Baaghi TV

Tag: پاکستانی حکومت

  • اسٹار لنک پاکستان تک رسائی مسک کی معذرت پر منحصر

    اسٹار لنک پاکستان تک رسائی مسک کی معذرت پر منحصر

    پاکستانی قانون سازوں نے ایلون مسک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس، اسٹار لنک، کے لیے اجازت کو ان کے حالیہ متنازعہ بیانات پر معذرت سے مشروط کر دیا ہے، جنہوں نے جنوبی ایشیائی ملک میں عوامی غصہ بھڑکا دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستانی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں اعلان کیا کہ اسٹار لنک کو پاکستان میں رجسٹر کیا گیا ہے، جبکہ مسک نے بھی تصدیق کی کہ ان کی کمپنی اس سروس کے آغاز کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔تاہم، گزشتہ ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے مسک کے ان بیانات پر تشویش کا اظہار کیا جنہوں نے پاکستان کو برطانیہ کے "گرومنگ گینگ” اسکینڈل سے جوڑ دیا تھا۔

    قانون سازوں کا مطالبہ

    کمیٹی کے اجلاس میں قانون سازوں نے واضح کیا کہ اسٹار لنک کو پاکستان میں کام شروع کرنے کے لیے ضروری اجازت اور لائسنس درکار ہوں گے۔ ساتھ ہی، انہوں نے مسک سے ان کے ان بیانات پر معذرت کا مطالبہ کیا جن میں انہوں نے پاکستانیوں پر الزام عائد کیا تھا۔سینیٹر پلوشہ خان نے مسک کے بیانات کو پاکستان مخالف قرار دیا اور الزام لگایا کہ وہ بھارت کے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔
    “ایسا لگتا ہے کہ ایلون مسک نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف غلط الزامات لگانے کی مہم شروع کی ہے،” انہوں نے کہا۔یہ بیان اس وقت آیا جب مسک نے بھارتی رہنما پریانکا چترویدی کے ایک بیان کی حمایت کی جس میں انہوں نے برطانیہ کے گرومنگ گینگ اسکینڈل کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ مسک نے اس بیان کو سوشل میڈیا پر "سچ” قرار دیا۔

    لائسنس کی شرائط

    سینیٹر افنان اللہ خان نے تجویز دی کہ اسٹار لنک کو صرف اس صورت میں لائسنس دیا جائے جب مسک عوامی سطح پر اپنے متنازعہ بیانات پر معذرت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو وزارت خارجہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔گلوبل نیٹ ورک انیشی ایٹو کے نائب چیئرمین اسامہ خلجی نے کہا کہ پاکستانی سینیٹرز کا حق بنتا ہے کہ وہ مسک کے پاکستان مخالف بیانات کے پیچھے محرکات پر سوال اٹھائیں۔“لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پاکستان میں اچھے انٹرنیٹ کی ضرورت کو کیسے پورا کیا جائے۔ اگر اسٹار لنک اچھی کوالٹی انٹرنیٹ فراہم کرنے کے قابل ہے تو اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے،” خلجی نے کہا۔

    اسٹار لنک کے لائسنس کی موجودہ صورتحال

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق اسٹار لنک کی درخواست سیکورٹی کلیئرنس کے زیر غور ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے سینیٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق اسٹار لنک نے 2022 میں پاکستان میں کام کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔2023 میں متعارف کرائی گئی سیٹلائٹ پالیسی اور 2024 کے اسپیس ایکٹیویٹی قوانین کے تحت سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (PSARB) کے ساتھ رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ اسٹار لنک کی درخواست کا تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے بعد لائسنس جاری کیا جائے گا۔

    گرومنگ گینگ تنازعہ

    ایلون مسک کے ان بیانات، جن میں انہوں نے پاکستانی نژاد افراد کو برطانیہ کے گرومنگ گینگ اسکینڈل سے جوڑا، پاکستان اور اوورسیز کمیونٹی میں شدید غم و غصے کا باعث بنے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیانات تعصب اور نسل پرستی کو ہوا دیتے ہیں۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مسک کے ان بیانات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں "انتہا پسندانہ زہر” قرار دیا۔

