Baaghi TV

Tag: پانی بحران

  • کراچی میں ایک بار پھر پانی بحران کا خدشہ

    کراچی میں ایک بار پھر پانی بحران کا خدشہ

    شہر قائد میں ایک بار پھر پانی بحران کا خدشہ ہے، یونیورسٹی روڈ نیپا چورنگی سپلائی لائن لیک ہوگئی ، جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی کے کے مطابق کراچی کی مصروف ترین شاہراہ یونیورسٹی روڈ نیپا چورنگی پر ترقیاتی کام ہونے کی وجہ سے گلشن اقبال کو پانی سپلائی کرنے والی لائن لیک ہوگئی۔پانی کی لائن لیک ہونے سے شہر میں ایک بار پھر پانی کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔دوسری جانب یونیورسٹی روڈ نیپا چورنگی پر پانی کے باعث پرانی سبزی منڈی کے قریب سڑک تالاب بن گئی ، جس سے سوک سینٹرسے کشمیرپارک تک کا سفرمشکل بن گیا۔سڑک پرپانی کھڑا ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے جبکہ بس منصوبے کی وجہ سے پہلے ہی ٹریفک روانی متاثرہوتی ہے، جس کے باعث دفاتر ، دکانوں اور اپنے کاموں پر جانے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔لائن لیک ہوئے کئی روز گزرنے گئے لیکن متعلقہ اداروں کی جانب سے مسئلہ حل نہ کیا جاسکا۔

    ملک میں انٹرنیٹ کی بندش: انٹرنیشنل کمپنیوں نے آپریشنز بیرون ملک منتقل کرنا شروع کردیئے

    میکسیکو:فلسطین زندہ باد کا نعرہ لگا کر ایک شخص نےاسرائیلی وزیراعظم کا مجسمہ توڑ دیا

    پنجاب حکومت کی گندم کے حوالے سے کسانوں کیلئے بُری خبر

  • پانی بحران کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی میں مظاہرے

    پانی بحران کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی میں مظاہرے

    سندھ حکومت ،قابض میئر اور واٹر کارپوریشن کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کے باعث شہر بھر میں جاری پانی کے شدید بحران کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت کراچی میں 15مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے.

    باغی ٹی وی کے مطابق مظاہرین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈرز اُٹھائے ہوئے تھے جن پر کراچی دشمنی بند کرو، پانی دو پانی دو، ہمیں ٹینکروں میں نہیں نلکوں میں پانی دو،97فیصد ٹیکس دینے والا شہر پانی سے محروم، ذمہ دار قابض مئیر مرتضی وہاب، پانی دو، جینے دو، ٹینکر مافیاکی حکومتی سرپرستی ختم کرو، واٹر کارپوریشن کے چیئرمین مرتضیٰ وہاب استعفیٰ دو ‘ سمیت دیگر نعرے اور مطالبات درج تھے.فریسکو چوک برنس رو ڈ پر ہونے والے مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ، امیر ضلع جنوبی سفیان دلاور و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔منعم ظفر خان نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کراچی کے شہریوں کو مہنگے داموں ٹینکروں کے بجائے نلکوں میں پانی دیا جائے، ٹینکر مافیا کو ختم اور حکومتی سرپرستی بند کی جائے ، کے فور منصوبہ فوری مکمل کیا جائے ، کراچی کے عوام نے شہر کے 15 مختلف مقامات پر پانی کی عدم فراہمی کے خلاف سراپا احتجاج کر کے سندھ حکومت اور قابض میئر سے پانی دینے کا مطالبہ کیا ہے ،پانی کی فراہمی شروع نہ کی گئی تو ہم مشاورت کے بعد بہت جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کی عدم فراہمی کا ہے۔ 15 دنوں سے کراچی کے شہری پانی کی عدم فراہمی کے کے باعث پریشان ہیں۔حکومت نے ریڈ لائن کے نام پر سڑک کو کھود کر چھوڑدیا اور 84 انچ کی لائن کی صحیح سے مرمت بھی نہیں کی جارہی ، کراچی پورے ملک کی معیشت چلاتا ہے، صوبے کے بجٹ کا 95فیصد حصہ دیتا ہے لیکن اس کے باوجود کراچی کے عوام کو نلکوں میں پانی نہیں دیا جاتا۔صوبائی حکومت اور کے ایم سی عوام سے ٹیکس پورا وصول کرتی ہیں ۔کراچی کے عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے اور سندھ پر 16سال سے قابض حکمرانوں کے خلاف اپنے گھروں سے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 19 برس گزر گئے، نعمت اللہ خان نے کے تھری منصوبہ مکمل کر کے کے فورمنصوبہ پیش کیا اور اہل کراچی کویومیہ 650 ملین گیلن پانی ملنا تھالیکن انتہائی شرم کا مقام ہے وفاقی و صوبائی اور قابض مئیر کے لیے جو ابھی تک کے فور منصوبہ مکمل نہیں کرسکے۔حکمرانوں کی ملی بھگت سے ٹینکر مافیا کا کاروبار ترقی کررہا ہے لیکن کے فور منصوبہ مکمل نہیں ہورہا،واٹر اینڈ کارپوریشن کے ایم ڈی کہتے ہیں کہ کراچی کو 5500 ٹینکرز سے پانی فراہم کرتے ہیں۔وہ بتائیں کہ کراچی کے عوام کو نلکوں کے بجائے ٹینکرز کے ذریعے مہنگے داموں پانی کیوں فروخت کیا جارہا ہے۔ سفیان دلاور نے کہا کہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر پانی سمیت بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔جو پانی کے ٹینکر 2 ہزار میں ملا کرتے تھے وہ اب 7 ہزار کے ملتے ہیں۔ پانی کی عدم فراہمی کے ذمہ دار قابض مئیر اور وزیر اعلی سندھ ہیں۔ قابض مئیر نے پہلے مئیر شپ پر قبضہ کیا اور اب شہریوں سے پانی بھی چھین لیا ۔علاو ہ ازیں شاہراہ فیصل اسٹار گیٹ ، کالا پل ، کورنگی کراسنگ ، مین نیشنل ہائی وے ، ناظم آباد نمبر 7بس اسٹاپ ، مین سپر ہائی وے ، پاور ہائوس چورنگی ، اورنگی ٹائون پانچ نمبر چورنگی ، شیر شاہ پراچہ چوک ، نورانی کباب ہائوس چورنگی ، واٹر پمپ چورنگی شاہراہ پاکستان ، مین حب ریور روڈ ، ڈالمن مال نزد حیدری مارکیٹ ، جوہر موڑ پر بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن سے جماعت اسلامی کے امرائے اضلاع و دیگر ذمہ داران نے خطاب کیا ۔

