Baaghi TV

Tag: پاکستان تحریک انصاف

  • لاہور: تحریک انصاف کا پی پی 167 میں ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان

    لاہور: تحریک انصاف کا پی پی 167 میں ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان

    لاہور:تحریک انصاف نے پی پی 167لاہور میں ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

    تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات وقاص اکرم نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی پنجاب کے حلقہ پی پی 167 میں ہونے والا ضمنی ا نتخاب بھی بائیکاٹ پالیسی کے تحت آتا ہے اسی لیے اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی پی پی 167 ضمنی انتخاب میں حصہ نہیں لے رہی اور نہ ہی کسی امیدوار کی حمایت کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ پی پی 167 ضمنی انتخاب میں ملک محمد شفیع کھوکھر ن لیگ کے امیدوار ہوں گے، مذکورہ نشست ان کے بیٹے ایم پی اے ملک عرفان شفیع کھوکھر کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔

    
ٹرمپ کی دھمکیوں پر کولمبیا کے صدر کا سخت ردِعمل، ہتھیار اٹھانے کا بیان

    رئیس گوٹھ واقعہ:امید ہےبہت جلد اس نیٹ ورک کے تمام کارندے گرفتار کر لیے جائیں گے، وزیر داخلہ سندھ

    مصطفیٰ عامر قتل کیس: مرکزی ملزم ارمغان کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

  • پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی کمیٹی دوبارہ تشکیل دیدی، نوٹیفکیشن جاری

    پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی کمیٹی دوبارہ تشکیل دیدی، نوٹیفکیشن جاری

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی کمیٹی دوبارہ تشکیل دے دی ہے-

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی کمیٹی کی ازسرِنو تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت 23 اہم رہنماؤں کو نئی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے،پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں شامل دیگر نمایاں شخصیات میں سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، فِردوس شمیم نقوی، شیخ وقاص اکرم، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی شامل ہیں،سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سابق سینیٹ اپوزیشن لیڈر شبلی فراز اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر معین قریشی کو بھی کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    اسی طرح پنجاب سے سابق اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر، اوورسیز چیپٹر کے سیکریٹری سجاد برکی، چیف آرگنائزر پنجاب زعالیہ حمزہ، جُنید اکبر، حلیم عادل شیخ اور داؤد کاکڑ کو بھی کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہےآزاد کشمیر کے خالد خُورشید اور گلگت بلتستان کے سردار قیوم نیازی بھی نئی کمیٹی میں شامل ہیں،سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، قومی اسمبلی کے چیف وہپ عامر ڈوگر، سینیٹ کوآرڈینیٹر فوزیہ ارشد، خواتین ونگ کی صدر کنول شوزب اور اقلیتی ونگ کے صدر لال چند ملہی بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سیاسی کمیٹی پی ٹی آئی کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم ہو گی، جو پارٹی کی پالیسی سازی، حکمت عملی اور پارلیمانی جماعتوں کے لیے رہنما پالیسیوں کی تشکیل کی ذمہ دار ہوگی۔

  • اگلے احتجاج میں اجتماعی دم و استخارہ ہوگا، شیر افضل مروت کا انکشاف

    اگلے احتجاج میں اجتماعی دم و استخارہ ہوگا، شیر افضل مروت کا انکشاف

    رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے انکشاف کیا ہے کہ 26 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف نے اجتماعی دعا کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ آئندہ احتجاج میں پارٹی کی جانب سے اجتماعی دم اور استخارہ کیا جائے گا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کے بعد پی ٹی آئی چاہتی تو احتجاج کرسکتی تھی، تاہم اس روز پارٹی پر گہرا وار کیا گیا، جو صرف پی ٹی آئی نہیں بلکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی احتجاجی سیاست کے لیے دھچکا تھا۔ ان کے مطابق اس واقعے کے بعد تحریک لبیک کے خلاف بھی کارروائی دیکھی گئی۔شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ پارٹی میں میرٹ کے بجائے پسندیدہ افراد کو عہدے دیے جاتے رہے اور اہل قیادت کو نظرانداز کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ 26 نومبر کو احتجاج ہوگا، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ پارٹی رہنماؤں کو چیئرمین سے ملاقات تک نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کے مطابق اگر عمران خان کو علم ہوتا کہ احتجاج کی تیاریاں نہیں ہوئیں تو وہ سخت برہمی کا اظہار کرتے

