Baaghi TV

Tag: پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    منیجیمنٹ میں "صحیح آدمی, صحیح کام اور صحیح وقت پر” کو بہت اہمیت حاصل ہے۔۔بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم منیجیمنٹ ہمیشہ اس اہم اصول کو نظر انداز کرتی آئی ہے۔۔۔یہ ہی وجہ ہے اہم ٹورنمنٹ سر پر ہوتا ہے اور ٹیم کمبینیشن سردرد بنا ہوتا ہے۔۔۔

    کوچنگ اسٹاف ہو یا کھلاڑیوں کی سلیکشن کوئی منطق نظر نہیں آتی ہے۔۔انٹرنیشنل لیول پر کوچز نہیں مینٹور کی ضرورت ہوتی ہے جو ذہن سازی کرے معمولی خامیاں دور کرے۔۔۔کھلاڑیوں کی کوچنگ ڈومیسٹک لیول پر ہونی چاہیے۔۔اکیڈمیز میں کھلاڑیوں کے نقائص دور ہونے چاہیے۔۔قومی ٹیم میں نقائص سے بھرپور کھلاڑی آنا ڈومیسٹک سسٹم کی افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔۔

    ایشیا کپ اور حالیہ انگلستان سیریز میں پاکستان ٹیم کی کئی کمزوریاں سامنے آئیں۔۔۔مڈل آرڈر کی ناکامی اس وقت انتہائی تشویش کا باعث ہے۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صحیح مڈل آرڈر بلےباز دستیاب ہیں۔۔

    افتخار احمد اور آصف علی بطور مستند بلے باز مڈل آرڈر میں کھیلتے ہیں۔افتخار ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کے بعد قومی ٹیم میں آئے لیکن وہ انڈرپرفارم کر رہے ہیں۔ایسا ظاہر ہوتا ہے جیسے ٹیم منیجیمنٹ انکو نچرل کھیل سے دور رکھے ہے۔۔۔دوسری جانب آصف علی اپنی کارکردگی سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ایک مستند بلے باز کی جگہ روکے محض دو اوورز کے بلے باز ہیں۔۔۔ایسا خطرہ پاکستان میں ہی لیا جاتا ہے کہ ایک مستند مڈل آرڈر بلے باز کی جگہ تین ,چار چھکوں کی آس پر دے رکھی ہے۔۔

    شاداب خان اور نواز کا بیٹنگ لائن میں کردار طے نہیں ہے۔۔دونوں باصلاحیت آلراؤنڈر ہیں جو باآسانی مڈل آرڈر میں عمدہ کردار نبھا سکتے ہیں۔۔

    ٹاپ آرڈر بیٹنگ رضوان اور بابر کی موجودگی میں مستحکم ہے۔۔البتہ ون ڈاؤن پوزیشن پر سوالیہ نشان ضرور ہے۔۔شان مسعود, فخر زمان کی غیر موجودگی کو کیش کرنے میں ناکام رہے اور اطلاعات کے مطابق ٹیم منیجیمنٹ اور کوچ کی خواہش ہے کہ فخر زمان ٹیم میں کھیلیں۔۔۔فخر زمان پندرہ سے زائد ٹی ٹوئینٹی میچز میں ناکام ہونے کے بعد ڈراپ ہونے کی بجائے ون ڈاؤن آئے تھے۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر بھی انکی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔۔لیکن اگر وہ صحتیاب ہیں نیز کپتان انکو پلئینگ الیون کا حصہ چاہتے ہیں تو نیوزی لینڈ سیریز میں رضوان کے ساتھ بطور اوپنر ٹرائی کر لینے میں حرج نہیں ہے۔۔۔کسی بھی ٹورنمنٹ کے دوران کمبینیشن بدلنا درست نہیں ہوتا ہے لہذا جو حتمی تبدیلیاں کرنے ہیں وہ تین ملکی سیریز میں کر لینی چاہیے۔۔۔

    شاہین شاہ آفریدی کی غیر موجودگی میں حارث رؤف نے باؤلنگ کا بوجھ اچھا اٹھایا لیکن کرکٹ ٹیم گیم ہے۔۔ایک کھلاڑی کی اچھی یا بری کارکردگی نتائج پر اثر ڈالتی ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حسنین اور وسیم جونیئر ورلڈکپ اسکوڈ کا حصہ ہیں لیکن تینوں پریشر سچوائیشن میں باؤلنگ کرانے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں۔۔تینوں کی ناتجربہ کاری عیاں ہے۔۔۔یہ تین بالر اس وقت ہائی رسک ہیں۔۔ اگر مددگار کنڈیشنز مل گئی تو کارکردگی دیکھا سکتے ہیں۔۔۔اسپن باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ مجموعی طور پر اچھا ہے۔۔۔۔عماد وسیم کا اسکوڈ میں اسے اور مضبوط کر دیتا۔۔۔۔پاکستان پیس اٹیک شاہین, نسیم اور حارث کے ساتھ بہترین نتائج دے سکتا ہے۔۔۔

