Baaghi TV

Tag: پاکستانی نوجوان

  • نوجوان پاکستان کا مستقبل مگر؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    نوجوان پاکستان کا مستقبل مگر؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    آج 75 سالوں میں وطن عزیز جہاں کھڑا ہے اور جس حال میں کھڑا ہے یہاں تک پہنچانے میں آمریت اورجمہوریت کے علم برداروں دونوں کا ہاتھہ ہے۔ا س ملک اور عوام کے ساتھ بہت کھلواڑ ہو چکااس ملک کو پالیسی سازوں ،قانو ن سازوں ، معیشت دانوں کی ضرورت ہے۔ مسخرے سیاستدانوں نے اس ملک کو ہر سطح پر لاغر بنا دیا کیونکہ یہ خود بھی لاغر ہیں ان کی سوچ بھی لاغر ہو چکی ہے-

    کسی بھی ملک کا سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری سے تنگ آکر جرائم کی دنیا میں جا رہے ہیں کچھ پڑھے لکھے نوجوان مجبوری سے سرکاری اور غیر سرکاری دفاتروں میں قاصد اور نائب قاصد کی نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ ملک کا بہترین سرمایہ اور اس کے روشن مستقبل کی ضمانت پڑھے لکھے نوجوان ہیں آج کے نوجوان کل کے نہایت ہی ذمہ دار افراد کہلائیں گے ملک کے فیصلہ ساز اداروں سیاسی رہنمائوں کو ملک کے اس مستقبل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    لاکھڑاتی ٹانگوں والوں، لاغر جسم والوں کے لئے اقتدار میں لانے کے لیے سیاستدان ایک دوسرے کے لئے کوشش کر سکتے ہیں تو ملک کے مستقبل ان پڑھے لکھے نوجوان طبقہ کی فکر کون کرئے گا؟ملک میں نوجوانوں میں ایک عزم وحوصلہ موجود ہے لیکن انہیں تربیت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ماضی کی حریف سیاسی جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم ابھی تک تو ایک دوسرے کے ساتھ ہیں آگے چل کر کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے ۔

    ماضی میں پنجاب نواز لیگ کا گڑھ تھا لیکن اس قلعے میں نقب عمران خان نے لگائی ہے اسی طرح کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے نقب لگائی ہے پنجاب کو دوبارہ فتح کرنے کے لئے نواز شریف نے اختیارات کے ساتھ مریم نواز کو پنجاب فتح کرنے کے لئے لندن سے روانگی کا حکم دیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ نواز لیگ کی مستقبل کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا تاہم یہ بات طے ہے کہ مریم نواز کی مقبولیت عمران خان کی سیاست کا مقابلہ کر سکتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پنجاب کو دوبارہ فتح کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ عمران خان نے بھی اعلان کیا ہےکہ اُن کے پاس ابھی بہت کارڈ ہیں جو کھیلیں گے۔ کیا مریم نواز ووٹ کو عزت دو کا کارڈ کھیلے گی یا پھر کوئی اور کارڈ کھیلیں گی۔

  • انسانیت کی خدمت کرنے والے10 پاکستانیوں کیلئے ڈیانا ایوارڈ

    انسانیت کی خدمت کرنے والے10 پاکستانیوں کیلئے ڈیانا ایوارڈ

    لاہور: 10 پاکستانی نوجوانوں نے تعلیم، صحت، آگاہی اور سماجی خدمت میں ’’ڈیانا ایوارڈ‘‘ حاصل کرکے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کردیا-

    باغی ٹی وی : ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں 5 پاکستانی، 1 کا تعلق آزاد و جموں کشمیر جبکہ 4 اوورسیز پاکستانیز ہیں، نوجوانوں کی عمر 25 برس سے کم جبکہ ایوارڈ ہولڈر ایک لڑکی کی عمر 18 برس ہے جو ان سب میں کم عمر ہے۔

    فیفا نے پاکستان کی انٹرنیشنل رکنیت بحال کر دی

    شہزادی آف ویلزڈیانا کی یاد میں قائم کیا گیا یہ ایوارڈ اسی نام کی خیراتی ادارہ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اسے ان کے دونوں بیٹوں ، ڈیوک آف کیمبرج اور ڈیوک آف سسیکس کی حمایت حاصل ہے۔

