Baaghi TV

Tag: پاکستان مسلم لیگ نواز

  • پیپلزپارٹی اراکین کا وفاقی حکومت گرانے کا عندیہ

    پیپلزپارٹی اراکین کا وفاقی حکومت گرانے کا عندیہ

    پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما نبیل گبول نے حکومت نے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم چاہیں تو اس حکومت کو گرا کر اپنی حکومت بناسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کےمطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں بیرسٹر عقیل ملک کے اس بیان کر جواب دیتے ہوئے نبیل گبول نے کہا آپ لوگوں صدر مملکت کو پریزینٹیشن کیوں دی؟ صدر زرداری نے خود قومی اسمبلی، سینٹ اجلاس میں کہا یہ قابل قبول نہیں ہوگا، ہم نہیں چاہتے کہ ہم سندھ میں احتجاج کریں، اور ساتھ میں حکومت میں بیٹھیں، لوگ ہمارا مذاق اڑائیں گے، ہم ایسا نہیں کرسکتے۔

    میزبان نے دریائے سندھ سے کینالز نکالنے کے معاملہ پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سمجھی رہی ہے پیپلزپارٹی کے ساتھ یہ ان کا معاملہ ہی نہیں ہے، بلکہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہے،جواب میں ن لیگ کے رہنما بیرسٹر عقیل ملک نے بیان دیا کہ پیپلزپارٹی وکٹوں کے دونوں جانب کھیل رہی ہے، صدر پاکستان نے جولائی میں ایک ٹویٹ کیا تھا کہ اگر یہ پاکستان کے مفاد میں ہے تو اچھا منصوبہ ہے۔ بطور قانون دان کہا اس معاملے میں صدر مملکت کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔

    نبیل گبول نے کہا شاید پیپلزپارٹی یہ سوچنے پر مجبور ہوچکی اور عوامی خواہش بھی یہی ہے کہ وہ اپوزیشن کی سائیڈ پر بیٹھے، اگر ہم بیٹھے تو صدر مملکت کو ضرور کہیں گے کہ وزیراعظم سے ’ ووٹ آف کانفیڈنس‘ لیں، پھر پتہ چلے گا کہ اُن کے پاس نمبرزہیں یا نہیں؟نبیل گبول نے دعویٰ کرتے کہا ہمارے پاس نمبرز ہیں اور چاہیں تو حکومت گرا کر اپنی بناسکتے ہیں، ہمارے پاس 130 سے زائد سیٹیں ہیں، ہم پی ٹی آئی میں بھی نہیں بیٹھیں گے۔

    اس سے قبل ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے ’ کینالز‘ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کی عوام نے سندھو دریا پر نئی نہروں کے منصوبے کو مسترد کر دیا،عوام پہلے ہی پانی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں، نئی نہریں نکالنےکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وفاق دریائے سندھ پر 6 نئی نہروں کی تعمیر کے اپنے متنازعہ منصوبے سے فوری طور دستبردار ہوجائے۔

    شازیہ مری نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے انتباہ پر غور کرے ورنہ وفاقی حکومت کسی وقت بھی گرسکتی ہے، چیئرمین بلاول کہہ چکے ہیں کہ حکومت اور عوام کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا، تو وہ ہر بار عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

    پنجاب یونیورسٹی سے اساتذہ کروڑوں روپے کی اسکالرشپ لے کر فرار

    عظمی بخاری کی صحافیوں کو 5 مرلے کا پلاٹ دینے کی یقین دہانی

    امریکا اور ایران کے مذاکرات کا دوسرا دور مکمل

    بلاول بھٹو کا سندھ پیپلز ہاؤسنگ کے تحت بننے والے گھروں کا دورہ

  • ن لیگ کا عوامی رابطے بڑھانے کے لیے کیلیے لاہور سیکریٹریٹ  کا فیصلہ

    ن لیگ کا عوامی رابطے بڑھانے کے لیے کیلیے لاہور سیکریٹریٹ کا فیصلہ

    پاکستان مسلم لیگ نواز نے عوامی رابطے بڑھانے کے لیے لاہور میں سیکریٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آٹھ کروڑ کی لاگت سے نصیرآباد آفس کو اسٹیٹ آف دی آرٹ سیکرٹریٹ میں تبدیل کیا جائے گا، لاہور سیکرٹریٹ میں ضلعی و مقامی رہنماؤں کے دفاتر میٹنگ رومز بنائے جائیں گے۔ سیکرٹریٹ کے لیے فنڈز کا فی الحال کھوکھر فیملی از خود انتظام کرے گی، لاہور میں ماڈل ٹاون سیکرٹریٹ ہی مرکزی قیادت کی سرگرمیوں کا محور ہے۔