    بدقسمتی سے اس وقت اسکواڈ میں زیادہ ورائیٹی موجود نہیں ہے۔۔ خوشدل شاہ سے باؤلنگ ہی نہیں کرانی تو انکو بطور آلراؤنڈر منتخب کرنے کی کوئی منطق نہیں ہے۔۔وہ بنا باؤلنگ کسی کا متبادل نہیں ہیں۔۔عامر جمال کو بنام انگلستان سات میچز کھیلا کر چیک کیا جا سکتا تھا ٹیم کو اس وقت ایک تیز گیند باز آلراؤنڈر کی ضرورت ہے۔۔۔۔انگلستان کی سیریز ورلڈکپ کی تیاری کے سلسلے میں اہم تھی۔۔نیوزی لینڈ میں شیڈول تین ملکی سیریز میں اس الیون کو اترنا چاہیے تھا جس کے ساتھ ورلڈکپ کھیلا جائے گا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک یہ طے نہیں ہے کہ کونسا کھلاڑی ,کب اور کدھر کھیلے گا۔۔۔۔

    اصولاً ٹی ٹوئینٹی اسکواڈ میں پانچ مستند بلے باز جو کہ ٹاپ اور مڈل آرڈر کے نمبرز پورے کریں, چار آلراؤنڈر تیز و اسپنر,چار مستند تیز گیند باز ,دو وکٹ کیپر بلے باز ہونے چاہیے۔۔

    ٹیم پاکستان ہمیشہ Right Person, Right Job,Right Time کے اصول کے خلاف کھیلی ہے۔۔۔کبھی کبھار ملنی والی کامیابیوں نے اس اصول کو سمجھنے کی طرف کبھی راغب نہیں کیا ہے۔۔عین ممکن ہے کہ اسکواڈ میں موجود کچھ باصلاحیت کھلاڑیوں کی کاوش سے ٹیم ورلڈکپ میں اچھی کارکردگی دیکھانے میں کامیاب ہو جائے لیکن مارڈن ڈے کرکٹ کے اصولوں کو اپنائے بغیر تسلسل لانا مشکل ہے۔۔

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سات ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز مکمل ہوئی. آئندہ ہونے والے ورلڈ کپ مقابلوں کے لیے یہ میچز ہماری تیاری کو ظاہر کرتے ہیں. پاکستان نے پچھلے چند برسوں سے مختصر طرز کی اس کرکٹ میں بہت سے گراں قدر ریکارڈ قائم کیے. فتوحات کا تناسب بھی زیادہ رہا. مگر اس سیریز کے بعد ایک سوال زبان ذد عام ہے. کیا یہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے.؟ یوں تو مشہور معقولہ ہے کہ "cricket is by chance” مگر آجکل کے دور میں چانس اسی کے لیے ہے جو بہترین ٹیم اور زبردست مائنڈ سیٹ کے ساتھ میدان میں اترتا ہے. سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا پاکستان کی موجودہ ٹیم میں ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت موجود ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے نہیں.

    ٹی ٹونٹی کرکٹ ہائی رسک گیم ہے. بلے باز کو اسکور کرنے کے لیے خراب گیند کا انتظار کیے بغیر شارٹ بنانے پڑتے ہیں. اور باؤلر کو وکٹ کے حصول کے لیے ان جگہوں پر بال کرنی پڑتی ہے جہاں آؤٹ کے ساتھ ساتھ باؤنڈریز لگنے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں.

    پاکستانی ٹیم کی موجودہ صورتحال پر بات کریں تو اس وقت پاکستان کے پاس دو ایسے بلے باز ہیں جو وائٹ بال کرکٹ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے. دونوں نے اپنے بلے سے اتنے رنز اگل دیے ہیں کہ آنے والی کئی دہائیوں میں انہیں یاد رکھا جائے گا. یہ دونوں بلے باز اس وقت گیم کے اس فارمیٹ میں اوپنر کی حیثیت سے کھیل رہے ہیں. جی ہاں پاکستانی کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان دونوں ہی رنز مشین کے طور پر جانے جاتے ہیں. لمبی پارٹنر شپس کی وجہ سے دونوں بلے بازوں نے اس طرز کی کرکٹ میں اپنا لوہا منوایا ہے. پاکستان کے زیادہ تر ریکارڈ جو پچھلے تین سالوں میں بنے انہی دو کی بدولت بنے.