    اقراء بسمہ، رمنا سعید، فریال اشفاق، علیزے خان، محمد عامر کھوسو اور معظم شاہ بخاری سید۔ ارقم الہدی کا تعلق آزاد جموں کشمیر سے ہے جبکہ معیز لاکھانی، عائزہ عابد، اور سکندر (سونی) خان اوورسیز پاکستانی ہیں۔

    اسلام آبادکی 18 سالہ اقراء بسمہ کو دماغی صحت کیلیے کام کرنے اور نفسیاتی دبائو کا شکار افراد کی گفتگو سننے کیلئے ایک پلیٹ فارم بنانے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    ڈیانا ایوارڈ رول آف آنر 2022 کی ویب سائٹ کے مطابق، اقراء اب تک 15 سے زائد قومی و عالمی اداروں میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کر چکی ہیں اور وبائی امراض کے دوران نوجوانوں کے 100 سے زیادہ مشغولیت کے سیشنز کیے ہیں جن میں ورچوئل اجتماعات، ملاقاتیں، سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو فروغ دینے کے لیے تقریبات، ورکشاپس اور آگاہی سیشنز شامل ہیں-

    امریکا میں پاکستانی سفیر کی خدمات کا اعتراف

    گوجرانوالہ کی 20 سالہ رمنا سعید کو جنسی ہراسانی کے تدارک کے لیے کام کرنے اور خواتین کو اس کے خلاف کھڑا ہونے کیلئے گرانقدر کام کرنے کے اعتراف میں ایوارڈ دیا گیا، رمنا نے 2016 میں غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے ایک ڈاکیومنٹری دیکھنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے کام کرنا ہے۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ لڑکی فریال اشفاق نے پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف جدوجہد کرنے پر ڈیانا ایوارڈ اپنے نام کیا-

    واضح رہے کہ گزشتہ سال برطانیہ میں انسانیت کی خدمت کرنے والے 6 پاکستانی نوجوانوں کو ڈیانا ایوارڈ سے نواز گیا تھا ، جن میں سکھرکی عائشہ شیخ کووبا کے دوران تعلیم اور فنڈ ریزنگ پرایوارڈ سے نوازا گیا تھا خیبرپختونخوا کی مشال عامر نے جنوبی کوریا، امریکہ اور پاکستان میں رفاعی اور انسانیت کے لئے کام کیا، مشال عامر نے پاک افغان بارڈر پر خواتین کی خدمت کی، وہ اسکاٹ لینڈ کی 30 بااثر نوجوانوں میں شامل ہیں، انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے قانون میں تعلیم حاصل کی۔

    کوئٹہ کے عزت اللہ کو بچیوں کی تعلیم کے لئے کوششوں پر ایوارڈ دیا گیا تھا جبکہ لاہور کی یمنیٰ مجید اور حمزہ وسیم کو سائنسی تعلیم کے فروغ کے لئے کاوشوں پر سراہا گیا تھا بہاولپور کے محمد عاصم معصوم زبیر کو کورونا وبا کے دوران فلاحی خدمات پر نامزد کیا گیا تھا ۔

    واضح رہے کہ ’’دی ڈیانا ایوارڈ‘‘ وہ واحد خیراتی ادارہ ہے جو ویلز کی شہزادی ڈیانا کی یاد میں قائم کیا گیا ہے اور اس کے تحت ہر سال ایوارڈ دیے جاتے ہیں، یہ ایوارڈ دنیا بھر کے 9 سے 25 سال کی عمر کے ان نوجوانوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے انسانیت کی فلاح و بہبود اور معاشرے کو بہتر بنانے میں نمایاں کام سرانجام دیا ہے اس ادارے کو برطانوی حکومت نے سنہ 1999 میں اس مقصد سے قائم کیا تھا کہ شہزادی ڈیانا کو خیراج عقیدت پیش کیا جاسکے اور ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو معاشرے میں بچوں کی تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں۔

    اسکاٹ لینڈ کا برطانیہ سے آزادی کے لیے ریفرنڈم کا شیڈول جاری کرنے کا اعلان