Baaghi TV

Tag: پاکسان

  • بھارت کا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان  دفاعی معاہدے پر ردِعمل  جاری

    بھارت کا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر ردِعمل جاری

    بھارتی وزارتِ خارجہ نے یہ بیان پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اہم ’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر ردِعمل دیتے ہوئے جاری کیا ہے-

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہمیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’اسٹریٹجک دفاعی معاہدے‘ (جوائنٹ اسٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ) پر دستخط سے متعلق اطلاعات ملی ہیں،بھارتی حکومت کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کے حوالے سے پیش رفت کے بارے میں اطلاعات تھیں اور ان پر غور بھی کیا جا رہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس اہم پیش رفت کے اپنی قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی استحکام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کے ممکنہ اثرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور اس پر کام جاری رہے گا،بھارتی حکومت اپنے مفادات کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب امن و سلامتی کے قیام کے لیے پرعزم ہیں،سعودی وزیرِ دفاع

    واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا،پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی شراکت داری سے متعلق اس معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے حملے کے بعد سے عرب ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔

    پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

  • اسٹاک ایکسچینج میں  زبردست تیزی،نئی تاریخ رقم

    اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی،نئی تاریخ رقم

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم ہو گئی، انڈیکس نے ایک لاکھ 37 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور کر لی۔

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی ، کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 1181 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس ملکی تاریخ کی بلند ترین ایک لاکھ 37 ہزار 684 سطح پر پہنچ گیا،گزشتہ روز اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت رجحان رہا تھا ، کاروبار میں مسلسل تیزی کے باعث سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا فائدہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی اصلاحات کی بدولت مضبوط معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کو متحرک کیا ہوا ہے۔

  • اتحاد اور اتفاق سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کریں گے،وزیراعظم شہباز شریف

    اتحاد اور اتفاق سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کریں گے،وزیراعظم شہباز شریف

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا قیام کسی معجزے سے کم نہیں، یہ رب کا عظیم تحفہ ہے، پاک افواج تحفظ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں-

