Baaghi TV

Tag: پاکستان اور چین

  • اسحٰق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، علاقائی امور پر تبادلۂ خیال

    اسحٰق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، علاقائی امور پر تبادلۂ خیال

    چین کے سفیر جیانگ زائی دونگ نے آج نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق اسحٰق ڈار نے ملاقات کے دوران تاجکستان میں افغان سرحد کے قریب تین چینی شہریوں کے المناک قتل پر تعزیت کا اظہار کیا اور متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کی۔نائب وزیراعظم نے ہانگ کانگ کے وانگ فُک کورٹ رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی حالیہ خوفناک آگ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا اور چینی عوام سے یکجہتی کا پیغام پہنچایا۔ملاقات میں اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان ان مشکل لمحات میں چین کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے لیے موجودہ روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

    ترجمان کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی گفتگو ہوئی اور دونوں ممالک نے قریبی سفارتی رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا

    بنگلادیش، خالدہ ضیاء کی حالت نازک، آئی سی یو میں زیر علاج

    چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پرعمل شروع کر دیا گیا

  • صدر زرداری کا اُرومچی میں سنکیانگ اسلامک انسٹیٹیوٹ کا دورہ

    صدر زرداری کا اُرومچی میں سنکیانگ اسلامک انسٹیٹیوٹ کا دورہ

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین کے شہر اُرومچی میں واقع سنکیانگ اسلامک انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا، جہاں انسٹیٹیوٹ کے صدر مختیری سیفو نے ان کا استقبال کیا۔

    صدر مملکت نے انسٹیٹیوٹ میں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا اور وہاں دی جانے والی خدمات کو سراہا۔ انہیں بتایا گیا کہ انسٹیٹیوٹ میں قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر عصری مضامین پڑھائے جاتے ہیں جبکہ اسلامی کتب کے تراجم، اشاعت اور حج انتظامات میں بھی ادارہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔انسٹیٹیوٹ میں قرآن، حدیث، اسلامی قوانین، عربی، تھیولوجی، تاریخ، کمپیوٹر کی تعلیم، اخلاقیات اور سائنسی مضامین سمیت جنرل کورسز بھی کرائے جاتے ہیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے خطے کے مسلمانوں کے لیے ادارے کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان وسیع افہام و تفہیم کے لیے علمی اور ثقافتی تبادلے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔

    قطر کی عالمی عدالت کی صدر سے ملاقات، اسرائیلی حملے پر قانونی کارروائی کی کوشش

    پاک افغان بارڈر پرٹیکسی اسٹینڈ میں دھماکا، 5 افراد جاں بحق

  • دورہ چین، صدر  زرداری کا اُرومچی پہنچنے پر شاندار استقبال

    دورہ چین، صدر زرداری کا اُرومچی پہنچنے پر شاندار استقبال

    صدر آصف علی زرداری شنگھائی سے روانگی کے بعد اُرومچی پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

    شنگھائی میں صدر زرداری کو سی پی پی سی سی کے نائب چیئرمین چن چون نے الوداع کہا۔ ہونگ چیاؤ ایئرپورٹ پر پاکستان اور چین کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔اُرومچی ایئرپورٹ پر شنجیانگ ویغور خودمختار ریجن کے گورنر ایرکن تونیاز، نائب گورنر چن ویجون اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی دونگ نے صدر آصف علی زرداری کا والہانہ استقبال کیا۔گورنر ایرکن تونیاز نے خصوصی اصرار پر صدر زرداری کو خود اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس تک چھوڑا اور ان کی گاڑی میں بھی ہمراہ رہے۔

    صدر آصف علی زرداری کے اس دورے سے پاکستان اور چین کے درمیان علاقائی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

    افغانستان میں فائرنگ کے دوران بی ایل اے کمانڈر استاد مرید ہلاک

    ایشیا کپ: ریفری اینڈی پائی کرافٹ کی پاکستانی ٹیم سے معافی،وڈیو جاری

    ٹرمپ کی ٹک ٹاک پابندی کی مدت میں چوتھی بار توسیع

  • پاکستان اور چین کے درمیان  تعاون اور سرمایہ کاری کیلئے 21 یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان تعاون اور سرمایہ کاری کیلئے 21 یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور چین نے زراعت ،الیکٹرک وہیکلز ،شمسی توانائی،صحت، کیمیکل وپیٹرو کیمیکلز، آئرن اور سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں .

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس اور مفاہمت کی یادداشتوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگا،یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی،پاکستان چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تعاون چاہتا ہے،چین کی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل ہے،چینی سرمایہ کاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،چینی صنعتوں کو پاکستان میں منتقلی سے سستی لیبر سمیت دیگر سہولیات میسر ہوں گی،پاکستان میں چینی بھائیوں کے سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے موقع پر مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے گئے۔اس موقع پر نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار،متعلقہ وفاقی وزراء اور ممتاز پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔1.54 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز ہائی ٹیک،زراعت، میڈیکل و صحت ،کیمیکل و پیٹرو کیمیکل، آئرن سٹیل و تانبے، شمسی توانائی، الیکٹرک وہیکلز کے شعبوں سے متعلقہ کمپنیوں کے نمائندوں نے مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے۔پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میرے لئے باعث افتخار ہے کہ انتہائی اہمیت کے حامل چینی کاروباری اداروں سے مخاطب ہوں، میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی کانفرنس شریک ہوں، پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری اور سٹیل اور آئرن سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ہماری یہ دوستی دیانتداری، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ ہر خوشی اور مشکل کی گھڑی میں تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا مخلص، سچا دوست ہے جو ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، زلزلہ ہو یا سیلاب جس طرح چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ایسی کسی اور ملک کی مثال نہیں ملتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے عظیم دونوں ممالک کے درمیان ہمارے اسلاف نے جو تعلقات قائم کئے تھے ،وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں مزید آگے لے کر جائیں گے، 2015ء میں چین اور پاکستان نے سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور میرے بہت ہی پیارے بھائی چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا اور میرے بڑے بھائی وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور اس کے نتیجہ میں چینی کمپنیوں نے 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور 2018ء میں پاکستان توانائی کی ضروریات میں خود انحصار ہو گیا، صنعتیں بحالی ہوئیں، زراعت بحال ہوئی، انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے، روڈ نیٹ ورک، اورنج لائن لاہور، ڈیمز اور دیگر بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو ترقی ملی۔ وزیراعظم نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے درمیان میں یہ سلسلہ رک گیا لیکن آج نہ صرف یہ منصوبے بحال ہوئے بلکہ دوطرفہ اعتماد، باہمی احترام اور گرمجوشی میں اضافہ ہوا جو وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم سی پیک 2.0 کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، یہ سی پیک 2.0 بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری معیشت کا 60 فیصد انحصار زراعت پر ہے، چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے تجربات، مہارتیں اور سرمایہ کاری پاکستان کے زرعی شعبہ پر صرف کریں اور زراعت کو فروغ دیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا، چین وہ اشیاء پاکستان سے درآمد کر سکے گا جو دیگر ممالک سے کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے جس میں چین عالمی سطح پر سب سے آگے ہے، کان کنی اور معدنیات باہمی تعاون کا ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلاشبہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک 2.0 کے بنیادی ستون ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں، چین ٹیکسٹائل، چمڑے اور دیگر شعبوں کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کر سکتا ہے اور پاکستان کی افرادی قوت سے استفادہ کر سکتا ہے جو دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم لاگت پر میسر ہے، چینی سرمایہ کار تھرڈ ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا منافع بڑھا سکتے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ میں چینی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیجنگ میں پاکستانی وزراء اور توانائی، انفارمیشن، ٹیکنالوجی، کامرس اور تمام شعبوں کے حکام موجود ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی موجودگی اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان چین جیسے عظیم دوست ملک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بطور چیف ایگزیکٹو آف پاکستان اور بطور پاکستانی وزیراعظم میں یہاں موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری معیشت مضبوط ہو گی تو دونوں ملک مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدﷲ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہے اور اقتصادی اشاریے مستقبل کی مثبت پیشرفت کی نشاندہی کر رہے ہیں، قلیل المدتی، وسط مدتی اور طویل المدتی سطح پر معاشی ترقی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کے ذاتی عزم کی بدولت یہ سب ممکن ہوا ہے اور اب ہم اقتصادی ترقی کی دوڑ میں چین کے تعاون سے دیگر ممالک کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔

    وزیراعظم نے واضح کیا کہ چینی بھائیوں اور بہنوں کی پاکستان میں سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، آئیں آگے بڑھیں اور معاشی منظرنامہ کو تبدیل کریں اور چین اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ چینی بھائیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولت فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے دو تین ہفتے قبل چینی گروپ کے لوگوں کی نشاندہی پر درپیش مسئلہ کو 24 گھنٹوں میں حل کرنے کی مثال دی اور کہا کہ اسلام آباد میں چینی گروپ نے ملاقات میں بتایا کہ انہیں بعض مسائل کا سامنا ہے جس پر میں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور وہ مسئلہ حل کر دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اسی طرح آپ کا دوسرا گھر ہے جس طرح چین ہمارا دوسرا گھر ہے، آگے بڑھیں اور جائنٹ وینچر سرمایہ کاری کریں، تمام وزارتیں، ادارے اور محکمے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور جلد ہم چینی اور پاکستانی سرمایہ کاری کے ذریعے صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ میرا خواب ہے اور ہم اس خواب کو معاہدوں پر عملدرآمد کے ذریعے پورا کریں گے، سی پیک 2.0 میرے لئے سب سے اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین 15 سال میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے اور دنیا کی بہترین عسکری قوت ہے اور یہ محنت، محنت اور محنت کے ساتھ ممکن ہوا ہے اور ہم چینی ماڈل کے ذریعے پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کو جو شاندار ترقی ملی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، چین نے 700 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا اور نہ صرف اپنے لوگوں کو روزگار دیا بلکہ دنیا کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کی پیشکش کر رہا ہے اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے، آج اپنے تجربات کے استفادہ کرنے اور صنعتی ترقی کی جانب بڑھنے کا وقت ہے اور پاکستان ایک دن متحرک معیشت میں بدلے گا۔ کانفرنس میں اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے درمیان مفاہمتی یاداشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے، ماضی میں بھی اس طرح کی تقریب ہوتی رہی ہیں لیکن انتھک کوششوں اور سخت محنت سے یہ ممکن ہوا ہے پاکستان میں چین کے سفیر، چینی حکومت اور اور چین کی عظیم کاروباری شخصیات نے اس کو ممکن بنایا ہے،متعلقہ وفاقی وزراء، سرمایہ کاری بورڈ، ایس آئی ایف سی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکمہ کے درمیان بہتر رابطے سے اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی ہے،اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، مفاہمت کی یادداشتوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا۔

    انہوں نے کہا کہ 1.5 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز پر پاکستان اور چینی کمپنیوں کی طرف سے دستخط کیے گئے ہیں،مفاہمتی یاداشتوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنا اور ان پر عمل درامد ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، اس کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا اور دونوں حکومتوں کو قریبی رابطے کے ذریعے اگے بڑھنا ہوگا، چین میں پاکستان کے سفیر اور چین کے پاکستان میں سفیر اور ہمارے وفاقی وزراء کو متعلقہ چینی عہدے داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،یقین ہے کہ ہم اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون لائق تحسین ہے،دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر اگر ہم عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگااور یہ لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہو کر اور اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگااور یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،ہماری جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہم آج شام سے ترقی کا لانگ مارچ شروع کریں گے اور اقتصادی ترقی کی منزل پہنچنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس کے لئے انتھک محنت کریں گے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی شاندار لمحہ ہوگا اس مقصد کے لیے تمام حکومتی ادارے، محکمے اور نجی شعبہ مل کر مکمل ہم آہنگی اور تعاون سے کام کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے دن رات ایک کر دوں گا،اس کے لئے ہمیں سخت محنت کرنا ہوگی اس سے پاکستان اور چین وہ رول ماڈل بنیں گے جس کی دوسرے ممالک بھی پیروی کریں گے۔

    اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    ٹرمپ کا یورپ کو روسی ایندھن کی خریداری روکنے اور چین پر دباؤ ڈالنے کا مشورہ

    خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس کل، 31 نکاتی ایجنڈے پر غور ہوگا

  • اسلام آباد میں پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات کی تیاریاں مکمل

    اسلام آباد میں پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات کی تیاریاں مکمل

