Baaghi TV

Tag: پاکستان پیپلز پارٹی

  • سندھ کے اسپتالوں کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں،بلاول بھٹو

    سندھ کے اسپتالوں کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں،بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سندھ کے اسپتالوں کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں، ہم نہیں پوچھتے کہ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے؟ کونسی زبان بولتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جناح پوسٹ گریجویٹ میڈ یکل کالج میں 500 بستروں اور 18 جدید ترین آپریشن تھیٹروں پر مشتمل سرجیکل کمپلکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا تصور دیا۔

    مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم کے انتہائی قریبی دوست سے ملاقات

    بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاستدان آکر بڑے بڑے دعوے تو کرتے ہیں، دی اکانومسٹ کے مطابق ایشیا میں پبلک پرائیویٹ کا بہترین ماڈل کراچی میں ہے، کراچی اور پاکستان کے لئے صحت کی اچھی سہولتیں فراہم کرتے ہیں بین الاقوامی اداروں کی طرح ادارے چلا رہے ہیں، صحت کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بہترین مثال ہے، شہید محترمہ کی خواہش کے مطابق کام کررہے ہیں،جب جے پی ایم سی آتے ہیں تو کوئی نیا کام شروع ہوتا ہے، کراچی کے ہیلتھ کئیر انفراسٹرکچر کےلئے ادارے کا کام اہم ہے مفت علاج اور کھانے تک کا خیال رکھ رہے ہیں۔

    مادر پدر آزادی خطرناک، ایسے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی،وزیراعظم

    پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہاں پر ہر پاکستانی کو سہولت مل رہی ہے، ہم یہ نہیں پوچھتے کہ آپ کہاں سے آئے ہو اور کون ہو؟ جو کام پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کررہا ہے وہ کوئی نہیں کررہا، ایس آئی یو ٹی میں بہترین کام ہورہا ہے، یہ کام آپ کے سامنے ہے-

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ثابت کیا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ نے ڈیلیور کیا، دی اکانومسٹ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں صوبہ سندھ کو مثالی قرار دیا آخری بار جب جناح اسپتال آیا تھا تو ایک سائبر نائف تھا، اب دو سائبر نائف ہیں، سندھ حکومت نے ایس آئی یوٹی کے ساتھ شراکت داری کی، سائبر نائف کینسر کا تیز ترین علاج ہے دنیا کا واحد ادارہ ہے جہاں مفت علاج ہورہا ہے، گورننس کے ہر جگہ ایشو ہوتے ہیں، جدوجہد کرنا پڑتی ہے، سندھ میں صحت کے نظام میں انقلاب شروع ہوا ہے۔

    جن لوگوں کو آج چوہدری شجاعت کی صحت کا خیال آ گیا ہے وہ گھبرائے ہوئے ہیں،وزیراعظم

    انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں سے درخواست ہے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں، شہریوں کے دروازے تک مفت علاج فراہم کرنا چاہتے ہیں، ادیب صاحب اور ایس آئی یو ٹی کا کام آپ کے سامنے ہے، کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر علاقوں میں سینٹرز بننے جارہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی سندھ کی مثال اور پہچان ہے، تمام اضلاع میں اب دل کے امراض کا مفت علاج فراہم کررہے ہیں، بچوں کا مفت اور معیاری علاج فراہم کررہے ہیں لوگ ہم پر تنقید کرتے ہیں، کہتے ہیں پیپلز پارٹی کراچی میں سرمایہ نہیں لگاتی، سارے سوالات کا جواب یہ جناح اسپتال ہے-

    نیب کا رویہ غیرذمہ دارانہ،سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، سپریم کورٹ

  • بلاول بھٹو نے گوجرانوالہ ڈویژن کے نئے عہدیداروں کا تقرر کر دیا

    بلاول بھٹو نے گوجرانوالہ ڈویژن کے نئے عہدیداروں کا تقرر کر دیا

    لاہور،چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گوجرانوالہ ڈویژن کے نئے عہدیداروں کا تقرر کر دیا۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے پولیٹیکل سیکرٹری جمیل سومرو نے اس بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ آصف بشیر بھاگٹ پاکستان پیپلز پارٹی گوجرانوالہ ڈویژن کے صدر مقرر ہو گئے ہیں۔

    ہمارے تین اسپتالوں کا بجٹ خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ سے زیادہ ہے،بلاول بھٹو

    جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق ملک طاہر اختر اعوان جنرل سیکرٹری اور عبدالرزاق سلیمی انفارمیشن سیکرٹری ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گمبٹ میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ادارے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ادارہ 100 فیصد مفت علاج کرتا ہے کینسرکا بھی 100 فیصد مفت علاج کیا جا رہا ہے گمبٹ آج سے پاکستان کا میڈیکل سینٹر ہے اور یہاں عالمی معیار کی سہولتیں موجود ہیں ہمارے یہاں تھیلیسیمیا کا بہت بڑامسئلہ ہےاورپاکستان میں اس کا علاج مہنگا ہےپہلے گمبٹ اسپتال میں گردوں اورجگرکاعلاج ہوتا تھا اور یہ ادارہ 100 فیصد مفت علاج مہیا کرتا ہے-

    کرپشن کیس: سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو سزا سنا دی گئی

    چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ بتائیں کہاں مفت علاج ہو رہا ہے؟ ہمارے تین اسپتالوں کا بجٹ خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی صوبے میں ایسا کوئی اسپتال نہیں جہاں کینسر، کڈنی اور لیور کا مفت علاج ہوتا ہو گمبٹ اسپتال میں 29 فیصد پنجاب کے مریضوں کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا جس پر میں گمبٹ کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو سلام پیش کرتا ہوں۔

    یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ اجلاس سے غیر حاضری کی وجہ بتادی

    قبل ازیں حیدرآباد میں مارچ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ لسانی تنظیمیں ہمیں آپس میں لڑوا رہی ہیں اور بلدیاتی نظام کو کالا قانون کہا جا رہا ہے پیپلزپارٹی غریب کی جماعت ہے اور ہم کسانوں کا معاشی قتل برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ حکومت کے خلاف 27 فروری کو کراچی سے نکلیں گے اور ہم جمہوری، قانونی و آئینی طاقت سے حکومت کو ختم کریں گے۔

    ​اسلام آباد ایئرپورٹ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ملازم منی لانڈرنگ میں سہولت کار نکلا

  • چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو دبئی روانہ

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو دبئی روانہ

    کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو دبئی روانہ ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پارٹی کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق چیئرمین پی پی بلاول بھٹو امارات ایئر لائن کی پرواز EK – 603 سے دبئی روانہ ہو ئے ہیں وہ دبئی میں تین دن قیام کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو آج دبئی ایکسپو میں منعقد ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کریں گے اور چیئرمین پی پی بلاول بھٹو سرمایہ کاری کانفرنس میں شریک سرمایہ کاروں سے خطاب بھی کریں گے-

    وا ضح رہے کہ اس سے قبل بلاول ہاؤس میں اپنی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلال ول زرداری نے کہا تھا کہ خان صاحب کا ہیلتھ کارڈ صحت کے نظام پر ڈاکہ ہے ہم عوام کے لیے 100 فیصد مفت علاج پریقین رکھتے ہیں سندھ کے اسپتالوں میں مفت کڈنی اور لیورٹرانسپلانٹ کی سہولتیں مل رہی ہیں جب کہ ہیلتھ کارڈ ان چیزوں کو کور ہی نہیں کرتا ہے۔

    پی آئی اے کے لیے یورپ کے دروازے کھلنے کی امید پیدا ہوگئی

    انہوں نے کہا تھا کہ سیاست ہر کسی کا حق ہے لیکن انتہا پسندی کی سیاست کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کی سیاست پر عوام نے فل اسٹاپ لگا دیا ہے میں چاہتا ہوں کہ اس شہر کی ترقی کے لیے کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو مزید سفری سہولتیں ملنی چاہئیں مراد علی شاہ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا جارہا ہے وزیراعلیٰ نے پارلیمان میں اقلیت کی بات کی تھی۔

    بہت جلد پنجاب میں کھویا ہوا مقام حاصل کرلیں گے:ن لیگ عملا ختم ہوچکی:بلاول بھٹو

    ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ مسلم لیگ (ن) سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کرے گی بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ آج پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو سچ بولتی ہے تنقید کرنا بالکل جائز ہے لیکن جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے۔

    شاہ جی آپ جب بھی بولتے ہیں تو پتھرہی تولتے ہیں‌:ہم نے آپ کوموقع دیا مگرآپ ناکام…

  • سڑکیں بنانے سے ملکی ترقی نہیں  ہوتی تو ترقیاتی بجٹ میں 38 فیصد کا اضافہ کیوں کیا گیا؟  بلاول بھٹو

