Baaghi TV

Tag: پاکستانی قوم

  • وزیر اعظم شہباز کی قوم کو عید الفطر کی مبارکباد

    وزیر اعظم شہباز کی قوم کو عید الفطر کی مبارکباد

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ عید الفطر کے بابرکت موقع پر میں پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے عیدالفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ دن ہمیں خوشی، شکرگزاری، اخوت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شہباز شریف نے عید الفطر 1446ھ کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں کہا کہ رمضان المبارک میں تقویٰ، صبر اور قربانی کی جو تربیت ہمیں ملی، ہمیں چاہیے کہ اسے اپنی زندگیوں میں رمضان کے بعد بھی جاری رکھیں اور اسلامی اصولوں پر کاربند رہیں۔ آج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے خطرات لاحق ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی انتہا پسندی، نفرت اور فرقہ واریت سے بچنا ہوگا۔ ملک کی سالمیت اور استحکام کے لیے ہمیں متحد ہونا ہوگا اور کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ معیشت، معاشرت اور قومی یکجہتی کو مستحکم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت پاکستان اس وقت ملک کی اقتصادی بحالی، امن و امان کے قیام اور سماجی استحکام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم متحد ہو کر اپنے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں۔پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ایک جنگ سے گزر رہا ہے اور ہماری پاک فوج کے افسران اور جوان اس ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ آج کے دن ہم اُن تمام شہدا کی بلندی درجات کے لیے دعاگو ہیں۔اور اُن کے خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج کے دن ہم جعفر ایکسپریس کے سانحے کے شہیدوں کے لئے بھی دعاگو ہیں کہ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ اور ان کے پسماندگان کے غم برابر کے شریک ہیں۔ ہمیں اپنے ان مظلوم بھائیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو ظلم و بربریت کا شکار ہیں، خاص طور پر فلسطین اور بھارتی زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام جو آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ پاکستان ہمیشہ اُن کے ساتھ کھڑا ہے اور رہے گا۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے اور ان بے گناہ مسلمانوں کی داد رسی کرے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ میں پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عید کی خوشیوں میں اپنے کمزور اور ضرورت مند بہن بھائیوں رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو شریک کریں، ان کی مدد کریں اور ایک فلاحی معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت دن کے حقیقی پیغام کو سمجھنے اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

    سندھ حکومت کا زائد کرایوں کے خلاف سخت کریک ڈائون

    آذربائیجان کی پاکستان کو قرض کی پیشکش

    عید کا چاند نظر آتے ہی بازاروں میں رش

  • ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پاکستانی قوم سے معافی مانگ لی

    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پاکستانی قوم سے معافی مانگ لی

    ڈاکٹر ذاکر نائیک ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں اور اسلام آباد،کراچی میں ملاقاتوں ،خطابات کے بعد لاہور پہنچ چکے ہیں

    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مفت سامان نہ لانے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے ڈاکٹر ذاکر نائیک پر خوب تنقید کی تھی، سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پاکستانی قوم سے معافی مانگنی پڑ گئی،ایک تقریب میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کا کہنا تھا کہ مجھے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے پی آئی اے کا واقعہ بھول جانے کو کہا جس پر میں نے سوچا کہ کیا میں نے اس بارے میں کچھ کہا تھا؟ تو گورنر صاحب نے مجھے پھر سے واقعہ یاد دلایا،مجھے علم تھا کہ سوشل میڈیا پر اس متعلق کافی تناؤ تھا، پھر احساس ہوا کہ میں نے جو کہا وہ درست تھا یا نہیں تھا؟ لیکن بات تو اپنی جگہ پر حق کی تھی، جس طرح انگریز نے نفرت پیدا کی ہندوستان اور پاکستانی بھائیوں میں اس طرح تناؤ نہیں چاہتا،میں امن پھیلاتا ہوں،میرے پاکستانی بھائیو، بہنو ں کو تکلیف ہوئی تو اس پر معذرت چاہتا ہوں،ہمارا اصل مقصد جنت کا پاسپورٹ کا حصول ہے دنیاوی پاسپورٹ نہیں