    پاکستان و سعودی عرب کی انسدادِ دہشت گردی فوجی مشق البطار-II مکمل

  • پی ٹی آئی نے پاکستان کے خلاف غیر ملکی لابنگ کرکےریڈ لائن عبور کرلی

    پی ٹی آئی نے پاکستان کے خلاف غیر ملکی لابنگ کرکےریڈ لائن عبور کرلی

    پاکستان تحریکِ انصاف کی یورپ اور برطانیہ میں ہونے والی ملاقاتوں، درخواستوں اور احتجاجی سرگرمیوں نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، پارٹی نے غیر ملکی اداروں میں پاکستان کے خلاف لابنگ کر کے ریڈ لائن عبور کی ہے۔

    پی ٹی آئی یوکے کا نو رکنی وفد ایم ای پی مائیکل گاہلر سے ملا، جہاں دھاندلی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کی گئی.یہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف کھلی لابنگ قرار دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی ایکٹوسٹ حسین احمد نے یورپی پارلیمنٹ میں متعدد درخواستیں جمع کرائیں جن میں پاکستان کو غیر محفوظ ملک ظاہر کیا گیا اور بشریٰ بی بی پر جھوٹا “جان کا خطرہ” بیان کیا گیا۔ اسی حسین احمد نے یورپی پارلیمنٹ سے پاکستان کے انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جسے جی ایس پی پلس کے تحت حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔

    برسلز میں پی ٹی آئی سے منسلک گروپس نے EU سفیر رینا کیونکا کو ٹارگٹ کرتے ہوئے آن لائن مہم چلائی اور پاکستان پر ICCPR خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے درخواستیں یورپی یونین کے بڑے اداروں—AFET، INTA، DROI، اور EEAS—تک پہنچائی گئیں تاکہ پاکستان کے خلاف دباؤ بڑھایا جائے۔ زلفی بخاری اور جیرڈ جینسر کی ٹیم نے EU حکام پاؤلا پمپلونی اور دیرن دریاء سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے عدالتی اور سیاسی ماحول پر منفی مؤقف پیش کیا گیا۔

    شہباز گل نے ڈچ ایم پی اسٹیفن وین بارلے اور سابق اطالوی سینیٹر ماریو مورگونی سے ملاقات میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی اور عمران خان کے مقدمات پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ بیلجیئم میں یورپی پارلیمنٹ کے سامنے پی ٹی آئی نے احتجاج کیا جس میں پاکستانی عسکری قیادت کے خلاف عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے ICC پراسیکیوٹر کریم خان کو ایمیلز بھیج کر پاکستان میں “کرائمز اگینسٹ ہیومینٹی” کے بے بنیاد الزامات لگائے—جو پاکستان کے خلاف سب سے سخت مؤقف سمجھا جاتا ہے۔

    21 مارچ 2025 کو زلفی بخاری نے EEAS افسران سے دوبارہ ملاقات کی، جس میں پاکستان کی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر ایک مرتبہ پھر منفی بیانیہ پیش کیا گیا۔ یورپی پارلیمنٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کرائی گئی تمام بڑی پٹیشنز کو “ثبوت نہ ہونے” کی بنیاد پر بند کر دیا—جس سے پاکستان کا مؤقف مضبوط ہوا کہ یہ دعوے بے بنیاد تھے۔ پی ٹی آئی کی غیر ملکی شاخیں مسلسل EU حکام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہیں کہ پاکستان بنیادی انسانی آزادیوں کی خلاف ورزی کرتا ہےاور یہی بیانیہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

    تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت یا گروہ بیرونی قوتوں کو پاکستان کے خلاف قدم اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے تو کیا یہ عمل آئین کے آرٹیکل 6 کے دائرے میں آسکتا ہے؟ اس پر مختلف ماہرینِ قانون نے رائے دی ہے کہ آرٹیکل 6 کا اطلاق انتہائی غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ عدالتوں کا دائرہ اختیار ہے۔

    قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی مداخلت کی دعوت دینا آرٹیکل 6 کے معیار میں شامل ہوسکتا ہے، تاہم حتمی تشریح عدالت کرے گی۔
    عالمی عدالت میں ’’جرائمِ انسانیت‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرنے پر بھی PTI کارکنوں پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق داخلی سیاسی تنازعات کو اس حد تک بین الاقوامی کرنا آئین میں موجود ’’ریڈ لائنز‘‘ کی خلاف ورزی ہے۔

    پاکستانیوں کابرطانیہ ویزا سسٹم کی خامیوں کا فائدہ اٹھانے کا انکشاف

    پاکستانیوں کابرطانیہ ویزا سسٹم کی خامیوں کا فائدہ اٹھانے کا انکشاف

    علی ترین کا ملتان سلطانز سے الگ ہونے کا اعلان، نئے مالک کی حمایت

  • پی ٹی آئی کا پنجاب لوکل گورنمنٹ بل عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا پنجاب لوکل گورنمنٹ بل عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پٹیشن تیار کر لی گئی ہے جو کل دائر کی جائے گی۔

