Baaghi TV

Tag: پاکستان کے مشہور صحافی مبشر لقمان

  • انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل ، اصل حقیقت اور سچائی، آپکے سوال اور  مبشر لقمان کے جوابات

    انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل ، اصل حقیقت اور سچائی، آپکے سوال اور مبشر لقمان کے جوابات

    وی لاگ کے آغاز میں مبشر لقمان نے ناظرین کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے آنے والے سوالات کے جوابات دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، اور آڈیو سوالات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پیغام گویا اور واضح رہے۔

    ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ بعض نقطۂ نظر کے مطابق حماس کے بعض اقدامات اسرائیل کو مطلوبہ سیاسی اور عسکری نتیجے دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ حقیقی تباہی اور جانی نقصان اصل میں اسرائیلی حملوں سے سامنے آیا ہے۔ انہوں نے دونوں جانب انسانی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور صورتحال کی پیچیدگی پر زور دیا۔

    پاک-ہند تعلقات اور ممکنہ جنگی منظرنامے
    مبشر لقمان نے کہا کہ اگرچہ نظریاتی طور پر دونوں ملک نیوکلیئر صلاحیت رکھتے ہیں، مگر عالمی سطح پر کوئی بھی طاقت اس حد تک کشیدگی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا تب ابتدائی موبلائزیشن میں 12 تا 15 دن درکار ہوں گے اور اندرونی سیاسی معاملات (مثلاً انتخابی کیلنڈر) اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی طور پر خود کفیل ہے اور ضروری جنگی ضروریات کی بڑی مقدار مقامی صنعتیں فراہم کر رہی ہیں، نیز سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی بھی ایک اہم عنصر ہے۔

    وی لاگ میں مبشر لقمان نے JF-35 طیاروں کے بارے میں کہا کہ وہ رواں سال نومبر–دسمبر میں پاکستان کو موصول ہونے کی اطلاعات ہیں (بیان صرف وی لاگ میں موجود کلیم تک محدود ہے) اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ موجودہ فضائی اور بحری صلاحیتیں مطلوبہ ردعمل دینے کے قابل ہیں۔

    سی پیک، چین اور علاقائی حکمتِ عملی
    انہوں نے ذکر کیا کہ سی پیک (CPEC) پاکستان کی مفاد میں ہے اور اس کے سبب علاقائی متنازعہ فریقین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مبصر نے یہ بھی کہا کہ چین نے پہلے ہندوستان کو بھی اسی منصوبے میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی، جسے ہندوستان نے قبول نہیں کیا۔

    عوامی ذمہ داریاں: ماحولیات اور پانی کی حفاظت
    مبشر لقمان نے عوامی شراکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دو عملی مشورے دئیے: (1) درخت لگائیں — آکسیجن اور صحت کے لیے مفید، (2) پانی کی بچت کریں — روزمرہ کے غیر ضروری پانی کے استعمال پر قابو پائیں۔ انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ خود ان کے گھر میں بعض چیزیں ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئیں لیکن وہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    تحفّے اور رشوت میں فرق
    ناظرین کے سوال پر مبشر لقمان نے واضح کیا کہ تحفہ اور رشوت میں فرق سمجھنا ضروری ہے — سادہ تحفے باہمی تبادلے ہوتے ہیں، جب کہ ایسی چیزیں جو وصول کنندہ واپس نہیں کر سکتا یا جن کا تعلق اختیارات/فوائد کے بدلے میں ہو وہ رشوت کہلائیں گی۔وی لاگ میں مبشر لقمان نے کہا کہ اگر پاکستان واقعی اسلامی قوانین کے مطابق چلنا چاہتا ہے تو سود (ربا) کا خاتمہ اہم شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سود کا نظام برقرار رہے گا، وہ ملک کو اسلامی ریاست نہیں کہلائے گا — یہ ان کا ذاتی موقف تھا جو انہوں نے ناظرین کے سوال کے جواب میں واضح کیا۔

