Baaghi TV

Tag: پاکستان اور افغانستان

  • پاک افغان کشیدگی کم کرانے کیلئے روس کی ثالثی کی  پیشکش

    پاک افغان کشیدگی کم کرانے کیلئے روس کی ثالثی کی پیشکش

    روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کم کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔

    روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے ہفتہ کی پریس بریفنگ میں کہا کہ خطے میں استحکام روس سمیت عالمی برادری کی اولین ترجیح ہے۔ماریا زخارووا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں روس کے اہم شراکت دار ہیں، اور دونوں کے درمیان جاری تناؤ نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک چاہیں تو روس کشیدگی کم کرانے اور باہمی رابطے بحال کرانے کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ترجمان کے مطابق سرحدی تنازعات کا دیرپا حل صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے، اس لیے پاکستان اور افغانستان کو چاہیے کہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں اور اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

    ماریا زخارووا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصالحتی کوششیں نہ صرف باہمی اعتماد کی بحالی میں مدد دیں گی بلکہ پورے خطے میں مستقل امن کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہیں۔ روس نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ امن کے قیام کیلئے ہر ممکن سفارتی معاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہے

    پاک بھارت بلائنڈ ویمن کرکٹ میں مثبت رویہ، گرمجوشی سے ہاتھ ملائے

    اسرائیل کا 7 اکتوبر حملوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا اعلان

    بھارتی کپتان آئی سی یو میں داخل، طبی نگرانی جاری

  • مذاکرات ناکام، افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، اندرونی تقسیم اور بیرونی اثرات

    مذاکرات ناکام، افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، اندرونی تقسیم اور بیرونی اثرات

    پاکستان اور افغانستان کے مابین استنبول میں ہونے والے مذاکرات طالبان کی ضد، اندرونی اختلافات اور پس پردہ قوتوں کے اثرات کے باعث ناکام ثابت ہوئے۔ مذاکرات تیسرے دن 18 گھنٹے تک جاری رہنے کے باوجود بھی کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔

    ذرائع کے مطابق افغان وفد متحد نہیں تھا — قندھار، کابل اور خوست کے مختلف دھڑے الگ ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔ قندھار کے دھڑے نے اچانک مطالبہ کردیا کہ کوئی معاہدہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک امریکا باضابطہ ضامن نہ بنے، جو بات چیت کو سکیورٹی سے ہٹا کر مالیاتی اور بین الاقوامی دباؤ کی صورت میں تبدیل کرنے کی کوشش معلوم ہوئی۔مذاکرات کے دوران افغان نمائندوں کی کنفیوژن واضح رہی — بعض مندوبین باہر بیٹھے ہینڈلرز سے ہدایات لے رہے تھے اور فون کالز کے بعد جو نکات پہلے کلیئر تھے دوبارہ کھول دیے گئے۔ یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ افغان عبوری حکومت کے اندر مختلف دھڑوں کے اپنے اجنڈے ہیں اور کچھ گروہ مالی فوائد کے لیے سکیورٹی فائل کو واشنگٹن کی طرف کھینچنے کے خواہاں ہیں۔

    پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مؤثر اقدامات درکار ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے افغان علاقوں میں دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کے ثبوت افغان فریق اور ثالثوں کو پیش کیے۔سرحدی کشیدگی تب بڑھی جب افغان عبوری حکومت کے بعض عناصر کی کارروائیوں کے نتیجے میں پاک فوج کے جوان شہید ہوئے؛ جس کے جواب میں پاک فوج نے سخت جوابی کارروائیاں کر کے متعدد دہشت گرد ہلاک اور کچھ افغان پوسٹس پر کنٹرول حاصل کیا۔ پاکستان نے بار بار عالمی فورمز پر کابل کو خبردار کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی کارروائیاں قبول نہیں ہوں گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک افغان فریق اپنی اندرونی تقسیم ختم نہ کرے اور دہشت گردی کو سیاسی کرنسی بنانے کی کوششیں بند نہ کرے، مذاکرات میں پیشرفت ممکن نہیں۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اگر مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