    ڈاکٹر ذاکر نائیک لاہور پہنچ گئے

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری تفویض کردی گئی

    پاکستان اور قومی ائیر لائن کو برا کہنے پر مشی خان ڈاکٹر ذاکر نائیک پر برس پڑیں

    یوٹیوب کی کمائی حرام ہے، ڈاکٹر ذاکر نائیک

    ڈاکٹر ذاکر نائیک پی آئی اے حکام پر برس پڑے

    لڑکیوں کو شیلڈ کیوں نہیں دی؟ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے خود بتا دیا

    پاکستان میں رہ کرجنت میں جانے کے امکانات امریکا سے کئی گناہ زیادہ ہیں،ڈاکٹرذاکرنائیک

    کراچی اجتماع میں اداکارہ یشما گِل کا ڈاکٹر ذاکر نائیک سے اہم سوال

    ہندو رکن اسمبلی کے جبری تبدیلی مذہب کے سوال پر ڈاکٹر ذاکر کا جواب

    دھمکی یا ہتھیار دکھاکر تبدیلی مذہب حرام ہے،ڈاکٹر ذاکر نائیک

    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے میڈیا کو سب سے بڑا اور خطرناک ہتھیار قرار دیا

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیکچر کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف سے مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ملاقات، اسلامی تعلیمات کے فروغ پر گفتگو

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کا فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے نیٹو طرز کے اسلامی اتحاد کی تجویز

  • آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس،چیلنجز سے آگاہ ہیں، اعلامیہ

    آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس،چیلنجز سے آگاہ ہیں، اعلامیہ

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 257 ویں کور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں ملکی داخلی و سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ اندرونی اورخطے کے سکیورٹی امور کا جائزہ بھی لیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عسکری قیادت درپیش چیلنجز سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور عسکری قیادت عوام کے تعاون سے اپنی آئینی ذمے داریاں نبھانے کا عزم کرتی ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلح افواج اندرونی و بیرونی خطرات کا جواب دینے کےلیے ہمہ وقت تیار ہے، سکیورٹی فورسز مغربی سرحدی علاقوں میں خفیہ آپریشنز کر رہی ہیں ، دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے قوم اور حکومت کو مشترکہ روش اپنانا ہوگی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی مہم ملک میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم استحکام کے جائز عوامل کے خاتمے کی طرف لے جائے گی۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ

    پاک فوج پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے. آرمی چیف

    شہداء پاکستان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی. آرمی چیف

    جنرل قمر جاوید باجوہ کی 6 سالہ کارکردگی،پاکستان کا سنہرا باب

    معیشت اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے،آرمی چیف

  • "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    جنت نظیر وادی میں مسلسل پسپائی کے بعد ، کئی خیالی پلاؤ پکا کر وہ سرحد عبور کر کے چوروں کی طرح پاکستان میں داخل ہورہے تھے ۔ اسلحے سے لیس ، چھ سو کے قریب ٹینک ساتھ لیے یہ چور کوئی اور نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کے فوجی تھے۔ جو حملے کے خیالی پلاؤ کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنا چاہتے تھے۔اور یہ دن تھا،6 ستمبر 1965 کا۔

    بونگ پائے، جیدے کی لسی نہاری، ، سری پائے، حلوہ پوری، پٹھورے نا جانے کیا کیا سوچ کر آئے ہونگے۔ انھوں نے لاہور کے قریب بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور شہر بھی داخل ہونے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر آتے ہی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں پاکستان پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ ہمیں یہ قوم 72 منٹ بھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دے گی۔
    ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوجیوں کو صرف 150 پاکستانی جوانوں نے 12 گھنٹوں تک پیش قدمی سے روک کر علامہ اقبال کے اس شعر کا عملی مناظر پیش کیا

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

    ایک بھارتی جنرل (جنرل ہربخش سنگھ) اپنی کتاب میں جنگ ستمبر کے بارے میں لکھتا ہے کہ” جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کی کارکردگی بہترین تھی اور فوج انتہائی پر عزم تھی۔ جبکہ بھارتی فوج نے جنگ کی پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود کوئی خاص تیاری نہیں کر رکھی تھی”۔

