Baaghi TV

Tag: پاکستانی مندوب

  • افغانستان میں  دہشتگرد گروہوں کے 60 سے زائد کیمپ فعال ہیں،پاکستانی مندوب

    افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کے 60 سے زائد کیمپ فعال ہیں،پاکستانی مندوب

    اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دہشت گرد گروہوں کے 60 سے زائد کیمپ فعال ہیں، طالبان حکام کو انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی،پاکستان، چین نے کالعدم تنظیموں بی ایل اے، مجید بریگیڈ پر پابندیوں کی درخواست دی ہے، دہشت گرد افغان پناہ گاہوں سے پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    پاکستانی مندوب نے کہا کہ ان شواہد میں مشترکہ تربیت، غیر قانونی اسلحہ کی تجارت، دہشت گردوں کو پناہ دینا اور مربوط حملے شامل ہیں، جن کا مقصد پاکستان میں شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا اور بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کو درہم برہم کرنا اور سبوتاژ کرنا ہے طالبان بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کریں،دنیا کو ایک پُر امن اور مستحکم افغانستان کے قیام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

    عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی ،سخت ایس او پیز جاری

  • پاکستان کا سکیورٹی کونسل میں مسلم ممالک کی مستقل نشست کا مطالبہ

    پاکستان کا سکیورٹی کونسل میں مسلم ممالک کی مستقل نشست کا مطالبہ

    اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر نے سیکیورٹی کونسل میں مسلم ممالک کی مستقل نشست کا مطالبہ کر دیا ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی سفیر منیر اکرم نے کہا کہ آج میں پاکستان اور او آئی سی کی مشترکہ طور پہ نمائندگی کر رہا ہوں ۔ سیکیورٹی کونسل میں اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں لیکن اصلاحات میں کسی قسم کی جلد بازی نہ کی جائے ۔ اصلاحاتی ترامیم میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی رضامندی ضروری ہے ۔ او آئی سی اس حوالے سے پہلے ہی اپنا موقف دے چکا ہے ۔ او آئی سی اور پاکستان اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں مسلمان ممالک کی مستقل نشست چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے اسلامی ممالک کی تنظیم کا موقف بہت واضح ہے ۔اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کے کسی بھی چارٹر یا اصلاحاتی پروگرام کو نہیں مانیں گے جب تک اس میں مسلمان ممالک کو شامل نہیں کیا جائے گا ۔ ترقی پزیر ممالک ، عرب دنیا اور دیگر چھوٹے ممالک کی نمائندگی اقوام متحدہ میں نہ ہونا ناقابل قبول ہو گا ۔ یہ میرا نہیں او آئی سی کا مطالبہ ہے جو میں پیش کر رہا ہوں ۔ہم اقوام متحدہ کی اصلاحات میں او آئی سی اور دیگر گروپس کی تجاویز شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ حیرت ہے کہ ہماری تجاویز کو مستقبل کی اصلاحاتی قراردادوں کے متن میں شامل ہی نہیں کیا گیا ۔ پاکستانی سفیر نے مطالبہ کیا کہ مسلم ممالک اور گروپس کی سیکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کو یقینی بنایا جائے ۔ اس حوالے سے او آئی سی کی تجاویز پہ گزشتہ ایک سال سے بات چیت بھی ہورہی ہے ۔ تمام ممبر ممالک کے پاس ہماری تجاویز موجود ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کسی ایسی قرارداد کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں مسلمانوں کو سیکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت کی بات نہ ہو ۔اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ اتفاق رائے کے بغیر اقوام متحدہ کے چارٹر میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہونے دیں گے ۔ اگر مستقل نشستیں بڑھانے کی بات ہوئی تو مسلمان ممالک کی نمائندگی کے بغیر کوئی ایگریمنٹ نہیں ہوسکتا ۔

    پی ٹی آئی کو کہیں نہ کہیں دشمن ملک سے سپورٹ مل رہی ہے، سعید غنی