    سری لنکا کا پاکستان دورے کے لیے اسکواڈز کا اعلان

    کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب ، وزیراعظم ویڈیو لنک پر صدارت کریں گے

    کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب ، وزیراعظم ویڈیو لنک پر صدارت کریں گے

    وہاب ریاض کو کوئی نیا عہدہ نہیں دیا گیا،پی سی بی کی وضاحت

  • دراندازی کے واقعات، عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر سنجیدہ سوالات ہیں: آئی ایس پی آر

    دراندازی کے واقعات، عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر سنجیدہ سوالات ہیں: آئی ایس پی آر

    مسلح افواج کے ترجمان ادارے (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ افغانستان سے دراندازی کے حالیہ واقعات عبوری افغان حکومت کے دہشت گردی سے متعلق ارادوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق فتنہ الخوارج کی دراندازی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے وفود ترکیہ میں مذاکرات میں مصروف ہیں، جس سے افغان حکومت کے رویّے پر مزید تشویش پیدا ہوتی ہے۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان متعدد بار عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرحدی نگرانی مؤثر بنائے، دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خوارج کے استعمال سے روکے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے پُرعزم اور ثابت قدم ہیں، جبکہ ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں اور سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے ادارے "عزمِ استحکام” کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم کو جاری رکھیں گے۔بیان میں کہا گیا کہ 24 اور 25 اکتوبر کو دو بڑے دہشت گرد گروہوں نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 4 خودکش بمباروں سمیت 25 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے، جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا، جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 5 پاکستانی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا

    دہشت گردوں کی سرپرستی ناقابلِ قبول، استنبول مذاکرات میں پاکستان کا دوٹوک پیغام

  • چین کا پاکستان، افغانستان جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم

    چین کا پاکستان، افغانستان جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم

    چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان چین کے روایتی دوستانہ ہمسائے ہیں اور ایسے پڑوسی ہیں جنہیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ چین جنگ بندی معاہدے کو سراہتا ہے اور ان تمام ممالک کی کوششوں کی تعریف کرتا ہے جنہوں نے اس معاہدے میں کردار ادا کیا۔ترجمان کے مطابق چین امید کرتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان باہمی اختلافات کے حل، جامع اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

    گو جیاکُن نے کہا کہ چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری اور ترقی کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔واضح رہے کہ قطر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جب کہ دونوں ممالک اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے۔

    پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک 25 اکتوبر کو استنبول میں مذاکرات کے ایک اور دور کا انعقاد کریں گے

  • افغانستان نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کی خواہش ظاہر کردی

    افغانستان نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کی خواہش ظاہر کردی

    پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان 48 گھنٹے کی جنگ بندی کے بعد افغانستان نے ایک بار پھر جنگ بندی میں توسیع کا اظہار کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق 48 گھنٹے کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد جمعے کو پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں کے دونوں جانب صورتحال پرامن رہی، جب کہ افغان طالبان نے جنگ بندی میں مزید توسیع کی خواہش ظاہر کردی ہے۔افغان طالبان کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع پر رضامند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ پہلے جنگ چاہتے تھے اور نہ آئندہ چاہتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ابھی تک سرکاری طور پر کسی توسیع کی تصدیق نہیں کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ “جنگ بندی کے حوالے سے غور کیا جا رہا ہے، حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔”

    واضح رہے کہ افغان طالبان کی جانب سے جارحیت کے بعد پاکستان نے مؤثر جوابی کارروائی کی تھی، جس کے بعد افغان حکومت کی درخواست پر 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا جو جمعے کی شام 6 بجے ختم ہوگئی۔ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ “ہم ایک عارضی جنگ بندی میں ہیں، اسے پائیدار بنانے اور تعلقات کے طویل مدتی استحکام کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہی ہمارا بڑا مقصد ہے۔”

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہے.

