Baaghi TV

Tag: پاکستانی معیشت

  • ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    پاکستانی معیشت کے لئے اچھی خبر ،چینی گروپ نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ پلانٹس میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ کے توانائی کے وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت چینی کمپنی کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی،اگر چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بناتی ہے تو سندھ حکومت کراچی میں لگنے والے پلانٹ سے 20 فیصد سے زائد گاڑیاں سندھ حکومت اپنی خریداری کے لے گی۔انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں تقریب کے چیئرمین ملک گروپ اورچائنا کی کمپنی اے ڈی این گروپ کے مشترکہ چارجنگ اسٹیشنزکے منصوبے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں میڈیا سے گفتگو میں کہی۔اس موقع پر ملک گروپ کے چیئرمین ملک خدا بخش اور اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ تقریب میں معروف سرمایہ کار عارف حبیب،ممتاز صنعتکار زبیرطفیل،خالدتواب،حنیف گوہر،عبدالسمیع خان،مظہر علی ناصر،مرزا اشتیاق بیگ،عبدالحسیب خان اوردیگر بھی موجود تھے۔
    ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چارجنگ پلانٹس کے لئے بھی سندھ حکومت جگہ اور ہر قسم کی سہولت دینے کو تیار ہے۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت غیر ملکی کمپنی کو ملک میں سرمایہ کاری کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں رواں سال کے اخر تک چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں ،منی ٹرکس ،ایس یو ویز بنانے شروع کردیں گے، چینی کمپنی اگر مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں کو رعایتی طور پر سندھ حکومت کو دے تو وہ سندھ حکومت کی لئے گاڑیوں کی خریداری کا بیس فیصد ان سے لے گی۔

    پاکستان میں چینی گروپ کے پارٹنر ملک خدا بخش نے کہا کہ چین سے 30 چارجنگ پلانٹس مزید دس روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے جو پورے ملک میں لگنا شروع ہوجائیں گے ،،امید ہے کہ رواں سال کے اخر تک ہم ملک بھر میں الیکڑک چارجنگ پلانٹس مطلوبہ تعداد میں لگا لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلا چارجنگ اسٹیشن کراچی میں لگا لیا ہے اوردوسرا چارجنگ اسٹیشنز جمعرات کو لاہور میں لگے گا۔

    اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے کہا کہ دوسرا لاہور میں لگنے جارہا ہے ،ان کی کمپنی پاکستان میں 90 ملین یو ایس ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک بھر میں 3 ہزار چارجنگ اسٹیشن لگائے گی ،جبکہ 240 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے گاڑیوں کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گی۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سال کے اخر تک ملک بھر میں ایک ہزار چارجنگ اسٹیشنز لگ جائیں گے جس کے بعد دسمبر تک پاکستان میں الیکڑک گاڑیاں بننا شروع ہوجائیں گی۔چینی کمپنی نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں سالانہ 72 ہزار الیکڑک گاڑیاں مینوفیکچر کریں گے ،،ساتھ ہی وہ پاکستان سے ان گاڑیوں کو مڈل ایسٹ ،سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی ایکسپورٹ کریںگے۔

    جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے روسی صدر کے قتل کی سازش کا انکشاف

  • سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    اب انڈسٹری کا پہیہ چلے گا، معیشت بہتر ہوگی اور ملازمتیں بھی میسر آئیں گی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ صنعت کو سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائیٹ) اور سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن ( ایس ایس آئی سی ) کیلیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سائیٹ اور اسمال انڈسٹریز خود انحصار تنظیمیں ہونی چاہئیں تاہم اضافی ملازمتوں، منصوبہ بندی کی کمی اور تجارتی منصوبوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ مالی بحران کا شکار ہیں۔محکمہ صنعت کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری صنعت یاسین شر، ایم ڈی سائیٹ غضنفر قادری اور دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ضرورت سے زیادہ ملازمین کی وجہ سے سائٹ لمیٹڈ تنخواہ اور پنشن کی فراہمی کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ ادارے میں اس وقت 1315 ملازمین اور 754 پنشنرز ہیں۔ تنخواہ، پنشن، ملازمین کے بقایا جات، قرضوں اوردیگر اخراجات کا سالانہ حجم دو ارب، انسٹھ کروڑ سے تجاوز کر جاتا ہے جبکہ کل آمدنی دو ارب روپے سالانہ ہے۔ ادارے کو سالانہ انسٹھ کروڑ، 29 لاکھ، 57 ہزار اور 861 روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔نوری آباد اور کوٹری میں صنعتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ 25-2024 کے ترقیاتی پروگرام کے تحت مختص84 کروڑ، 68 لاکھ اور 90 ہزار روپے کی رقم مسائل حل کرنے کیلیے ناکافی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر صنعت جام اکرام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ لاڑکانہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں سوئی گیس کا مسئلہ جلد حل کرلیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ایس جی سی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ لاڑکانہ انڈسٹریل اسٹیٹ کو گیس کی فراہمی کیلیے تخمینہ منصوبہ ایک ہفتے کے اندر دے دیا جائے گا۔وزیرصنعت نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی کہ وہ سائٹ کی تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ حل کرنے کیلیے 80 کروڑ روپے کی سالانہ امداد کی منظوری دیں جبکہ آپریٹنگ اینڈ مینٹی ننس اخراجات کیلیے ایک مرتبہ 50 کروڑ روپے امداد کی بھی منظوری دی جائے۔وزیراعلیٰ سندھ سے نوری آباد فیز 2 اور کوٹری سائٹ کی بحالی اور انفرا اسٹرکچر کیلیے دو ارب روپے منظوری کی بھی درخواست کی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ کو مزید بتایا گیا کہ سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن 2008 سے 2014 تک ضرورت سے زیادہ ملازمین کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا کرر ہی ہے۔ یہاں تک کہ تنخواہ، پنشن اور ملازمین کے بقایا جات دینے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ادارے میں 656 ملازمین اور 268 پنشنرز ہیں جبکہ 33 سابق ملازمین اب تک اپنے بقایا جات کے منتظر ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسمال انڈسٹریز میں 321 اضافی ملازمین ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ ابھی کرنا باقی ہے۔اسمال انڈسٹیز کے سالانہ اخراجات 93 کروڑ، 48 لاکھ اور 60 ہزار ہیں جن میں سے 49 کروڑ 62 لاکھ اور 30 ہزار روپے تنخواہ، 20 کروڑ ، 77 لاکھ، 70 ہزار روپے پنشن جبکہ 23 کروڑ 8 لاکھ اور اور 60 ہزار روپے ملازمین کے واجبات ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری انڈسٹریز نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ 24-2023 میں 91 کروڑ ، 78 لاکھ اور 50 ہزار اخراجات کے مقابلے میں 22 کروڑ، 93 لاکھ اور 20 ہزار روپے وصولی ہوئی۔اس طرح ادارے کو 50 کروڑ، 48 لاکھ اور 60 ہزار روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سے تنخواہوں اور پنشن کیلیے 40 کروڑ کی سالانہ گرانٹ دینے کی درخواست کی گئی۔وزیر صنعت نے کہا کہ سائیٹ کوٹڑی اور ناردرن بائی پاس کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی صورتحال بھی خستہ حالی کا شکار ہے، بحالی کیلیے فنڈز درکار ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ کراچی، حیدرآباد، نصرپور، کشمور، موہن جو دڑو اور اسلام آباد میں قائم تربیتی مراکز کو بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ادارے کیلیے آمدنی کا ذریعہ بن سکیں۔وزیر صنعت جام اکرام نے وزیراعلیٰ سندھ سے تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 60 کروڑ روپے کے یک وقتہ امدادی پیکیج کی درخواست کی۔ انہوں نے سالانہ گرانٹ بھی 40 کروڑ سے بڑھا کر 60 کروڑ روپے کرنے کی درخواست کی۔ ادارے میں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم بھی متعارف کرائی جاسکتی ہے۔اجلاس کے دوران اسمال انڈسٹریز روہڑی، ناردرن بائی پاس اور سکھر میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر بھی غور کیا گیا جس کیلیے 1 ارب روپے درکار ہوں گے۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سائیٹ کورنگی (فیز2)، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری، ایف بی ایریا ایسوسی ایشن ا?ف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری، لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری سمیت مختلف صنعتی علاقوں میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی کیلیے ایک ارب 20 کروڑ روپے درکار ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صنعت کو مختلف سائیٹس اور اسمال انڈسٹریز کیلیے تفصیلی ترقیاتی منصوبے اور الگ سے امدادی پیکج کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ ضروری فیصلے کیے جاسکیں۔دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو سائٹ اور اسمال انڈسٹریز کی تنظیم نو کی بھی ہدایت کی تاکہ وہ پیشہ وارانہ بنیادوں پر کام کریں اور مالی طورپر مستحکم ہو سکیں۔

