Baaghi TV

Tag: پاکستانی فلمیں

  • فلموں میں کام کرنے سے کسی اداکارہ کی مصروفیات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ریشم

    فلموں میں کام کرنے سے کسی اداکارہ کی مصروفیات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ریشم

    نوے کی دہائی کی سپر ہٹ اداکارہ ریشم جو کہ بہت ہی ہنس مکھ ہیں ہر وقت ہنستی مسکراتی دکھائی دیتی ہیں ادب سے خاصا لگائو رکھتی ہیں انہوں‌نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ مجھے جو بھی کام ملا میں نے وہ بہتر سے بہترین کرنے کی کوشش کی، مجھے کام حاصل کرنے کےلئے نہ کسی کے پاس جانا پڑا نہ ہی کسی کی سفارش کروانی پڑی. مجھے جو بھی کام ملا میری اداکاری کو دیکھتے ہوئے ملا. اداکارہ نے مزید کہا کہ میں نے بے شمار فلموں‌میں کام کیا اور ہر فلم سے مجھے بہت زیادہ شہرت ملی ہر فلم میں میرے کام کو سراہا گیا. میں نے جس چیز کی بھی زندگی میں تمنا کی وہ

    خدا کی ذات نے مجھے نوازی اور مجھے اب کسی چیز کی تمنا نہیں ہے. اداکارہ نے مزید کہا کہ اگر محنت اور لگن کے ساتھ کوئی کام کیا جائے ہو نہیں سکتا کہ آپکو کامیابی نہ ملے.اگر صاف نیت سے کسی کام کو کرنے کا ارادہ کیا جائے تو وہ ضرور ہو جاتا ہے. ایک سوال کے جواب میں اداکارہ ریشم نے کہا کہ صرف فلموں میں کام کرنے سے ہی کسی بھی اداکارہ کے مصروف ہونے کا اندازہ نہیں‌لگایا جا سکتا.یاد رہے کہ اداکارہ ریشم کم مگر معیاری کام کو ترجیح دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ آج کل ہمیں‌کم کم کام کرتی دکھائی دے رہی ہیں.

  • غیرمعیاری فلموں کی تعداد جتنی بھی ہو انڈسٹری کو فائدہ نہیں ہوتا صنم سعید

    غیرمعیاری فلموں کی تعداد جتنی بھی ہو انڈسٹری کو فائدہ نہیں ہوتا صنم سعید

    اداکارہ صنم سعید جو ٹی وی کی بہترین اداکارہ ہیں انہوں‌ نے فلموں‌ میں بھی کام کیا ہے، ٹی وی پر تو انہیں‌ بہت پذیرائی ملی فلموں میں بھی انہیں‌پذیرائی ملی لیکن اُس طرح‌سے نہیں جس طرح‌ملنی چاہیے تھی. صنم بڑی سکرین پر ایک آدھ پراجیکٹ میں‌ ہی نظر آئیں. کافی عرصے سے صنم سکرین سے غائب ہیں حال ہی میں انہوں‌نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ جو بھی فلمیں بنائی جائیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کا فلم انڈسڑی کو فائدہ ہو رہا ہے یا نہیں، ہاں ایک ہزار بھی غیر معیاری فلمیں‌بنا لی جائیں ان کا فلم انڈسٹری کو کسی طور فائدہ نہیں‌ہو گا.

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیشہ فلم کو اس حوالے سے دیکھیں‌ کہ اسکا معیار کیا ہے. اداکارہ نے مزید کہا کہ میں کبھی بھی کسی کے بارے میں‌بات نہیں‌ کرتی کون کیا کررہا ہے اس پر بھی توجہ نہیں دیتی یہی وجہ ہے کہ کوئی مجھ پر سوال نہیں اٹھاتا نہ ہی میرے بارے میں بات کرتاہے اور ویسے بھی میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں اسکو اس چیز میں‌برباد کردوں‌کہ دوسرا کیا کررہا ہے. صنم سعید نے ایک سوال کے جواب میں‌کہا کہ وقت بہت بڑا استاد ہے یہ بہت کچھ سکھا دیتا ہے لیکن اگر کوئی سیکھنا چاہے تو، میں‌بھی وقت سے بہت کچھ سیکھا اور جو وقت سکھاتا ہے اسے انسان کبھی نہیں‌بھولتا. اگر آپ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر جو کام کررہے ہیں اس بارے میں آگاہی حاصل کریں تجربے کریں.