    مسلم لیگ (ن) کے پارٹی ذرائع کے مطابق عوامی رابطہ مہم کیلیے نصیر آباد آفس کو اسٹیٹ آف دی آرٹ پارٹی آفس بنانے کےلیے پارٹی قیادت سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔لاہور سیکرٹریٹ بننے سے رہنماوں اور کارکنان میں فاصلہ کم ہوگا جس سے کو پارٹی مزید منظم ہو سکے گی۔

    سندھ حکومت کا نوجوانوں کےلیے انٹرپرینیورشپ سیشنز کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا نوجوانوں کےلیے انٹرپرینیورشپ سیشنز کا فیصلہ

    گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں بڑا اضافہ، الیکٹرک وہیکلز پر بھی لاگو

    کراچی میں آگ 2 ہفتے بعد بھی کم نہ ہوئی، امریکی ٹیم کی خدمات حاصل

  • ن لیگ اور جے یو آئی میں سیاسی رابطے

    ن لیگ اور جے یو آئی میں سیاسی رابطے

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے جے یو آئی۔ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شہر اقتدار میں ہونے والی ملاقات کے دوران سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکراتی عمل میں پیشرفت سے مولانا فضل الرحمان کو آگاہ کیا۔ن لیگی سینیٹر نے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے کو خوش اسلوبی سے سلجھانے کےلیے جے یو آئی سربراہ کی کوششوں کو سراہا۔سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جمہوری عمل کا اہم جزو ہیں۔ افہام و تفہیم سے گریز اور مذاکرات سے انکار غیر جمہوری رویہ ہے، بڑے بڑے مسائل مل بیٹھ کر آپس میں بات چیت کے ذریعے ہی طے کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کو ہر اعتبار سے استحکام اور باہمی اتحاد کی ضرورت ہے جس کے لیے سیاسی ہم آہنگی ضروری ہے۔

    دھند اور خراب موسم، ٹرینیں تاخیر کا شکار

    مودی کا جِل بائیڈن کوسب سے مہنگا تحفہ، تفصیلات جاری

    سال 2025 کی پہلی براہ راست سرمایہ کاری آگئی

  • ‏حکومت کی  پیپلز پارٹی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل

    ‏حکومت کی پیپلز پارٹی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل

    ‏حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی میں اسحاق ڈار،خواجہ آصف،اعظم نذیرتارڑ اور احد خان چیمہ شامل ہیں جبکہ امیر مقام،رانا ثنااللہ،ملک احمد خان اورمریم اورنگزیب بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے،خواجہ سعد رفیق ،جعفر مندوخیل اوربشیر احمد میمن بھی کمیٹیمیں شامل ہوں گے، ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف نے کمیٹی کو پاکستان پیپلز پارٹی کیساتھ مشاورت کی ذمہ داری سونپ دی ہے جبکہ کمیٹی کو مشاور ت کے بعد سیاسی تعاون اور مسائل کے حل کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی . اس حوالے مزید بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی پیپلز پارٹی کیساتھ بات چیت سے آئندہ کے لائحہ عمل طے کرے گی.واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کو دیے جانے کے بعد پیپلزپارٹی نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دے تھی۔
    کمیٹی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، راجا پرویز اشرف، نوید قمراور سینیٹر شیری رحمن، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی،گورنر پنجاب سلیم حیدر اور گورنر خیبرپختونخوا فصیل کریم کنڈی کے علاوہ اور حیدر گیلانی کو بھی کمیٹی میں شامل کر لیا۔رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی آئندہ ماہ طلب کر لیا گیا ہے، جس میں اعلی سطح کی کمیٹی وفاق سے مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی پیشکش کی گئی، بلاول بھٹو نے موجودہ حالات میں وزیر اعظم سے ملاقات سے معذرت کر لی۔