    مولانا فضل الرحمن ترامیم میں فعال کردار پر مبارکباد کے مستحق ہیں ، ڈاکٹر نصیر سواتی

    کیماڑی پولیس کا منشیات اڈے پر چھاپہ،لیاری گینگ کمانڈر ساتھیوں سمیت گرفتار

    کراچی پولیس کی انسداد جرائم کے خلاف ہفتہ وار کاروائیوں کی رپورٹ

  • عالمی ریٹنگ ایجنسی  موڈیز کی پاکستانی معیشت سے متعلق رپورٹ جاری

    عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی پاکستانی معیشت سے متعلق رپورٹ جاری

    عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستانی معیشت کے حوالہ سے اپنی نئی رپورٹ جاری کی ہے.

    موڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے نئے پروگرام سے پاکستان کے لئے فنڈنگ کے امکانات میں بہتری آئے گی، نیا آئی ایم ایف پروگرام فنانسنگ کے معتبر ذرائع فراہم کرے گا، ان ذرائع میں دیگر ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ کا حصول شامل ہے، مہنگائی کی وجہ سے سماجی تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، زیادہ ٹیکسوں اور توانائی کے نرخوں میں مستقبل کی ایڈجسٹمنٹ اصلاحات پر دباؤ ڈال سکتی ہے، مشکل اصلاحات کو مسلسل نافذ کرنے کا مضبوط انتخابی مینڈیٹ نہ ہونا خطرات پیدا کر سکتا ہے، رواں مالی سال پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات تقریباً 21 بلین ڈالر ہیں،مالی سال 27-2026ء کے لیے تقریباً 23 بلین ڈالرز کی مالی ضروریات درپیش ہیں، پاکستان کے پاس 9.4 ارب ڈالرز کے زرِمبادلہ کے ذخائر اس کی ضروریات سے کافی کم ہیں۔

    موڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی بیرونی پوزیشن اب بھی نازک ہے، بلند بیرونی مالیاتی ضروریات کے ساتھ اگلے 3 سے 5 سال پالیسیوں میں مشکلات درپیش ہونگی، کمزور گورننس اور اعلیٰ سماجی تناؤ حکومت کی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے

    موڈیز کی رپورٹ کے مطابق 12 جولائی کو، IMF اور پاکستانی حکام نے تقریباً 7 بلین ڈالر کے 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت انتظام پر عملے کی سطح پر معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، حالانکہ ووٹنگ کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔”اگر منظوری مل جاتی ہے، جس کی ہمیں توقع ہے، آئی ایم ایف کا نیا پروگرام پاکستان کے مستحکم فنڈنگ ​​کے امکانات کو بہتر بنائے گا۔ یہ پروگرام آئی ایم ایف سے فنانسنگ کے معتبر ذرائع فراہم کرے گا اور پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوسرے دو طرفہ اور کثیر جہتی شراکت داروں سے فنڈنگ ​​کو متحرک کرے گا۔

