Baaghi TV

Tag: پانی کی کمی

  • چولستان میں سسکتی انسانیت مدد کی طلبگار ہے:حافظ سعد رضوی

    چولستان میں سسکتی انسانیت مدد کی طلبگار ہے:حافظ سعد رضوی

    لاہور: امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے چولستان کی صورت حال پرپریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چولستان میں سسکتی انسانیت مدد کی طلبگار ہے،سعد رضوی نے کہا ہے کہ چولستان پانی کی بوند بوند کو ترس گیا،

    امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نےکہا ہے کہ چولستان میں سسکتی انسانیت دھرتی پر بسنے والے انسانوں سے مدد کی طلبگار ہے،حکومت کسی بڑے سانحے کا انتظار کررہی ہے بروقت درست اقدامات نہ کر کے چولستانیوں پر ظلم کیا جارہا ہے،انسانی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں،

    امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے کہا ہےکہ مویشیوں کی ہلاکتوں کی میڈیا پرنشاندہی پر بھی انتظامیہ نہ جاگی،چولستان کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار وفاقی و صوبائی حکومت پی ٹی آئی، (ق) لیگ اور پیپلزپارٹی سب ہیں، حکومت نے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی بجائے روایاتی طرز عمل اپناتے ہوئے محض کمیٹیوں کی تشکیل پر ہی اکتفا کیا،

    امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نےکہا ہے کہ چولستان میں خشک سالی کوئی ناگہانی آفت نہیں بلکہ سو فیصد حکومت کی بدانتظامی و نااہلی ہے،حکومت کا یہی حال رہا تو خدشہ ہے کہ حکمران لاہور، کراچی، فیصل آباد کو بھی چولستان بنادیں گے، ٹی ایل پی شعبہ سوشل ویلفیئر کی ریلیف سرگرمیاں قابل ستائش ہیں جنہوں نے فوری ریلیف آپریشن شروع کیا,

  • دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی:شیری رحمان

    دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی:شیری رحمان

    کراچی:دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی 60 فیصد کمی انتہائی خطرناک ہے۔

    سینیٹر شیری رحمان نے سندھ میں پانی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے بیراجوں اور نہروں میں پانی کی 52 سے 62 فیصد کمی کی وجہ سے آبادی، زراعت اور مویشیوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ کے کئی شہروں کو پانی نہیں مل رہا، اس وقت کوٹری ڈاؤن اسٹریم 15 ہزار کیوسک پانی ہونا چاہیے تھا لیکن 2 ہزار کیوسک سے بھی کم چھوڑا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پانی کی اس شدید قلت کی وجہ سے سندھ میں کپاس، چاول اور دیگر فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، ہیٹ ویو اور شدید گرمی کی اس موسم میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں پانی کی قلت تشویشناک ہے۔

    شیری رحمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق 2025 تک پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا، پانی کی 1991 کے پانی معاہدے کے مطابق منصفانہ تقسیم ضروری ہے، ہمیں واٹر کنزرویشن اور صوبوں کے بیچ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔

     

    ادھرسندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

     

     

    خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

     

     

    صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔

     

  • ملک میں غیر معمولی بارشوں کا امکان،حکام الرٹ

    ملک میں غیر معمولی بارشوں کا امکان،حکام الرٹ

    اسلام آباد:مون سون کے موسم کی آمد کےساتھ ساتھ ملک میں کہیں خطرے کی گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں تو کہیں لوگ پانی کو ترس رہے ہیں،ایسے میں‌ ملک کے بیشتر حصوں میں مون سون کی بارشوں کے دورانیے میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں، ملک میں رواں برس غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے۔حکام نے ابھی سے عوام الناس کو خبردار کرنا شروع کردیا ہے

    بڑی تیزی سے بدلتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے کلائمٹ چینج شیری رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جنوبی ایشیائی موسمیاتی آؤٹ لک فورم نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات پر نظر ہے

    وفاقی وزیربرائے کلائمنٹ چینج شیری رحمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ، شمالی اور شمال مشرقی بلوچستان میں زیادہ عرصے تک بارشیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران سندھ میں کم بارشیں ہوں گی اور تھر پارکر اور عمر کوٹ میں قحط کی صورتحال ہوسکتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کےلیے تیار رہیں

    وفاقی وزیرشیریں رحمان کا کہنا تھا کہ حکام معمول سے زائد بارش کے پیش نظر احتیاطی تدابیراختیار کریں، تیز بارشوں سے جانوں اور انفراسٹرکچر کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ دوسری طرف دریائے سندھ میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک کم ہوگئی۔ کپاس کی فصل شدید متاثر ہونے لگی۔ کسان پریشان ہوگئے۔

    ادھر پاکستان میں پانی کی کمی کے حوالے سے محکمہ آبپاشی ذرائع کے مطابق رواں سال دریا میں پانی 50 فیصد سے زائد کم ہے، گڈو بیراج پر 60، سکھر پر 41 اور کوٹری بیراج پر 45 فیصد تک پانی کی کمی آئی ہے۔ بیراج سے نکلنے والی نہروں سے صرف پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں سے صورتحال میں بہتری کی امید ہے۔ کاشتکاروں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ فصلوں کیلئے پانی دستیاب نہیں۔

    دوسری جانب ارسا کا کہنا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے پانی کے حصے میں اضافہ کر دیا گیا، سندھ کے بیراجز پر پانی کی صورتحال آئندہ 4 روز میں بہتر ہونا شروع ہوجائے گی، سکھر بیراج پر پانی کی صورتحال 5 روز میں بہتر ہوگی۔ کوٹری بیراج پرپانی کی صورتحال بہتر ہونے میں 8 روز لگیں گے، پنجاب کو 77 ہزار 700 کیوسک یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے، سندھ کو 80 ہزار کے بجائے 63 ہزار کیوسک یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے، دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ ایک لاکھ 58 ہزار کیوسک ہے۔