    چھٹیاں حل نہیں ،چھٹیوں کا حل نکالئے

    سیالکوٹ: ناجائز اسلحہ اور ہوائی فائرنگ، تھانہ کوتوالی کا کریک ڈاؤن

    پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

  • اگر لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو اسمبلی کی رکنیت کا کوئی فائدہ نہیں،مصطفیٰ کمال

    اگر لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو اسمبلی کی رکنیت کا کوئی فائدہ نہیں،مصطفیٰ کمال

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہم نے مسلم لیگ ن کے ساتھ حکومت سازی کیلئے دوسری جماعتوں کی طرح کسی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں کی بلکہ انتخابات کے انعقاد سے بھی 4 ماہ قبل ہم نے خود جاکر مسلم لیگ ن کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سید مصطفی کمال نے کراچی کے علاقے ہاکس بے روڈ پر قومی شجر کاری کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے ایک اصولی مطالبہ رہا ہے کہ ملک میں اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منصفانہ منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔ آج تک ہم نے وفاقی حکومت میں اپنے اتحادی مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے بند کمروں کی ملاقاتوں میں یہی گزارشات رکھی ہیں تاکہ پاکستان کے عوام اور بلخصوص شہری سندھ کے عوام کی بہتری کیلئے کوئی کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی بات مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین سن 2006 میں ہونے والے معاہدے چارٹر آف ڈیموکریسی کے نکات نمبر10 میں بھی درج ہے کہ اختیارات و وسائل کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے، جب وفاقی حکومت میں شامل دونوں جماعتیں عدالتی اصلاحات کیلئے چارٹر آف ڈیموکریسی کا حوالہ دیتی ہیں تو پھر وہ اُس چارٹر کے نکات نمبر 10 پر عملدرآمد کیلئے ہماری عملی مدد کیوں نہیں کرتی؟

    قلب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ افسوسناک ہے؛ وزیراعلیٰ سندھ

    سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہماری گزارشات پر ہمیشہ رضامندی کا اظہار کیا اور شہری سندھ کے حوالے سے ہمارے موخر کی ہمیشہ تائید کی ہے لیکن عملاً اقدامات کہیں نظر نہیں آرہے ہیں، ہم انتہائی احترام سے شکوہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے کم کہے کو زیادہ سمجھا جائے اور مسلم لیگ ن ایم کیو ایم کے حوالے سے اپنے رویے پر نظر ثانی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن اس بات کا خیال رکھے کہ ہم بھی ایک سیاسی جماعت ہیں اور ہمیں پہلے ہی اپنے لوگوں کو جواب دینا مشکل ہو رہا ہے اوپر سے ایسے وقت میں کوٹہ سسٹم میں 20 سال توسیع کا بل آنا ہمیں مزید سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ جب ہم اپنے لوگوں کے مسائل حل نہیں کر پارہے ہیں تو پھر اسمبلی کی رکنیت رکھنے کا کیا فائدہ؟ اگر ہمارے اسمبلیوں میں ہوتے ہوئے کوٹہ سسٹم میں 20 سال کی توسیع کردی جائے تو لعنت بھیجتے ہیں ہم ایسی رکنیت پر۔

    انہوں نے ایک بار پھر مسلم لیگ ن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پیپلز پارٹی یا کسی دوسری جماعت سے کوئی تعلق نہیں، ہم آپ کے اتحادی ہیں اور ہمیں درپیش مسائل کو حل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے، جس کوٹہ سسٹم نے سالوں تک شہری سندھ کے عوام کا تعلیمی اور معاشی استحصال کیا ہے ہم اس میں توسیع کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