    پاکستان اور چین کے درمیان سالانہ اسٹریٹجک مذاکرات کا چھٹا دور اگست میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس کے لیے تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کریں گے، جبکہ چینی وزیر خارجہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات،اسٹریٹجک، سیاسی اور اقتصادی تعاون،دفاعی اور سلامتی امور اور تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی روابط جیسے اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے تیاریاں تیز کر دی ہیں اور مختلف متعلقہ وزارتوں، چینی وزارت خارجہ اور چینی سفارت خانے سے قریبی رابطے میں ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس ان مذاکرات کا پانچواں دور 15 مئی کو بیجنگ میں ہوا تھا، جس میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

    بیرونی قرضوں کی ادائیگی،زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی

    عمر ایوب نااہلی ریفرنس، الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ جاری کردی

    اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین کا سمندری مارچ، جنگ بندی کا مطالبہ

  • سہ فریقی ملاقات،افغانستان کا پاکستان اور چین سے ’باہمی احترام اور تعمیری روابط‘ کا مطالبہ

    سہ فریقی ملاقات،افغانستان کا پاکستان اور چین سے ’باہمی احترام اور تعمیری روابط‘ کا مطالبہ

    افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان اور چین سے باہمی احترام اور تعمیری روابط پر مبنی تعلقات قائم رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ بیان کابل میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے پاکستان اور چین کے خصوصی ایلچیوں کی ملاقات کے بعد افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے خصوصی ایلچی محمد صادق اور چین کے یو شیاویونگ نے شرکت کی۔ ملاقات تین ملکی (سہ فریقی) فورم کے تحت ہوئی جو 2017 میں قائم کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد افغانستان، پاکستان اور چین کے مابین سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے مطابق، سراج الدین حقانی نے کہ "اسلامی امارت علاقائی تعلقات کو اہم سمجھتی ہے اور ہمارے نقطہ نظر سے اقتصادی، سیاسی اور علاقائی افہام و تفہیم صرف باہمی احترام اور تعمیری روابط سے ممکن ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے اور تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے دوران طے پایا کہ سہ فریقی مذاکرات کا چھٹا وزارتی دور کابل میں منعقد کیا جائے گا، جس سے فورم کے تحت جاری تعاون کا سلسلہ برقرار رہے گا۔

    علاوہ ازیں، پاکستان میں تعینات افغان سفیر نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہ”اس ملاقات کا مقصد اسلام آباد میں ہونے والے پانچویں سہ فریقی مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لینا، آئندہ کابل میں منعقدہ چھٹے دور کی تیاری کرنا، اور سہ فریقی تعاون کو مزید مستحکم بنانا تھا۔” وفود نے علاقائی استحکام، باہمی احترام اور مضبوط سفارتی بنیادوں پر تعمیری روابط کے عزم کا اعادہ کیا۔

    چین اور پاکستان کے خصوصی ایلچیوں نے کابل میں افغان وزیر تجارت نورالدین عزیزی سے ملاقات کی، جس میں تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور مشترکہ منصوبوں کے آغاز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔افغان وزارت تجارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات کا مقصد افغانستان، پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا، مشترکہ صنعتی پارکس اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام، اور برآمدی پروسیسنگ مراکز کے آغاز جیسے عملی اقدامات پر غور کرنا تھا۔

    چینی اور پاکستانی ایلچیوں کی افغان وزیر تجارت نورالدین عزیزی سے بھی ملاقات

    ملاقات میں یہ تجاویز بھی زیر غور آئیں:
    افغانستان میں مشترکہ صنعتی پارکس کا قیام
    خصوصی اقتصادی زونز کی تشکیل
    سہ فریقی تجارتی میلوں کا انعقاد
    چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے امدادی مراکز
    تینوں ممالک کے درمیان بینکنگ تعلقات کو فروغ دینا

    بیان کے مطابق وزیر تجارت نورالدین عزیزی نے پاکستان اور چین کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
    "اسلامی امارت کی پالیسی معیشت پر مبنی ہے، اور ہم باہمی مفادات کے تناظر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پالیسی سازی اور عملی اقدامات کر رہے ہیں۔”انہوں نے اس موقع پر چینی اور پاکستانی ہم منصبوں کو افغانستان کے باضابطہ دورے کی دعوت بھی دی، تاکہ باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور تجارتی مذاکرات کو عملی شکل دی جا سکے۔