    سڑکیں بنانے سے ملکی ترقی نہیں ہوتی تو ترقیاتی بجٹ میں 38 فیصد کا اضافہ کیوں کیا گیا؟ بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سڑکیں بنانے سے ملکی ترقی نہیں ہوتی تو ترقیاتی بجٹ میں 38 فیصد کا اضافہ کیوں کیا گیا؟-

    باغی ٹی وی : چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے قومی اقتصادی کونسل کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بجٹ میں شعبہ صحت و تعلیم کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا –

    بلاول بھٹو نے کہا کہ تعلیم کے لیے بجٹ میں 5.5 فیصد فنڈز مختص کرکےقوم کے ساتھ مذاق کیا گیا، صحت کے لیے 30 ارب روپے مختص کرنا عوام دشمنی کی انتہا ہے-

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹونے کہا کہ وزیراعظم نے سلیکٹڈ بجٹ بنایا جسے کسی طور قبول نہیں کریں گے-

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ بجٹ میں شعبہ صحت و تعلیم کو نظر انداز کیا گیا-

    بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کے مطابق سڑکیں بنانے سے ملکی ترقی نہیں ہوتی تو پھر اب ترقیاتی بجٹ میں 38 فیصد کا اضافہ کیوں کیا گیا؟

  • براڈشیٹ کیس کی تحقیقات: پارلیمنٹ کو انکوائری کمیٹی کے لئےشرائط کا مسودہ تیار کرنے کا مشورہ

    براڈشیٹ کیس کی تحقیقات: پارلیمنٹ کو انکوائری کمیٹی کے لئےشرائط کا مسودہ تیار کرنے کا مشورہ

    چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر عبدالرحمن ملک نے ہفتہ کو تجویز پیش کی کہ پارلیمنٹ کو شرائط کا مسودہ تیار کروا لینا چاہیے-

    چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر عبدالرحمن ملک نے ہفتہ کو تجویز پیش کی کہ پارلیمنٹ کو براڈشیٹ کیس کی تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیٹی کے حوالہ کی شرائط کا مسودہ تیار کرنا چاہئے۔

    انہوں نے ہفتہ کے روز دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ، "براڈشیٹ کیس کی آزاد اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا چاہئے تاکہ ذمہ داری طے کی جاسکے۔” چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایک دہائی تک ملک پر حکمرانی کی اور ان کے دور میں براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا ، "اس کی ایک مخصوص ٹائم لائن تھی اور جب خود مختار ریاست نے کسی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تو غیر ملکی عدالتوں نے اس پر عمل درآمد کیا۔” انہوں نے کہا کہ براڈشیٹ چارج شیٹ میں ، پھر ہسٹری شیٹ میں تبدیل ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات کے لئے تیار کردہ ٹی آرز کو پارلیمنٹ میں بھیجا جانا چاہئے ، جس کے بارے میں انھیں معلوم ہونا چاہئے۔

    سینیٹر عبدالرحمن ملک نے سینیٹ سیکرٹریٹ میں پانچ سوالات حکومت کو بھی پیش کیے ، جن کا جواب پارلیمنٹ میں طب کیا گیا۔ پہلا سوال جوانھون نے پوچھا وہ یہ تھا کہ غیر ملکی ممالک کے سامنے پاکستان کو متنازعہ معاملات پر کتنی قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے۔ دوسرا ، انھوں نے پوچھا کہ ہم نے پچھلے 10 سالوں میں کتنے معاملات کھوئے ہیں۔ تیسرا ، انھوں نے پوچھا کہ ہم بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر کے معاملے میں کتنی رقم کھو چکے ہیں۔ چوتھا ، انہوں نے پوچھا کہ پاکستان اور بیرون ملک دفاع کرنے والے وکلا کو کتنی فیس دی گئی ہے۔ آخر میں سینیٹر رحمان ملک نے اپنے ناموں سے وکلاء کو کی جانے والی کل ادائیگی کے بارے میں پوچھا۔

