Baaghi TV

Tag: پاک افغان سرحد

  • پاک افغان سرحد پرفتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک

    پاک فوج نے پاک افغان سرحد چمن سیکٹر پر فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی ہے جب کہ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک خارجی دہشت گرد ہلاک ہوگیا-

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جانب سے سرحدی باڑ کی حفاظت اور دراندازی روکنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، پاک افغان بارڈر پر چمن سیکٹر سے ملحقہ سرحدی علاقے میں 3 سے 4 خوارج پر مشتمل تشکیل کی دراندازی کو پاک فوج نے ناکام بنا دیا ہے پاک فوج نے باڑ کاٹنے والے خوارج کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جب کہ بروقت کارروائی کے دوران ایک خارجی دہشت گرد ہلاک جب کہ دیگر زخمی حالت میں فرار ہو گئے ہیں، خارجی دہشت گردوں سے 4 سے 5 آئی ای ڈیز اور باڑ کاٹنے کا سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے، پاک فوج کی منظم کارروائی سے دہشت گردوں کے منصوبے خاک میں مل گئے ہیں۔

    پنجاب میں دفعہ 144 میں توسیع

    کل تک پپٹرول کے 3 جہاز پاکستان پہنچنے کی توقع ہے،وزیر پیٹرولیم

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں 13 خوارج ہلاک

  • افغانستان سے بڑے پیمانے پر  اسلحہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    افغانستان سے بڑے پیمانے پر اسلحہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے بڑی کامیابی کرتے ہوئے افغانستان سےغیرملکی اسلحے کی بڑی کھیپ پاکستان میں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 8 جنوری 2025 کو پاک افغان سرحد سے متصل غلام خان بارڈر ٹرمینل پر اسلحہ بردار ٹرک قبضے میں لیا تھا۔ٹرک سے جدید ساخت کا غیر ملکی اسلحہ اور میگزین برآمد کر لئے گئے، برآمد غیر ملکی اسلحے میں 26، ایم 16 رائفلیں، M16 اور M4 رائفلوں کی 292 میگزین جبکہ 10 ہزار سے زائد گولیاں، کلاشنکوف کی 9 میگزین اور 244 گولیاں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ لائٹ مشین گن کی 744 گولیاں اور بڑی تعداد میں لنکرز بھی برآمد کرلیا گیا ہے، تاہم برآمد کیا گیا اسلحہ ٹرک میں ڈرائیور کیبن میں خفیہ مقام پر چھپایا گیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی اسلحہ چھپائے افغان ٹرک میں چھپے ہوئے کمپارٹمنٹس بنانا اور سامان کی پیکنگ افغانستان میں ہوئی، یہ برآمد شدہ ہتھیار اور گولہ بارود پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے والے تھے۔ اس سے پہلے بھی متعدد بار پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں فتنہ الخوارج کے خارجیوں سے غیر ملکی اسلحہ برآمد ہوا ہے، فتنہ الخوارج کی طرف سے غیر ملکی اسلحہ کا بے دریغ استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں مسلسل استعمال ہو رہی ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور فتنتہ الخوارج پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی تردید کرتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے، فتنتہ الخوارج کی قیادت اور اس سے منسلک دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی افغان طالبان اور فتنتہ الخوارج کی ملی بھگت کاواضح ثبوت ہے۔ماہرین کے مطابق یہ بات عیاں ہے کہ افغان چیک پوسٹوں کی جانب سے فتنةالخوراج کو سہولت کاری فراہم کی جارہی ہے، اسلحہ کھیپ کی برآمدگی اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ خوارج افغان طالبان کی چھتری تلے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

    انکا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے شہریوں کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لیے اپنے بارڈر ٹرمینلز کھولے، افغان طالبان اور فتنتہ الخوارج دہشتگردی کو بڑھاوا دے کر افغان عوام کے ساتھ بھی دشمنی کر رہے ہیں۔دفاعی ماہرین نے مزید کہا کہ ایسی گھناؤنی کارروائیوں سےمحرومی کا شکار اور معاشی طور پر کمزور افغان تاجروں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں، عام افغان شہریوں کی بھلائی کے لیے ضروری ہے کہ وہ افغان طالبان سےفتنتہ الخوارج کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کریں۔

    ٹرمپ حلف برداری،روسی صدر کا چینی ہم منصب سےٹیلفونک رابطہ

    بھارتی لابی متحرک، ٹرمپ اور مودی ملاقات اگلے ماہ کروانے کی کوششیں

    محکمہ اطلاعات سندھ کے شعبہ اشتہارات میں جدید میڈیا مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح

    امداد کی61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم پہنچ گیا

    امارات کے اسکولوں میں 9 دن کی چھٹیاں ہو گئیں

    سیف علی خان کی جان بچانے والے رکشہ ڈرائیور سے ملاقات، بڑی پیشکش

  • پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کا آپریشن،2 دہشتگرد ہلاک

    پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کا آپریشن،2 دہشتگرد ہلاک

    چترال: پاک افغان سرحد کے قریب چترال کے علاقے ارسون میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر)کے مطابق آپریشن چترال کے علاقے ارسون میں7 اور 8 نومبر کی درمیانی رات کیا گیا، آپریشن میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 2 دہشت گرد ہلاک جبکہ 4 دہشت گرد شدید زخمی ہوئے،علاقے میں کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن کیا گیا، علاقے کے لوگوں نے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کو سراہا۔

  • وزیراعظم اور آرمی چیف پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ عید کا دن گزارنے پہنچ گئے

    وزیراعظم اور آرمی چیف پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ عید کا دن گزارنے پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ عید کا دن گزارنے پاک افغان سرحد پاراچنار پہنچ گئے۔

    وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف نے عید کی نماز فوج کے افسروں اور جوانوں کے ساتھ ادا کی اور انہیں عید کی مبارک پیش کی۔ وزیراعظم نے فوج کے اعلی جذبے، عسکری تیاری اور اعلی پیشہ وارانہ معیار کی تعریف کی۔ جوانوں اور افسران سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہاکہ چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ آج میں عید کا دن آپ کے ساتھ گزار رہا ہوں تاکہ مادروطن کی سرحدوں کی جرات وبہادری سے حفاظت کرنے والے اپنے افسروں اور جوانوں کی کاوشوں اورجذبوں کو خراج تحسین پیش کروں۔ وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان کے افسر اور جوان اپنے ذاتی آرام اور سکون کو چھوڑ کر وطن عزیز کے تحفظ، دفاع اور سلامتی کا عظیم فریضہ انجام دیتے ہیں۔ موسم اور حالات کی سختیوں کو برداشت کرتے ہیں اور ہر طرح کی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرکے مادر وطن کی سرحدوں کا پہرہ دیتے ہیں جس پر قوم آپ سب کو سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عید سمیت خوشیوں کے تہوار ہوں یا کوئی غم کا موقع ہو، افسر اور جوان انفرادی اور اجتماعی طورپر وطن کی حفاظت کے فرض کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم آپ کے اس جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ آج میں آرمی، ائیر فورس اور بحریہ کے افسروں اور جوانوں کی خدمت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آہنی عزم کے ساتھ وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کا مقدس فرض نبھاتے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف نے پوری قوم خاص طورپر افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں کو عید کی مبارک پیش کی۔

    وزیراعظم نے عزم کا اعادہ کیا کہ امن تباہ کرنے، دہشت گردی کرنے والوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لئے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ پاکستانی قوم کی پاکستانیت نے ملک میں فتنہ فساد، انتشار اور افراتفری پیدا کرنے والی قوتوں کے مذموم منصوبے کو ناکام بنادیا۔ اُن قوتوں کو شکست ہوئی جو اپنے مذموم ایجنڈے کے لئے قوم میں تقسیم اور دراڑپیدا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ شہدا پاکستان اور قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔ اُن کی عزت وحرمت ہمیں ہر چیز پر مقدم ہے۔ وزیراعظم نے شہداءکی یادگار پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔

    قبل ازیں آمد پر چیف آف آرمی سٹاف نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر کمانڈر 11 کور کے علاوہ صوبائی حکومت کے اعلی حکام بھی موقع پر موجود تھے

    وزیراعظم شہباز شریف نے عید کی نماز اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں ادا کی، عید الاضحیٰ کے موقع پر عوام کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قربانی ایک رسم نہیں بلکہ ایک عالمگیر جذبہ ہے۔ اس کا مقصد اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے اپنی متاع حیات کو اللہ کے راستے میں قربان کرنا ہے.کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس میں ایثار اور قربانی کا جذبہ موجود نہ ہو-

    پی آئی اے کی تنظیم نو، اصلاحات اور بحالی کیلئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل

    دوسری جانب افواج پاکستان کی جانب سے عید الاضحیٰ کے موقع پر قوم نے نام جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ عیدالاضحیٰ امن، اتحاد، یگانگت اور نوع انسانی کیلئے قربانی کا درس دیتی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پیغام میں افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس کی جانب سے عوام کو عید کی مبارک باد دی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ آج شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنےاور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے،شہدائے وطن ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل،مبشر لقمان میدان میں آ گئے

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی وزیراعظم نے امیر قطر کو عیدالاضحٰی کی مبارک دی وزیراعظم کی قطر کے عوام کو بھی عید کی مبارک اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا امیر قطر نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کے عوام کو عید کی مبارک دی اور جوابی خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا

    دونوں قائدین نے پاکستان اور قطر کے برادرانہ اور گرمجوشی پر مبنی دوطرفہ تعلقات کی مزید مظبوطی اور فروغ کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا دونوں راہنماؤں نے عالمی اور علاقائی اہمیت کے امور پر باہمی مشاورت اور رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا امیر قطر نے ٹیلی فون کرنے اور عید کی مبارک دینے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا-

    سائفر بیانیہ،یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے عمران خان کو پھر جھوٹا ثابت کر دیا

  • لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت
    تحریر : وحید گل

    پاکستان گزشتہ کچھ برسوں سے لاپتہ افراد سے متعلق خبروں کی وجہ سے شہ سرخیوں کی زینت بنا رہا ہے۔ لوگوں کا لاپتہ ہونا یا اُن کی جبری گمشدگیوں کے کیسز کا سامنے آنا ، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ برسوں بعد بھی یہ معاملہ آج بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر حل طلب ہی نظر آتا ہے۔ نیشنل کرائم انفارمیشن سنٹر (NCIC) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں 2021 میں 521,705 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی اسی طرح دی سنڈے گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر گھنٹے میں 88 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہوتے ہیں ہر روز 2,130 اور ہر ماہ 64,851 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ گو کہ یہ تعداد پاکستان میں موجود اعداد و شمار کی نسبت بہت بڑی ہے لیکن ہماری آج کی بحث پاکستان سے متعلق ہے

    2013ء میں ماما قدیر نامی ایک بلوچ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے چند بلوچوں کے ہمراہ (جن میں عورتیں بھی شامل تھیں) بلوچستان سے اسلام آباد تک 2,000 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کیا۔ علاوہ ازیں آئے دن نیوز چینلز پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق خبریں گردش میں رہیں۔ کچھ عرصہ بعد جب کھوج لگائی گئی تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔ پاکستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد بھی جبری گمشدگیوں کے کھاتے میں ڈال دی گئی تھی۔ حالانکہ یہ افراد خالصتاً رضاکارانہ جذبے کے تحت غیر قانونی طور پر مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بلوچستان جا پہنچتے تھے، تاکہ وہاں دشمن ممالک کے قائم کردہ خفیہ کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر سکیں۔ آفتاب یوسف کی اگر مثال لی جائے جو ماما قدیر کی کے ہر دھرنے میں پایا جاتا تھا اور گمشدہ لوگوں کیلئے آواز بلند کرتا تھا دراصل وہ خود بی ایل اے کیلئے کام کرتا تھا اور سینکڑوں سیکیور اہلکاروں کو شہید کرنے میں ملوث تھا جو جون 2021میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا جسکی تصدیق خود دہشتگرد تنظیم بی ایل نے کی۔

    چونکہ پاک افغان سرحد کی مجموعی لمبائی 2611 کلومیٹر ہے(جس میں خیبرپختونخوا کے ساتھ متصل افغان سرحد کی طوالت 1229کلومیٹر ہے) لہٰذا اُس وقت در اندازی کو روکنے والی باڑ نہ ہونے کے باعث لوگوں کا غیر قانونی پر پر آنا جانا کچھ خاص مشکل نہ تھا۔ یوں بھی یہاں سے آنے جانے والےافراد زیادہ تر یا تو جرائم پیشہ ہوتے تھے یا پھر جہالت، ذہنی پسماندگی اور دیگرمحرومیوں کے باعث شرپسند عناصر افراد کا آسان ہدف بن کر کالعدم تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لیتے تھے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر لاپتہ افراد کے معاملے میں ایکٹو اکاؤنٹس کوسپورٹ کہیں اور سے نہیں بلکہ زیادہ تر ہمسایہ ملک ہندوستان سے مل رہی ہوتی ہے۔

    ایک عام آدمی کے پاس بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے رقم ہوتی ہے جبکہ لاپتہ افراد کے لیے تگ و دو کرنے والے یہ لوگ شہروں شہروں نہیں بلکہ ملکوں ملکوں سفر کرتے ہیں، وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہ میڈیا جسے رتی بھر بھی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا میں کیا کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ ان افراد کو بنا کچھ لیے دئیے کوریج دے رہا ہے۔ سوالات تو بہت ہیں لیکں جواب ایک بھی نہیں۔۔۔

    پاکستان میں برسوں یہی پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ جبری گمشدگی کے باعث لاکھوں افراد غائب ہیں تاہم جب بھی ان کی تفصیلات طلب کی گئیں تو پہلے بہانے سے تفصیلات کی فراہمی سے گریز کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں محض چند سو افراد کی لسٹ سامنے لائی گئی جس کے بعد متعدد افراد بازیاب بھی ہوئے لیکن باقی مبینہ گمشدہ افراد کی تفصیلات کہاں ہیں، کچھ معلوم نہیں۔