    باغی ٹی وی: وفاقی دارالحکومت میں پاکستان رب ذوالجلال کا احسان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عظیم قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا، اللہ نے ہمیں پاکستان رمضان المبارک میں تحفے میں دیا، پاکستان ایک تاریخی جدو جہد کے نیتجے میں وجود میں آیا، پاکستان اللہ رب العزت کی طرف سے عظیم تحفہ ہے، پاکستان کا قیام کسی بھی معجزے سے کم نہیں ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ آج 77 سال بعد ہم اس بابرکت مہینے میں یہاں جمع ہیں اور میں سمجھتا ہوں اس کا تقاضا یہ ہے اور پوری قوم پکار پکار کر تقاضا کررہی ہے کہ آئیں ہم یک جان اور دو قالب ہوجائیں، اور اتحاد اور اتفاق کی برکتوں کے ساتھ پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کریں، چاہے وہ چاہے وہ معاشی مسائل ہیں، معاشرتی مسائل ہیں یا دہشت گردی ہے، ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اس میں حصہ ڈا لے، اس میں سب سے بڑی ذمے داری علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر افواج پاکستان قربانیاں دے رہی ہیں مگر ملک کے اندر تفریق ہے، اور ذاتی مفادات کے لیے ملکی مفادات کو قربان کرنے کی ایک سوچ ہے مگر آج بھی موقع ہے اگر ہم یہ فیصلہ کرلیں کہ ہم پاکستان کے وسیع تر مفاد کی خطر اپنی تمام ذاتی خواہشات اور انا کو پاکستان کے تابع کردیں گے، اس سے بڑی پاکستان کی کوئی اور خدمت نہیں ہوسکتی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی نے ہمیں بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے، اربوں کھربوں کے ڈالر کے خزانے پہاڑوں میں دفن ہیں، دہشت گردی کا ایک یہ بھی زاویہ ہے اور دہشت گردوں کو جو مالی امداد ملتی ہے، اس کا ایک یہ بھی رخ ہے کہ پاکستان قدرت کے عطاکردہ وسائل سے فیض یاب نہ ہوسکے۔ یہ وہ دشمن ہیں اور وہ اہجنٹ ہیں جنہں پاکستان کی ترقی اور خوش حالی گوارا نہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ علما کرام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں، دہشت گردی کے خلاف ہم سب نے متحد ہونا ہے، ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کب تک یہ خون بہایا جاتا رہے گا، کب تک افواج پاکستان کے جوان قربانیاں دیتے رہیں گے، افواج پاکستان ملک کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا عظیم قربانیوں سے بے وفائی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد اور اتفاق سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کریں گے، اتحاد اور اتفاق سے ہی پاکستان کے معاشی اور معاشرتی چیلنجز پر قابو پائیں گے، ایک عظیم ملک بننے کے لیے ہمیں بھی دشوار گزار راستوں سے گزرنا ہوگا اور نوجوانوں کو تعمیر وطن کے لیے خود کو وقف کرنا ہوگا یوتھ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے ہیں، اخراجات میں کمی کرکے نوجوانوں کی ترقی اور بہبود کیلئے وسائل فراہم کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مذہبی منافرت اور تفریق کا خاتمہ کرنا ہے، کچھ عناصر اپنے مفاد کے لیے تقسیم پیدا کرکے ملکی استحکام کو داؤ پر لگارہے ہیں، وسیع ترمفاد کی خاطر ذاتی انا کو ملکی مفاد کے تابع کرنا ہے، پاکستان واحد اسلامی نظریاتی مملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے، پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، قدرت نے پاکستان کو معدنیات کی دولت سے نوازا، دہشت گردی کا مقصد پاکستان کو وسائل سے استفادہ کرنے سےروکنا ہے، ے پناہ وسائل سےہم اپنے قرض ختم کرسکتے ہیں، ایسےعناصر کو پاکستان کی ترقی و خوشحالی گوارا نہیں ، جانتے ہیں دہشت گردوں کومالی معاونت کہاں سے مل رہی ہے۔

  • ایمازون نے سیلرز کے اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویشن کو ’’ہیلتھ پالیسی‘‘ سے مشروط قرار دے دیا

    ایمازون نے سیلرز کے اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویشن کو ’’ہیلتھ پالیسی‘‘ سے مشروط قرار دے دیا

    واشنگٹن:ایمازون نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے سیلرز کے اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویشن کو ’’ہیلتھ ریٹ پالیسی‘‘ سے مشروط قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق ایمازون کی جانب سے دنیا بھر کے اکاؤنٹ ہولڈرز کو کہا گیا کہ اب اکاؤنٹ خود سے ڈی ایکٹی ویٹ نہیں کیے جائیں گے جبکہ سیلرز ایمازون کی وضع کردہ اکاؤنٹ ہیلتھ پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

    ایمازون کی جانب سے ’اکاؤنٹ ہیلتھ ریٹنگ‘ کی نئی پالیسی کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے سیلرز کے لیے ایک بڑی خوشخبری کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ ایمازون کے مطابق مذکورہ پالیسی کے تحت سیلرز اپنے اکاؤنٹ کے ہیلتھ ریٹ کو 250 کی حد سے اوپر رکھنے پر پابند ہوں گے تاہم ہیلتھ ریٹ کم ہونے کی ضرورت میں سیلرز کو ریٹنگ مزید بہتر بنانے کے لیے مزید 10 دن فراہم کیے جائیں گے۔

    علاوہ ازیں ایمازون کے مطابق اگر سیلرز مقررہ کردہ ہیلتھ ریٹنگ تک نہیں پہنچ سکے تو سیلرز کے اکاؤنٹس ڈائریکٹ ڈی ایکٹیویٹ نہیں کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق اس ضمن میں ایک ای میل کے ذریعے سیلر کو آگاہ کیا جائیگا اور اگرسیلر ہیلتھ ریٹ کم کی وجوہات پر ایمازون حکام کو مطمئن نہیں کرسکا تو اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ ہوسکتا ہے۔

