Baaghi TV

Tag: پاکستان فلم انڈسٹری

  • انڈسٹری کےلئے حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ونچرکرے حیدر سلطان

    انڈسٹری کےلئے حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ونچرکرے حیدر سلطان

    سلطان راہی کے بیٹے حیدر سلطان جنہوں نے حال ہی میں دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے پریمئیر میں شرکت کی، انہوں نے فلم کو خاصا سراہا اور کہا کہ یہ فلم پنجابی سینما کو مضبوط بنانے کےلئے اہمیت کی حامل ہے. حیدر سلطان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری نے ہمیشہ اپنے پائوں پر خود کھڑے ہونے کی کوشش کی کسی بھی حکومت نے اس کی سرپرستی نہیں کی حالانکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ انڈسٹری کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ونچر کرے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا. حیدر سلطان نے کہا کہ ہمارے پاس بہت کم بجٹ ہوتے ہیں وسائل بھی محدود ہوتے ہیں ، محدود وسائل کے ساتھ فلمیں بنانا بہت بڑی بہادری ہے. ہم کم وسائل اور بجٹ میں بہترین فلمیں تیار کر رہے ہیں.

    حیدر سلطان نے کہا کہ پنجابی سینما کو سپورٹ کی بے حد ضرورت ہے اور یہ سپورٹ سب سے پہلے آرٹسٹوں کو خود دینی ہو گی وہ فلمیں کریں کام کریں، کام کرنے کی حامی بھریں اگر ہر کوئی اپنی اپنی جگہ بیٹھا رہے گا تو پنجابی سینما تو جوں کا توں رہے گا . یاد رہے کہ حیدر سلطان راہی پجابی فلموں کے اداکار ہیں ان کی رواں برس اشتہاری ڈوگر ریلیز ہوئی تھی جس نے اچھا بزنس کیا تھا اور حیدر سلطان نے اس فلم کی کامیابی کا جشن بھی منایا تھا .

  • شان شاہد فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب چھوڑ‌کر چلے گئے

    شان شاہد فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب چھوڑ‌کر چلے گئے

    پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب کا اہتمام آج لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا . تقریب میں شان شاہد بھی موجود تھے. تقریب تین بجے شروع ہونا تھی لیکن فلمسٹار شان شاہد ایک گھنٹہ قبل ہی پہنچ گئے اور کچھ دیر بیٹھے رہے جیسے ہال میں‌ مہمانوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو شان شاہد تقریب چھوڑ کر چلے گئے . وہاں‌ موجود لوگ حیرانی میں مبتلا ہو گئے کیونکہ شان تقریب اٹینڈ کرنے آئے تھے لیکن تقریب کو ادھورا چھوڑ کر ہی چلے گئے. قیاس یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ شان شاہد اس لئے اٹھ کر چلے گئے کیونکہ

    وہ جانتے تھے کہ فلم کی تقریب کا مہمان خصوصی ن لیگ کا رہنما رانا مشہود تھا اور شان شاہد کسی بھی صورت ان کے ساتھ مل کر نہیں‌بیٹھنا چاہتے تھے. اس لئے شان نے تقریب کو ادھورا چھوڑ کر نکلنے کی کی ، تاکہ ان کا سامنا ن لیگ کے رہنما رانا مشہود سے نہ ہو . شان شاہد سے تقریب میں‌کچھ چینلز نے تقریب کے حوالے سے ساٹس دینے کو بھی کہا شان اس ریکویسٹ کو بھی نظر انداز کر گئے اور بولے میں بس ابھی آیا ، یوں شان باہر نکلے اور واپس نہیں آئے میڈیا ان کا ساٹ لینے کا منتظر رہا.

  • فلمی صنعت کی بحالی کے لئے جو کوششیں اب ہورہی ہیں وہ 10 سال پہلے ہونی چاہیں تھیں صائمہ نور

    فلمی صنعت کی بحالی کے لئے جو کوششیں اب ہورہی ہیں وہ 10 سال پہلے ہونی چاہیں تھیں صائمہ نور

    سینئر اداکارہ صائمہ نور نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے انہوں نے اس میں کہا ہے کہ پاکستان فلمی صنعت کی بحالی کے لئے جو کوششیں ہو رہی ہیں وہ حوصلہ افزاء ضرور ہیں اور مجھے خوشی بہت زیادہ ہے اس چیز کی لیکن میں سمجھتی ہوں کہ یہ کوششیں آج سے دس سال پہلے شروع ہوجانی چاہیں تھیں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے اور پاکستانی فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا ہر جگہ ہر سطح پر منوایا ہے. صائمہ نور نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے فنکاروں کی عزت کرنی چاہیے.صائمہ نور نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ یہ تاثر بالکل

    غلط ہے کہ میں نے فلموں سے کنارہ کشی اخیتار کی ہے میری اسی سال فلم تیرے باجرے دی راکھی ریلیز ہوئی ہے اور اب بھی مجھے کوئی اچھا
    پراجیکٹ ملا تو میں ضرور کروں گی. میں اپنے مداحوں کے لئے کام کرتی ہوں اور میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسا کام کروں جو انہیں‌پسند بھی آئے. صائمہ نور نے کہا کہ موجودہ دور کے تمام اداکار اچھا کام کررہے ہیں میں جب ان کا کام دیکھتی ہوں تو خوشی ہوتی ہے. میں نے ڈراموں میں بھی کام کیا ہے ڈراموں میں کام کرنے کا تجربہ اچھا رہا ہے اگر میرے پاس ڈرامے کا کوئی اچھا سکرپٹ آیا تو یقینا کروں گی.