    نیا آئی ایم ایف پروگرام دور رس اصلاحات کی شرائط کے ساتھ آتا ہے، جیسے کہ ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے اور استثنیٰ کو ختم کرنے کے اقدامات اور توانائی کے شعبے کی عملداری کو بحال کرنے کے لیے توانائی کے نرخوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کرنا۔ دیگر اقدامات میں سرکاری اداروں کے انتظام اور نجکاری کو بہتر بنانا، زرعی امدادی قیمتوں اور اس سے منسلک سبسڈیز کو ختم کرنا، انسداد بدعنوانی، گورننس، اور شفافیت میں اصلاحات کو آگے بڑھانا اور تجارتی پالیسی کو بتدریج آزاد کرنا شامل ہیں۔

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • آئی ایم ایف کا مینڈیٹ اور مستقبل کی پالیسیوں پر عمل درآمد

    آئی ایم ایف کا مینڈیٹ اور مستقبل کی پالیسیوں پر عمل درآمد

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اس وقت مقررہ اقتصادی اہداف کے حصول میں پاکستان کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کررہا ہےیہ کامیابی کی ایک قیمت ہے۔ کیونکہ اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا جس سے افراط زر میں اضافہ ہوا۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکس میں اضافے اور یونٹ کی بڑھتی ہوئی لاگت نے نقصان دہ اثر ڈالا ہے۔

    پاکستان کے معاشی دباؤ میں اہم کردار ادا کرنے والا ایک اہم عنصر صنعتوں کی بندش یا محدود کام ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف مذکورہ بالا ٹیکس میں اضافے سے پیدا ہوتا ہے بلکہ ڈالر کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کی بندش سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ ستمبر 2023 تک، ذخائر $1316.80 ملین ڈالر تھے تھے، جو اکتوبر 2023 تک گر کر $12600 ملین رہ گئے۔ نتیجتاً، صارفین کی قوت خرید کم ہو گئی، اور اخراجات کو ضروری ضروریات تک محدود کر دیا گیا۔

    مارچ 2024 کے لیے شیڈول آئی ایم ایف کا آئندہ جائزہ ٹیکس کے ممکنہ اضافے کے لیے تین شعبوں پر روشنی ڈالتا ہے؛ خوردہ مصنوعات ، رئیل اسٹیٹ، اور زرعی مصنوعات۔ یہ اقدامات آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے بہت اہم ہیں لیکن پہلے ہی منفی اثرات سے دوچار معیشت کے لیے چیلنجز ہیں۔

    پاکستانی حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے رجعت پسند موقف نظرآتا ہے۔ مالیاتی پالیسی، جس کا مرکز اسٹیٹ بینک کی جانب سے معیشت میں فنڈز کی فراہمی ہے، جس میں ٹیکس اور اخراجات شامل ہیں، دونوں کا اثر ہوا ہے۔ معاشی صورتحال کے جواب میں، نگراں حکومت نے حال ہی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سے حاصل ہونے والے بینک منافع پر بیک وقت 40 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔ یہ فیصلہ 2021-2022 میں روپے اور ڈالر کی قیاس آرائی پر مبنی تجارت سے 110 بلین روپے کے منافع کے انکشاف کے بعد کیا گیا۔

    پاکستانی ماہر اقتصادیات ہارون شریف، جو سابق وزیر مملکت، اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین ہیں، نے ایک حالیہ ٹویٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایشیا میں سب سے زیادہ شرح سود کا سامنا ہے اور وہ مالیاتی بحران سے دوچار ہے، جس میں ضروری شعبوں جیسے کہ نئے منصوبوں، ہاؤسنگ، انفراسٹرکچر، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) اور برآمدات کے لیے سستی طویل مدتی فنانسنگ کی کمی ہے۔

    موجودہ معاشی بدحالی میں اضافی اقدامات سے صورتحال کےمزید خراب کرنے کا خطرہ ہے۔ مزید بندشیں اور روزگار کے مواقع کی کمی نہ صرف معاشی ڈپریشن کو مزید گہرا کرے گی، بلکہ ٹیکس وصولی کی کوششوں میں بھی رکاوٹ ہوگی۔ چونکہ قوم ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، پالیسی سازوں کو آئی ایم ایف کی ضروریات کو پورا کرنے، اور معیشت اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے درمیان احتیاط سے جانا چاہیے۔