    آخر لاپتہ افراد سے متعلق آواز اٹھانے والوں سے جب سوالات کیے جاتے ہیں تو وہ جواب دینے سے کنی کیوں کترا جاتے ہیں؟ لاپتہ افراد سے متعلق ایک عالمی رپورٹ (مطبوعہ 31 دسمبر 2021) کے مطابق امریکا میں لاپتہ افراد کے 93718 فعال کیسزرپورٹ ہوئے، برطانیہ میں 241064 کیسز، جرمنی میں 11000 کیسز، ہندوستان میں 347524 کیسزجبکہ نیپال میں 10418 اور پاکستان میں 2210 کیسز تھے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد ایک عالمی مسئلہ (Global Phenomenon) ہے اور پاکستان بھی اس مسئلے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ تاہم گمشدہ افراد کی تعداد سے متعلق حد درجہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے۔ ColoED کے ساتھ رجسٹرڈ کیسز میں 9035 لاپتہ افراد کے اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں، ان میں سے بھی 70 فیصد سے زیادہ کیسز حل ہو چکے ہیں اور 25 فیصد عنقریب نمٹ جانے کو ہیں۔

    یہاں یہ بات قابلِ فہم ہے کہ جو لوگ گھریلو مسائل، ذاتی لڑائیوں یا اپنا کوئی مطالبہ منوانے کی خاطر گھر والوں کو دباؤ میں لانے کو، اپنی مرضی سے گھر سے جاتے ہیں، ان کے لاپتہ ہونے کو جبری گمشدگی سے نتھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی گمشدگی صرف اسی صورت میں "جبری گمشدگی” کہلائے گی جب ریاست نے اِن افراد کو اُٹھایا ہو مگر اُن کی گرفتاری کا اعلان نہ کر کے اسے مخفی رکھا گیا ہو۔

    پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، بھارتی ٹیم لاہور پہنچ گئی

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

  • پاک افغان سرحدی علاقہ ” ارندو ” ماضی میں بہت بڑا تجارتی مرکز

    پاک افغان سرحدی علاقہ ” ارندو ” ماضی میں بہت بڑا تجارتی مرکز

    چترال (باغی ٹی وی )پاک افغان سرحد پر واقع ارندو ماضی میں تجارت کا بہت بڑا مرکز ہوا کرتا تھا مگر افغانستان کی سرحد بند ہونے کی وجہ سے یہاں کی تجارت پر نہایت برا اثر پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سرحد کھول کر یہاں ڈرائی پورٹ یعنی خشک گودی بنائی جائے تو اس تجارتی مرکز کی وجہ سے پورے ملک کی معیشت پر اچھے اثرات پڑ سکتے ہیں اور اس پسماندہ علاقے سے بھی غربت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • پاک افغان سرحد کے قریب برفانی تودے کی زد میں آکر19 افراد جاں بحق

    پاک افغان سرحد کے قریب برفانی تودے کی زد میں آکر19 افراد جاں بحق

    کنڑ: افغانستان سے پاکستان سفر کرنے والے برفانی تودے کی زد میں آکر کم از کم 19 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جب کہ دیگر افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے”دی گارجئین” کے مطابق طالبان کے ایک عہدیدار نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کو افغانستان سے ایک دور دراز پہاڑی درہ عبور کرتے ہوئے کم از کم 19 افراد برفانی تودے کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق روزآنہ بڑی تعداد میں افغان شہری روزگار یا تجارت کے لیے غیر قانونی طریقے سے پاکستان جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ پہاڑی سرحد کا راستہ استعمال کرتے ہیں۔

    صوبہ کنڑ کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ نجیب اللہ حسن عبدل کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے 19 نعشیں نکال لی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنان مزید افراد کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اگست میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان-افغان سرحد کے پار غیر قانونی آمدورفت بڑھ گئی ہے، جس نے ملک کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے اور دسیوں ہزار افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔

    واضح رہےکہ پاکستان 2670 کلو میٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سرحد ڈیورنڈ لائن کہلاتی ہے۔

    تاجروں اور اسمگلروں نے صدیوں سے خطوں کو عبور کرنے اور ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے دور دراز کے پہاڑی راستوں کا استعمال کیا ہےلیکن اس علاقے میں جان لیوا برفانی تودے گرنا عام بات ہے 2015 میں ملک بھر میں تباہ کن برفانی تودے گرنے سے 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے-

    بیوی کا سرتن سے جدا کر کے سڑکوں پر گھمانے والا شخص گرفتار