  • میری کامیابیوں کا سہرا میرے استادوں کے سر ہے سید نور

    میری کامیابیوں کا سہرا میرے استادوں کے سر ہے سید نور

    معروف ہدایتکار سید نور کہتے ہیں کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے استادوں کی وجہ سے ہوں ان سے جو کچھ سیکھا وہی میرے کام آیا، اگر میں‌ یہ کہوں کہ آج جو کچھ ہوں اپنے استادوں اور سیئنرز کی وجہ سے ہوں تو بے جا نہیں‌ہو گا. اپنے استادوں اور سینئرز سے جو کچھ سیکھا ہوتا ہے وہ ساری زندگی کام آتا ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ ان کی عزت کی جائے اور ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے.جو اپنے سئنیرز کی عزت نہیں کرتے ان کو پھل بھی ویسا ہی ملتاہے. سید نور نے مزید کہا کہ میں‌نے اپنی طرف سے اچھی فلمیں بنانے کی کوشش کی اس میں مجھے میری توقعات سے زیادہ کامیابی ملی میں نے کبھی نہیں

    سوچا تھا کہ اللہ مجھے اتنی عزت سے نوازے گا اور اتنی کامیابیاں دے گا. میں نے اپنے بڑوں سے جو کچھ سیکھا وہ میں آگے منتقل کررہا ہوں ڈائریکشن ہو یا لکھنا لکھانا مجھے جو آتا ہے میں کھلے دل کے ساتھ اپنے سے جونئیرز کو سکھا رہا ہوں اور سیکھنے کےلئےویسے تو کوئی بھی عمر نہیں‌ہوتی کبھی بھی آپ کچھ بھی طے کر سکتے ہیں کہ میں نے کیا کرنا ہے لہذا سیکھنے کے لئے عمر کی قید نہیں. عمر کے کسی بھی حصے میں آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں سیکھ سکتے ہیں. سید نور نے کہا کہ فلمی صنعت کی بحالی کے لئے جو کام ہو رہا ہے وہ زبردست ہے جس یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے کبھی بھی رکنا نہیں چاہیے.

  • فلم لفنگےپر پابندی عائد کرنا باہر بیٹھے پرڈیوسرز کی حوصلہ شکنی ہے

    فلم لفنگےپر پابندی عائد کرنا باہر بیٹھے پرڈیوسرز کی حوصلہ شکنی ہے

    فلم ”لفنگے” میں مرکزی کردار کرنے والے اداکار مانی سنسر بورڈ سے ہیں سخت نالاں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں سندھ سنسر بورڈ نے جس طرح سے کہا اسی طرح‌ سے اور اتنے ہی سین اور ڈائیلاگ فلم سے نکال دئیے اس کے باوجود پنجاب سنسر بورڈ کی طرف سے فلم کو بین کر دینا سمجھ سے باہر ہے. پنجاب سنسر بورڈ نے فلم ٹھیک طرح‌ سے دیکھی بھی نہیں ہے اور پابندی عائد کر دی ہے.مانی نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنسر بورڈ میں ان لوگوں کو ہونا چاہیے جن کو کام آتا ہے بلکہ وہ لوگ

    ہونے چاہین‌جن کا تعلق فلمی صنعت سے ہو. فلم اور ٹی وی کے لوگ ان چیزوں کو زیادہ سمجھتے ہیں. مانی نے مزید خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سینما مر رہا ہے اور جو لوگ اس کو بچانے کےلئے سرمایہ کاری کررہے ہیں وہ مزید ایسا نہیں کریں گے اگر انہوں نے ایسا کرنا بھی ہوا تو اپنی فلمیں پھر کہیں اور لے جائیں گے. مانی نے کہا کہ لفنگے فلم کا پرڈیوسر بیرون ملک میں رہتا ہے اگر اس کی فلم کے ساتھ ایسا کیا جائے گا تو کون دوبارہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کےلئے آئیگا؟ یہ تو ان لوگوں‌کی حوصلہ شکنی ہے جو اس مشکل وقت میں پاکستان فلم انڈسٹری کو سہارا دینے کے خواہشمند ہیں.یاد رہے کہ فلم لفنگے کے بارے میں‌کہا جا رہا ہے کہ اس میں کچھ ڈائیلاگز ایسے ہیں جو نہایت ذو معنی ہیںفیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے سنے نہیں جا سکتے.