    علاج کے نام پر پاکستان آنیوالی افغان خاتون امریکا روانگی کے وقت گرفتار

    برازیل میں ٹریفک حادثہ، 32 افراد ہلاک

    برازیل میں ٹریفک حادثہ، 32 افراد ہلاک

    نادرا میں جدت، چہرہ شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف

  • کراچی میں پانی بحران کا خدشہ، آٹھ روز کی مرمت کے بعد  پائپ پھر لیک

    کراچی میں پانی بحران کا خدشہ، آٹھ روز کی مرمت کے بعد پائپ پھر لیک

    شہر قائد میں ایک بار پھر پانی کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا کیونکہ ریڈ لائن کی تعمیرات کے دوران متاثر ہو نے والی 84 انچ کی لائن جس کی مرمت میں 8 دن لگے اس میں سے رساؤ شروع ہو گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں پانی کا بحران کا پھر سے خدشہ منڈلانے لگا ریڈ لائن کے تعمیراتی کام کے دوران 3دسمبر کو 84 انچ کی لائن دو مقامات سے پھٹ گئی تھی جس کے بعد سے شہر میں پانی کی فراہمی بند کرکے مرمتی کام کیا گیا جو 8 دن تک جا ری رہا پانی بند ہو نے کی وجہ سے شہر میں پانی کا بدترین بحران پیدا ہو گیا تھا۔اس دوران شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے تھے ڈھائی ارب گیلن پانی 8 دن میں شہر کو فراہم نہیں کیا جا سکا تھا تاہم 8 دن کے بعد مرمتی کام کیا گیا اور شہر میں پانی کی فراہمی شروع کردی گئی تھی لیکن ایک مقام سے لائن میں رسا شروع ہو گیا جہاں گڑھے میں پانی بھر گیا جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ رسا میں اضافے کا بھی امکان ہے۔واٹر کارپوریشن اس صورتحال پر سرجوڑ کربیٹھ گئے جعمرات کو فیصلہ ہو گا کہ کر اچی میں دوبارہ پانی بند کر کے مرمتی کام کیاجا ئیں گا یا پانی کی فراہمی کے دوران ہی کام کیا جا ئیں گے لیکن کراچی میں ایک بار پھر پانی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔کراچی کے شہریوں نے 8 دن میں اپنی ضروریات پوری کر نے کے لئے تین ارب روپے سے زائد کا پانی خرید کراپنی ضروریات پوری کی تھی تاہم ایک با ر پھر کراچی کے شہر یوں کو پانی کے مسائل کا سامنے کا خدشہ ہے۔

    کراچی سمیت ملک بھر کیلیےبجلی مہنگی