    ہائڈرو ڈپلومیسی یا ہائڈرو پولیٹکس؟،افغانستان میں پانی کے منصوبے، پاکستان کی آبی سلامتی کو خطرہ

  • پاکستان کے خلاف دہشتگردی اور افغان طالبان کے ذریعے جنگ کا  بھارتی منصوبہ بےنقاب

    پاکستان کے خلاف دہشتگردی اور افغان طالبان کے ذریعے جنگ کا بھارتی منصوبہ بےنقاب

    کراچی (سعد فاروق)پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں پر بھارت کی جانب سے طالبان حکومت کی حمایت میں جاری کردہ بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان دہشتگرد تنظیموں کی میزبانی کرتا ہے، اپنے اندرونی مسائل کا ذمہ دار پڑوسی ممالک کو ٹھہراتا ہے، اور افغانستان کی خودمختاری سے خائف ہے۔بین الاقوامی سیاسی ماہرین کے مطابق یہ بیان بھارت کے پراپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا اور افغانستان کے اندر پاکستان مخالف عناصر کی پشت پناہی کو چھپانا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر دہشتگرد کارروائیاں کروا رہی ہے۔ ان کارروائیوں میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروہ شامل ہیں، جنہیں مالی امداد اور اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ حکمتِ عملی دراصل ہائبرڈ وار کا حصہ ہے، جس کے ذریعے پاکستان کے اندر سیاسی، معاشی اور سکیورٹی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور کسی بھی ملک کو پاکستان کے اندر دہشتگردی کروانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بھارت کا یہ رویہ نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف پراکسی محاذ کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

    دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج نے فتنۃ الخوارج کے 50 دہشتگرد ہلاک کردیے

    جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کراچی کی افغان بستی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، 200 سے زائد گھر مسمار

  • جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ بارڈر دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحال

    جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ بارڈر دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحال

    جنوبی وزیرستان لوئر میں دو سال سے بند انگور اڈہ بارڈر کو دوبارہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے کھول دیا گیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق کل سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت شروع ہو جائے گی۔تحصیل برمل میں بارڈر کھولنے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ڈپٹی کمشنر، رکن قومی اسمبلی، سول و عسکری حکام، قبائلی عمائدین، علما کرام اور اسکولوں کے بچوں نے شرکت کی۔انگور اڈہ بارڈر کے کھلنے سے معیشت میں بہتری اور عوام کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

    تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بارڈر کی دو سالہ بندش کے باعث اربوں روپے کا نقصان ہوا، اب دوبارہ کھلنے سے معاشی بدحالی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

    ایل پی جی کی قیمت میں کمی، گھریلو سلنڈر سستا

    لندن میں کرپٹو کرنسی اسکینڈل، 5 ارب پاؤنڈ مالیت کے بٹ کوائن ضبط

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی صدر نے اہم شخصیت قرار دے دیا

  • پاکستان نے انگور اڈا کراسنگ پوائنٹس کھولنے کے لیے افغانستان سے مہلت مانگ لی

    پاکستان نے انگور اڈا کراسنگ پوائنٹس کھولنے کے لیے افغانستان سے مہلت مانگ لی

    پاکستان نے افغانستان سے انگور اڈا کراسنگ پوائنٹس کھولنے کے لیے مزید وقت طلب کر لیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق یہ کراسنگ پوائنٹس این ایل سی بارڈر ٹرمینل کی مکمل آپریشنلائزیشن سے مشروط کیے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کے لیے بنیادی انفرااسٹرکچر کی تکمیل میں کچھ وقت درکار ہے، اور کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ کراسنگ پوائنٹس 14 اگست تک کھول دیے جائیں۔ تاہم، اگر مقررہ مدت تک کام مکمل نہ ہوا تو انہیں 31 اگست تک کھولنے کی کوشش کی جائے گی۔