  • کملی ہٹ ہوئی تو شکرانے کے دو نفل پڑھے عمیر رانا

    کملی ہٹ ہوئی تو شکرانے کے دو نفل پڑھے عمیر رانا

    ہمیشہ ہی تنازعات کی زد میں رہنے والے عمیر رانا نے اپنے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فلم کملی کی ریلیز سے پہلے میں بہت زیاد نروس تھا میں کیا پوری ٹیم ہی نروس تھی. ہمیں اتنا یقین تھا کہ ہم نے اچھا کام کیا ہے بہت محنت کی ہے لیکن لوگوں کا کچھ پتہ نہیں لگتا وہ کس چیز کو کب کتنا پسند کریں. جب فلم لگی اور لوگوں نے بے حد سراہی تو میں نے شکرانے کے نفل ادا کئے تھے. جس روز فلم لگی اس روز بس دھڑکن تمام دن تیز رہی کہ پتہ نہیں‌کیسی لگتی شائقین کو فلم.

    عمیر رانا نے کہا کہ ابھی تو فی الحال کملی کی کامیابی سے ہی لطف اندوز ہو رہا ہوں.ابھی کسی پراجیکٹ پر کام نہیں کررہا لیکن یقینا پائپ لائن میں‌کچھ پراجیکٹس تو ہیں.عمیر رانا نے کہا کہ اداکار کا کام اداکاری کرنا ہے لہذا مجھے ڈرامے اور فلم کے کام میں تو کوئی فرق نہیں لگتا بس ٹیکنیک کا فرق ہے.آرٹسٹ دونوں جگہ جم کر محنت کرتا ہے.آرٹسٹ صرف محنت کرتا صلہ خدا کی زات نے دینا ہوتا ہے. میں بہت خوش ہوں کہ چھوٹی عید پر فلمیں ریلیز ہوئیں اور اس عید پر بھی ریلیز ہونے جا رہی ہیں.یہ سلسلہ اسی طرح‌سے چلتے رہنا چاہیے.ابھی جو بھی فلمیں بن رہی ہیں سب دیکھی ہیں اچھی ہیں.اس وقت تعداد کی بجائے یہ دیکھا جائے کہ جو فلمیں بن رہی ہیں ان میں ہونے والا کام کیساہے. تعداد آہستہ آہستہ کرکے زیادہ ہوتی جائیگی.

  • ماہرہ خان کی سید نور کے ساتھ کام کرنے کی خواہش

    ماہرہ خان کی سید نور کے ساتھ کام کرنے کی خواہش

    سپرسٹار ماہرہ خان نے کہا ہے کہ اگر انہیں سید نور کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسرآئیگا تو وہ یقینا کریں گی اور ان کے لئے یہ باعث فخر ہو گا کہ وہ سید نور کے ساتھ کام کریں. ماہرہ خان نے کہا کہ سید نور ہمارے ملک کے بہت بڑے ڈائریکٹر ہیں ان کے کریڈٹ پر بہت بڑی بڑی اور خوبصورت فلمیں ہیں ، میں نے ان کی بہت ساری فلمیں دیکھیں لیکن ان کی فلم مجاجن اور چوڑیاں مجھے آج تک یاد ہے کیا کمال کی انہوں‌ نے فلمیں‌ بنائیں تھیں. ماہرہ خان سے ایک سوال ہوا تو اس کے جواب میں بولیں کہ مجھے پنجابی بہت زیادہ اچھی نہیں بولنی آتی لیکن

    میں‌کوشش ہی کر سکتی ہوں. فلم مولا جٹ میں بھی جو پنجابی بولی وہ بہت کوشش کے بعد بولی تھی لیکن اگر سید نور کے ساتھ اردو یا پنجابی فلم میں‌کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے، وہ ہماری انڈسٹری کا سرمایہ ہیں. ماہرہ خان نے کہا کہ اگر سید نور کے پاس کوئی میرے لئے پراجیکٹ ہوا تو کیوں نہیں‌کروں گی میں ؟ اگر پنجابی پراجیکٹ ہوا تو میں کر لوں گی لیکن میں جس طرح کی پنجابی بولتی ہوں اس پہ پہلے ہی معذرت کرلیتی ہوں. ماہرہ خان نے اسی انٹرویو میں اپنی فلم مولا جٹ کا ڈائیلاگ وے مولیا سب نوں دسدے میں تیری پکی پکی مشوق آں بھی سنایا.

