعت اسلامی نے 2017 میں پانامہ پیپرز میں سامنے آئے 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کی درخواست دائر کی تھی

    پانامہ سکینڈل میں شریف خاندان کے علاوہ چوہدری خاندان سے مونس الہیٰ کا بھی نام آیا تھا ،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے کم سن گھریلو ملازمائوں پر تشدد کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کر دیں بچوں کی بیرون ملک سمگلنگ اور اغواء کیخلاف درخواستیں بھی سماعت کیلئے مقرر کر دی گئیں،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ آٹھ جون کو سماعت کرے گا

    کے الیکٹریک کی نجکاری کیخلاف جماعت اسلامی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 5 جون کو سماعت کرے گا ،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ کا حصہ ہونگے ،سپریم کورٹ نے حکومت، اٹارنی جنرل، کے الیکٹریک سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے

    سپریم کورٹ،بینکوں سے 54 ارب روپے کے قرض معافی پرازخود نوٹس سماعت کیلئے مقررکردی گئیں، جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 7 جون کو سماعت کرے گا وفاقی حکومت، سرکاری و نجی بنکوں، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیئے گئے، کلاء تنظیموں، قرض معافی کمیشن کے فریقین کو بھی نوٹس جاری کر دیے گئے سپریم کورٹ نے بنکوں سے اثر رسوخ کے ذریعے قرض معافی پر 2007 میں ازخود نوٹس لیا تھا

  • ایشوریہ رائے بچن پیش نہ ہوئی تو ہو گی کاروائی، بھارتی تحقیقاتی ایجنسی

    ایشوریہ رائے بچن پیش نہ ہوئی تو ہو گی کاروائی، بھارتی تحقیقاتی ایجنسی

    ایشوریہ رائے بچن پیش نہ ہوئی تو ہو گی کاروائی، بھارتی تحقیقاتی ایجنسی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک اوربالی ووڈ اداکارہ مشکل میں پھنس گئی ہیں

    بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے اداکارہ ایشوریہ رائے بچن کو طلب کیا ہے، ایشوریہ کو پانامہ پیپرز کے سلسلے میں تحقیقات کے لئے طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے، 48 سالہ ایشوریہ سے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی بیرون ملک دولت کے حوالہ سے تحقیقات کرے گی،

    امیتابھ بچن کی بہو ایشوریہ رائے کو اس سے قبل دو بار پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جا چکا ہے جس میں انہوں نے نئی تاریخ کی استدعا کی اور پیش نہ ہوئیں اب انہیں دوبارہ طلب کیا گیا ہے ،تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق آج بیس دسمبر کو پیشی کا سمن اداکارہ کی رہائشگاہ بھجوایا گیا تھا اگر آج بھی اداکارہ پیش نہ ہوئیں تو پھر قانونی کاروائی کی جائے گی ۔بھارتی تحقیقاتی ادارے نے پانامہ پیپرز لیک کے معاملے پر منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ 2002 کے تحت منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کررکھا ہے

    پانامہ پیپیرز کے بعد سے بھارت میں تحقیقات چل رہی ہے اور تحقیقاتی ایجنسی کئی اہم شخصیات سے تحقیقات کر چکی ہے، گزشتہ ماہ ابھیشیک بچن سے بھی تحقیقات کی گئی تھی، بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی جلد امیتابھ بچن کو بھی تحقیقات کے لئے طلب کر سکتی ہے

    2016 میں پاناما پیپرز میں دنیا بھر کے امیر و طاقتور افراد کی جانب سے اپنے اثاثہ جاتآف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپائے جانے کا انکشاف ہوا تھا جس کے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں تہلکہ مچا ہوا تھا۔ ان لیک پیپرز میں 300 بھارتیوں کے نام بھی شامل تھے

    دپیکا اور نواز الدین صدیقی کے ساتھ وائرل تصاویر پر شہریار منور کی وضاحت

    شلپا شیٹھی اور راج کندرا پر کروڑوں کے فراڈ کا مقدمہ درج

    دنیا میں موجود ایشوریا رائے بچن کی ہمشکل 6 خواتین