  • شاہد خاقان عباسی کے نمبر پورے لیکن اٹھارویں ترمیم پر کمیٹی بنانے میں ناکام

    شاہد خاقان عباسی کے نمبر پورے لیکن اٹھارویں ترمیم پر کمیٹی بنانے میں ناکام

    پاکستان مسلم لیگ ن کو ملک کی دوسری اور پھر کچھ وقت کے لیے سب سے بڑی جماعت رہنے کا درجہ حاصل رہا ہے۔ ملک کی دیگر جماعتوں کی طرح مسلم لیگ ن میں بھی فیصلوں کا اختیار فرد واحد میاں محمد نواز شریف ہی کے پاس رہا ہے۔ ملکی سیاست سے نواز شریف کے باہر ہونے کی وجہ سے پارٹی میں قیادت کے بہت سے امیدوار منظر عام پر آچُکے ہیں۔ نواز شریف کے بعد زیادہ تر معامالات ان کے چھوٹے بھائی میاں محمد شہباز شریف سنبھالا کرتے تھے۔
    کہتے ہیں نہ کہ حالات و واقعات اور موسم کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔
    نواز شریف کو عدالت نے 2018 کے انتخابات سے کچھ ہی وقت پہلے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار دے دیا۔

    اس فیصلے نے مسلم لیگ ن کی طاقت اور حیثیت دونوں ہی کو کمزور کر دیا ہے۔
    اس دوران نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے “وٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگایا۔ اسی نعرہ کو لے کر ریلیاں نکالی گئیں لیکن طاقت کے مرکز کے ساتھ بات چیت بھی چلتی رہی۔ پھرعلاج کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن چلے جاتے ہیں۔ شہباز شریف بھی بھائی کے ساتھ ہی جاتے ہیں پاکستان میں پارٹی کی باگ دوڑ مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی سنبھالتے ہیں۔ پارٹی قیادت کے لیے پاکستان اور لندن میں کھینچا تانی بھڑتی چلی گئی۔ لندن میں اسحاق ڈار گروپ بندیاں کرنے لگے گو نواز شریف سے ان کے تعلقات ماضی جیسے نہیں رہے۔
    پاکستان میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال متحرک ہوئے۔

    ساتھ ہی شہباز شریف کی قیادت میں خواجہ آصف اور چند لوگ سرگرم ہیں۔
    شہباز شریف نے لندن سے واپس آکر یہ تاثر دینے کی کوشش کی انہیں اہم زمہ داریاں دینے کے لیے بلایا گیا ہے۔ ان کے اس پیغام کے بعد پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی مجروع ہو گئی۔ ملک میں اس وقت اٹھارویں ترمیم اور نیب میں ترامیم پر سیاست چل رہی ہے۔ اس صورت حال میں شہباز شریف نے اٹھارویں ترمیم اور نیب ترامیم پر پارٹی رہنماؤں کو خاموش رہنے کی ہدایت کی ہوئی ہے۔ تیزی سے بدلتی سیاسی صورت حال میں مسلم لیگ ن کے اندر قیادت کے حصول کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں بڑی کوشش کی کہ اٹھارویں ترمیم اور نیب پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ مجوزہ کمیٹی میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق شامل ہوں جو ان دونوں ایشوز پر مقتدر حلقوں سے مذاکرات کرے گی۔ پارلیمانی ایڈوائزری کمیٹی نے شاہد خاقان عباسی کی اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا معاملہ اگلے اجلاس تک بڑھا دیا کیونکہ اس ایڈوائزری کمیٹی میں سب شاہد خاقان عباسی کے ساتھ نہیں ہیں ۔ اس کے باوجود شاہد خاقان عباسی مسلسل کوششوں میں لگے ہیں کہ کسی طرح کمیٹی بن جائے اور پھر وہ مرکزی دھارے میں آجائیں۔
    موجودہ صورت حال میں شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنماؤں کے نزدیک اگر ابھی خاموشی اختیار کی گئی تو پھر کچھ نہیں بچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے یہ دو گروپ آمنے سامنے آچکے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کی سیاست میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔ مسقبل کی سیاست میں اپنی غلطیوں کی وجہ سے شہباز شریف کے نمبر کہیں نہیں اور شاہد خاقان عباسی اپنے نمبر تقریباً پورے کروا چکے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگانے والی مریم نواز بھی دوڑ میں بہت پیچھے رہ چکی ہیں۔ پارٹی کے لوگ بھی اب یہی کہنے لگے ہیں کہ بہت ہو گئی سیاست اور جماعت کے فیصلے اب ملک کے اندر ہی ہونے چاہئیں۔ اسی لیے موجودہ صورت حال کا سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں اور ان کا مخالف گروپ بھی اب بھرپور متحرک ہو چکا ہے۔