Baaghi TV

Tag: پاکستانی آم

  • چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں

    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں

    چین کے شہروں اورمچی اورسنکیانگ میں پاکستانی آموں کی نمائش کے حوالے سے ایوان بالاء کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز دنیش کمار، جام مہتاب حسین دھر کے علاوہ متعلقہ محکوں کے حکام نے شرکت کی ، کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ پاکستانی آموں کا شمار ذائقہ کے لحاظ سے دنیا کے بہترین آموں میں ہوتا ہے اگر بہتر حکمت عملی اختیار کی جائے تو پاکستانی آم کو ایکسپورٹ کر کے اربوں روپے کمائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے شہروں اورمچی اورسنکیانگ میں پانچ روزہ نمائش کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں پاکستانی آم کے ایکسپورٹرز اور مینگو گروورز کو پاکستانی آموں کی نمائش کے لئے بھر پور مواقع دیا جائے گا۔ اس حوالے سے آج معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا جا رہاہے۔

    خصوصی کمیٹی کو ٹی ڈیپ وزارت کامرس، ایف بی آر، خارجہ امور، مواصلات، سول ایوی ایشن کے حکام نے اب تک ہونے والے تیاریوں بارے تفصیل سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اورمچی میں یہ نمائش 17 سے 21 اگست2023 کو منعقد ہو گی اس کے لئے تین دن اسلام آباد اور چار دن لاہور سے پروازیں جائیں گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس پروگرام کا مقصد چین اور دنیا بھر کی مارکیٹوں میں پاکستانی آموں کی طلب کو بڑھانا ہے۔وہاں مختلف ممالک کے لوگ اس نمائش میں شرکت کریں گے۔ پاکستانی تاجروں اور مینگو گروورز کی وہاں کے تاجروں اور کسانوں سے ملاقاتیں کرائی جائیں گی۔پاکستانی آموں کی نمائش کے لئے 11 سٹالز خریدے جائیں گے۔ 48 ممالک کے لوگ اس نمائش میں شرکت کریں گے۔

    کنونیئر کمیٹی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ نمائش کے حوالے سے تمام تر اقدامات بروقت اور موثر انداز میں مکمل کیے جائیں کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ پنجاب اور سندھ کے آموں کے پیدا کرنے والے کسان و تاجر بھر پور شرکت کریں گے وہ اپنے اخراجات پر نمائش میں حصہ لیں گے۔ تمام تیاریاں بروقت ہونی چاہیں۔ خصوصی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ چین میں قائم پاکستانی سفارتخانہ بھی اس حوالے سے تعاون کرے اور دیگر متعلقہ محکمے بھی اس حوالے سے موثر حکمت عملی اختیار کریں۔

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • بڑے افسوس کے ساتھ : اب بھارتی پاکستانی ” امب ” چوپ نہیں‌ پائیں‌ گے

    بڑے افسوس کے ساتھ : اب بھارتی پاکستانی ” امب ” چوپ نہیں‌ پائیں‌ گے

    اسلام آباد: بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کو ہتھیانے کے بعد پاکستان نے بھی اپنا ردعمل ریکارڈ کراتے ہوئے بھارت سے تعلقات منقطع کرنےکا فیصلہ کیا ہے اس فیصلے کے بعدپاک بھارت تجارتی سرگرمیوں کے تعطل سے بھارتی متعدد ایسی اشیا سے محروم ہو جائیں گے جو انہیں بہت پسند و مرغوب ہیں۔ ان سب میں سے بھارت میں مقبول ترین سوغات پاکستان کے آم ہیں جن کو بھارتی بڑے شوق سے چوپتے ہیں.

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی باہمی تجارت کے مطابق پاکستان سے بھارت بھیجی جانے والی اشیا میں 2016-17 کی نسبت 2017-18 میں اضافہ ہوا تھا۔اعداد و شما رکے مطابق 2016-17 میں پاکستان نے بھارت کو 455.5 بلین امریکی ڈالرز کی اشیا درآمد کی تھیں جو 20107-18 میں بڑھ کر 488.5 بلین ڈالرز کی ہوگئی تھیں۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی آم کی بھارت میں بہت مانگ ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف 2017 میں ہندوستان نے 63 کروڑ روپے کے پھل پاکستان سے منگوائے تھے۔ پاکستان سے بھارت جانے والی مقبول عام اشیا میں تربوز، خشک میوہ جات، آم، سمینٹ، چمڑے کا سامان، ملتانی مٹی، نمک، سلفر، پتھر، چونا، تیل، طبی آلات، عینکیں اور پٹرولیم اشیا شامل ہیں۔

    پاکستان سے بھارت جانے والی دیگر اشیا میں دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان سے بھارت سوتی کپڑا، اسٹیل اور تانبہ جاتا ہے۔ چینی سے تیار ہونے والی بچوں کی کنفیکشنری بھی پاکستان سے ہی منگوائی جاتی ہیں۔

    اس حوالے سے دوسرا دلچسپ امریہ ہے کہ مشہور پاکستانی برانڈ ’جے ڈاٹ‘ (جنید جمشید) کے تیار کردہ کرتے بھارتیوں میں بہت مقبول ہیں اور وہ انتہائی ذوق و شوق سے خریدتے و پہنتے ہیں۔ جے ڈاٹ کے کرتے بھارتی ایک دوسرے کو تحفتاً بھی پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بھارت میں لاہور کے تیار کردہ پشاوری سوٹ کی بہت مانگ ہے اور پشاوری چپل کے تو بھارتی دیوانے بتائے جاتے ہیں۔