    حکام کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان انگور اڈا کراسنگ پوائنٹس کھولنے پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے، اور افغان وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران اس حوالے سے باقاعدہ بات چیت بھی ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق افغان وفد کی قیادت نائب وزیر صنعت و تجارت نے کی، جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی سیکریٹری تجارت نے کی۔ پاکستانی حکام نے افغان وفد کو واضح طور پر آگاہ کیا تھا کہ انفرااسٹرکچر کی تیاری مکمل کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

    اسحٰق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، غزہ میں فوری امدادی رسائی پر زور

    اسحٰق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، غزہ میں فوری امدادی رسائی پر زور

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکرات مکمل

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکرات مکمل

    اسلام آباد میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایڈیشنل سیکریٹری سطح کے پہلے باضابطہ مذاکرات منعقد ہوئے، جن میں دو طرفہ تعلقات، سیکیورٹی، تجارت اور علاقائی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق یہ مذاکرات پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے اپریل میں دورہ کابل کے دوران ہونے والے فیصلوں کے نتیجے میں ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے افغانستان و مغربی ایشیا سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت خارجہ کے فرسٹ پولیٹیکل ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد نور نے کی۔

    مذاکرات میں باہمی دلچسپی کے اہم موضوعات جیسے کہ سیکیورٹی، ٹریڈ اینڈ ٹرانزٹ تعاون، اور علاقائی روابط زیر غور آئے۔ دونوں فریقین نے دہشت گردی کو خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا جبکہ پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

    تجارتی تعاون کے ضمن میں نائب وزیراعظم کے دورہ کابل میں اعلان کردہ سہولیات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں 10 فیصد پراسیسنگ فیس کا خاتمہ، انشورنس گارنٹی کی فراہمی، اسکیننگ و معائنہ میں کمی اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی فعالی شامل ہیں۔دونوں ممالک نے علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبے کو تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیا اور فریم ورک معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

    مذاکرات میں افغان شہریوں کی واپسی اور قانونی آمدورفت کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ پاکستان نے بتایا کہ جنوری 2024 سے مختلف کیٹیگریز (طبی، سیاحت، تعلیم، کاروبار) میں 5 لاکھ سے زائد ویزے جاری کیے گئے ہیں۔فریقین نے مسلسل رابطے، تعاون اور دیرپا سلامتی کو دوطرفہ تعلقات اور علاقائی ترقی کی بنیاد قرار دیا اور ایڈیشنل سیکریٹری سطح کے مذاکرات کا اگلا دور باہمی مشاورت سے طے کرنے پر اتفاق کیا۔

    امریکا نے حیات تحریر الشام کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

    ملک میں شدید بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی، دو منزلہ پولیس چوکی دریا برد

    مریم نواز کی شیر کے حملے میں زخمی بچوں و خاتون کیلئے 5،5 لاکھ امداد

    غزہ: اسرائیلی حملوں میں مزید 105 فلسطینی شہید

    قطری شہزادی نانگا پربت سر کرنے والی پہلی قطری خاتون بن گئیں

  • چین پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے فروغ میں معاونت جاری رکھنے کا خواہاں

    چین پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے فروغ میں معاونت جاری رکھنے کا خواہاں

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چین، پاکستان اور افغانستان کے درمیان روابط کے فروغ میں معاونت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان کے مطابق وہ پاکستان اور افغانستان کی جانب سے اپنے سفارتی مشن کو سفیر کی سطح پر لے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ چین کو یقین ہے کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ دونوں ممالک سہ فریقی چین، افغانستان، پاکستان وزرائے خارجہ ملاقات کے نتائج پر عملدرآمد کر رہے ہیں اور چین ان کے تعلقات کی بہتری اور فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے اور ہمسایہ ممالک کے درمیان مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کے قیام کے لیے کام کرنے پر آمادہ ہے۔

    پاکستان 22 جولائی کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے گا