    سنا ہے کہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ جو 600 ٹینک وہ ساتھ لا رہے ہیں ۔ وہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی وزیراعظم کو سلامی دیں گے۔ مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ٹینک سلامی تو نہ دے سکے البتہ انکا قبرستان ضرور بنا۔ کیونکہ

    ہم ہیں جو ریشم و کمخواب سے نازک تر ہیں
    ہم ہیں جو آہن و فولاد سے ٹکراتے ہیں

    ہم نے روندا ہے بیابانوں کو صحراؤں کو
    ہم جو بڑھتے ہیں تو بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں

    بھارت رات کے اندھیرے میں پاکستان میں داخل تو ہوگیا ۔ مگر ناشتہ نہ کر پایا ۔کیونکہ پوری پاکستانی قوم یکجا ہو کر لڑ رہی تھی۔ صرف فوجی ہی نہیں ، تمام پاکستانی میدان جنگ میں اپنے اپنے طریقوں سے لڑ رہے تھے ۔شاعر ، ادیب، گلوکار ، کسان، مزدور ، اساتذہ ، طالب علم ، بچوں ، عورتوں اور زرائع ابلاغ سب کی ایک ہی آواز تھی۔

    ‏ثبوت دیں گے وفا کا یوں،اشتباہ غلط
    ملا کے خاک میں رکھ دیں گےہر سپاہ غلط

    برب کعبہ… ہم آنکھیں نکال چھوڑیں گے
    اٹھی جو ملک کی جانب کوئی نگاہ غلط

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ۔ جس میں سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے قرار داد پیش کی ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر پاکستان ایوب خان نے 23 ستمبر تک جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ 24 ستمبر کو بھارتیوں کی پھینٹی لگانے پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا ۔ اللہ پاک کی حفاظت کرے۔ یہ ملک سدا قائم رہے۔ اور اس کو میلی نگاہ سے دیکھنے والے 1965 کی طرح ہر بار ناکام ہوں (آمین)۔

  • موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد سے لے کر اب تک تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیموں سے لے کر تحریک انصاف کے قائدین بھی پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید کر رہے ہیں، حالانکہ افواج پاکستان ملک کی سلامتی کے لئے سرحدوں پر ملک کے دفاع کے لئے موجود ہیں

    پاکستان کے دشمنوں سے افواج پاکستان نمٹ رہی ہیں اور ملک کے لئے قربانیاں دے رہی ہیں، آئے روز پاک فوج کے جوان و افسران شہید ہوتے ہیں اور انکا مقدس لہو پاک سرزمین پر گرتا ہے ،ایسے میں تحریک انصاف کی حکومت جانے کے بعد سے پاک فوج کے خلاف جلسوں ،تقریروں میں پروپیگنڈہ شروع کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلائے جاتے ہیں، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ پاک فوج ہی اس ملک کی حقیقی محافظ ہے، پاک فوج ہی ہے جس نے ہر مشکل گھڑی میں زلزلہ، سیلاب، آفات، میں قوم کی مدد کی، پاک فوج ہی ہے جس نے بے لوث جذبے کے تحت سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ عوام کی خدمت بھی کی،

    یہی وجہ ہے کہ پاک فوج پاکستانی عوام کے دلوں میں بستی ہے یہ پیار پاک فوج کی اصل طاقت ہے، بیرونی دشمن ہمیشہ اس اصل تعلق کو ہدف بناتے رہتے ہیں، موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات لگائے جا رہے ہیں ،جس کا احاطہ قومی اخبارات میں بھی کیا گیا ،پاک فوج کے ترجمان نے پاک فوج کے غیر سیاسی کردار کو تسلسل کے ساتھ واضح کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ عوام اور سیاسی پارٹیوں سے درخواست ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، ہم اس سے باہر رہنا چاہتے ہیں ،