  • 41 سال قبل جب بھٹو کو پھانسی دی گئی، خود نوشت نذیر لغاری

    یہ اپریل 1979 ء کی تیسری تاریخ ہے۔ مجھے صبح سویرے اُٹھ کر سندھ ہائیکورٹ پہنچنا ہے جہاں شفیع محمدی نے دوسری بار قسمت آزمائی کرنی ہے۔ قبل ازیں جب سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی اپیل کو ایک متنازع اور منقسم فیصلے کے ذریعے مسترد کرتے ہوئے تین کے مقابلے میں چار ججوں کی اکثریت سے لاہور ہائی کورٹ کے کے انتہائی متعصبانہ فیصلے کو برقراررکھا تھاتو شفیع محمدی ایڈووکیٹ نے اس فیصلے کے خلاف 21 مارچ 1979ء کو سندھ کی شریعت بنچ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس اپیل کی تیاری میں ، میں شفیع محمدی صاحب کے ساتھ ساتھ تھا۔ میں نے ادھر اُدھر کی لائبریریوں اور اردو بازار سے تاریخ طبری، تاریخ مسعودی، طبقات ابن سعد، تاریخ ابنِ خلدون، تاریخِ یعقوبی، تاریخ علامہ جلال الدین السیوطی اور دیگر تاریخی کتب کے حصول میں ان کے ساتھ ساتھ رہاتھا۔ سندھ کی شریعت بنچ کے سربراہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عبدالقادر شیخ تھے جبکہ بنچ کے دیگر دو جج جسٹس ڈاکٹر آئی محمود اور ذوالفقار مرزا کے والد جسٹس ظفر حسین مرزا تھے۔ شفیع محمدی نے اپیل کی تیاری میں حضرت علی کی شہادت کے واقعہ کو بطورنظیر پیش کیا تھا۔ نظائر کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی نظیر تھی جسے شریعت کورٹ مسترد نہیں کرسکتی تھی۔ تاریخ کے مطابق کوفہ میں حضرت علی کو شہید کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی، پھر اس سازش پر عملدرآمد کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ منصوبے کے مطابق پہلے مسجدِ کوفہ کے دروازے پر حضرت علی پر وار کیا گیا جو خطا ہوا، دوسرا وار کچھ آگے بڑھنے کے بعد کیا گیا، وہ وار بھی خطا ہوگیا، تیسرا وار منصوبہ کے مطابق حضرت علی کی امامت میں نماز کی ادائیگی کے دوران کیا گیا، اس وار سے حضرت علی کو شدید زخم لگا، حضرت علی کو مسجدِ کوفہ سے ایوانِ امیرالمومنین لایا گیا۔ میں نے مسجد کوفہ میں جاکر حضرت علی کی سجدہ گاہ اور گھر کا وہ مقام دیکھا جہاں پر آپ کو لایا گیا۔ کچھ ہی دیر میں حملہ آور عبدالرحمن ابنِ ملجم کو پکڑ کر حضرت علی کے روبرو پیش کیا گیا۔ آپ کے سامنے تمام حقائق لائے گئے، ابنِ ملجم کا اعترافی بیان بھی آگیا۔ اس پر امیرالمومنین نے فیصلہ دیا کہ جن لوگوں نے قتل کی سازش تیار کی ان میں سے کسی کو کچھ نہ کہا جائے، جس شخص نے پہلا وار کیا اسے بھی کچھ نہ کہا جائے، دوسرا وار کرنے کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ اب رہا، ابنِ ملجم تو اگر میں اس وار کی شدت سے بچ گیا تو میں اپنا بدلہ خود لوں گا اور اگر اس وار سے میری جان چلی جائے تو ابنِ ملجم پر ایک ہی وار کیا جائے کیونکہ اس نے مجھ پر ایک ہی وار کیا ہے۔