  • ایکدم سے کامیابی نہیں ملتی صائمہ نور

    ایکدم سے کامیابی نہیں ملتی صائمہ نور

    پنجابی فلموں کی سپر ہٹ اداکارہ صائمہ نور جو بہت کم انٹرویوز دیتی ہیں انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی کامیابی ایکدم سے نہیں ملتی سال ہا سال لگ جاتے ہیں اپنا آپ منوانے میں۔ خوشی کی بات ہے کہ فلم انڈسٹری کو نئے چہرے لے کر چل رہے ہیں اور جولوگ بھی کام کررہے ہیں وہ بہت اچھا کررہے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ ہی انکے کام میں نکھار آئے گا. کوئی بھی کام مسلسل کرتے رہنے سے اس میں نکھار آہی جاتا ہے اور ایسا تو کبھی بھی نہیں ہوتا کہ کوئی فلم انڈسٹری میں آئے اور اسکو پہلے ہی دن یا پہلی فلم سے کامیابی نہیں مل جاتی کامیابی حاصل کرنے کے لئے کام کے ساتھ ساتھ صبر کرنا پڑتا ہے۔صائمہ نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے کہا کہ میں نے ہمیشہ ہی بہت محنت سے کام کیا چاہے وہ بڑی سکرین ہو یا چھوٹی دل لگا کر کام کیا اور اللہ نے اسکا اجر بھی دیا میری یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ اپنے وقت کے بہترین ہدایتکاروں کے ساتھ کام کیا ۔صائمہ کہتی ہیں کہ انہیں بہت امید ہے کہ فلم

    انڈسٹری ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے مقام کو حاصل کرلے گی۔صائمہ نور نے مزید کہا کہ میں نے ہمیشہ ایسا کام کیا کہ جو میرے پرستاروں کو پسند آئے کبھی ایسے سکرپٹ کا انتخاب نہیں کیا کہ جس پر میرے پرستار بھی افسوس کریں کہ صائمہ نور نے ایسی فلم کیوں کی۔ یاد رہے کہ صائمہ نور کی حال ہی میں فلم باجرے دی راکھی ریلیز ہوئی تھی فلم زیادہ کامیابی تو حاصل نہ کر سکی لیکن صائمہ کے روایتی انداز کو دیکھ کر ان کے پرستار خوش ضرور ہوئے۔

  • پاکستانی فلموں کی ریلیز کا معاملہ :جاوید شیخ کا وزیر اعظم سے معاملے پر ایکشن لینے کا مطالبہ

    پاکستانی فلموں کی ریلیز کا معاملہ :جاوید شیخ کا وزیر اعظم سے معاملے پر ایکشن لینے کا مطالبہ

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور فلم پروڈیوسز ایسوسی ایشن کے مشترکہ تعاون سے فلم انڈسٹری کی موجودہ صورت حال پر اہم پریس کانفرنس کی گئی جس میں پاکستان فلم پروڈیوسر زایسوسی ایشن نے حکومت سے سینما گھروں میں پاکستانی فلموں کے شوز کی بحالی کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : پریس کانفرنس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، اداکار جاوید شیخ،اداکار و ہدایت کار یاسر نواز، ندا یاسر،عدنان صدیقی،وجاہت روف ،شازیہ وجاہت،ستیش آنند،امجد رشید اور بدر اکرام نے بریفنگ دی-

    کورونا وبا کے مشکل ترین دور کے بعد عید پر 4 فلمیں ریلیز ،ملک بھر کے سینماؤں کی…

    اداکار جاوید شیخ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے معاملے پر ایکشن لینے کا مطالبہ کردیا انہوں نے کہا کہ آپ آج ہی ایکشن لیں اور ہماری پاکستان فلم انڈسٹری کو بچائیں مریم اورنگزیب کو بلائیں اور ان سے تفصیلات پوچھیں یہ آج تک انڈسٹری میں نہیں ہوا کہ 3 دن پاکستانی فلمیں لگنے کے بعد انہیں بغیر بتائے ہوئے اتار دیا یہ کیسے ہو سکتا ہے –

    جاوید شیخ نے کہا کہ عدنان ،وجاہت ،ندا اور یاسر یہ اپنے پیسے کسی اور چیز میں لگاسکتے ہیں وہ سینما میں لگارہے ہیں رسک لے رہے ہیں ہمیشہ پاکستانی عوام کو پاکستانی فلموں سے گلہ تھا کہ فلمیں اچھی نہیں بناتے میوزک اچھا نہیں ہوتا ساؤنڈ اچھا نہیں ہوتا کمیرے اور لائٹ اچھی نہیں ہوتی اب آپ فلمیں جا کر دیکھیں یہ ساری اس قابل ہیں کہ آپ ان فلموں کو کسی بھی ہندوستانی فلم کے سامنے لگا سکتے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ اتنے ک عرصے میں ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے اور اس وقت اگر ہماری انڈسٹری کے ساتھ یہ ہو گا کہ فلم بتائے بغیر سینماؤں سے اتار دیں تو کہیں بھی نہیں رہیں گے بریکنگ نیوز یہ ہے آج کی ہماری نیوز تمام چینلز اور صحافی لگائیں تاکہ وزیر اعظم تک یہ بات پہنچے آپ ہمارے پاؤں مضبوط کریں نام بنے گا ہمارا پوری دنیا میں پچھلی عیدوں پر یہ ہوتا تھا کہ ایک ہفتے کا وقت ملتا تھا-