    فوج مخالف منفی پروپیگنڈہ کو فوری رک جانا چاہئے، اس پروپیگنڈہ کے منفی اثرات کو قومی اخبار کے اداریئے میں واضح کیا گیا ہے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک اداروں کے خلاف ایسے منفی بیانئے کو برداشت نہیں کر سکتے،

    پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے والے حقیقت میں ملک کے دشمنوں کا ساتھ دے رہے ہیں جو کام دشمن نہیں کر سکا، وہ اب حکومت جانے کے چکر میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کر رہے ہیں،اداروں کے خلاف تنقید کے سلسلے کو رک جانا چاہئے اورتین سال کے عرصہ تک حکومت کرنے والوں کو اپنی تین سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھنی چاہئے،

    عمران خان کا فوج میں تقیسم کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا 

    سپاہی کبھی غدار نہیں ہوتا،افواج اور قیادت کو نشانہ بنانے پر ریٹائرڈ فوجی برہم

    کس ویڈیو کی آمد ہے کہ بنی گالا کانپ رہا ہے،احمد جواد

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

  • قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟    ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بڑے دنوں سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین چپقلش جاری تھی اور بالآخر کل یکم رمضان کو عدم اعتماد کی تحریک ریجیکٹ کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے سرے سے الیکشن کروانے کا اعلان کیا گیا اس ساری رام کہانی کا مہرہ بنے کئی ایم پی اے ،ایم این اے جو پہلے کسی پارٹی کے ساتھ تھے وہ اب دوسری پارٹی کا سہارا بذریعہ روکڑا بن گئے یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا شروع سے ہی ہے اور یہ رسم جمہوریت ہے-

    اپوزیشن نے بھی اس قوم کو خوب برا بھلا کہا اور حکمران جماعت کے کارکنان و عہدیداروں نے بھی ،جماعت تبدیل کرنا حکومتیں گرانا نئی بات نہیں ہمارا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے اور یہ آئین بنانے والے بھی یہی لوگ ہیں عام شہریوں کا آئین و قانون سازی سے دور دور کا کوئی تعلق بھی نہیں –

    تاریخ پاکستان میں موجودہ حکمران نے جہاں قوم کو انتہائی غربت و مہنگائی کی آگ میں جھونکا وہیں وقت کے فرعون امریکہ کو بھی للکارا جو کہ ایک بہت بڑی جرآت مندی کی بات ہے مگر پہلے دیکھئے کہ اس جرآت مندی کے محرکات کیا ہیں؟

    جب عمران خان صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ہمارے پڑوس میں امریکہ و چالیس ممالک کی ناٹو فورسز موجود تھیں اور ملک میں دہشت گردی کا راج تھا ہماری فورسز نے بے پناہ قربانیاں دے کر جنرل مشرف کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر امریکہ سے ڈبل گیم کی اور امریکہ افغانستان میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے بدترین ذلت کیساتھ افغانستان سے اپنے اتحادیوں سمیت نکلنا پڑا اور اس سب کیلئے لاکھوں پاکستانیوں اور ہزاروں فوجیوں کی شہادتیں دینی پڑیں جبکہ سیاستدانوں کی کتنی جانیں اس جنگ میں گئی وہ یقیناً آپ بخوبی جانتے ہیں-

    خیر انخلا امریکہ کے بعد ہمارا ملک دہشت گردی سے کافی حد تک بچ گیا اور ہم نے امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ اور ہم تمہارے غلام نہیں ہیں جیسے سخت الفاظ کہے جس سے امریکہ فرعون وقت بوکھلا گیا اور پاکستان میں اندرونی سازشوں کے ذریعہ سے انتقام پر اتر آیا جس کا واضع ثبوت تمام تر پاکستان مخالف جماعتوں کا یک جان ہو کر بلوچستان و کے پی کے میں فورسز پر بار بار حملے کرنا ہے نیز ملک کے مختلف شہروں میں بھی بم دھماکے کروائے گئے جس میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی شہادتیں ہوئیں جن میں ہر سیاسی مذہبی جماعت کے کارکنان شامل تھے تاہم ابھی تک حالیہ حملوں میں کوئی بھی اعلی سیاستدان ان دہشت گردوں کا نشانہ نہیں بنا-

    یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ خان صاحب نے اپنے اقتدار کے پہلے دو سال کوئی سخت الفاظ بخلاف امریکہ کیوں نا بولا؟ وجہ صاف ہے کہ ہم اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں اور اگر ایسا کرتے تو یقیناً خمیازہ بہت زیادہ بھگتنا پڑا خیر بات اپوزیشن و حکومت پر لاتے ہیں22 کروڑ میں سے چند سیاستدانوں نے عمران خان کا ساتھ ذاتی مفاد اور حصول اقتدار کیلئے چھوڑا تو فوری سوشل میڈیا پر خان صاحب کے تربیت یافتہ کارکنان و اپوزیشن کے کارکنان نے پاکستانی قوم پر فتویٰ صادر فرمایا کہ یہ قوم راشن پرست یہ قوم بے غیرت ہے ان سب باتوں سکرین شاٹس بطور ثبوت میرے پاس موجود ہیں-

    مزید کہا گیا کہ اس قوم کو صحت کارڈ کی جگہ غیرت کارڈ جاری کرنا چائیے یہ بھکاری قوم ہے اور پیسوں کی خاطر اپنی ماں بھی بیچ سکتی ہے وغیرہ وغیرہ نیز افواج پاکستان کو بھی کھلے عام گالیوں سے نواز گیا کہ جنرل باجوہ امریکی غلامی سے نکلنا نہیں چاہتا-

    مزید افسوس کہ مذہبی جماعتوں کے لوگ بھی سوشل میڈیا پر سرعام ایسی باتیں کرتے رہے کہ جن کے اپنے گھروں کے چولہے اسی قوم کے چندے سے چلتے ہیں اور یہ لوگ عوام سے بلا تفریق سیاسی جماعتوں کی وابستگی پیسہ لیتے ہیں عوام پر بھی لگاتے ہیں اور اپنے بیوی بچے بھی پالتے ہیں مگر جب وقت آتا ہے تو ان کی ساری وابستگیاں کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت سے ہو جاتی ہیںافسوس صد افسوس ایسے مذہبی لوگوں پر سیاسی لوگوں پر تو کیا افسوس کرنا بنتا ہے-

    حضور والا قوم کو ان القابات سے نوازنے والوں میرے آپ سے چند سوال ہیں ذرا ان کا جواب تو دیجئے پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ چندہ،بندہ،پیسہ،شہرت پرست؟

    کیا فوجی دفاعی مضبوطی کے بغیر تمہارا خان ایبسولوٹلی ناٹ کہہ سکتا تھا؟ کیا قوم نے تمہیں ووٹ دے کر اقتدار نا دلوایا؟ کیا تمہارے ہی چنے گئے سیاستدان پیسوں کے عوض نا بکے؟کیا ملک کے اندر غربت کی بہت بڑی لہر نہیں آئی؟کیا موجودہ حکمران جماعت کے چینی و آٹا و ادویات چور کھلے عام نہیں گھوم پھر رہے؟-

    کیا جب جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور قوم پر اطمینان تھی اور ملکی ترقی کا آغاز ہوا تھا تب تمہارے ہی خان صاحب نے نواز،زرداری،فضل الرحمن کیساتھ مل کر جنرل مشرف کے خلاف ان کی حکومت گرانے میں مدد نا کی تھی ؟؟

    کیا تحریک عدم اعتماد میں مجھ اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کی رائے لی گئی اسمبلی میں؟کیا عام پاکستانی اسمبلی میں جا کر تجویز پیش کر سکتا ہے؟کیا ملک بھر میں بنے مدارس و مساجد اسی عوام کے چندے پر نہیں چل رہے ؟کیا ملک بھر میں رفاعی تنظیمیں بے لوث بغیر سیاسی وابستگی لوگوں کی مدد نہیں کر رہیں اور کیا وہ تنظیمیں گورنمنٹیں چلاتی ہیں؟آج بھی جن دیہات میں دیہاتیوں کے اپنے گھروں کی چھتیں بارش میں ٹپکتی ہیں کیا وہاں کی مساجد میں لینٹر اور دیگر سہولیات موجود نہیں اور یہ سہولیات فراہم یہی راشن پرست عوام مہیا کرتی ہے کہ گورنمنٹیں؟؟-