  • سپریم کورٹ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس نمٹا دیا
    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کرونا اب عالمی سطح پر وباء نہیں رہی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وباء ختم ہوگئی ہے تو ازخود نوٹس بھی نمٹا دینا چاہیے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرونا سے جو سبق حاصل ہوئے انہیں مستقبل کیلئے استعمال کیا جائے، کرونا کے حوالے سے تو قانون سازی بھی ہوچکی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کی دی گئی تمام ہدایات پر عمل ہوچکا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت مٰں کہا کہ عملدرآمد رپورٹس جمع کروا چکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے سماعت کی

    واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والا کرونا دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آیا تھا، پاکستان میں کرونا کے پھیلاؤ کے بعد تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے تھے ،ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافز کر دی گئی تھی،شہروں میں لاک ڈاؤن لگا دیا تھا، کرونا کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کا بھی کاروبار کی بندش کی وجہ سے برا حال ہوا،

    کرونا کے ایام میں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا، ایک کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے تحریری حکم میں کہا تھا کہ منافع خوروں نے کورونا کے مریضوں کی ادویات ذخیرہ کرلی ہیں،ادویات کو مہنگے داموں فروخت کیا جاریا ہے،کورونا مریضوں کے لیے گیس سلنڈر بھی مہنگے فروخت کیے جارہے ہیں،غیرقانونی اقدام کے خلاف وفاقی اور صوبائی سطح پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،سپریم کورٹ نے کورونا سے بچاوَ کے حفاظتی سامان مہنگے داموں فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ،ادویات، آکسیجن سلنڈراوردیگرآلات مہنگے فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کی،عدالت نے کورونا وائرس سے متعلق تمام طبی آلات، ادویات مناسب قیمت پریقینی بنانے کی ہدایت کی،عدالت نے کورونا وائرس سے متعلق طبی آلات، ادویات کی ترسیل بھی یقینی بنانے کا حکم دیا

    دو سال سے دھکے کھانے والے ڈاکٹر کو سپریم کورٹ سے حق مل ہی گیا

    کرونا از خود نوٹس کیس، وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی رپورٹ

    کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

    صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ، دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

    تمام ایگزیکٹو ناکام، ضد سے حکومت نہیں چلتی، ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں یہ کام کریں ورنہ..سپریم کورٹ برہم

    کرونا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    کرونا اس لئے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے، چیف جسٹس

    کرونا از خود نوٹس کیس، سماعت کل تک ملتوی، تحریری حکمنامہ جاری

    سرکاری کٹس سے ٹیسٹ مثبت،پرائیویٹ سے منفی کیوں؟ چیف جسٹس نے بھی اٹھائے سوالات

  • پاکستان کی معاشی مشکلات، تحریر:خادم حسین

    پاکستان کی معاشی مشکلات، تحریر:خادم حسین

    پاکستان کی معاشی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتاچلا جارہا ہے درآمدات اور ترسیلات زر میں مسلسل کمی آتی جارہی ہی جبکہ درآمدات میں خاطر خواہ کمی نہیں آرہی ہے معیشت ایک ایسے بحران کا شکار ہے جس سے نکلنا دن بدن مشکل ہوتا چلا جارہا ہے مہنگائی کا آفریت دن بدن بڑھ رہا ہے اور عوام کی زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے لیکن ملک کی سیاسی صورتحال اس تمام صورتحال کو مزد گھمبیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے آج ملک تقریباَ معاشی اشاریوں پر ناکافی سکور کر رہا ہے۔وطن عزیز اس وقت جن گمبھیر مسائل و مشکلات کا شکار ہے ان میں سیاسی عدم استحکام،معاشی ابتری اور دہشت گردی سرفہرست ہے۔پھر ان کی کوکھ سے جنم لینے والے مسائل ہیں جن میں مہنگائی،بے روزگاری،کاروباری بدحالی، کرپشن، روپے کی ناقدری،ترسیلات زر میں کمی، توانائی کی طلب کے مقابلے میں رسد کا فقدان، بڑھتے ہوئے غیر ملکی قرضے، تجارتی عدم توازن،محصولات کی کم ہوتی ہوئی وصولی،زرعی عدم توازن، محصولات کی گھٹتی ہوئی وصولی، زرعی و صنعتی پیداوار میں تنزلی،امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز، ریاستی اداروں کی بے توقیری اور عوام میں عدم تحفظ کا خوف بھی شامل ہے۔یہ ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں جن کے حل کے لیے تمام اداروں اور تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم میں یکجا ہونا ہوگا۔