    تاریخ کی تمام کتابوں میں حضرت علی کے اس فیصلے کو برہانِ قاطع کی حیثیت حاصل تھی۔ اب حقیقت یہ ہے کہ احمدرضا قصوری اور محمد احمد قصوری پر حملہ کے روز بھٹو صاحب ملتان میں تھے، چنانچہ شریعت کے اعتبار سے بھٹو صاحب کو سزا نہیں دی جاسکتی تھی۔صوبائی شریعت کورٹ کے تین رکنی بنچ نے شفیع محمدی کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اگلے روز کی تاریخ مقرر کردی اور ان سے معلوم کیا کہ آپ کے مقدمہ میں وکیل کون ہوگا، اس دوران شفیع محمدی سے کوئی مشورے کئے بغیر عبدالحفیظ پیرزادہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے کہ میں اس کیس میں شفیع محمدی صاحب کی طرف سے پیش ہوں گا۔ اس کے بعد کورٹ برخاست ہوگئی۔ میں اور شفیع محمدی چیف جسٹس کی کورٹ سے بارروم میں آگئے، یہاں ہمیں عبدالحفیظ پیرزادہ کا انتظار تھا تاکہ وہ آئیں اور ہم سے اس کیس سے متعلق ہماری تیاری کو ایک نظر دیکھ لیں، کیونکہ عدالت نے اگلے روز یعنی 22 مارچ 1979ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔ عبدالحفیظ پیرزادہ بارروم میں نہ آئے، ہم لگ بھگ دو گھنٹوں تک وہاں بیٹھ کر پیرزادہ کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران بار روم کا موضوع گفتگو یہی کیس تھا اور تمام وکلاء اسے بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے۔ اس دور کے کرمنل لاء کے سب سے بڑے ماہر عزیزاللہ شیخ کہہ رہے تھے کہ شفیع صاحب آپ نے شریعت کورٹ کا راستہ اختیار کر کے کیس کو نیا موڑ دے دیا ہے، اب بھٹو صاحب کو پھانسی دینا آسان نہیں رہا۔ شفیع محمدی اور میں بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔ جب بہت وقت گزر جانے کے بعد پیرزادہ نہ آئے تو میں اور شفیع صاحب سندھ مدرستہ الاسلام کے سامنے شفیع صاحب کے دفتر آگئے۔ ہمیں پیرزادہ کا رویہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اب کچھ کچھ پریشانی لاحق ہونے لگی تھی۔

    ہم دونوں شام سات بجے اُٹھ کر سن سیٹ بلیوارڈ پر واقع پیرزادہ کے گھر پر پہنچ گئے۔ وہ مختلف لوگوں سے ملاقاتوں میں مصروف تھے۔ دو گھنٹے انتظار کرانے کے بعد لگ بھگ سوا نو بجے پیرزادہ نے ہمیں شرفِ باریابی بخشا۔ ہم ملے تو بہت مطمئن نظر آئے اور کہنے لگے کہ شفیع صاحب اب تو ہمارے پاس بڑا وقت ہے۔ آپ فکر نہ کریں ، ہم یہ کیس جیت لیں گے۔ ہم پیرزادہ کے گھر سے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
    اگلے روز چیف جسٹس کی کورٹ میں شریعت بنچ کیلئے تین عدالتی کرسیاں لگی ہوئی تھیں، ٹھیک نو بجے تینوں جج صاحبان چیف جسٹس کے چیمبر سے نمودار ہوئے۔ کورٹ روم کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ عدالت میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ پورے ماحول پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کسی کے کھانسنے یا کھنکھارنے کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔ لوگوں کے ہاتھوں میں بندھی گھڑیوں کی ٹِک ٹِک اور سینوں میں دھڑکتے دلوں کی دھک دھک کو صاف سنا جا سکتا تھا۔ سندھ شریعت کورٹ میں ایک ہی کیس لگا ہوا تھا۔ جج صاحبان اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے تو چیف جسٹس عبدالقادر شیخ کی آواز نے سناٹے کا سینہ چیرتے ہوئے کہا”یس مسٹر پیرزادہ” پیرزادہ اپنی نشست پر روسٹرم کے سامنے کھڑے ہوئے اور ایک تباہ کن قیامت خیز جملہ ادا کیا "My lord I withdraw my case” ان کے اس جملہ کہنے شفیع محمدی اور میں حواس باختہ ہوگئے، ہمیں اپنے کانوں اور پیرزادہ کے ادا کئے گئے جملے کا یقین نہیں آرہا تھا۔ شفیع محمدی نے سراپا سوال بن کر شفیع محمدی سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا، پیرزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہماری ریویو پٹیشن لگی ہوئی ہے، ہمیں وہاں سے انصاف ملنے کا یقین دلایا گیا ہے۔ شفیع محمدی نے کہا سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کا ہماری شریعت کورٹ کی اپیل سے کیا تعلق ہے۔ پیرزادہ نے روکھے لہجے میں کہا آپ لوگ سپریم کورٹ کو اشتعال دلانا چاہتے ہیں۔