    سوال تو اور بھی بہت ہیں جناب تحریر لمبی ہونے کے باعث مختصر کر رہا ہوں جناب والا آپ تو پوری قوم کو چند بے ضمیروں کی بدولت راشن پرست وغیرہ کہہ رہے ہیں میں قوم کی غیرت کی ایک مثال اپنی ہڈ بیتی روزہ رکھ کر تمہارے سامنے رکھتا ہوں پھر تم اس قوم کو راشن پرست کہنا یا تمام سیاست دانوں کو اقتدار کی ہوس کے پجاری-

    میری ذاتی ہڈ بیتی ہے

    2005 کا زلزلہ آیا میں نے اپنے بچپن کے ساتھیوں سے مل کر اپنے علاقے سے ایک ٹرک سامان کا بھرا اور بالاکوٹ لے کر گیا تھا اور اس وقت جماعت الدعوہ کے زیر سایہ لے کر گیا تھا کیونکہ وہ سب سے زیادہ متحرک جماعت تھی ہوا کچھ یوں کہ ہم کم عمر لڑکے ہر گھر جاتے اور ان کو بتاتے کہ ہمارے کشمیری و صوبہ سرحد کے بھائیوں پر زلزلہ کی آزمائش آن پڑی ہے ان کی چھتیں چھن گئی ہیں اور بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لہذہ مدد کرومجھے یاد ہے یہی ماہ مقدس رمضان تھا تب بھی ہم نے خود غریب ترین لوگوں سے ان کل کل ڈیہاری سے زیادہ کے کپڑے،سویٹر،جرسیاں،دالیں، گھی،چاول،گندم حتی کہ ادویات تک اکھٹی کیں اور بفضل تعالی لوگوں نے بخوشی دیا اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کیلئے ہاں اس وقت سیاستدانوں نے بھی بہت مدد کی تھی ہماری ایک اہم بات بتاتا ہوں-

    ہم ایک گھر میں گئے کہ جس گھر سے محض ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی شادی تھی ہم نے اس بوڑھی غریب ترین عورت کے سامنے مدعا بیان کیا تو وہ کہنے لگی پتر ذرا رکو اور بیٹھ جاؤہم بیٹھے تو اماں جی نے ہمیں آواز دی کہ پتر پیٹی کھولنے میں میری مدد کرو خیر ہم نے پیٹی کھولی تو ماں جی بولی بیٹا میری بیٹی کا جہیز ہے مگر یہ تو اور بن جائے گا یہ جو وزنی والا کمبل ہے نا یہ نکالو اور لے جاؤ اور ساتھ گرم چادر بھی لے لومیں نے کہا ماں جی ہماری آپی کی شادی قریب ہے آپ بس سو پچاس روپیہ دے دیں یہی کافی ہے-

    اس اللہ کی شیرنی نے کہا کہ اوئے پتر جھلا ہویا ایں ؟وہ بھی تو میری ہی بیٹیاں ہیں تو یہ چیزیں پکڑ اور ان تک پہنچاؤاللہ کی قسم ایسے ایسے لوگوں نے ہمیں پیسے و چیزیں دیں جن کے اپنے گھروں کے خرچے بمشکل چلتے تھے ہم وہاں گئے تباہ شدہ پورا بالاکوٹ اپنی آنکھوں سے کئی دن دیکھتے رہے اور بہت سی مذہبی جماعتوں کے کام بھی دیکھے اگر قوم کا وہ جذبہ لکھنے لگوں تو محض 2005 کے زلزلہ پر میں ایک کتاب لکھ سکتا ہوں اس کے علاوہ پھر بلوچستان کا زلزلہ آیا سندھ و بلوچستان کے لوگوں کیلئے ہماری انہی راشن پرست لوگوں نے پینے کے صاف پانی کا انتظام کیا بہت مثالیں میرے پاس ذاتی ہڈ بیتی موجود ہیں ان شاءاللہ پھر کبھی رقم کرونگا بس اتنا پوچھنا ہے مجھے ان لوگوں سے کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ شہرت پرست؟-

