Baaghi TV

Tag: پاک بھارت جنگ

  • امریکا پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کر رہا، خواجہ آصف

    امریکا پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کر رہا، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکا اس وقت پاکستان سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کر رہا۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ممکن ہے پاکستان امریکا اور ایران کے تعلقات میں بھی کوئی کردار ادا کرے، تاہم اگر کوئی امریکی مطالبہ آیا تو پاکستان اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ہائبرڈ نظام کی شراکت داری نتائج دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور ان ہی کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔

    وزیر دفاع کے مطابق جنگ کے بعد کی صورتحال نے پاک امریکا تعلقات کو خوشگوار موڑ دیا اور ٹرمپ کو امن کی کوششوں کے باعث نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔

    یمن کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ، جہاز میں 27 پاکستانی پھنس گئے

  • بالی ووڈ فلم ساز پاک بھارت جنگ سے منافع بخش حب الوطنی کمانے کے درپے

    بالی ووڈ فلم ساز پاک بھارت جنگ سے منافع بخش حب الوطنی کمانے کے درپے

    (باغی ٹی وی)مئی 2025 کی پاک-بھارت 4 روزہ جنگ کے بعد بھارتی فلم ساز حب الوطنی کے جذبات سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس موضوع پر فلمیں بنانے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق بالی ووڈ میں متعدد پروڈکشن ہاؤسز نے جنگ سے جڑے عنوانات کے فلمی حقوق رجسٹر کرائے ہیں۔بھارت نے اس فوجی کارروائی کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا، جسے 22 اپریل کو پہلگام میں حملے میں ہلاک ہونے والی ہندو خواتین کے بدلے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ رجسٹر کیے گئے فلمی ناموں میں "مشن سندور”, "سندور: دی ریونج”, "دی پہلگام ٹیرر” اور "سندور آپریشن” شامل ہیں۔فلم ساز وویک اگنی ہوتری نے کہا کہ ’’یہ ایک ایسی کہانی ہے جو سنائی جانی چاہیے۔ اگر یہ ہالی ووڈ ہوتا تو وہ اس پر 10 فلمیں بنا چکے ہوتے۔‘‘ اگنی ہوتری کی 2022 میں ریلیز ہونے والی فلم دی کشمیر فائلز کو بی جے پی حکومت نے سراہا تھا، تاہم اس پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دینے کا الزام بھی لگا۔

    موقع پرستی پر تنقید:
    ہدایتکار انیل شرما، جو فلم غدر اور غدر 2 سے شہرت رکھتے ہیں، نے اس رجحان کو موقع پرستی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ موسمی فلم ساز ہیں، جو جذباتی وابستگی کے بجائے تجارتی فائدے کو ترجیح دیتے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بالی ووڈ بتدریج حکومتی بیانیے کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ اقلیتی برادری، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی بیانیہ فلموں میں شامل کیا جا رہا ہے۔

    فلم نقاد راجا سین نے اس رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو بھارت خاموش ہو گیا، تو پھر بہادری کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سینما یکطرفہ پروپیگنڈا کا آلہ کار بن جائے تو عوامی شعور میں غلط معلومات سرایت کر جاتی ہیں۔

    امن کو فروغ دینے والی حب الوطنی:
    نامور ہدایتکار راکیش اوم پرکاش مہرا نے کہا کہ اصل حب الوطنی وہ ہے جو فلم کے ذریعے امن اور ہم آہنگی کو فروغ دے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ "ہم اپنے پڑوسیوں سے محبت کرنا کیسے سیکھیں؟ میرے لیے یہی حب الوطنی ہے۔مہرا کی 2006 کی فلم رنگ دے بسنتی کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا تھا، جس میں حب الوطنی کو عوامی شعور، قربانی اور مثبت تبدیلی سے جوڑا گیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بالی ووڈ میں حالیہ رجحان حب الوطنی کے نام پر تجارتی فلم سازی کا ہے، جسے بعض ناقدین ’موقع پرستانہ‘ اور ’پروپیگنڈا پر مبنی‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ فلم ساز امن، برداشت اور ہم آہنگی کو اصل قومی خدمت سمجھتے ہیں۔

    امرناتھ یاترا سکیورٹی اور موسمی خدشات کے باعث قبل از وقت ختم

    ٹرمپ کی جانب سے عائد محصولات برقرار رہیں گے، امریکی اعلان

    سابق وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی 9 مئی کیس میں گرفتار

    سابق وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی 9 مئی کیس میں گرفتار

  • پاک بھارت جنگ میں ہونیوالے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے  اعلیٰ سطح کمیشن تشکیل

    پاک بھارت جنگ میں ہونیوالے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطح کمیشن تشکیل

    وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات اور دیگر قومی و سیکیورٹی امور کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سیکرٹری داخلہ کو 15 رکنی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈی جی ایف آئی اے رِفعت مختار کمیشن کے کونوینئر کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے،اعلیٰ سطحی کمیشن میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، سیکرٹری ہوم پنجاب، ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب، ڈی آئی جی سیکیورٹی، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ آزاد کشمیر حسن قیوم، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور ڈی جی آئی سی ہیومن رائٹس کمیشن کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کمیشن اگلے 30 روز میں اپنی جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گا، جس میں جنگی نقصانات، سیکیورٹی چیلنجز، سول انتظامیہ کی کارکردگی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تفصیلی سفارشات شامل ہوں گی۔