    خیال رہے کہ ایمازون کی مذکورہ پالیسی پر کینیڈا اور امریکا میں عملدرآمد شروع ہوچکا ہے اور آئند چند ماہ میں ایمازون کی یہ پالیسی تمام ملکوں میں نافذ العمل ہوگی۔

    واضح رہے کہ رواں برس اگست میں ایمازون کی جانب سے پاکستان کے 13 ہزار اکاؤنٹس معطل کردیے تھے جبکہ پنجاب کے شہروں میاں چنوں اور ساہیوال کو فراڈ ریڈ زون قرار دیا ہے ۔ان علاقوں سے کام کرنے والے سیلرز دھوکا دہی کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔

    سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی

  • وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ کو دل کی تکلیف،راولپنڈی میں فوجی ہسپتال میں علاج کےلیےداخل

    وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ کو دل کی تکلیف،راولپنڈی میں فوجی ہسپتال میں علاج کےلیےداخل

    راولپنڈی:وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ کو دل کی تکلیف، راولپنڈی میں فوجی ہسپتال میں علاج کے لیے داخل ہوچکے ہیں، اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ان کی حالت قدرے بہترہے،رانا ثنااللہ کوتکلیف کچھ عرصے سے تھی

    ذرائع کے مطابق رانا ثنااللہ کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ انکو سانس کی بڑی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ان کوآکسیجن لگا دی گئی ہے ، ادھر ان کےحوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہےکہ رانا ثناللہ کا ای سی جی اور اس کے علاوہ دل کے ددیگرٹیسٹ بھی جاری ہیں‌،

    رانا ثناللہ کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ان کو انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا جارہا ہے جہاں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی مانیٹرنگ کررہی ہے اور ان کی سانس کو بہترکرنے کےلیے کوشاں ہیں‌

    ذرائع کے مطابق رانا ثنااللہ کے فیملی کے لوگ بھی وہاں پہنچ چکےہیں‌

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ معمول کے طبی معائنے کیلئے عسکری ادارہ برائے امراض قلب (اے ایف آئی سی) راولپنڈی گئے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ ان کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیوں میں صداقت نہیں، 18 سال قبل 2004 میں ان کی ہارٹ سرجری ہوئی تھی اور ہر دو تین سال بعد اس کا چیک اپ کروانا لازم ہوتا ہے۔

    وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ اس سال دو تین بار ڈاکٹرز سے معائنہ کرایا، ایک چھوٹا سا لیکن ضروری پروسیجر اے ایف آئی سی کے ڈاکٹرز نے تجویز کیا تھا جس کے بعد سے وہ روبہ صحت ہیں اورکل انشاءاللہ ہسپتال سے گھر آ جائیں گے۔

  • غیر ملکی مراسلے پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کیا جائے، دفتر خارجہ

    غیر ملکی مراسلے پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کیا جائے، دفتر خارجہ

    اسلام آباد:غیر ملکی مراسلے پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کیا جائے،پاکستان میں اس حوالے سے پھیلائی جانے والی گفتگو کے متعلق اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی صورت حال میں بار بار غیرملکی مراسلے کوزیربحث نہ لایا جائے یہ حساس معاملہ ہے،

    عاصم افتخار نے کہا کہ سائفر معاملے پر دفتر خارجہ نے تفصیلی وضاحت جاری کی ہے، اس پر کچھ سیاسی بیانات آ رہے تھے جو کہ درست نہیں تھے، اس معاملے پرحالیہ بیان بھی اس لیے جاری کیا گیا، ہمارے بیانات کا ٹرانسکرپٹ موجود ہے اسے دیکھا جاسکتا ہے، اس معاملے پر غیر ضروری ،غیرذمہ دارانہ بیانات سےگریز کیا جانا چاہیے۔

    عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفترخارجہ ایک منظم اور مربوط طریقہ کے تحت کام کرتا ہے، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اعلامیہ کےبعدکوشش رہی تمام ممالک سےتعمیری، مثبت سفارتی تعلقات قائم کیےجائیں، دفترخارجہ نے تمام وقت تعمیری اور مثبت سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش پر بھی فوکس رکھا۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ افغانستان میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہت بہتر ہے، تاہم وہاں معاشی اور اقتصادی حالات قدرے خراب ہیں، افغانستان کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا مگر انکی حکومت تسلیم کرنے کا معاملہ ابھی بھی بہت قبل از وقت ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ صرف ہمارے ہی نہیں بہت سے ممالک کے سفارتخانے کابل میں ہیں، اور بہت سے ممالک اپنے ملکوں سے بیٹھ کرافغانستان سے سفارتی تعلقات رکھ رہے ہیں، اس معاملے پر بحث سمجھ سے باہر ہے۔

  • معاشی مشکلات میں گھرے ملک سری لنکا نے روس سے تیل خرید لیا

    معاشی مشکلات میں گھرے ملک سری لنکا نے روس سے تیل خرید لیا

    کولمبو:معاشی و سیاسی بحران میں گھرے سری لنکا نے روس سے خام تیل حاصل کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اے ایف پی کے مطابق سری لنکا کو اپنی آزادی سے لے کر اب تک کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر ضروری اشیا کی کمی ہے۔ حکومتی آئل ریفائنری سیلون پیٹرولیم کارپوریشن مارچ میں فارن ایکسچینج بحران کے باعث بند ہو گئی تھی اور حکومت خام تیل درآمد نہیں کر سکی تھی۔

    سری لنکا کے انرجی منسٹر کنچانا وجیسیکیرا نے کہا کہ روسی تیل ایک مہینے سے کولمبو کی پورٹ پر تھا، لیکن ملک کے پاس ادائیگی کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر نہیں تھے۔

    سری لنکا روس پر امریکی پابندیوں کے باوجود ماسکو سے براہ راست خام تیل، کوئلے، ڈیزل اور پٹرول کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ یورپی یونین کے لیڈران تیل سمیت روس پر دیگر پابندیاں لگانے کے لیے پیر کو ملاقات کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیاہے جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان با ربار کہہ رہے ہیں کہ میں روسی صدر سے بات کرچکا تھا کہ پاکستان کو پٹرول سستے داموں ملے لیکن امریکہ کے کہنے پر حکومت ختم کردی گئی

    یاد رہےکہ کل رات پاکستان میں پٹرول، ڈیزل،مٹی کے تیل کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کردیا گیامفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک لٹر پٹرول 179.86روپے، ڈیزل 174.15 روپے، لائٹ ڈیزل 148.31 روپے جبکہ مٹی کا تیل 155.56 روپےفی لٹر ہوگا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ جب تک پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائیں گے آئی ایم ایف قرض نہیں دے گا، عمران خان فارمولے پر جاؤں تو ڈیزل 305 روپے کا ہوگا، حکومت نے غریب لوگوں کی پروٹیکشن کا فیصلہ کیا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سابق حکومت میں فروری تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوا، سابق حکومت نے پٹرول کی قیمت کو فکسڈ رکھا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے لیے عوام پر کچھ نہ کچھ بوجھ ڈالنا ناگزیر ہوگیا، پٹرول پر سبسڈی کا امیر اور غریب دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 15 دن میں 55 ارب روپے کا نقصان برداشت کر چکے ہیں، سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث آج مہنگائی کا سامنا ہے،عمران خان کی حکومت معاشی بارودی سرنگیں بچھا کر گئی ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پہلے دن سےکہہ رہا تھا کہ عوام پر کچھ نہ کچھ بوجھ ڈالنا ناگزیر ہے، سول حکومت چلانے کا خرچہ 42 ارب اور سبسڈی سوا سو ارب روپے ہے، 15دن میں 55ارب روپے کا نقصان برداشت کرچکے ہیں۔بعد ازاں وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