    مگر کرکٹ میں ہر روز کسی کھلاڑی کا چل جانا عجائبات میں سے ہے. کھلاڑیوں کا اچھا برا دن بھی آتا ہے. ہم نے پچھلے تین سالوں سے یہ محسوس کیا ہے کہ جب بھی پاکستانی اوپنرز نے پرفارم نہ کیا پوری ٹیم دھڑم تختہ ہو گئی. پچھلے کئی سالوں سے ہماری مڈل آڈر اور لوور مڈل آرڈر کی خامیاں رضوان اور باہر کی پرفارمنس کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں. بابر اور رضوان کی پرفارمنس کے بغیر ہماری ٹیم کی فتوحات کا تناسب 7 فیصد سے بھی کم ہو جاتا ہے.

    اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

    پاکستان کے مڈل آرڈر میں کھیلنے والے جو بلے باز پچھلے دو تین سال سے آزمائے جا چکے ان کا متبادل کیا ہے؟

    ابھی بھی پاکستان جن کھلاڑیوں کو مڈل آڈر میں مواقع فراہم کر رہا ہے ان کی گیم نیچر اوپنرز والی ہے. فخر زمان، شان مسعود اور حیدر علی کی کلاس اور گیم سینس مڈل آرڈر بیٹنگ والی نہیں ہے.
    .
    حال میں مڈل آرڈر میں کھیلنے والے بلے باز افتخار احمد، خوشدل شاہ، حیدر علی، شان مسعود، آصف علی نے بہت لمبا چانس ملنے کے باوجود پرفارم نہیں کیا.

    پاکستان کے ڈومیسٹک اور لیگ سیٹ اپ میں کوئی بھی ایسا نیا بلے باز نظر نہیں آتا جس میں مڈل آرڈر کو سنبھالے کی صلاحیت موجود ہو. جتنے بھی نئے ٹیلنٹڈ کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں تقریباً سبھی اوپنرز ہیں. البتہ سسٹم میں دو تین پرانے کھلاڑی ایسے موجود ہیں جو ٹیم کے مڈل آرڈر کو سنبھال سکتے ہیں. شعیب ملک جو ابھی تک اپنی فارم اور فٹنس سے سب کو حیران رکھے ہوئے ہیں بدقسمتی سے بورڈ کی آنکھ کے تارے نہیں بن پا رہے. بورڈ محض نئے ٹیلنٹ کو کھلانے کی خاطر ان کی خدمات لینے سے انکاری ہے. اور نیا ٹیلنٹ ہمارے ساتھ جو کر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں.

    دوسرا نام بائیں ہاتھ کے بلے باز حارث سہیل کا ہے. جن کی فارم اور کلاس میں کسی قسم کا شبہ نہیں. مگر انہیں ہمیشہ سے فٹنس مسائل کا سامنا رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ پی سی بی اب انہیں کنسیڈر کرنے سے اعراض برت رہی ہے.

    تیسرا نام ڈومیسٹک میں بے شمار رنز کرنے والے کامران غلام کا ہے. جنہیں ٹیم کے ساتھ تو رکھا گیا مگر انہیں کھلانے سے جانے کس چیز نے روکے رکھا.

    یہ تینوں نام مڈل آرڈر کے لیے بہترین ہیں. اگر ورلڈ کپ کے لیے وننگ کمبینیشن بنانا ہے تو بیٹنگ آڈر میں ان تینوں تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے.
    .
    پاکستانی باؤلنگ لائن اپ کی کلی بھی شاہین شاہ کی انجری کے بعد مکمل طور پر کھل چکی ہے. نسیم شاہ ینگ ہونے کے باوجود فٹنس اور ہیلتھ کے مسائل کا شکار ہیں. حارث روف نئے بال کے ساتھ ناکام ہیں. اور محمد حسنین پیس کے علاوہ اپنی باؤلنگ میں کوئی مہارت نہیں رکھتے. اگر شاہین شاہ فٹ نہیں ہوتے تو پاکستان کے لیے یہ ورلڈ کپ جیتنے کی پوزیشن انتہائی مشکل ہو جائے گی.

    سپن باؤلنگ کی بات کریں تو محمد نواز اور شاداب نے اس شعبے کو مکمل طور پر سنبھالا ہوا ہے. اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا جاتا.

    البتہ ان دونوں کے متبادل کے طور پر جو کھلاڑی لائے جا رہے ہیں ان کی بابت کوئی رائے دینا مشکل ہے.

    پاکستان کی ٹیم دو شعبوں میں مکمل اور دو شعبوں میں ادھوری ہے. مڈل آرڈر اور لوور مڈل آرڈر کے مسائل کے حل کے بغیر ورلڈ کپ کی جیت کا خواب محض دیوانے کا خواب ہے. اوپر سے فاسٹ باؤلرز کے فٹنس مسائل کی تلوار الگ سے لٹک رہی ہے.