    پٹیشن کی نمائندگی شیخ امتیاز محمود، اعجاز شفیع، منیر احمد اور میاں شبیر اسمٰعیل کریں گے، جبکہ اسے صدر، وزیراعظم، گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی ارسال کیا جائے گا۔پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ بل کی کئی شقیں آئین کے آرٹیکلز 17، 32 اور اے-140 سے متصادم ہیں۔ پارٹی رہنما اعجاز شفیع نے کہا کہ غیر جماعتی ماڈل سیاسی جماعتوں کا کردار کمزور کرتا ہے اور انتظامی کنٹرول بڑھاتا ہے، جب کہ مالیاتی اختیارات کو مرکزیت دینا بلدیاتی خود مختاری کے خلاف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹرز کی غیر معینہ مدت تک تعیناتی غیر آئینی ہے، یونین کونسل چیئرمین کے براہِ راست انتخاب اور بلدیاتی اداروں کی 5 سالہ مدت کو یقینی بنایا جائے۔پی ٹی آئی نے متنازع شقوں پر عملدرآمد روکنے اور بلدیاتی جمہوریت کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے

    خیبرپختونخوا بار کونسل انتخابات، پشاور کی 7 نشستوں پرانصاف لائرز فورم دو سیٹوں پر کامیاب

  • پی ٹی آئی کا میئر کراچی کے حمایت یافتہ  ارکان سے لاتعلقی کا اعلان

    پی ٹی آئی کا میئر کراچی کے حمایت یافتہ ارکان سے لاتعلقی کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے میئر کراچی کے حمایت یافتہ سٹی کونسل کے 32 ارکان سے باضابطہ طور پر لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکرٹری ارسلان خالد کی جانب سے میئر کراچی کو ایک خط ارسال کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان منحرف ارکان کی بنیادی رکنیت پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ارکان کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا عوامی یا سرکاری سطح پر ان کا تعلق پارٹی سے نہ جوڑا جائے۔

    ارسلان خالد نے خط میں مزید وضاحت کی کہ یہ مراسلہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچنے کے لیے ارسال کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان 32 ارکان کو سٹی کونسل میں آزاد اراکین کے طور پر شمار کیا جائے اور سرکاری خط و کتابت یا عوامی حلقوں میں انہیں پی ٹی آئی کا نمائندہ نہ سمجھا جائے

    پی ٹی آئی آزاد کشمیر کا منحرف ارکان کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

    پاکستانی میزائل تجربات: دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور جوہری توازن برقرار رکھنے کی کوشش

    محمد رضوان نے سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط سے انکار کر دیا

    پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی20 میں ٹاس جیت کر فیلڈنگ

  • وزیراعلیٰ حلف برداری سے قبل پی ٹی آئی کی اہم مشاورت، کابینہ میں ردوبدل متوقع

    وزیراعلیٰ حلف برداری سے قبل پی ٹی آئی کی اہم مشاورت، کابینہ میں ردوبدل متوقع

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی حلف برداری سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم بیٹھک جاری ہے، جس میں صوبائی کابینہ کی تشکیل پر تفصیلی مشاورت ہو رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نئی کابینہ میں زیادہ تر پرانے وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کو برقرار رکھنے کا امکان ہے، تاہم کچھ نئے اور اہم چہروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے اندر علی امین گنڈاپور کے مخالف گروپ کے ارکان بھی وزارتوں کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔مزید بتایا گیا کہ نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کابینہ میں ردوبدل کا مکمل اختیار دیا گیا ہے، جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مزمل اسلم کو مشیر خزانہ مقرر کرنے کے علاوہ باقی تمام اختیارات سہیل آفریدی کو سونپ دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور نے ماضی میں شہرام ترکئی اور اسد قیصر کے بھائیوں کو کابینہ سے فارغ کیا تھا، تاہم سہیل آفریدی کے انتخاب کے بعد شہرام ترکئی اور عاطف خان نے دوبارہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان: بارڈر ملٹری پولیس کی کارروائی، 34 کلو چرس برآمد، سمگلنگ کی کوشش ناکام

  • پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں علی امین کی نئی ہدایت

    پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں علی امین کی نئی ہدایت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔

    اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ارکان اسمبلی کو پشاور میں رہنے کی ہدایت دی۔ذرائع کے مطابق علی امین نے کہا کہ گورنر غلط بیانی کر رہے ہیں کہ استعفیٰ نہیں ملا، استعفیٰ گورنر ہاؤس میں جمع کرایا گیا ہے اور اس کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔اجلاس میں نامزد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ علی امین میرے بڑے ہیں اور میں ان سے رہنمائی لوں گا۔ادھر وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد علی امین گنڈاپور ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے۔ روانگی سے قبل انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے اسٹاف سے مصافحہ کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