    مضبوط معیشت کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔درآمدات میں توازن، کرنسی کی بیرون ملک غیر قانونی منتقلی کو روکا جائے۔ کسی ملک کو اپنی سرزمین دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پراستعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے،قومی سلامتی کا تصور معاشی تحفظ کے گرد گھومتا ہے، معاشی خودانحصاری کے بغیر قومی خود مختاری پر دباؤ آتا ہے عام آدمی خصوصاً مڈل کلاس کو چیلنجز کا سامنا ہے۔یہ بات قابل اطمینان ہے اب اعلیٰ سطح پر پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے سوچا جا رہا ہے۔اس ملک کے مسائل کے حل کیے لئے اجتماعی فیصلے کرنا ضروری ہیں اسمیں ملک کے لیے بہتری کی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔ پاکستا ن اس وقت معاشی ناکامی کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسی صوربحال ہم برداشت نہیں کرسکتے ہمیں پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادار کرسکتی ہے اس سلسلے میں تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

    گزشتہ چند سالوں میں اقتصادی ترقی اور پائیدار امن و امان دونوں میں ملک نے حالیہ برسوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔لہذا یہ حیران کن ہے کہ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری اس قدر غیر موثر کیوں ہے خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کے پڑوسیوں نے اس کی اتنی تندہی سے حمایت کی اور اسے قبول کیا۔آج ہندوستان دنیاکی تیزی سے ترقی کرنے والے معیشتوں میں سے ایک ہے اور اس نے اس اقتصادی طاقت کو اپنے تمام تجارتی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی فائدہ کے طور پر استعمال کیا ہے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات قابل ذکر ہیں ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات بڑھتے اور گہرے ہوتے جارہے ہیں اور عرب دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔یہ ایک متوازن عمل ہے جس کی ہم تقلید کرسکتے ہیں بلکہ یہ ہمارے لیے ضروری ہے۔یہاں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات بھی قابل ذکر ہیں۔گزشتہ 70سالوں سے تمام تر مالی امداد اور دوطرفہ دوستی کے باوجود پاکستان باہمی تجارت پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے میں ناکام ہورہا ہے اگرچہ امریکہ پاکستان کے اہم برآمدی شرات داروں میں سے ایک ہے لیکن وہ چین یا بھارت کے برعکس اس طرح کے تعلقات کے ذریعے پیش کیے گئے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے کسی بھی بڑی کمپنی کا نام لیں اور ان کے سی ای او کا ہندوستانی نثراد ہونا تقریباً یقینی ہے گوگل اور مائیکروسافٹ طویل فہرست میں صرف چند مثالیں ہیں۔دوسری طرف چین نے نئے سٹارٹ اپس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہےCNBCاور بلومبرگ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق چین اپنے مفادات کو وسیع کرنے اور ان نئے آغاز کے ذریعے پیش کردہ اہم فوجی ٹیکنالوجی (ملٹری روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، راکٹ انجن وغیرہ) سے فائد ہ اٹھانے کے لیے تیزی سے ترقی کرنے والے اٹیک اسٹار اپس میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سفارتکاری کی سب سے مشہور مثال ون بیلٹ ون روڈ اقدام ہے۔پہلے سے زیادہ آپ پاکستان کو معاشی سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہے اور اقتصادی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے پڑوسیوں کے ساتھ تجارت اور رابطوں کے اقدامات پر کام کیا جانا چاہیے۔

    خادم حسین
    ایگزیکٹو ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس و انڈسٹریز
    ڈائریکٹرز پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی
    سینئر نائب صدر فیروز پور بورڈلاہور

    فواد چودھری کیخلاف درج ایف آئی آر کی کاپی باغی ٹی وی کو موصول

     فواد چودھری کو گرفتار کر لیا گیا 

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ہ عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