    رات کو بی بی سی نے آٹھ بجے کی نشریات میں اس خبر کو شامل کیا اور سیر بین کے تبصرے میں کہا گیا کہ بھٹو کو بچانے کاآخری موقع ضائع کردیا گیا۔
    پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا، سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی نظرثانی کی اپیل مسترد کردی۔ اب شفیع صاحب اور میں دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے، دوبارہ پٹیشن تیار کی گئی اور 2 اپریل کو صوبائی شریعت کورٹ سے اس پٹیشن کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اس پٹیشن کی فوری سماعت کی کیا ضرورت ہے۔ شفیع محمدی نے کہا کہ ضیاءالحق بدنیت ہے وہ بھٹو صاحب کو جلد پھانسی دے دے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نقطہ آپ نے پٹیشن میں درج نہیں کیا، شفیع صاحب نے جیب سے قلم نکالتے ہوئے کہا کہ میں اس پٹیشن میں قلم سے یہ جملہ درج کردیتا ہوں۔ چیف جسٹس عبدالقادر شیخ نے کہا کہ اب آپ یہ پٹیشن کل 3 اپریل کو دائر کیجیئے گا۔
    یہ اپریل 1978ء کی تیسری تاریخ ہے، میں صبح صبح پیراڈائز سینیما سے ہائی کورٹ کی بلڈنگ کی طرف جارہا ہوں، مجھے سامنے پاسپورٹ آفس کے قریب شفیع محمدی آتے ہوئے نظرآرہے ہیں، اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میرا دل بجھ گیا۔ میں تقریباً دوڑتے ہوئے ان کے قریب پہنچا اور پوچھا، کیا ہوا؟ شفیع محمدی نے روتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سنتے، میں نے پوچھا کہ کہتے کیاہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ جسٹس ڈاکٹر آئی محمود بیمار ہوگئے ہیں۔ لہذا شریعت بنچ ڈسچارج ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ عدالت سے کہتے ہیں کہ عدالت ہمارے خرچ پر جسٹس آئی محمود کے گھر چلے، وہاں چل کر ہم شریعت کورٹ کے روبرو استدعا کرتے ہیں۔ شفیع محمدی بولے کہ میں یہ بات کرچکا ہوں، چیف جسٹس اور جسٹس ظفر مرزا کہتے ہیں کہ جسٹس آئی محمود بات کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک بار اور چل کر بات کرتے ہیں۔
    ہم دونوں یتیموں کی طرح چیف جسٹس کے چیمبر کے سامنے پہنچے، شفیع محمدی نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو چیف جسٹس نے اُکتاہٹ سے کہا کہ شفیع صاحب آج کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم دروازے سے ہی واپس پلٹ آئے۔ ہم دوسری منزل سے گراؤنڈ فلور پر سامنے لان کی طرف چلے گئے۔ دائیں طرف بلڈنگ کے کونے پر صدیق کھرل، حسین شاہ راشدی، رخسانہ زبیری، بیگم اشرف عباسی اوریو نعمت مولوی کھڑے تھے، ہم دونوں اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب خاموش، سب ہماری ناکامی سے واقف، سب دلگرفتہ، سب مایوس، سب دلگیر۔۔۔اچانک صدیق کھرل کی آواز خاموشی کے سینے اور خود ہمارے دلوں میں خنجر بن کر اُتر گئی۔ "کل ڈیڈ باڈی آرہی ہے” میرے اور شفیع محمدی کے مشترکہ دوست خان رضوانی کی اپنے ذرائع سے یہ قیامت خیز خبر چھپ چکی تھی۔ ہم سب نے بیگم اشرف عباسی سے کہا کہ آپ پیرزادہ سے رابطہ کرکے اصل صورتحال معلوم کریں، رات کو بارہ بجے کے بعد بیگم اشرف عباسی کا حفیظ پیرزادہ سے رابطہ ہوا، پیرزادہ نشے میں تھا، اس نے بیگم اشرف عباسی سے کہا” ڈارلنگ کل تم ایک خوشخبری سنو گی”
    اس رات کو گزرے 41 سال گزر چکے ہیں، میں رات کے اس تیسرے پہر 41 سال پرانے وقت میں جا چکا ہوں، بھٹو صاحب کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان کی میت رات کی تاریکی میں اسلام آباد ائیر پورٹ لائی جاچکی ہے۔ پیرزادہ سو چکا ہوگا، میں اپنے گھر میں جاگ رہا ہوں۔ قمر عالم شامی میرے گھر میرے برابر ایک چارپائی سورہا ہے، نرسری میں میری بہنوں سے بھی زیادہ عزیز بہنوں شاہدہ اور زبیدہ نے شامی کو میرے ساتھ بھیج

    دیا تھا۔ آج کی رات بہت بھاری تھی، اس رات میرے ساتھ کوئی توہو جو مجھے سہارا دے سکے۔ 41 سال گزر گئے، یہ رات آج بھی بھاری ہے۔

    نذیر لغاری