  • فلم انڈسٹری کی ترقی کےلئے سینماﺅں کی تعداد بڑھانی پڑے گی معمر رانا

    فلم انڈسٹری کی ترقی کےلئے سینماﺅں کی تعداد بڑھانی پڑے گی معمر رانا

    نوے کی دہائی کے سپر ہٹ اداکار معمر رانا کہتے ہیں کہ انہوں نے توپاکستان فلم انڈسٹری کا ایسا سنہرا دور بھی دیکھا ہے کہ جب پرڈیوسرز فلمیں بنا لیا کرتے تھے لیکن ان کو نمائش کے لئے سینما میسر نہیں ہوتے تھے.، یہ وہ دور تھا جب پاکستان فلم انڈسٹری اپنے عروج پر تھی سال میں کافی تعداد میں فلمیں بنتی تھیں اور سب فلموں‌کو شائقین کی جانب سے اچھا ریسپانس ملتا تھا. اداکار معمر رانا نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ فلم اور سینما گھر لازم و ملزوم ہیں، ہمیں سینما گھروں‌کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ٹکٹوں کی قیمتوں کو بھی مناسب کرنا ہو گا تاکہ ایک غریب آدمی اپنی فیملی کے ساتھ جا کر فلم دیکھ سکے.

    معمر رانا نے مزید کہا کہ جب فلمی صنعت تباہی کی طرف جانے لگی تو پھر سینما گھر بھی ٹوٹنے لگے سینما مالکان نے فلموں کا کاروبار چھوڑ کر دوسرے کاروبار کرنا شروع کر دئیے سینما گھر توڑ کر پلازے تعمیر کر لئے تاکہ وہ بھوکے نہ مریں. اب جب ایک بار پھر فلم انڈسٹری اپنے پائوں پر کھڑے ہو رہی ہے تو پھر ہمیں چاہیے کہ ہم جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ صرف سینما گھر بنائیں بلکہ فلمیں‌بھی بنائیں تاکہ شائقین کو وہ سب ہماری فلموں میں دیکھنے کو ملے جو وہ باہر کی فلموں میں دیکھنا پسند کرتے ہیں. یاد رہے کہ معمر رانا کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کے ان ہیروز میں‌ہوتا ہے جن کے کریڈٹ پر بے شمار ہٹ فلمیں ہیں انہوں نے اردو پنجابی دونوں طرح کی فلموں میں‌کام کیا.

  • رواں برس ستمبر میں ریلیز ہونے والی لالی وڈ کی فلمیں

    رواں برس ستمبر میں ریلیز ہونے والی لالی وڈ کی فلمیں

    جیسے ہی کورونا کے بادل چھٹے ہیں تو پاکستانی فلمیں ریلیز کی جا رہی ہیں رواں برس ابھی تک آٹھ نو فلمیں ریلیز ہو چکی ہیں وہ الگ بات ہے کہ عید الفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں‌کا کیا بزنس رہا اور عید الاضحی پر ریلیز ہونے والی فلموں کا بزنس کتنا ہے یہ الگ بحث ہے. کہا جا رہا ہے رواں برس ستمبر میں دو بڑی فلموں کا ٹاکر ہونے جا رہا ہے. ایک فلم ہے دا لیجنڈ آف مولا جٹ اور ضرار. دا لیجنڈ‌آف مولا جٹ کے ہدایتکار بلال لاشاری ہیں اور اس میں ماہرہ خان، فواد خان ، گوہر خان ، عمائمہ ملک اور حمزہ عباسی اہم اور مرکزی کرداروں‌میں‌نظر آرہے ہیں. اس فلم میں‌ماہرہ خان کا بولا گیا ایک ڈائیلاگ کافی مشہور ہے ” وے

    مولیا دسدے ایناں سب نوں کہ میں تیری پکی پکی مشوق آں” . فلم کافی عرصے سے تیار ہے لیکن کورونا کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتی چلی گئی. اس فلم کے ساتھ شان شاہد کی فلم ضرار ریلیز ہونے جا رہی ہے. دونوں بڑے بجٹ کی بننے والی بڑی فلمیں ہیں جن میں‌کاسٹ کافی ہیوی ہے کہا جا رہا ہے کہ دونوں فلمیں‌ ایک دوسرے کو باکس آفس پر ٹکر دیں گی. ستمبر کے مہینے میں‌ریلیز ہونے والی یہ دونوں‌فلمیں‌ہر حوالے سے تیار ہیں صرف ریلیز کی تاریخ کا انتظار کیا جا رہا ہے . فی الحال تو سینما گھروں میں ہمایوں سعید کی فلم لندن نہیں جائونگا اور ماہرہ خان اور فہد مصطفی کی فلم قائداعظم زندہ باد کامیابی سے جاری ہیں. امید کی جا رہی ہے کہ مزید بھی جو فلمیں ریلیز ہوں گی وہ اچھا بزنس کریں گی اور شائقین کو سینما گھروں میں لانے میں‌کامیاب ہوں گی.