  • پاک بھارت کشیدگی ،غیور پاکستانی قصوریوں کا بھارت کو پیغام

    قصور
    بھارتی جارحیت کے باوجود قصور انٹرنیشنل بارڈر گنڈہ سنگھ کے دیہات و شہر قصور کے لوگ روزمرّہ کی زندگی میں مشغول،پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،غیور قصوریوں کا پیغام

    تفصیلات کے مطابق کل رات بھارت کی طرف سے پاکستان پر ہوئے حملوں کے باوجود انٹرنیشنل بارڈر گنڈہ سنگھ قصور و شہر قصور میں معمولات زندگی روز مرہ کی بنیاد پر چل رہی ہیں
    قصور کے غیور شہریوں نے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ پچھلی دو جنگوں میں قصور کے باسیوں نے بھارتی شہر کھیم کرن و دیگر علاقوں کو مال غنیمت کے طور پر لوٹا تھا جس کی کچھ چیزیں اب بھی قصور کے لوگ استعمال کر رہے ہیں لہذہ بھارت کسی خوش فہمی میں نا رہے ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں
    واضع رہے کہ قصور شہر کا انٹرنیشنل بارڈر گنڈہ سنگھ سے محض 12 کلومیٹر ہے جبکہ دیگر بارڈر اس سے بھی قریب ہیں اس کے باوجود ہر طرف معمولات زندگی روزمرہ کی بنیاد پر چل رہی ہے

  • بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

    مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔

    گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
    ۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
    ۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
    ۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
    ۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
    ۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟

    ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
    ۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
    ۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
    ۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
    ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
    ۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔

    کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟

    . پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟

    ۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟

    ۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟

    آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ بدو و احد میں نہ نکلتے، نہ صحابہ شہید ہوتے نہ نبی مکرم کے دندان مبارک شہید ہوتے، نہ مرحب شیر خدا کے ہاتھوں زیر ہوتا نہ مکہ و حنین فتح ہوتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو روم و فارس ابو عبیدہ اور خالد ابن ولید کے پاؤں تلے نہ روندے جاتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو ابن قاسم سندھ میں، ابن نصیر اندلس میں اور ابن باہلی چائنہ میں اپنے گھوڑوں کا نہ دوڑا رہے ہوتے. اسلام کی تو تاریخ ہی جنگوں سے عبارت ہے ہاں یہ جنگ ظلم و فساد نہیں پھیلاتی بلکہ اسلام نے اس کو جہاد کا نام دیا ہے جو انسانوں کو ظلم و ستم سے بچاتا ہے، جو فتنہ و فساد سے بچاتا ہے، جو بندوں کو بندوں ہی کی بندگی سے نکال کر ایک رب کے سامنے جھکاتا ہے، جو دنیا سے فتنے اور ظلم کا خاتمہ کرتا ہے. اسلامی تعلیمات تو بھری پڑی جہاد کے احکامات سے اگر جہاد پر مشتمل قرانی آیات کو جمع کیا جائے تو سوا آٹھ پارے بنتے جن میں اللہ اپنے بندوں کو جہاد اور حکمت کا اک اک گر سکھاتا، کہیں اللہ جہاد کی تیاری کا حکم دیتا تو کہیں انٹیلیجنس کے درس دیتا، کہیں بین الاقوامی تعلقات سکھاتا تو کہیں حملے اور دفاع کے طریقے تو آج کا مسلمان کیسے کہہ سکتا ہے کہ جنگ کسی مئلے کا حل نہیں ہے؟؟ آپ پاکستان کی کسی بھی چھاؤنی میں چلے جائیں آپ کو جہادی آیات کے کتبے دور سے نظر آئیں گے جن کو پڑھ اور سمجھ کر نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت مچل اٹھتا ہے. آپ پڑھو ذرا قران کو کہ اللہ اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر واضح طور پر فرماتا ہے ” وما لکم لا تقاتلون….. الخ” تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ کے رستے میں ان کمزور عورتوں، مردوں، بچوں اور بوڑھوں کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے جو رو رو کر اللہ سے فریادیں کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس ظلم کی بستی سے نکال لے کہ یہاں کے رہنے والے ہم پر ظلم کرتے ہیں” آج اہل کشمیر اس حالت میں اللہ کے سامنے فریادی ہیں اور مدد کے لیے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں تو تم کہتے ہو کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے. پوچھو کیوں جی تو کہیں گے کہ پاکستان کی معاشی و سیاسی حالت متحمل نہیں ہے جنگ تو تبوک میں مدینہ والوں کی معاشی حالت پڑھو ذرا خشک سالی کے پکی فصلیں کھیتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، ابوبکر رض کے دور خلافت کے اوائل میں پڑھو ذرا لشکر اسامہ بن زید کی روانگی کے قصے کہ سازشیں، فتنے عروج پر تھے مگر جو لشکر نبی نے روانہ کرنا چاہا تھا اس کو اولین ترجیح پر رکھا. آج تمہارے معاشی و سیاسی مسئلے بڑے ہوگئے ہیں امت مسلمہ کے قتل عام سے؟ ؟
    ہاں جنگ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے مگر جب جنگ مسلط کردی جائے تو پھر جنگ سے بھاگنا فقط جنگ سے بھاگنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رحمتوں سے اللہ کے عذاب اور نافرمانی کی طرف بھاگنا ہوتا ہے.

    Muhammad Abdullah