    اسٹار لنک کی افادیت

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی خراب سہولیات کے پیش نظر اسٹار لنک جیسی سیٹلائٹ سروسز ملک میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ خاص طور پر دیہی اور پہاڑی علاقوں میں، جہاں انٹرنیٹ تک رسائی محدود ہے، اسٹار لنک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔خلجی نے کہا کہ پاکستان میں مزید سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کنندگان کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کے پاس بہتر انتخاب ہو اور قیمتیں کم ہو سکیں۔

  • مودی سرکار نے پاکستانی حکومت کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا

    مودی سرکار نے پاکستانی حکومت کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار پاکستان دشمنی سے باز نہ آئی، بھارت نے پاکستانی حکومت کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کروا دیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق مودی سرکار نے حکومت پاکستان کے آفیشیل ٹویٹر اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کروایا ہے، بلاک کروانے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکا، بھارت میں حکومت پاکستان کا ٹویٹر اکاؤنٹ چیک کرنے پر لکھا آتا ہے کہ اکاؤنٹ کو کچھ قانونی تقاضوں کی وجہ سے بلاک کیا گیا ہے

    بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی حکومت کا ٹویٹر اکاؤنٹ بلاک کروانے پر حکومت کی جانب سے ابھی تک مکمل خاموشی ہے، یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے ایسا کیا ہو. بھارت ماضی میں بھی حکومتی شخصیات کے ٹویٹراکاؤنٹ بھارت میں بلاک کروا چکا ہے، باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی مودی سرکار نے بھارت میں بلاک کروایا ہوا ہے

    واضح رہے کہ ماضی میں بھی ٹویٹر کی جانب سے پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹس بند کیے جاتے رہے ہیں، خصوصی طور پرٹویٹر پر کشمیر کے حق میں کچھ لکھنے پر نہ صرف پاکستان کے حکومتی عہدیداران کے اکاؤنٹس بند کئے گئے بلکہ عام شہریوں کے بھی اکاؤنٹس بند کئے گئے.

    ٹویٹر انتظامیہ نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھی نوٹس بھجوا دیا تھا ،اگر حکومت پاکستان ٹویٹر کو کسی کا اکاؤنٹ بند کرنے کا کہتی ہے تو ٹویٹر انتظامیہ مانتی نہیں، قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی میں انکشاف ہوا تھا کہ ٹویٹر نے اعتزاز احسن کا جعلی اکاؤنٹ کئی بار درخواست کے باوجود بند نہیں کیا، جس پر کمیٹی نے ایف آئی اے سائبر کرائمزونگ اورٹوئٹرکے ساتھ معاہدے کی کاپی مانگ لی تھی، اراکین کمیٹی نے کہا کہ اعترازاحسن کاجعلی ٹوئٹراکاوَنٹ آج تک بندکیوں نہیں ہوا؟روبینہ خالد نے کہا کہ کِیا سارے اکاوَنٹ پاکستان سے باہر آپریٹ ہو رہےہیں ؟کچھ اکاوَنٹس گھنٹوں میں بند کیوں ہو جاتے ہیں ؟

    ٹویٹر پاکستانی حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات کو نہیں مان رہا البتہ انڈیا کی جانب سے کسی بھی قسم کی درخواست کو فوری قبول کر لیا جاتا ہے، اس پر پاکستان کی حکومت اور وزارت آئی ٹی کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے.

    ٹویٹربھارتی اشاروں پرناچنے لگا”باغی ٹی وی”کودھمکیاں:وزیراعظم نوٹس لیں‌

    بھارتی مسلمانوں کی آواز”باغی ٹی وی”کے ٹویٹراکاونٹ کوبلاک کرنے کے لیے بھارتی حکومت کی ٹویٹرکودرخواست، 

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی