Baaghi TV

Tag: پاکستان اسٹیل

  • روس نے پاکستان اسٹیل  قائم کرکے ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کیا،گورنر سندھ

    روس نے پاکستان اسٹیل قائم کرکے ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کیا،گورنر سندھ

    گورنر سندھ محمد کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہورہے ہیں،دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافہ ہونا چاہیے روس نے پاکستان اسٹیل جیسا اہم صنعتی یونٹ قائم کرکے ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وہ روس کے سفارتخانے میں یوم یکجہتی کی منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور میزبان قونصل جنرل کراچی اینڈرے وی فیڈرآف نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں ترکی،چین،ملیشیا،بنگلادیش،قطر،بحرین اور سلطنت آف عمان کے سفاتکاروں کے علاوہ صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو،سینٹ کے رکن سرمد علی، رکن سندھ اسمبلی آغا سراج درانی، صوبائی مشیر وقار مہدی،رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار،کلیم فاروقی، ڈی جی فارن افیئرز آفس عرفان سومرو، مرزا اشتیاق بیگ،پیپلزپارٹی ریسرچ کوآردینیشن سیل بلاول ہاس کی سینئر ممبر فیضان حسین سہروردی،پی ٹی آئی کے مصطفی کرانی، یوسف کرانی اور اعلی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب میں کیک کاٹا گیا اور روس کے فنکاروں نے فن کا مظاہرہ کیا۔ گورنرسندھ نے مزید کہا کہ پاکستان اور روس اہم ممالک ہیں روس کے قونصل جنرل کی کوشسوں سے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوگا۔وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ یوم یجہتی پر روس کے قونصل جنرل کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔روس کے سرمایہ کار سندھ میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں عوام کے درمیان تعلقات بڑھانے کیلئے دونوں ممالک کے وفود کے تبادلوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔میزبان روس قونصل جنرل فیدوروف نیکہا کہ عوامی اتحاد کا دن، ہر سال 4 نومبر کو روس کے عوام اپنی قوم کی بے مثال لچک کی یاد میں مناتے ہیں۔ روس پاکستان تعلقات اور شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آندرے وی فیڈروف نے کہا کہ روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں اور اس وقت دونوں ممالک کے درمیان 2 بلین ڈالر سے زیادہ کا تجارتی حجم ہے۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام اراکین برابر ہیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او خطے کو استحکام فراہم کر رہا ہے اور یہ اچھی طرح سے کام کر رہا ہے۔بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آندرے نے کہا کہ ”پیپلز یونٹی ڈی” وہ دن ہے جب ہمارا ملک راکھ سے اٹھا اور نام نہاد مصیبت کے وقت میں پولینڈ کے قابضین سے خود کو آزاد کرایا۔انہوں نے کہا کہ 16ویں صدی کے آخر اور 17ویں صدی کے آغاز میں روس نے سیاسی افراتفری، مغربی مداخلت، دھوکے بازوں، قحط اور دیگر بہت سے خوفناک واقعات کے ذریعے جدوجہد کی۔ ہماری تہذیب، ثقافت اور لوگ معدومیت کے دہانے پر تھے۔ اور اسی لمحے 1612 کے سال میں، ایک عام دکاندار کوزما منین اور ایک امیر ڈیوک دمتری پوزہارسکی نے عوامی رضاکار ملیشیا تشکیل دی جس نے روس کو اپنی حقیقی آزادی دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی۔مصیبت کے اختتام پر ہماری قوم نے بہت سے قیمتی اسباق سیکھے جو نسل در نسل گزرتے چلے آرہے ہیں۔ سب سے پہلے، ایک اور خانہ جنگی اور اشرافیہ کی اندرونی کشمکش کے بجائے روسیوں نے ایک نئے زار میخائل رومانوف کو منتخب کرنے کے لیے تمام خطوں اور سماجی طبقات سے ایک جمہوری کونسل کو اکٹھا کیا، جس کے خاندان نے 300 سال سے زیادہ روس پر حکومت کی۔ پاکستان روس تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے آندرے وی فیڈروف نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔روس اور پاکستان کے درمیان اعلی سطحی رابطوں کی سطح اور تعدد میں گزشتہ سال سے ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے، جب ہم نے روس پاکستان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منائی، روسی سی جی نے کہا اور مزید کہا کہ اس کی عکاسی خاص طور پر ہوئی ہے۔ 3 جولائی کو آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس میں، جس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔انہوں نے روس کے نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچوک کے 18-19 ستمبر کو اسلام آباد کے دورے، یکم اکتوبر کو ماسکو میں روس پاکستان تجارتی اور سرمایہ کاری فورم کا بھی حوالہ دیا جس نے ہمارے اقتصادی تعاون کو ایک طاقتور تحریک دی، ایس سی او سربراہان حکومتوں کی میٹنگ۔ 15-16 اکتوبر کو اسلام آباد میں، جس کے سائیڈ لائن پر روسی حکومت کے سربراہ میخائل میشوسٹن نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور دو طرفہ ایجنڈے کے تمام اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں روسی سینیٹ کی چیئر مین ویلنٹینا ماتویینکو نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان تمام ملاقاتوں کے نتیجے میں ہمارے تعلقات میں مزید پیش رفت ہو گی، ہماری بات چیت کے دوران جن منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا وہ شکل اختیار کریں گے اور ہمارے تعاون کی حقیقی صلاحیت جلد ہی سامنے آئے گی۔

    دادو کی7سالہ بچی میں پولیو وائرس کا شبہ، کراچی کے ہسپتال منتقل

    وزیراعلیٰ سندھ کا ملیر ایکسپریس وے کا دورہ، تجاوزات فوری گرانے کا حکم

    کراچی:فائرنگ کے مختلف واقعات میں خاتون سمیت چار افراد زخمی
    کراچی کو پانی فراہم کرنے والی لائن 40 سال بعد تبدیل

  • پاکستان اسٹیل ملز میں 10 ارب روپے کی چوری کا انکشاف

    پاکستان اسٹیل ملز میں 10 ارب روپے کی چوری کا انکشاف

    پاکستان اسٹیل سے تقریباً 10 ارب روپے مالیت کا میٹریل چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : ملکی تاریخ کی سب سے بڑی چوری سامنے آگئی، جس کی تحقیقات کے لیے وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے ایف آئی سے رجوع کرلیا اس حوالے سے وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو خط لکھا گیا ہے-

    وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے لکھے گئے خط میں پاکستان اسٹیل کے مختلف ڈپارٹمنٹس میں کی جانے والی چوریوں میں ملوث عناصر کو منظر عام پر لانے کے لیے شفاف اور فوری تحقیقات کی درخواست کی گئی ہے۔

    خط میں کہا گیا ہےکہ پاکستان اسٹیل کےمختلف ڈپارٹمنٹس کے علاوہ مین پلانٹ بھی چوروں کی رسائی سے محفوظ نہیں رہا جوکہ سیکیورٹی عملے کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں پاکستان اسٹیل کی اندرونی تحقیقات میں سینئر انتظامی افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جو وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے ایف آئی اے کو فراہم کردیئے ہیں۔

    پاکستان اسٹیل انصاف لیبر یونین (سی بی اے) کی جانب سے 27 جولائی 2022ء کو وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کو ارسال کردہ خط میں قومی اثاثے کو لٹیروں سے بچانے کے لیے فوری ایکشن اور تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

    خط میں کہا گیا کہ 27 جولائی کی شب کو 50 افراد پر مشتمل لٹیروں کے ایک گروہ نے پاکستان اسٹیل کے پلانٹ ایریا پر دھاوا بول دیا اور اربوں روپے مالیت کا تانبہ اور وائرز دیدہ دلیری کے ساتھ لوٹ کر فرار ہوگئے اس تمام کارروائی اور گزشتہ چوریوں میں سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کنٹریکٹ اور مستقل دونوں طرح کے ملازمین خاموش تماشائی بنے رہے اس لیے ضروری ہے کہ ان چوریوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔

    خط میں سی بی اے نے وفاقی وزارت صنعت و پیداوار سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اسٹیل میں انتظامی اور مالی بے قاعدگی، غفلت اور منظم چوریوں میں سہولت کاری کرنے والے عناصر کے ساتھ بورڈ آف ڈائریکٹرز اور مینجمنٹ کے خلاف تحقیقات کرائی جائیں اور قومی اثاثہ کو لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل کے نقصانات، قرضوں اور واجبات کی مجموعی مالیت جون 2022 تک 650 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور بھاری مالیت کی چوریوں کی وجہ سے ان نقصانات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