    گزشتہ روز علی امین گنڈاپور نے واضح کیا تھا کہ وہ وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور اب اگر بانی پی ٹی آئی بھی کہیں گے تو وہ اپنا فیصلہ واپس نہیں لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ عام ورکر کی طرح پارٹی کے ساتھ کام کریں گے، جبکہ مخالفین کو چیلنج دیا کہ سیاسی کوشش کرکے دیکھ لیں، خیبر پختونخوا حکومت نہیں گرائی جا سکتی۔

    امریکہ میں بارودی مواد بنانے والے پلانٹ میں دھماکا، متعدد ہلاک و لاپتہ

    ٹرمپ کے دورہ اسرائیل کے لیے سیکیورٹی پلان ، سڑکیں بند ، پابندیاں عائد

    اگر دہشت گرد افغانستان سے آئے تو اُن کے پیچھے جائیں گے،خواجہ آصف

    ٹرمپ کو بڑا جھٹکا،شکاگو میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی معطل

  • علی امین گنڈاپور کا وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ گورنر کو موصول

    علی امین گنڈاپور کا وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ گورنر کو موصول

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ گورنر خیبر پختونخوا کو جمع کرا دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے میں لکھا کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور بانی عمران خان کے احکامات کی تعمیل میں یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 130 کی شق (8) کے تحت وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔اپنے استعفے میں سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ جب انہوں نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو صوبہ مالی مشکلات اور دہشت گردی کے سنگین خطرات سے دوچار تھا۔ ’’ہم نے عمران خان کی رہنمائی میں مالی استحکام حاصل کیا اور صوبے کو امن و ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔‘‘

    علی امین گنڈاپور نے اپنے کابینہ کے اراکین، اراکینِ اسمبلی، سرکاری افسران اور پارٹی کارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر معمولی حالات میں بھی ثابت قدمی سے صوبے کی خدمت کی۔انہوں نے کہا کہ میں یہ دعویٰ تو نہیں کر سکتا کہ ہر چیلنج میں کامیاب ہوا، لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت میں ہمیشہ خلوص اور دیانت داری سے کام کیا۔

    استعفے کے آخر میں انہوں نے پاکستان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے حق میں نعرہ تحریر کیا کہ پاکستان زندہ باد، پاکستان تحریکِ انصاف پائندہ باد۔استعفے پر علی امین گنڈاپور کے دستخط کے ساتھ تاریخ 8 اکتوبر 2025 درج ہے۔

    نئی دہلی میں افغان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روک دیا گیا

  • سینیٹ میں ہنگامہ آرائی: پی ٹی آئی کا قائم مقام چیئرمین کے استعفے کا مطالبہ

    سینیٹ میں ہنگامہ آرائی: پی ٹی آئی کا قائم مقام چیئرمین کے استعفے کا مطالبہ

    سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹرز نے قائم مقام چیئرمین سیدال خان ناصر کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

    اجلاس کا آغاز سیدال خان ناصر کی زیر صدارت ہوا تو پی ٹی آئی سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں چیئرمین کا رویہ درست نہیں تھا، اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین کی نشست چھوڑ دی جائے۔سینیٹر طاہر خلیل سندھو نے کہا کہ اس دن چیئرمین کو بھی گالیاں دی گئی تھیں، اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی جائے۔پی ٹی آئی ارکان نے نعرے بازی اور ڈیسک بجا کر احتجاج کیا اور ڈپٹی چیئرمین کے استعفے کا مطالبہ دہراتے رہے۔

    دوران اجلاس پیپلز پارٹی کا بائیکاٹ جاری رہا جبکہ مسلم لیگ ن کے سینیٹرز بھی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ بعد ازاں سینیٹر عبدالقادر نے کورم کی نشاندہی کر دی جس پر ایوان میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔پی ٹی آئی سینیٹرز نے مؤقف اپنایا کہ ایوان میں کورم پورا ہے، تاہم قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ ہماری کوشش بلوچستان پر بات کرنے کی تھی لیکن ہنگامے نے ایوان کا ماحول بگاڑ دیا۔بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس جمعہ صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

    گوگل کا پاکستانی طلبا کو مفت جیمینائی اے آئی پرو پلان دینے کا اعلان

    ترکیہ کا غزہ جنگ بندی معاہدے کی ٹاسک فورس میں شامل ہونے کا اعلان

    بھارت کے لیے ویزا قوانین میں نرمی نہیں ہوگی،برطانوی وزیراعظم

    افغان حکومت کی پاکستان میں سرگرم افراد کو بسانے کی پیشکش، 10 ارب روپے طلب