    غیرقانونی مقیم افغانوں اور شناختی کارڈز
    ایک اور سوال پر انہوں نے غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی بڑھتی ہوئی شکایات کا اعتراف کیا اور کہا کہ ایسے معاملات پر کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ بعض غیر قانونی حرکات پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ حقیقی پالیسی سازی اور عوامی مسائل کا حل عموماً مقامی حکومتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ انتخابی اصلاحات پر ان کا خیال تھا کہ سیاسی جماعتیں مکمل اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں چونکہ شفاف نظام میں موجود بعض قوتیں متاثر ہوں گی۔

    طالبان کا بگرام ایئربیس امریکا کے حوالے کرنے سے انکار

    کراچی میں ستمبر کے دوران جرائم کی صورتحال، سی پی ایل سی رپورٹ جاری

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

  • کشتی کی سواری اور فضائی سفر، سب ڈرامے،سیاسی پارٹیوں کو مبشر لقمان کا چیلنج

    کشتی کی سواری اور فضائی سفر، سب ڈرامے،سیاسی پارٹیوں کو مبشر لقمان کا چیلنج

    مبشر لقمان نے اپنے حالیہ وی لاگ میں حکومتی اشرافیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خاندان ملک کو لوٹ کر بیرونِ ملک سیر و تفریح میں مصروف ہیں۔

    انہوں نے خصوصی طور پر مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاپان اور تھائی لینڈ کے دوروں کے بعد سیلاب زدہ علاقوں کا ’’پکنک‘‘ کے انداز میں معائنہ کرنے پہنچیں۔ مبشر لقمان کے مطابق یہ دورے صرف فوٹو سیشن تک محدود ہیں اور ان کی وجہ سے ریسکیو کارروائیاں بھی متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ادارے پروٹوکول میں الجھ جاتے ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ حکومت کو چھ ماہ قبل ہی موسمیاتی وارننگز مل گئی تھیں کہ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں اور سیلاب کا خطرہ ہے، مگر اس کے باوجود غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو روکا نہیں گیا۔ ان کے مطابق چھ ہزار سے زائد غیر قانونی سوسائٹیز زیر تعمیر ہیں جو گرین ایریاز کو تباہ کر رہی ہیں۔

    وی لاگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اقوامِ متحدہ اور بل گیٹس فاؤنڈیشن کی امداد پاکستان کے لیے جاری کی گئی، لیکن وفاقی حکومت نے ایم ڈی ایم اے کے ذریعے تقسیم کا اعلان کیا جس کا ڈھانچہ ہی موجود نہیں۔ اس وجہ سے متاثرین تک امداد نہیں پہنچ رہی۔مبشر لقمان نے کہا کہ اس وقت حقیقی اور مخلصانہ امدادی کام صرف پاک فوج، دعوتِ اسلامی اور جماعت الدعوہ جیسے ادارے کر رہے ہیں۔ فوج کے جوان پہلے دن سے ہر صوبے میں سیلاب زدگان کی مدد کر رہے ہیں جبکہ مذہبی تنظیموں کے رضاکار جان ہتھیلی پر رکھ کر متاثرین تک سامان پہنچا رہے ہیں۔

    وی لاگ کے اختتام پر مبشر لقمان نے مریم نواز سے براہِ راست سوال کیا کہ کیا ’’اتحاد ٹاؤن‘‘ میں ان کے بیٹے اور قریبی خاندان کی بڑی سرمایہ کاری موجود ہے؟ اور کیا حکومت کی جانب سے وہاں اربوں روپے کی اسکیم صرف اس ٹاؤن کی قیمت بڑھانے کے لیے لائی گئی؟ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں‘‘، لہٰذا لوٹ مار بند کر کے عوام کی خدمت کی جائے۔مبشر لقمان نے چیلنج دیا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت آل پارٹیز کانفرنس بلا کر سیلاب متاثرین کے لیے عملی لائحہ عمل دے، تب ہی عوام ان کی سنجیدگی پر یقین کریں گے۔

    80 ارب واجبات،پی ٹی اےکمپنیوں کے لائسنس معطل کردیئے

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے نشانے پر ہے، بلاول بھٹو

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے نشانے پر ہے، بلاول بھٹو

  • مودی کے فیصلے زلیل کروائیں گے، امریکہ سے بھارتی ملک بدر،چین آگے سرنڈر

    مودی کے فیصلے زلیل کروائیں گے، امریکہ سے بھارتی ملک بدر،چین آگے سرنڈر

    پاکستانی تجزیہ کار مبشر لقمان نے اپنے حالیہ وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت رافیل طیاروں کی خریداری اور ان کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہونے کے بعد اب پانچویں جنریشن کے جنگی طیارے مقامی طور پر تیار کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے فرانسیسی کمپنی سیفران (Safran) سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مقامی انجن کی تیاری بھی ممکن بنائی جا سکے۔

    لقمان کے مطابق بھارت گزشتہ 40 سال سے تیجس پروگرام پر کام کر رہا ہے مگر اب تک یہ طیارہ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ رافیل کی فراہمی کے باوجود بھارتی فضائیہ کو پاکستان اور چین کے جدید لڑاکا جہازوں کا سامنا کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "بھارتی تجزیہ کار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دو محاذی جنگ کی صورت میں بھارتی فضائیہ کے پاس پاکستان اور چین کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی موجود نہیں۔”

    وی لاگ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی ویزہ ہولڈرز پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، جس سے امریکہ میں مقیم تقریباً 50 لاکھ بھارتی شہری متاثر ہوں گے۔ مبشر لقمان کے مطابق یہ اقدام بھارت کے لیے روزگار کے بحران کو مزید بڑھا سکتا ہے۔مزید برآں، مبشر لقمان نے بھارتی حکومت کے حالیہ فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی جس کے تحت ٹک ٹاک سمیت 60 چینی ایپس کی بحالی کا اعلان کیا گیا ہے۔ دو سال قبل یہی ایپس قومی سلامتی کے نام پر بھارت میں بین کی گئی تھیں۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں تضادات کو ظاہر کرتا ہے۔

    وی لاگ میں مانی پور فسادات پر بننے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے مطابق یہ فسادات ایک "سوچی سمجھی سازش” کے تحت کرائے گئے تھے تاکہ ایک خاص کمیونٹی کو علاقے سے بے دخل کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں گھر تباہ ہوئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔

    مبشر لقمان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستانی سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری انٹری کے فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی فوجی قیادت کا اسلام آباد کا حالیہ دورہ دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔

  • بھارتی عزائم پاکستانی ایٹمی اثاثے نشانہ، مودی یاد رکھے بڑی مار پڑے گی

    بھارتی عزائم پاکستانی ایٹمی اثاثے نشانہ، مودی یاد رکھے بڑی مار پڑے گی

    پاکستان کے مشہور صحافی مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں بھارت کے خطرناک منصوبے کو بے نقاب کیا ہے جس کے تحت بھارت نے اپنے جدید ترین انٹرکونٹیننٹل بیلسٹک میزائل اگنی 5 کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    اس میزائل کو پاکستان سمیت چین، ترکی اور یورپ کے مختلف ممالک کے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔مبشر لقمان نے وی لاگ میں اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا یہ میزائل تجربہ پاکستان کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔ اگنی 5 میزائل کی رینج 5000 سے 8000 کلومیٹر تک ہے اور یہ جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل ایک وقت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور بھارت نے اسے خاص طور پر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ہدف بنانے کے لیے تیار کیا ہے۔

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ بھارت کے اس اقدام کے بعد پاکستان خاموش نہیں رہ سکتا اور پاکستان نے اپنی جوابی کارروائی کی تیاری شروع کر دی ہے۔ پاکستان بھی اپنے مختلف میزائل ٹیسٹ کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ بھارت کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے۔وی لاگ میں مبشر لقمان نے چین کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران چین نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی متنازعہ علاقے میں چینی اثاثوں کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔

    مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ کے آخر میں کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے فوج تیار ہے اور بھارت کے کسی بھی جارحانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے اس میزائل تجربے پر سنجیدہ ردعمل ظاہر کیا جائے اور بھارت کی جانب سے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے منصوبے کو ناکام بنایا جائے۔

    اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