    مسلسل تیسرے سال بھی سلمان خان کی کوئی فلم عید پر ریلیز نہ ہوسکی

    چیئرمین پاکستان فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن امجد رشید نے کہا کہ ہم نے بطور چیئرمین پروڈیوسر ایسوسی ایشن اس کو شروع سے اینٹی سپیٹ کیا تھا یہ جو فلم آرہی ہے یہ ہماری فلموں کو ڈیمج کرے گی ہم نے شروع سے ہی کوشش شروع کردی تھی کہ جو گورنمنٹ کے لوگ ہیں اسٹیک ہولڈرہیں ان سے ایک میٹنگ ہو جو ہمارا پوائنٹ آف ویو ہے سیریس پوائنٹ آف ویو ہے یہ ان کو کمیونی کیٹ ہو سارے معاملے پر مریم اورنگزیب کو خطوط بھی لکھے مگر کوئی حل نا نکل سکا ۔

    فلم دم مستم کے پروڈیوسر عدنان صدیقی نے کہا کہ کل کو فلم بنانے سے پہلے سوچوں گا ہمیں عوام سے سپورٹ ملی ہمیں سینما اور حکومت سے سپورٹ نہیں ملی وہ فلم جس کے ہم بھی فین ہیں پانچ دن بعد لگتی ہم اسے دیکھنے نہیں جاتے ہم نے اپنی جمع پونجھی لگائی ہے ہم سب کی فلمیں کمارہی ہیں ایسا نہیں ہے کہ سینما خالی ہیں۔

    فلم چکر کے پروڈیوسر یاسر نواز اور ندا یاسر نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیاندا یاسر نے کہا کہ ہمیں عوام سے سپورٹ ملی لیکن ہمیں سینما اور حکومت سے سپورٹ نہیں ملی۔

    یاسر نواز کا کہنا تھا کہ فلم کی پروموشن میں دن رات ایک کردئیے ہماری فلم اتار کر ہالی ووڈ فلم لگادی اس سے بہتر ہم ڈرامہ بنالیتے اور ایکٹنگ کرتے۔

    صبا قمر کو ساتھی اداکار مغرور کیوں سمجھتے ہیں؟ اداکارہ نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

    فلم پردے میں رہنے دو کے پروڈیوسر وجاہت رؤف نے کہا کہ کسی بھی فلم کو بین نہیں کرانا چاہتے ریگولیٹ کرانے کے خواہشمند ہیں۔

    سربراہ ہم فلمز بدر اکرام کا کہنا تھا کہ عید پر چار بڑی پاکستانی فلموں کے لیے صرف چار دن مانگے تھے منسٹری نے یقین دہانی بھی کرائی تھی لیکن کل تین بجے کے بعد سے ہمارے شوز ڈراپ کردئیے گئے-

    واضح رہے کہ رید الفطر پر 4 پاکستانی فلمیں ریلیز ہوئیں جنہیں عوام کی جانب سے بھر پور پذیرائی ملی فلمی شائقین دو سال بعد پہلی بار عید کے موقع پر سینما گھروں میں مقامی فلمیں دیکھنے پہنچے چاروں فلموں کو کہانی اور کاسٹ سمیت ان کے گانوں کی وجہ سے کافی سراہا جا رہا ہے-

    زیادہ تر فلمی ناقدین نے ’پردے میں رہنے دو‘ اور ’گھبرانا نہیں ہے‘ کے سپر ہٹ ہونے کی پیش گوئیاں کی ہیں اور مبصرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ چاروں فلمیں اچھی کمائی کرنے میں کامیاب جائیں گی مگر صبا قمر اور ہانیہ عامر کی فلمیں باقی دو فلموں کو کمائی میں پیچھے چھوڑ دیں گی صبا قمر کی ’گھبرانا نہیں ہے‘ اور ہانیہ عامر کی ’پردے میں رہنے دو‘ کو کہانی کی وجہ سے بھی کافی سراہا جا رہا ہے۔

    سینیما کی بحالی کے بعد کتنے کروڑ سعودی شہری فلم دیکھ چکے ہیں؟