  • 3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ 3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ 3سال میں 55سے 57لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،11لاکھ افرادکو بیرون ملک ملازمت کے مواقع فراہم کیے گئے ن لیگ سے پی ٹی آئی کی روزگار کی سالانہ شرح 62فیصد زیادہ ہے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سے متعلق ہم نے بات کی جس کا مذاق بنایاگیا،پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی زیادہ ہے،اولین ترجیح روزگار کی فراہمی رہی جب تک معیشت کی رفتار تیز نہیں ہوگی روزگار کے مواقع نہیں ملیں گے،ہماری پالیسی کی وجہ سے 2سال میں زراعت میں ترقی ہوئی،گندم ،چاول،مکئی ،آلو اور تمام بڑی فصلوں کی ریکارٖڈ پیداوار ہوئی،کاشتکار کو فصلوں کی قیمت بھی مل رہی ہے،پی ٹی آئی نے چاول پر 900روپے من کا اضافہ کیا ہے،فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کی مشینری بک رہی تھی اب فیصل آباد میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں لوگ کم پڑ گئے ہیں ن لیگ نے 5 سال میں صرف 100 روپے فی من کا اضافہ کیا،فیصل آباد میں ایک وقت میں سریے کے دام میں مشینری فروخت ہورہی ہے،

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ جووعدہ کیا گیا تھا اس کے نتائج سامنے آرہے ہیں ساری دنیا کورونا کی وبا کی لپیٹ میں آئی، ہم نے مشکل وقت میں بہتر فیصلے کیے،2سال میں پوری دنیا کی معیشتیں بہہ رہی تھیں،ہم نے 32 لاکھ روزگار کے مواقع دیئے، کورونا کاہم نے جس طرح مقابلہ کیا دنیا نے اس کی تعریف کی ابھی سیاسی ڈرامہ لگا ہوا ہے،اگر یہی پالیسیاں اور سمت 5 سال کےلیے چلتی رہیں تو ایک کروڑ نوکریوں کے بہت قریب پہنچیں خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتیں ایک طرف،پی ٹی آئی نے ڈیڑھ گنا زیادہ سیٹیں جیتی قوم اپنے دلیر لیڈر کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے ،

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی ڈرامے کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے بعد کیا بنتا ہے پتہ نہیں،عدم اعتماد میں کتنے ووٹ پڑیں گے،یہ بڑی بات نہیں ،فتح پاکستان کی قوم کی ہوگی،کیا پاکستان کے مستقبل کے فیصلے عوام کریں گے یا ضمیر فروشوں کے بیرون ملک آقا ،پاکستان کی قوم اپنے فیصلے خود کرنے کے لیے تیار ہے این سی او سی میں چیلنج ملا کہ لوگوں کا روزگار بھی چلانا ہے اور صحت کا بھی خیال رکھنا ہے،

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ خیبر پختوانخوامیں بے روزگاری 8.8 پنجاب 6.8 ، سندھ 3.9 اور بلوچستان میں 4.3 فیصد رہی،صنعتی شعبے میں روزگار میں اضافہ ہوا، زراعت اور خدمات میں کمی آئی،صنعتی شعبے میں 25 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ،تین سال میں خدمات کے شعبے میں 17 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے،

    قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں

    پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع

    سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟

    عمران خان کو کسی قسم کا این آر او نہیں دیں گے ،بلاول کا اعلان

    این آر نہیں دونگا ..بلکہ لوں گا، عمران خان نے "این آر او”مانگ لیا

    اپوزیشن اتحاد کا ایک اور وار، اسمبلی میں 172 اراکین موجود،درخواست میں بڑا مطالبہ کر دیا

    نکل جاؤ، منحرف اراکین کو کہاں سے نکال دیا گیا؟

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال